| عنوان: | عقیدۂ ختمِ نبوت |
|---|---|
| تحریر: | عبد الرحمٰن عطاری |
| پیش کش: | ماڈل جامعۃ المدینہ، ناگپور |
اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں کو دو طرح کے کمالات عطا فرمائے ہیں: ایک وہ کمال جو بندہ خود اپنی محنت سے حاصل کر سکتا ہے، اور دوسرا وہ جو محض اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا سے حاصل ہوتا ہے۔ پہلے کمال کی مثال یوں ہے جیسے کوئی بندہ جاہل ہوتا ہے پھر علم حاصل کر کے وہ عالم بن جاتا ہے، اسی طریقے سے گنوار آدمی محنت و مشقت کر کے بڑے بڑے منصب حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن اگر دوسرا کمال دیکھا جائے تو اس میں بندوں کا کچھ بھی ہاتھ نہیں ہوتا، یہ محض اللہ تبارک و تعالیٰ کی عطا ہے کہ وہ جس پر کرم فرما دے اسے عطا کر دے، جیسے نبوت و رسالت، کیونکہ یہ عبادت و ریاضت یا مشقت و محنت سے حاصل نہیں ہوتیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ جن حضرات کو یہ دوسرا والا کمال عطا فرماتا ہے وہ معصوم ہوتے ہیں، اور ان کے علاوہ ساری مخلوق غیر معصوم ہوتی ہے۔ ہر غیر معصوم، معصوم کا ہدایت کے سلسلے میں محتاج ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے لوگ خدا ہونے کا دعویٰ کرتے تھے، جیسے کہ نمرود، اور بہت سارے لوگوں نے ان کی تصدیق کی، ان کی پیروی کی اور ان کو خدا مانا۔ لیکن پھر دھیرے دھیرے انسانوں کی عقلیں کھلنے لگیں اور ان کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ یہ جھوٹے خدا ہیں، یوں ان کا یہ دعویٰ زیادہ نہ چل سکا۔ تو ملعون و مردود کذابوں نے جھوٹے نبی ہونے کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا۔ یہ دعوے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آمد کے بعد تک جاری رہے۔
ان جھوٹے کذابوں کو اگر دیکھا جائے تو یہ بات نظر آئے گی کہ انہوں نے یہ جھوٹے دعوے مال و منصب کو حاصل کرنے کے لیے کیے یا پھر وہ ذہنی اعتبار سے دھوکے کا شکار ہو گئے تھے۔ حالانکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ پاک کی بہت سی آیتوں میں فرما دیا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ اسی طریقے سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بہت ساری متواتر احادیث اس پر براہینِ قاطعہ کے طور پر موجود ہیں۔ لیکن کیا کریں، جب اللہ دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے۔ ان شاء اللہ کریم! چند قرآنی آیتوں، احادیث اور اقوالِ ائمہ کے ذریعے یہ بات ظاہر کی جائے گی کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
عقیدۂ ختمِ نبوت بزبانِ قرآن:
تاریخِ اسلام میں اس طرح کے بہت سے افراد ملیں گے جنہوں نے دعویٰ نبوت کیا۔ ان میں بعض بہت مشہور ہوئے اور بعض گمنام ہو گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ بعض جھوٹے نبوت کا دعویٰ کریں گے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پہلے ہی ان جھوٹوں کے متعلق امت کو آگاہ فرما دیا، اور اللہ عزوجل نے واضح طور پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا بیان فرما دیا۔
چند آیات پیشِ خدمت ہیں:
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا.
ترجمہ کنز الایمان: ”محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے، اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔“ [سورۂ احزاب، آیت: 40]
اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
حَتّٰی لَا يَكُوْنَ بَعْدَهٗ نَبِيًّا.
ترجمہ: ”یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ [تفسیر مظہری، ج: 5، ص: 535، دار الکتب العلمیہ، بیروت]
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ”خزائن العرفان“ میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
”نبوت آپ علیہ السلام پر ختم ہو گئی، آپ کی نبوت کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ حتیٰ کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو اگرچہ نبوت پہلے پا چکے ہیں مگر نزول کے بعد شریعتِ محمدیہ پر عامل ہوں گے اور اسی شریعت پر حکم کریں گے اور آپ ہی کے قبلہ یعنی کعبہ معظمہ کی طرف نماز پڑھیں گے۔ حضور کا آخر الانبیاء ہونا قطعی ہے، نصِ قرآنی بھی اس میں وارد ہے اور صحاح کی بکثرت احادیث تو حدِ تواتر تک پہنچتی ہیں۔ ان سب سے ثابت ہے کہ حضور سب سے پچھلے نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی ہونے والا نہیں۔ جو حضور کی نبوت کے بعد کسی اور کو نبوت ملنا ممکن جانے، وہ ختمِ نبوت کا منکر، کافر اور خارج از اسلام ہے۔“ [تفسیر خزائن العرفان، ص: 783، مکتبۃ المدینہ، ہند]
خاتم النبیین کی تفسیر کے تحت حضرت علامہ علاؤالدین علی بن محمد بن ابراہیم بغدادی اپنی مشہور و معروف کتاب ”تفسیر خازن“ میں لکھتے ہیں:
خَتَمَ اللّٰهُ بِهِ النُّبُوَّةَ فَلَا نُبُوَّةَ بَعْدَهٗ أَيْ وَلَا مَعَهٗ.
ترجمہ: ”اللہ عزوجل نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نبوت ختم فرمائی، تو آپ کے بعد اور آپ کے زمانے میں کوئی نبی نہیں ہوگا۔“ [تفسیر خازن، ج: 3، ص: 429، دار الکتب العلمیہ، بیروت]
سورۃ التوبہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ.
ترجمہ کنز الایمان: ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا کہ اسے سب دینوں پر غالب کرے پڑے برا مانیں مشرک۔“ [سورۃ التوبہ، آیت: 33]
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا اور آپ کا دین تمام دینوں پر غالب آ گیا۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری زمانے میں تشریف لائیں گے تو سارے (باطل) دین ختم ہو جائیں گے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی آئے تو اس کی شریعت پر ایمان لانا لازم ہوگا۔ اس صورت میں وہ شریعت غالب ہو جائے گی اور شریعتِ محمدیہ مغلوب ہو جائے گی، کیونکہ اگر ان کی شریعت پر ایمان نہ لایا جائے تو نجات نہیں پائیں گے۔ تو پتہ چلا کہ اگر ان کے بعد کوئی نبی آئے گا تو نجات کا دارومدار ان کی شریعت پر ایمان لانے پر ہوگا۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنت کیا ہی خوب فرماتے ہیں:
وہی ہیں اول وہی ہیں آخر، وہی ہیں باطن وہی ہیں ظاہر
انہیں سے عالم کی ابتدا ہے، وہی رسولوں کی انتہا ہیں
احادیثِ مبارکہ:
-
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إِنَّهٗ سَيَكُوْنُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُوْنَ ثَلَاثُوْنَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهٗ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي.
ترجمہ: ”بیشک میری امت میں تیس کذاب ہوں گے، ہر ایک گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
[احادیثِ صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف، ج: 1، ص: 96 / المبین ختم النبیین، ص: 65]
-
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يَكُوْنُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُوْنَ وَدَجَّالُوْنَ سَبْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةُ نِسْوَةٍ، وَإِنِّي خَاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي.
ترجمہ: ”میری امت میں ستائیس کذاب اور دجال ہوں گے، ان میں چار عورتیں ہوں گی، حالانکہ بیشک میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
[المبین ختم النبیین، ص: 65]
-
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ كَمَثَلِ رَجُلٍ ابْتَنٰی دَارًا فَأَكْمَلَهَا وَأَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ، فَكَانَ مَنْ دَخَلَهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا قَالَ: مَا أَحْسَنَهَا إِلَّا مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ، فَأَنَا مَوْضِعُ اللَّبِنَةِ، خُتِمَ بِيَ الْأَنْبِيَاءُ.
ترجمہ: ”میری اور نبیوں کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے ایک مکان پورا کامل اور خوبصورت بنایا مگر ایک اینٹ کی جگہ خالی تھی، تو جو اس گھر میں جا کر دیکھتا تو وہ کہتا کہ یہ مکان کس قدر خوب ہے مگر ایک اینٹ کی جگہ کہ وہ خالی ہے۔ تو اس اینٹ کی جگہ میں ہوں، مجھ سے انبیاء ختم کر دیے گئے۔“
[جزاء اللہ عدوہ بآبائہ ختم النبوۃ، ص: 189]
-
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
نَحْنُ الْآخِرُوْنَ السَّابِقُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ترجمہ: ”ہم زمانے میں سب سے پچھلے اور قیامت میں سب سے اگلے ہیں۔“
[جزاء اللہ عدوہ بآبائہ ختم النبوۃ، ص: 189]
-
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
فُضِّلْتُ عَلَی الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ: أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ، وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَّطَهُوْرًا، وَأُرْسِلْتُ إِلَی الْخَلْقِ كَافَّةً، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّوْنَ.
ترجمہ: ”میں تمام انبیاء پر چھ وجہ سے فضیلت دیا گیا: مجھے جامع باتیں عطا ہوئیں، مخالفوں کے دل میں میرا رعب ڈالنے سے میری مدد کی گئی، میرے لیے غنیمتیں حلال ہوئیں، میرے لیے زمین پاک کرنے والی اور نماز کی جگہ قرار دی گئی، میں تمام جہان (سب ماسوا اللہ) کا رسول ہوا، اور مجھ پر انبیاء ختم کیے گئے۔“
[جزاء اللہ عدوہ بآبائہ ختم النبوۃ، ص: 895]
-
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ.
ترجمہ: ”بیشک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے نہ کوئی نبی۔“
[احادیثِ صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف، ج: 1، ص: 109]
-
حضرت ام کرز کعبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ.
ترجمہ: ”نبوت چلی گئی اور مبشرات (اچھے خواب) باقی رہ گئے۔“
[احادیثِ صحیحین سے غیر مقلدین کا انحراف، ج: 1، ص: 109]
-
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے ارشاد فرمایا:
أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَكُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰی، غَيْرَ أَنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِي؟
ترجمہ: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم یہاں میری نیابت میں ایسے رہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام جب اپنے رب سے کلام کے لیے حاضر ہوئے تو حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اپنی نیابت میں چھوڑ گئے تھے؟ ہاں یہ فرق ہے کہ حضرت ہارون علیہ الصلوٰۃ والسلام نبی تھے جبکہ میری تشریف آوری کے بعد دوسرے کے لیے نبوت نہیں، اس لیے تم نبی نہیں ہو۔“
[صراط الجنان، ج: 8، ص: 50]
-
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”بیشک میرے متعدد نام ہیں: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے سبب سے کفر مٹاتا ہے، میں حاشر ہوں، میرے قدموں پر لوگوں کا حشر ہوگا، میں عاقب ہوں، اور عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
[صراط الجنان، ج: 8، ص: 49]
-
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شمائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دو کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت تھی اور آپ خاتم النبیین تھے۔“
[صراط الجنان، ج: 8، ص: 51]
-
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”اے لوگو! بیشک میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ لہٰذا تم اپنے رب کی عبادت کرو، پانچ نمازیں پڑھو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرو، اپنے حکام کی اطاعت کرو اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔“
[صراط الجنان، ج: 8، ص: 51]
-
حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پرنور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”بیشک میں اللہ تعالیٰ کے حضور لوحِ محفوظ میں خاتم النبیین (لکھا) تھا، جب حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی مٹی میں گندھے ہوئے تھے۔“
[صراط الجنان، ج: 8، ص: 49]
-
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
كَانَتْ بَنُوْ إِسْرَائِيْلَ تَسُوْسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيٌّ خَلَفَهٗ نَبِيٌّ، وَإِنَّهٗ لَا نَبِيَّ بَعْدِي.
ترجمہ: ”بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کرتے تھے، جب بھی ایک نبی دنیا سے تشریف لے جاتے تو ان کی جگہ دوسرے نبی آ جاتے تھے، اور یاد رکھنا میرے بعد کوئی نبی نہیں آ سکے گا۔“
[احادیثِ ختمِ نبوت، ص: 35]
-
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ:
كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهٗ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهٗ، حَتّٰی كَأَنَّهٗ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُوْلُ: صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ، وَيَقُوْلُ: بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ، وَيَقْرِنُ بَيْنَ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰی.
ترجمہ: ”رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو آپ کی آنکھیں مبارک سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور آپ کا جلال بہت سخت ہو جاتا، لگتا تھا کہ مجمع کو کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور فرماتے تھے کہ وہ (لشکر) تمہارے پاس صبح میں آئے گا یا شام میں آئے گا۔ اور فرماتے: میں اور قیامت ان دو کی طرح بھیجے گئے ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا رہے تھے۔“
[احادیثِ ختمِ نبوت، ص: 41]
-
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
أَنَا قَائِدُ الْمُرْسَلِيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ وَلَا فَخْرَ، وَأَنَا أَوَّلُ شَافِعٍ وَّمُشَفَّعٍ وَلَا فَخْرَ.
ترجمہ: ”سارے رسولوں کا قائد میں ہوں اور فخر نہیں کرتا، اور میں تمام نبیوں کا خاتم ہوں لیکن فخر نہیں کرتا، اور میں پہلا شفاعت کرنے والا ہوں (جس کی شفاعت قبول کی جائے گی)، لیکن اس بات پر میں فخر نہیں کرتا۔“
[احادیثِ ختمِ نبوت، ص: 51]
ائمۂ دین کے نزدیک عقیدۂ ختمِ نبوت کی حیثیت:
صحابہ کرام سے لے کر تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد سے آج تک ساری امت کا نظریہ یہی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ خاتم النبیین کا معنی ”نبی بالذات“ ہے یا یہ کہ آخری نبی ہونے میں کوئی خوبی نہیں ہے۔ بطورِ دلیل چند ائمہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال بیان کیے جاتے ہیں:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
”اللہ عزوجل سچا اور اس کا کلام سچا۔ مسلمان پر جس طرح لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ ماننا، اللہ سُبْحَانَهٗ وَتَعَالٰی کو اَحَد، صمد، لا شریک لہٗ (یعنی ایک، بے نیاز اور اس کا کوئی شریک نہ ہونا) جاننا فرضِ اول و مناطِ ایمان ہے، یونہی مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّمَ کو خاتم النبیین ماننا، ان کے زمانے میں خواہ ان کے بعد کسی نبیِ جدید کی بعثت کو یقیناً محال و باطل جاننا فرضِ اجل و جزوِ ایمان ہے۔ ”وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“ نصِ قطعیِ قرآن ہے، اس کا منکر نہ منکر بلکہ شبہ کرنے والا، نہ شاک کہ ادنیٰ ضعیف احتمالِ خفیف سے توہمِ خلاف رکھنے والا، قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران (یعنی ہمیشہ کے لیے جہنمی) ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے عقیدۂ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی کافر، جو اس کے کافر ہونے میں شک و تردد کو راہ دے وہ بھی کافر بَيِّنُ الْكُفْرَانِ عَلَی الْكُفْرَانِ (یعنی واضح کافر اور اس کا کفر روشن) ہے۔“ [رسالہ رضویہ: جزاء اللہ عدوہ بآبائہ ختم النبوۃ، ص: 150]
صدر الشریعہ، بدر الطریقہ، حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ”بہارِ شریعت“ (جلد اول، حصہ اول، باب عقائد متعلقِ نبوت) میں عقیدہ نمبر 36 کے تحت فرماتے ہیں:
”حضور خاتم النبیین ہیں یعنی اللہ عزوجل نے سلسلۂ نبوت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم کر دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں یا بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو سکتا۔ جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں یا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنا مانے یا جائز جانے وہ کافر ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 1، ص: 63]
الحمد للہ عزوجل! قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ لہٰذا جو کوئی شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا انکار کرے اور آپ کے بعد کسی اور کے نبی ہونے کا یقین یا تھوڑا سا شبہ رکھے تو کافر و مرتد اور اسلام سے خارج ہو جائے گا۔ ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ عقیدہ عام کرے اور یہ اعتقاد رکھے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور چاہیے کہ اپنے ہر ہر بچے کے ذہن میں یہ بات پرو دے کہ:
محمد مصطفیٰ، سب سے آخری نبی
احمد مجتبیٰ، سب سے آخری نبی
آمنہ کا لاڈلا، سب سے آخری نبی
نوٹ: 7 ستمبر کو یومِ ختمِ نبوت پوری دنیا میں منایا جاتا ہے، کوشش کر کے ہر مسلمان کو اس میں حصہ لینا چاہیے اور کذابوں کا رد کرنا چاہیے۔
