کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

قرآنیات (سلسلہ: 02)

قرآنیات (سلسلہ: 02)
عنوان: قرآنیات (سلسلہ: 02)
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی
پیش کش: تحریک علمائے ہند

ہدہد لمبی چونچ والا نہایت خوبرو پرندہ ہوتا ہے، جو اپنی لمبی چونچ سے کسی بھی کیڑے کو زمین سے کھود کر نکال سکتا ہے۔ اس کے سر پر شاہی تاج کی مانند ایک تاج بنا ہوتا ہے، جو مالٹا (نارنجی) اور کالے رنگ کا ہوتا ہے، جب کہ اس کا جسم رنگ برنگے پنکھوں پر مشتمل ہوتا ہے جن کے بیچ سفید و سیاہ دھاریاں نمایاں ہوتی ہیں۔

ہدہد کو ”مرغِ سلیمانی“ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ پیغمبرِ خدا حضرت سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنی نوعیت کے اس منفرد پرندے کا جو بھلا استعمال کیا (اور دراصل اس کے قرآنِ مجید میں مذکور ہونے کا وہی سبب بھی ہے) گویا آگے وہی اس کے وجود کی شناخت بن گیا۔

حضرت سیدنا سلیمان علیٰ نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام عظیم المرتبت نبی ہونے کے ساتھ ہی جلیل القدر بادشاہ بھی تھے، جنہیں ربِ کائنات نے انسانوں کے ساتھ جنات اور دیگر حیوانات پر بھی حکومت عطا کی تھی۔ 970 قبل مسیح ملکِ شام اور فلسطین پر آپ کی حکومت قائم تھی۔ پرندہ ہدہد بھی آپ کی فوج کا حصہ تھا۔ جب آپ علیہ السلام کا لشکر کسی علاقے میں ٹھہرتا تو آپ ہدہد کو پانی کی دریافت کا حکم دیتے اور پھر اس کی نشاندہی کے مطابق لشکر میں موجود انسانوں اور جنوں کے ذریعے زمین کھود کر پانی حاصل کیا جاتا۔

دراصل ہدہد کی چھٹی حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کی گہرائیوں میں موجود پانی کے چشمے دریافت کر لیتا ہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے یہی کام لیا کرتے تھے۔

ایک دفعہ دورانِ سفر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہدہد کو یاد فرمایا لیکن وہ غیر موجود تھا تو آپ علیہ السلام نہایت غضب ناک ہوئے اور 3 باتیں ارشاد فرمائیں، جن میں سے تیسری، پہلی دو کو مسترد کرنے والی تھی اور درحقیقت وہی آپ علیہ السلام کا مقصود بھی تھی۔ آپ نے فرمایا:

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ.

ترجمہ: ”(1) میں اسے سخت سزا دوں گا، (2) یا ذبح کر ڈالوں گا، (3) یا پھر وہ کوئی روشن سند (یعنی اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول دلیل) پیش کرے۔“ [سورۂ نمل: 21]

ابھی یہ گفتگو ہوئے کچھ ہی وقت گزرا تھا کہ ہدہد حاضر ہو گیا اور اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملکہ سبا کے متعلق چشم دید باتیں بتائیں۔

سبا ملک جنوبی عرب (یعنی آج کے یمن) کے مقام پر واقع مملکت تھی، جس کا صدر مقام شہر صنعاء سے 50 کلومیٹر دور تھا۔ ہدہد نے اس ملک کی ملکہ اور اس کے تخت کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہاں کے لوگ سورج کی پرستش کرتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس خبر کی تصدیق کے لیے اسی کے ذریعے ملکہ سبا کے نام یہ نہایت مختصر لیکن نہایت معنی خیز مضمون کا خط بھجوایا:

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۙ اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ۠.

ترجمہ: ”بے شک یہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بے شک یہ اللہ کے نام سے ہے، جو نہایت مہربان رحم والا ہے۔ مجھ پر بلندی نہ چاہو اور عاجزی کے ساتھ میرے حضور حاضر ہو جاؤ۔“ [سورۂ نمل: 30-31]

پیغمبرِ خدا نے خط پہنچانے کے علاوہ ہدہد کو یہ بھی تاکید فرمائی تھی کہ وہ اس خط کے متعلق ملکہ سبا اور اس کے حواریوں کا ردِ عمل نوٹ کرے اور فرماں بردار ہدہد نے ہر حکم کی تعمیل کی۔

یہ مکمل اور دلچسپ واقعہ سورۂ نمل کی آیات 20 تا 44 میں تفصیل سے مذکور ہے، وہاں سے رجوع کر کے نصیحتیں حاصل کرنی چاہئیں۔ البتہ پہلی اور وہ آیت جس میں ہدہد کے نام کی صراحت ہے، یہ ہے:

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ ۖ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئبِیْنَ.

ترجمہ: ”اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا تو بولے: مجھے کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا، یا وہ واقعی غیر حاضر ہے؟“ [سورۂ نمل: 20]

یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام نے ”هُدْهُدًا“ یا ”هُدَاهُد“ (یعنی نکرہ یا جمع کا لفظ) استعمال نہیں فرمایا بلکہ ”الْهُدْهُدَ“ کہا کیوں کہ آپ کا مقصود وہ خاص قسم کا درباری ہدہد تھا جو آپ کی خدمت کے لیے مامور تھا، اور اسی سے یہ بھی سمجھ میں آ گیا کہ ایک عظیم قائد کی نگاہ اور نگہبانی کتنی حساس ہوتی ہے۔

قرآنِ مجید کے اس تفصیلی واقعے میں صراحتاً یا کنایتاً مذکور اور غیر مذکور اس پرندے کی دریافت، خوبیاں اور نشانیاں یوں بیان کی جاتی ہیں:

  • ہدہد زمین کی تہوں میں روپوش پانی کے ذخائر کا پتہ لگانے کی خصوصی صلاحیت رکھتا ہے۔
  • یہ پرندہ بنا رکے ہزاروں میل کا سفر طے کر سکتا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کے پاس خط دے کر اسی کو بھیجا۔
  • اس کے 2 پنجے ہوتے ہیں اور ہر پنجہ 4 انگلیوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
  • اس کی لمبائی 25 سے 32 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔
  • اس کا وزن 46 سے 89 گرام ہو سکتا ہے۔
  • اس کی اوسط عمر 10 سال ہوتی ہے۔
  • اس کا گھونسلا صاف ستھرا نہیں ہوتا کیوں کہ یہ گندگی میں رہنا پسند کرتا ہے۔
  • دلچسپ بات یہ ہے کہ جدید تہذیبی دنیا میں ہدہد اسرائیل کا قومی پرندہ ہے۔
  • فارسی ادب میں ہدہد کو ایک پراسرار پرندہ تصور کیا جاتا ہے۔
  • ہدہد گرم معتدل علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور عموماً درختوں یا کھیتوں کے قریب رہتے ہیں۔
  • اس پرندے کی وفا شعاری یہ ہے کہ یہ اکیلا نہیں کھاتا بلکہ اپنے ساتھی جوڑے کے ساتھ ہی کھاتا ہے اور اگر جوڑے میں سے کسی ایک کو خوراک مل جائے تو اپنے ساتھی کا انتظار کرتا ہے۔
  • ہدہد اپنی پوری زندگی میں صرف ایک بار جوڑا بناتا ہے اور اگر اس کا ساتھی ساتھ چھوڑ جائے یا کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو آگے کی زندگی میں یہ اکیلا جینا پسند کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تنہائیوں کے ان لمحات میں ہدہد صرف اتنا کھاتا ہے کہ جان بچ جائے اور اسی وجہ سے اس حالت میں اسے آسانی سے پکڑا جا سکتا ہے۔
  • مادہ ہدہد 6 سے 8 انڈے دیتی ہے۔ انڈوں سے بچے نکلنے کے بعد نر اور مادہ دونوں ہی بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ تقریباً 3 سے 4 ہفتوں کے دوران بچے اپنے گھونسلوں سے باہر آ جاتے ہیں لیکن پوری طرح خود مختار ہونے کے لیے مزید 2 ہفتے والدین کی نگرانی میں رہتے ہیں۔
  • ہدہد کو درختوں میں سوراخ کرنے کی ایک خاص مہارت ہوتی ہے۔ انڈے دینے کے لیے محفوظ پناہ گاہ اور سردیوں میں اپنی خوراک کی حفاظت کے علاوہ، اس کے درختوں میں سوراخ کرنے کا ایک سبب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ درختوں کو کاٹتے وقت مخصوص قسم کی آوازوں سے اپنے جوڑے کو پیغام پہنچاتا ہے۔
  • قدرت نے ہدہد کی جسمانی ساخت ایسی بنائی ہے کہ یہ سخت تنوں کو کھودنے کے بعد بھی تھکتا نہیں بلکہ چاق و چوبند اور تندرست رہتا ہے، جب کہ اس پوری کارروائی کے دوران اس کے سر کو زبردست جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ اس کے سر میں نرم ٹشوز اور ایئر پاکٹس (Air Pockets) موجود ہوتے ہیں جن کے باعث یہ کسی بھی بڑے خطرے سے محفوظ رہتا ہے۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!