| عنوان: | اعلىٰ حضرت کی فقاہت |
|---|---|
| تحریر: | محمد قمر الزماں قادری |
| پیش کش: | سکھرام پور، تولہوا، کپل وستو، نیپال |
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
فقہِ اسلامی کا مقصد شریعتِ مطہرہ کے اصول و قواعد کی روشنی میں مسائلِ زندگی کا حل پیش کرنا ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسے جلیل القدر فقہاء پیدا ہوئے جنہوں نے نہ صرف دینی علوم کی حفاظت کی، بلکہ ہر دور میں پیش آنے والے نئے مسائل پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی۔ انہی عظیم فقہاء میں ایک درخشندہ نام اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا ہے، جو برصغیر کے ایک منفرد اور جامع الصفات عالمِ دین ہیں۔
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کا دائرہ محض فتاویٰ نویسی تک محدود نہ تھا بلکہ انہوں نے اصولِ فقہ، قواعدِ شرعیہ اور فروعاتِ فقہیہ میں بھی گہری بصیرت کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے ہزاروں مسائل پر مدلل فتاویٰ تحریر فرمائے جو آج بھی ”فتاویٰ رضویہ“ کی شکل میں اہلِ علم کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی فقاہت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ ہر مسئلہ کو محض تقلید یا روایت پر نہیں چھوڑتے بلکہ قرآن، حدیث، اجماعِ امت اور قیاسِ صحیح کی روشنی میں تحقیق فرما کر فیصلہ کرتے تھے۔
جدید مسائل میں استنباط و استخراج
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مقامِ تفقہ اس قدر بلند تھا کہ جب بڑے بڑے علماء کسی مسئلے کے حل سے عاجز آ جاتے اور مسئلہ حل نہ کر پاتے، تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں وہ سوال پیش ہوتا اور آپ اس کا مدلل، محقق اور حتمی جواب عطا فرماتے۔
مثال کے طور پر، آپ کے زمانے میں ایک بڑا مشہور اور پیچیدہ مسئلہ کرنسی نوٹ کا سامنے آیا۔ چونکہ کرنسی نوٹ کی ایجاد نئی تھی اور اس سے پہلے سونے چاندی کے سکے چلتے تھے، اس لیے جب یہ نوٹ آئے تو شرعی حیثیت واضح نہ تھی کہ شرعی نقطۂ نظر سے اس کا حکم کیا ہے؟ کیا یہ سونے چاندی کی رسید ہے یا یہ سکوں کی طرح ثمنِ اصطلاحی ہے؟ بڑے بڑے علماء و فقہاء اس کی شرعی حیثیت کے تعین سے عاجز آ گئے۔
جب اَجِلّہ علماء و فقہاء کی طرف سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے یہ سوال آیا، تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کے جواب میں ایک پورا رسالہ بنام ”كِفْلُ الْفَقِيْهِ الْفَاهِمْ فِيْ أَحْكَامِ الْقِرْطَاسِ وَالدَّرَاهِمِ“ تحریر فرمایا۔ جب وہ رسالہ علماء کے سامنے پیش کیا گیا، تو سب اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی علمیت و فقاہت پر دنگ رہ گئے اور اندازہ ہوا کہ فقاہت کسے کہتے ہیں۔ جن باتوں کو انہوں نے پڑھا تو تھا، لیکن ان سے استدلال نہیں کر پا رہے تھے، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے انہی چیزوں سے استدلال فرما کر مسئلہ حل کر دیا۔ یوں نئے اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل آپ کی بارگاہ میں پیش ہوتے تھے اور آپ ان کا حل یوں پیش فرماتے تھے کہ گویا آپ پہلے سے اس معاملے میں تحقیق فرما چکے ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ علمائے دین فرماتے کہ آپ ثانی امامِ اعظم معلوم ہوتے ہیں۔
علمِ میراث (وراثت) میں مہارت
آپ علمِ وراثت میں بھی بہت ماہر تھے۔ ایک مرتبہ ذوی الارحام کے بارے میں کوئی انتہائی مشکل مسئلہ درپیش تھا اور اہلِ علم جانتے ہیں کہ ذوی الارحام کے مسائل کچھ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ علامہ سراج احمد کو بھی اس مسئلے میں اشکالات تھے جو حل نہیں ہو رہے تھے۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے ہندوستان کے بڑے بڑے دار العلوم، دار الافتاء اور مفتیانِ کرام کے پاس وہ سوال بھیجا تاکہ کہیں سے جواب مل جائے، مگر بہت سی جگہوں سے تو جواب ہی نہیں آیا اور جن چند جگہوں سے جواب آیا، ان سے تشفی نہیں ہوئی۔
بالآخر انہوں نے وہی سوال بریلی شریف، اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں ان الفاظ کے ساتھ ارسال کیا:
”یہ خاکسار اس وقت ایک ایسے رسالۂ علمِ میراث کی تصنیف میں لگا ہوا ہے جو نہایت سہل، مختصر اور منضبط قواعد پر مشتمل ہو۔ تقلیدِ قواعدِ قدیمہ کو بالکل ترک کر کے جدید قواعد ایسے ایجاد ہو چکے ہیں کہ ایک ہی عمل کے ذریعے سے ’مناسخہ‘ تک مسئلہ بن جاتا ہے کہ دوسرے عمل رد، عَول، تصحیح وغیرہا کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ عَلٰی هٰذَا الْقِيَاسِ، ذوی الارحام اور اس کے مناسخہ کی تسہیل بھی پرلے درجے تک کی گئی ہے۔ امید کہ بعدِ تکمیل وہی رسالہ بنا بر تقریظ حضور کی خدمت میں بھی ارسال کیا جائے گا۔ چونکہ اولادِ صنفِ رابع کے قاعدۂ تحریمی میں سخت اختلاف ہے، لہٰذا حل ہونا اس مشکل کا بغیر امدادِ آں حل المشکلات، صاحبِ کمال کے سخت مشکل ہے، اور کوئی دوسرا اہلِ فن باکمال میری رائے میں موجود نہیں کہ حل کر سکے۔ پس بہرحال دوسرے شغل کو بالفعل بند فرما کر مکمل قاعدۂ مفتیٰ بہ جمع نقلِ عباراتِ فقہیہ لکھ کر ارسال فرمائیں تاکہ بعینہٖ آپ کے فتوے کو درجِ رسالہ کیا جائے۔ میرے پاس کوئی اور کتاب بجز شامی و در (در مختار) و فتاویٰ تنقیح الحامدیہ کے نہیں ہے تاکہ صریح جزئیہ کا مسئلہ حاصل کر سکوں۔ جوابی لفافہ مرسلِ خدمت ہے، جب تک جواب نہیں آئے گا، میں سخت انتظار میں مضطرب رہوں گا اور رسالہ بھی ناقص رہے گا۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 26، ص: 377، رضا فاؤنڈیشن لاہور]
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کا جواب لکھا، جو فتاویٰ رضویہ میں موجود ہے اور وہ فتویٰ اتنا شاندار ہے کہ آج بھی اسے پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ علم کی مہارت کیا ہوتی ہے۔
معترضین کا اعترافِ کمال
اس فتوے سے قبل مولانا سراج احمد مکھن بیلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اعلیٰ حضرت سے حسنِ اعتقاد نہیں رکھتے تھے، مگر اس فتوے میں آپ کی فقہی جولانی اور قوتِ استخراج دیکھ کر خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اس جواب کو دیکھنے کے بعد مولانا احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے متعلق میرا اندازِ فکر یکسر بدل گیا اور ان کے متعلق ذہن میں جمائے ہوئے تمام خیالات کے تار و پود (تانے بانے) بکھر گئے۔ ان کے رسائل اور دیگر تصانیف منگوا کر پڑھیں تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے سامنے سے غلط عقائد و نظریات کے سارے حجابات آہستہ آہستہ اٹھ رہے ہیں۔“
اسی دور میں احمد پور کے ایک مشہور فقیہ مولوی نظام الدین سے میری گفتگو ہوئی۔ یہ مولانا تفقہ میں اپنے ہم عصر علماء سے ممتاز تھے اور کسی کو اپنا ہمسر تصور نہیں کرتے تھے۔ ان سے کسی کتاب کے ایک فتوے پر گفتگو ہوئی کہ حدیثِ صحیح کے مقابل قولِ فقہاء پر عمل نہ کرنا چاہیے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رسالہ ”الْفَضْلُ الْمَوْهِبِي فِيْ مَعْنٰی إِذَا صَحَّ الْحَدِيْثُ فَهُوَ مَذْهَبِيْ“ کے ابتدائی اوراق منازلِ حدیث کے انہیں سنائے تو کہنے لگے: ”یہ سب منازلِ فہم مولانا کو حاصل تھے۔ افسوس کہ میں ان کے زمانے میں رہ کر بے خبر و بے فیض رہا۔“ پھر فقہ کے چند مسائل کے جوابات رسالہ رضویہ سے سنائے تو کہنے لگے: ”علامہ شامی اور صاحبِ فتح القدیر مولانا (احمد رضا) کے شاگرد ہیں۔ یہ تو امامِ اعظم ثانی معلوم ہوتا ہے۔“ [انوارِ رضا، ص: 191، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور]
حاصلِ کلام
پیارے اسلامی بھائیو! ان واقعات سے پتا چلا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ جس طرح دیگر فنون میں مہارت رکھتے تھے، اسی طرح فقاہت میں بھی مہارتِ تمام اور باریک نظر رکھتے تھے۔ اگر آپ کو امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی فقاہت کے بارے میں جاننے کی دلچسپی ہے تو آج ہی سے نیت فرما لیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ ”فتاویٰ رضویہ“ کا مطالعہ کریں گے تاکہ امام احمد رضا کی فقاہت کا حقیقی اندازہ ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اکابر علمائے دین کا ادب و احترام کرنے اور ان سے فیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
