| عنوان: | فضائلِ علی المرتضیٰ |
|---|---|
| تحریر: | محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال) |
بعد از انبیاء، تمام مخلوقات میں سب سے افضل سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پھر سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس کے بعد امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام و مرتبہ ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ماہِ رمضان کے ساتھ خصوصی تعلق بھی بڑا واضح اور روشن ہے۔ اسی ماہِ مبارک میں، 40 سنِ ہجری کو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زخمِ شہادت پانے کے بعد اپنے حقیقی گھر—دار القرار—کی طرف رحلت فرمائی۔ یوں 21 رمضان المبارک آپ کی شہادت اور وصالِ مبارک کا مہینہ بھی ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب ایسے بے شمار ہیں کہ ہر پہلو الگ عنوان بن سکتا ہے۔ ان کی شجاعت و بہادری، علم و فقاہت، زہد و ورع، حلم و بردباری، عاجزی و فروتنی، خلافتِ راشدہ، شہادت و وصال، ارشاداتِ مقدسہ، اعتراضات کے جوابات، کرامات، خوفِ خدا، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم—یہ سب ایسی مبارک خصوصیات ہیں جن پر مستقل کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔
لیکن زیرِ نظر مضمون میں، میں صرف حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب ہی کو بیان کرنے پر اکتفا کروں گا، تاکہ قارئین کے سامنے ایک پاکیزہ، جامع اور دلوں کو گرما دینے والا خاکہ پیش کیا جا سکے۔
نام و نسب:
حضرت امیر المؤمنین علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسمِ گرامی علی بن ابی طالب ہے۔ آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے، اور یہی کنیت آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے محبت کے ساتھ عطا فرمائی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ آپ کے والدِ بزرگوار ابو طالب بن عبد المطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا تھے، جنہوں نے بچپن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پرورش، کفالت اور ہر مشکل وقت میں بے مثال حمایت فرمائی۔ آپ کی والدہ کا اسمِ پاک فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہے، جو بڑے فضائل و مناقب کی حامل خاتون تھیں۔ یہ خصوصیت بھی انہیں حاصل ہے کہ یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلسلۂ نسب یوں ہے: علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔ یہ وہی جلیل القدر نسب ہے جس میں نورِ ہدایت اور سیادت و شرافت دونوں جمع ہیں۔ تاریخی روایات کے مطابق، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادتِ باسعادت عام الفیل کے تیس سال بعد ہوئی، یوں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آغازِ اسلام ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا خاص ساتھی، مددگار اور اہلِ بیت کا روشن ستارہ بنا دیا۔
رسولِ اکرم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
ترجمہ: ”جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی بھی مولا ہیں۔“ [مشکوٰۃ المصابیح، ص: 565]
اسی طرح حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک اور مقام پر فرمایا:
النَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ
ترجمہ: ”علی کی طرف محبت و تعظیم سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔“ [تاریخ الخلفاء، ص: 176]
یہاں مقامِ غور ہے کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم، جن کی ایک ایک بات نور و حکمت سے پُر ہوتی ہے، وہ یہ فرما رہے ہیں کہ علی کی زیارت عبادت ہے۔ آخر کیوں عبادت نہ ہو؟ جبکہ علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ ہستی ہیں:
- جن کے چہرۂ انور کو وجہ اللہ کہا گیا۔
- جن کا لقب اسد اللہ (اللہ کا شیر) ہے۔
- جنہیں ذاتِ مظہر اللہ کہا گیا۔
- جو نائبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں۔
- اور جن کی جائے ولادت کعبہ ہے۔
ایسی باعظمت شخصیت کی طرف محبت و احترام سے دیکھنا عبادت کیوں نہ ہو، جبکہ ان کی ذات خود نورِ ولایت اور قوتِ ایمانی کا مظہر ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں مواخات کا نظام قائم فرمایا اور دو دو صحابہ کو آپس میں بھائی بھائی بنایا، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ نے تمام صحابہ کے درمیان اخوت قائم فرمائی، ایک صحابی کو دوسرے کا بھائی بنایا، لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ میں یوں ہی رہ گیا ہوں۔“
اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
ترجمہ: ”تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔“ [جامع الترمذی، باب مناقب علی بن ابی طالب]
قربان جاؤں شانِ مرتضیٰ پر! وہ علی جو دنیا و آخرت میں خود سید المرسلین، رحمۃ للعالمین، شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بھائی قرار پائے—مگر اس کے باوجود پوری زندگی کبھی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ”بھائی“ کہہ کر نہیں پکارا۔ جب بھی پکارا، تو یوں کہا: ”یا رسول اللہ!“ ”یا حبیب اللہ!“
یہ ادبِ نبوی علی کی پہچان ہے۔ اگر علی المرتضیٰ، جو دنیا و آخرت میں حقیقی اخوت کے منصب پر فائز تھے، پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ”بھائی“ کہہ کر نہیں پکارا—تو کسی اور ایرے غیرے نتھو خیرے کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ محبوبِ رب العالمین صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بڑے بھائی کہہ کر مخاطب کرے؟ کسی صاحبِ ذوق نے کیا خوب کہا ہے:
اسمِ احمد کی تعظیم کے منکرو! ان کی عظمت کو قرآن میں دیکھ لو
بے لقب ان کا نامِ مبارک کہیں، ان کے معبود نے بھی پکارا نہیں
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عَلِيٌّ لَا يُحِبُّهٗ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهٗ إِلَّا مُنَافِقٌ
ترجمہ: ”علی سے محبت صرف مومن ہی کرتا ہے، اور علی سے بغض صرف منافق ہی رکھتا ہے۔“ [سنن الترمذی، باب مناقب علی بن ابی طالب]
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان و عظمت کا کیا کہنا! سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علی سے محبت کو ایمان کی علامت اور علی سے بغض کو نفاق کا معیار قرار دے دیا۔ یہ اعلانِ نبوی خود اس بات کی روشن دلیل ہے کہ حضرت علی کی محبت ایمان کا حصہ ہے، اور ان سے عداوت رکھنے والا ایمان کی خوشبو تک سے محروم ہے۔ یہ ہے علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ فضیلت جو سیدِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بیان فرمائی، ایسی فضیلت جو رہتی دنیا تک اہلِ محبت کے دلوں میں نورِ ولایت جگاتی رہے گی۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم، رؤوف و رحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي
ترجمہ: ”جس نے علی کو برا کہا، تحقیق اس نے مجھے برا کہا۔“ [السنن الکبریٰ للنسائی، کتاب الخصائص، الحدیث: 876]
اس حدیثِ مبارکہ سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ عظیم قرب، محبت، اور مقامِ نبوی سے خصوصی تعلق ظاہر ہوتا ہے جو بہت کم ہستیوں کو حاصل ہے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ اعلان فرما کر واضح کر دیا کہ:
- علی کی بے ادبی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بے ادبی ہے۔
- علی کی توہین، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی توہین ہے۔
- اور علی سے دشمنی، دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعظیم، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم ہے۔ اور ان کی توہین ایسا جرم ہے جو براہِ راست سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذاتِ اقدس کی توہین کے تحت آتا ہے۔ یہی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وہ عظیم شان ہے جو انہیں درجۂ محبتِ رسول میں ممتاز کرتی ہے۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ أَحَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَحَبَّنِي فَقَدْ أَحَبَّ اللّٰهَ
ترجمہ: ”جس نے علی سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی، یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی۔“ [المعجم الکبیر، ابو طفیل عن ام سلمۃ، الحدیث: 901]
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب ایسے ہیں کہ انسان جتنا بھی لکھے، قلم تھک جاتا ہے مگر شانِ مرتضیٰ کی بلندی ختم نہیں ہوتی۔ ہم تو علی کے نام لیوا، علی کے غلام، علی کے چاہنے والے ہیں—دشمنی تو منافق کرتا ہے، مومن کا کام محبت ہے۔ اور حدیثِ مصطفوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ حقیقت روشن کر دی کہ علی سے محبت ایمان کی علامت ہے اور علی سے بغض نفاق کی نشانی ہے۔
اب آئیے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمتِ شان کا ایک جھلکتا ہوا منظر دیکھیے:
حضرت علی وہ ہیں...
- جو سلطان الاولیاء بھی ہیں، سرتاج الاصفیاء بھی۔
- جو امام الاتقیاء بھی ہیں، دامادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی۔
- جو اخیِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی ہیں اور شیرِ خدا بھی۔
- جو منبعِ فیض و عطا بھی ہیں اور مرکزِ مہر و وفا بھی۔
- جو نیرِ بزمِ سخا ہیں اور شمعِ بزمِ ہدیٰ بھی۔
- جو مرکزِ تجلی و انوار ہیں، حیدرِ کرار بھی ہیں۔
- جو خلیفۂ رسول بھی ہیں، سرتاجِ بتول بھی۔
- جو امام الثقلین ہیں، ابوالحسنین الکریمین بھی ہیں۔
- جو امیر المؤمنین بھی ہیں، ابوتراب بھی۔
- جو عالی شان و عالی جناب ہیں، مرتضیٰ ہیں، مشکل کشا بھی ہیں۔
- جو تاجدارِ ھل اتیٰ ہیں اور سردارِ شہداء بھی ہیں۔
یہ سب کچھ کہنے کے باوجود بھی حقیقت یہ ہے کہ:
علی کی شان علی ہی جانے، یا وہ جانے جس نے علی کو بنایا۔
