| عنوان: | وحدت الوجود — مشائخِ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
گزشتہ قسط میں بیان کردہ اجمال کے بعد تفصیلی دلیل کے لیے پہلے درج ذیل چار مقدمات پیش کرتے ہیں:
-
پہلا مقدمہ: وجود بمعنی مصدری جسے ”ہستی“ اور ”ہونا“ کہا جاتا ہے، ایک فطری و بدیہی امر ہے۔ یہ اشیاء کے درمیان مشترک اور اذہان کے اندر اشیاء سے منتزع ہے۔ خارج میں موجود نہیں۔ یہ بدیہی بات ہے جس سے کسی مکار کو بھی اختلاف نہیں۔
-
دوسرا مقدمہ: وجودِ صمدی جو اشیاء سے منتزع ہے، اس کے لیے واقع میں کوئی ایسا منشأِ انتزاع ہونا ضروری ہے جو محض اعتبار کرنے والے کے اعتبار یا فرض کے تابع نہ ہو۔ ورنہ انتزاعِ وجود محض ایک اختراعی امر اور وہمی عمل ہو جائے گا۔ وہ منشأِ انتزاع واقع میں موجود اور نفس الامر میں متحقق ہونا ضروری ہے تاکہ محض امرِ اختراعی نہ ٹھہرے۔ اس لیے کہ امورِ انتزاعیہ کی واقعیت یہی ہے کہ ان کا منشأِ انتزاع واقع میں موجود ہو۔
-
تیسرا مقدمہ: وجودِ مصدری کا منشأِ انتزاع خود حقیقتِ موجودہ ہے، اس کے بغیر کہ کوئی امر اس پر زائد ہو، یا کوئی معنی اس کے ساتھ منضم ہو۔ اس لیے کہ انتزاع کا منشأ اگر نفسِ حقیقت نہ ہو بلکہ حقیقت مع امرِ زائد ہو تو وہ امرِ زائد انضمامی ہوگا یا انتزاعی؟ دونوں صورتیں باطل ہیں (تفصیل کتاب میں مذکور ہے)۔ تو مصداقِ وجود کا فرضِ فارض یا زیادتیِ عارض کے بغیر خود حقیقتِ موجودہ کا ہونا ثابت ہے۔
-
چوتھا مقدمہ: وجود کو اصلِ حقیقت سے (جو مصداقِ وجود ہے) وہی نسبت ہے، جو انسانیت کو ماہیتِ انسانیہ اور حیوانیت کو ماہیتِ حیوانیہ سے ہے۔ اس لیے کہ وجود نفسِ حقیقت سے زائد کوئی معنی نہیں، جیسے انسانیت کا مفہوم حقیقتِ انسانیت سے زائد کوئی معنی نہیں۔ اس کا بیان تیسرے مقدمے میں ہو چکا ہے۔
مقدمات کے بعد تفصیلی بحث
ان مقدمات کی تمہید کے بعد ہم کہتے ہیں کہ وجودِ مصدری چھوٹی بڑی تمام چیزوں سے منتزع ہے تو اس کے لیے کوئی ایسا منشأِ انتزاع ہونا ضروری ہے جو محض فرضی و اعتباری نہ ہو۔
- یہ بھی ضروری ہے کہ وہ منشأ نفسِ ذات اور اصلِ حقیقت ہو اور اس کی جانب وجودی نسبت اس طرح ہو جیسے انسان کی طرف انسانیت اور حیوان کی طرف حیوانیت کی نسبت ہے۔
- یہ بھی ضروری ہے کہ وہ معنیِ وجود کا مصداق کسی امر کی زیادتی اور کسی معنی کی اضافت کے بغیر خود ہی ہو۔
- اور یہ محال ہے کہ وہ منشأ اشیاء سے مبائن یا مفارق کوئی امر ہو۔ اس لیے کہ وجود خود ان اشیاء کے حقائق سے منتزع ہے۔
- یہ بھی ضروری ہے کہ وہ منشأ، حقیقتِ واحدہ ہو۔ اس لیے کہ اگر کئی حقائق ہوں تو وجود کی نسبت اپنے منشأ کی جانب نسبتِ انسانیت بہ انسان کی طرح نہ ہوگی، جیسا کہ چوتھے مقدمے میں ثابت ہوا۔
اور محال ہے کہ وہ حقیقتِ واحدہ اشیاء سے منضم یا منتزع کوئی امر ہو، جیسا کہ تیسرے مقدمے میں ثابت ہوا۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اشیاء سے مبائن کوئی امر ہو، ورنہ اس سے وجود کا انتزاع نہ ہو سکے گا کہ وہ حقیقت کسی خاص تعین سے مقید نہیں۔ اسی طرح وہ کلی مبہم نہیں ورنہ بذاتہٖ مصداق نہ ہو سکے گی، بلکہ اپنے حصول میں خارجی محصلات کی محتاج ہوگی۔ تو یہ مطلق ہے، یعنی ہر قید سے معرا اور تعین کی صلاحیت رکھتی ہے۔
وہ کسی کی معلول بھی نہیں ہو سکتی، اس لیے کہ اس کے ماسوا نہ کوئی موجود ہے نہ کسی کی کوئی اصلیت۔ اور جو چیزیں متغایر اور اس سے مبائن نظر آ رہی ہیں، یہ سب اس کی شیون اور تعینات ہیں جو اسی سے پیدا اور اسی سے جلوہ نما ہیں۔
حاصلِ کلام
اس تفصیل سے واضح ہو گیا کہ مصداقِ وجود جسے ”وجودِ حقیقی“ کہا جاتا ہے، وہ ایک حقیقتِ واحدہ واجبہ ہے جو سب میں پھیلی ہوئی اور ہر تعین و قید سے مطلق ہے۔
اب یہ بھی جان لو کہ وہ حقیقت جب اشیاء کی کوئی انضمامی صفت نہیں، نہ کوئی وصفِ انتزاعی، نہ کوئی امرِ مبائن، تو یہ ہر شے کا عین ہے۔ نہ اس معنی میں کہ ہر شے وہی حقیقتِ مطلقہ ہے، بلکہ اس طرح کہ وہ حقیقت کسی امر کی زیادتی اور کسی معنی کے انضمام کے بغیر خود گوناگوں تعینات کے ساتھ جلوہ گر ہوتی اور طرح طرح کے اطوار میں نمایاں ہوتی ہے۔ تو ایک تعین کے اعتبار سے وہ ایک شے ہے اور دوسرے تعین کے اعتبار سے دوسری شے ہے۔
اسی کی مزید تفصیل کے بعد بحر (سمندر) اور تعیناتِ امواج (لہروں) کی مثال سے اس کی توضیح فرمائی ہے۔ اس کے بعد اس مسلک پر دس اعتراضات مع جوابات رقم فرمائے ہیں۔ پھر چند آیات پیش کر کے دلیلِ شرعی سے اس کی موافقت ثابت کی ہے۔
