| عنوان: | بیس رکعات تراویح اور مفتی احمد یار خان نعیمی کے سوالات |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
اہلِ سنت و جماعت کے اکابر و اصاغر علمائے کرام نے بیس رکعت تراویح کے ثبوت میں دلائل کے انبار لگا دیے ہیں۔ لیکن پھر بھی کچھ گندم نما جو فروش اس آیت ﴿اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ﴾ والی صفت کے شاملِ حال ہونے کی وجہ سے حق بات یعنی 20 رکعات تراویح کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے پھرتے ہیں کہ تراویح کی کل رکعتیں آٹھ ہی ہیں۔ ہم اہلِ سنت و جماعت کے پاس دلائل کی کمی نہیں، جبکہ مدِمقابل کے پاس آٹھ رکعت تراویح کے ثبوت میں ایک بھی صحیح مرفوع حدیث موجود نہیں۔ یاد رکھیں! 20 رکعت تراویح سنتِ رسول، سنتِ صحابہ کرام، سنتِ ائمۂ مسلمین اور سنتِ مسلمین بھی ہے۔
ذی فضل و ذی شرف قارئین!
ہم کب تک مخالفین کے سوالوں کے جواب دیتے رہیں گے؟ ہمارے اسلاف نے یہی سکھایا ہے کہ مدِمقابل کے سوال کا جواب کم دو اور خود انہی سے سوال کرو۔ اس اصول کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے فقیر راقم الحروف آپ کے سامنے مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ کے غیر مقلدین سے 20 رکعت تراویح کے ثبوت میں کیے گئے 8 سوالات صفحۂ قرطاس پر منتقل کر رہا ہے:
مفتی احمد یار خان نعیمی کے وہابیوں سے سوالات
آپ علیہ الرحمہ مخالفین سے سوالات کرتے ہوئے یوں فرماتے ہیں: ”تمام دنیا کے وہابیوں سے حسبِ ذیل سوالات ہیں، سارے مل کر ان کے جوابات دیں:
- حضرت عمر، عثمان و علی رضی اللہ عنہم نے 20 رکعت کا حکم کیوں دیا؟ کیا انہیں اس سنت کی خبر نہ تھی جو آج قریباً چودہ سو برس بعد تم کو پتا لگی؟
- اگر (نعوذ باللہ) خلفائے راشدین نے بدعتِ سیئہ کا حکم دے دیا تھا تو تمام صحابہ نے اسے بے چون و چرا کیوں قبول کر لیا؟ کیا ان میں کوئی بھی حق گو اور متبعِ سنت نہ تھا، جو آج اتنے عرصے کے بعد تم ہی حق گو اور متبعِ سنت پیدا ہوئے ہو؟
- اگر تمام صحابہ بھی خاموش رہے، تو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے جب ایک سنتِ رسول کے خلاف بدعتِ سیئہ کا رواج دیکھا تو وہ کیوں خاموش رہیں؟ کیا ان پر تبلیغِ حق فرض نہ تھی؟ جیسے آج تم آٹھ رکعت تراویح کے لیے ایڑی چوٹی کا زبانی، قلمی، بدنی و مالی زور لگا رہے ہو، انہوں نے ایسا کیوں نہ کیا؟ (پھر تو معاذ اللہ تم ام المؤمنین سے افضل ہو گئے!)
- وہ تمام خلفائے راشدین، سارے صحابہ بلکہ خود حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم 20 رکعت تراویح پڑھ کر، پڑھوا کر یا جاری ہوتے ہوئے دیکھ کر اور خاموش رہ کر ہدایت پر تھے یا (نعوذ باللہ) گمراہ؟ اگر آج حنفی 20 رکعت تراویح پڑھنے کی بنا پر گمراہ اور بدعتی ہیں، تو ان حضرات پر تمہارا کیا فتویٰ ہے؟ جواب دو! جواب دو! جواب دو!
- اگر 20 رکعت تراویح بدعتِ سیئہ ہے اور 8 رکعت تراویح سنت، اور تم بہادروں نے چودہ سو برس بعد یہ سنت جاری کی ہے، تو بتاؤ حرمین طیبین کے تمام مسلمان بدعتی اور گمراہ ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اور اگر ہیں تو تم آج نجدی وہابیوں کو اس کی تبلیغ کیوں نہیں کرتے؟ کیا تمہارے فتوے صرف ہند و پاکستان میں فساد پھیلانے ہی کے لیے ہیں؟
- حضرات ائمۂ مجتہدین اور ان کے سارے متبعین جن میں لاکھوں اولیاء، علماء، محدثین، فقہاء اور مفسرین داخل ہیں، جو سب 20 رکعات تراویح پڑھتے تھے، وہ سب بدعتی اور گمراہ تھے یا نہیں?
- اگر یہ سارے حضرات گمراہ تھے اور ہدایت پر صرف تمہاری مٹھی بھر جماعت ہے، تو ان گمراہوں کی کتابوں سے حدیث لینا اور حدیث پڑھنا جائز ہے یا حرام؟ اور ان کی روایتِ حدیث صحیح ہے یا نہیں؟ جب بدعمل کی روایت صحیح نہیں تو بدعقیدہ کی روایت صحیح کیونکر ہو سکتی ہے؟
- تمام دنیا کے مسلمان جو 20 رکعات تراویح پڑھتے ہیں، تمہارے نزدیک گمراہ اور بدعتی ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو اس حدیث کا کیا مطلب ہے: ”اِتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ“ (مسلمانوں کے سب سے بڑے گروہ کی اتباع کرو)۔ اور قرآنِ کریم نے عامۃ المسلمین کو ”خَیْرَ اُمَّةٍ“ اور ”شُهَدَآءَ عَلَی النَّاسِ“ کیوں فرمایا؟
امید ہے کہ حضراتِ وہابیہ نجد تک کے علماء سے مل کر ان سوالات کے جواب دیں گے۔ ہم منتظر ہیں۔“ [جاء الحق]
مفتی احمد یار خان کا غیر مقلدین سے مطالبہ
مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ غیر مقلدین اور خاص کر وہابیوں سے مطالبہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”ہم ساری دنیا کے وہابیوں، نجدیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک صحیح مرفوع حدیث مسلم، بخاری یا کم از کم صحاحِ ستہ کی ایسی پیش کریں جس میں صراحتاً مذکور ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم 8 رکعت تراویح پڑھتے تھے یا اس کا حکم فرماتے تھے (اور اس میں تراویح کا لفظ ہو)، یا صحابہ کرام نے 8 تراویح دائمی طور پر قائم فرمائیں۔ اور ہم کہے دیتے ہیں کہ قیامت تک نہ دکھا سکو گے، صرف ضد پر ہو۔ رب تعالیٰ توفیق بخشے، آمین۔ ہمیں 20 رکعت تراویح کا ثبوت الحمد للہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فعلِ شریف، صحابہ کرام کے فرمان و عمل، عامۃ المسلمین کے طریقۂ شرعی اور عقل سے ہوا۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔“ [جاء الحق]
محترم قارئینِ کرام!
اگر آپ سے بھی کوئی غیر مقلد اس طرح کا سوال کرے کہ آپ کے پاس 20 رکعت تراویح کے ثبوت میں کیا دلائل ہیں؟ تو بجائے اس کے کہ آپ اس کے سوالوں کا جواب دیں، فوراً اس سے ماقبل مذکورہ سوالات کر لیں۔ یقین جانیں! آپ کا مخاصم خاموش ہوتا ہوا نظر آئے گا اور شکستگی کے آثار اس کے چہرے پر ملتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ہمارے بزرگ اسی لیے ہمیں یہ تعلیم دے گئے ہیں کہ جب کبھی مخالف تم سے سوال کرے تو بجائے اس کے کہ تم اس کے سوال کا جواب دو، خود ہی اس سے سوال کر ڈالو اور خصم کو زیادہ سے زیادہ پھنسانے کی کوشش کرو۔ فَافْهَمْ یَا اُولِی الْاَلْبَابِ!
اللہ تعالیٰ ہمیں مسلکِ اہلِ سنت اور مسلکِ اعلیٰ حضرت پر ثبات قدمی عطا فرمائے، اور دین کو دیندار سے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم۔
