| عنوان: | وحدت الوجود — مشائخِ چشت کا منظورِ نظریہ (قسط: سوم) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
ملکُ العلماء مولانا عبد العلی فرنگی محلی علیہ الرحمہ نے بھی اس موضوع پر عربی میں ایک رسالہ ”وَحْدَةُ الْوُجُودِ شُهُودُ الْحَقِّ فِيْ كُلِّ مَوْجُودٍ“ لکھا تھا، پھر نواب نور الدین خان بہادر کی فرمائش پر اسے فارسی میں لکھا۔ شاہ ابو الحسن زید فاروقی نے اردو میں اس کا ترجمہ کیا، اور مکتوباتِ مجدد الف ثانی سے اخذ کرتے ہوئے متعدد حواشی بھی لکھے۔ یہ ترجمہ پہلی بار غالباً 1391ھ / 1971ء میں شائع ہوا۔ مسلکِ وحدت الوجود کی توضیح و تفہیم کے لیے اس سے بھی کچھ اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے۔
بحر العلوم کا مؤقف
بحر العلوم فرماتے ہیں:
”وجود سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وجود اس کی حقیقت کا عین ہے۔ اور یہ وجود، مصدری وجود نہیں کیونکہ مصدری وجود ایک انتزاعی امر ہے جس کا معنی ’ہونا‘ ہے۔ ایسے انتزاعی مفہوم سے اللہ تعالیٰ بالا و برتر ہے، بلکہ وجود سے مراد وہ حقیقت ہے جو مصدری وجود کا مصداق ہے، جو نفسِ وجود ہے، وہ اپنے مرتبۂ ذات میں کثرت سے پاک ہے۔
اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ ہے وہ عالمِ شیونات و تعینات ہے۔ تمام شیونات و تعینات اس کے مظاہر ہیں اور وہ ان میں ظاہر و ساری ہے۔ اس کی سرایت وہ نہیں جس کے حلولی قائل ہیں یا جس کا بیان اتحادی کرتے ہیں، بلکہ یہ سریان مثل اس سریان کے ہے جو گنتی کے اعداد میں ایک (اکائی) کا ہے۔ گنتی کے تمام اعداد جو بجز اکائیوں کے اور کچھ نہیں۔ عالم میں ایک ہی عین یعنی ایک ہی ذات کا ظہور ہے۔ کثرت میں وہی ظاہر ہے۔ اپنی ذات سے کثرت کا وجود نہیں۔ اللہ کی ذات سے اس کا ظہور ہوا۔ اللہ ہی کی ذات اس کثرت میں ظاہر ہے۔ اللہ ہی اوّل ہے۔ اللہ ہی آخر ہے۔ اللہ ہی ظاہر ہے۔ اللہ ہی باطن ہے۔ اللہ ان کے شریک بنانے سے پاک ہے۔“ [بحر العلوم عبد العلی فرنگی محلی، وحدۃ الوجود]
وحدتِ وجود اور وحدتِ شہود کا فرق
سیدنا شاہ ابو الحسن احمد نوری قدس سرہٗ (م 1324ھ) فرماتے ہیں:
”وحدت کی دو قسمیں ہیں: ایک وجودی، دوسری شہودی۔
-
وحدتِ وجودی: اس کے معنی یہ ہیں کہ سالک کے علم اور نظر دونوں سے اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے، اس کا شعور ختم ہو جائے، اور اس کی نظر و علم میں اللہ کے سوا سب کچھ فنا ہونے کے بعد صرف ذاتِ باری تعالیٰ باقی رہے۔ یہی سالک کے مقام کی انتہا ہے۔ اس مقام پر آنے کے بعد سالک ولی ہو جاتا ہے۔ ’سیر الی اللہ‘ کے ختم ہونے کے یہی معنی ہیں اور اسی کو مقامِ لاہوت کہتے ہیں۔ سیر و سلوکِ قادریہ میں یہ چوتھا مقام ہے۔ اس کے بعد ’سیر فی اللہ‘ ہے کہ اس سے مراد ذاتِ بحت باری تعالیٰ میں، جس کی کوئی حد نہیں، ترقی حاصل کرنا شروع ہوتا ہے، اور حدیثِ شریف: «مَا عَرَفْنَاكَ حَقَّ مَعْرِفَتِكَ» (ہم نے جیسا کہ تیرا حق تھا تجھے نہ پہچانا) اسی سیر کی خبر دیتی ہے۔ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ وغیرہم تمام اولیاء اللہ کا یہی مسلک ہے۔
-
وحدتِ شہودی: ایک قلیل تعداد وحدتِ شہود کی طرف گئی ہے، اور اس کو سالک کا ابتدائی مقام جانتے ہیں۔ وحدتِ شہودی کے بھی یہی معنی ہیں لیکن اس میں موجودات کا انکار صرف سالک کی نظر سے ہوتا ہے، اس کے علم سے نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا تمام موجودات اس کے علم میں تو باقی رہتے ہیں، صرف نظر سے ختم ہو جاتے ہیں۔ نظر میں صرف ذاتِ باری باقی رہتی ہے۔ باقی سب نظر سے ہلاک اور فانی ہو جاتے ہیں مگر سالک کے علم میں باقی رہتے ہیں۔ جیسے سورج نکلنے پر سب ستارے نظر سے غائب ہو جاتے ہیں اور نظر کے سامنے صرف سورج ہوتا ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ ستاروں کا وجود بھی ویسے ہی باقی ہے، بس نظر سے چھپ گیا ہے۔“
[سراج العوارف فی الوصایا و المعارف، شاہ ابو الحسن احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ]
کلمہ طیبہ کے عرفانی درجات
امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہٗ فرماتے ہیں:
”حقیقی وجود صرف اللہ کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: سب سے سچی بات جو عرب نے کہی وہ لبید شاعر کا یہ قول ہے:
«أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللّٰهَ بَاطِلٌ»
(خبردار! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔)
ہمارے نزدیک ثابت ہو چکا ہے کہ کلمۂ ’لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ‘ کا معنی:
- عوام کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
- خواص کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مقصود نہیں۔
- اخص الخواص کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشہود نہیں۔
- جو مقامِ نہایت تک پہنچ گئے، ان کے نزدیک یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی موجود نہیں۔
اور سب حق ہے۔ مدارِ ایمان اول پر ہے، مدارِ صلاح دوم پر، کمالِ سلوک سوم پر، اور وصول الی اللہ کا مدار چہارم پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان چاروں معانی سے حظِّ کامل عطا فرمائے، اپنے احسان و کرم سے۔“
