کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مدنی قافلہ کیوں ضروری ہے؟

مدنی قافلہ کیوں ضروری ہے؟
عنوان: مدنی قافلہ کیوں ضروری ہے؟
تحریر: محمد قمر الزماں قادری
پیش کش: سکھرام پور، تولہوا، کپل وستو، نیپال

پیارے اسلامی بھائیو!

آج ساری دنیا میں مسلمانوں کی اکثریت شرعی احکام پر عمل کے معاملے میں بے حد غفلت و سستی کا شکار ہے۔ عبادات کو ہی لے لیجیے، نماز و روزہ وغیرہ کی ادائیگی میں جس طرح کوتاہی کی جاتی ہے اس کا اندازہ کسی بھی مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے یا پھر دورانِ رمضان دن دہاڑے ہوٹلوں وغیرہ میں بلا عذرِ شرعی روزہ نہ رکھنے والے روزہ خوروں کی تعداد کو دیکھ کر۔ جہاں تک معاملات—مثلاً آپس میں خرید و فروخت، نکاح و طلاق، اجرت دے کر کوئی کام کروانے—کا تعلق ہے، تو علمِ دین سے محرومی کے باوجود کوئی بھی کام کرتے وقت عموماً اس کی شرعی حیثیت معلوم ہی نہیں کی جاتی کہ ہم جو کچھ کرنے جا رہے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر کوئی خیر خواہی کرتے ہوئے اس کے ناجائز ہونے کے بارے میں بتا بھی دے تو مختلف حیلے بہانے مارتے نظر آتے ہیں۔

رہے عقائد تو ان کا معاملہ سب سے زیادہ نازک ہے کہ ہماری اکثریت تشویش کی حد تک اپنے عقائد سے نابلد ہے، جس کی وجہ سے ایسے کلمات بھی بک دیے جاتے ہیں جنہیں علمائے کرام نے کفر قرار دیا ہے۔ کفریہ کلمات کی معلومات کے لیے امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب“ کا مطالعہ فرمائیے۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ گناہوں کا ایک سیلاب ہے جس میں مسلمان بہتے جا رہے ہیں۔ جھوٹ، غیبت، چغلی، چوری، قتل، جوا، سود کا لین دین، زنا، امانت میں خیانت، والدین کی نافرمانی، مسلمانوں کو بلاوجہ شرعی اذیت دینا، بغض و کینہ، تکبر، حسد وغیرہ۔

الغرض وہ کون سا گناہ ہے جس کا ارتکاب آج ہمارے معاشرے میں کثرت سے نہیں کیا جا رہا؟ ایک طرف یہ پریشان کن صورتحال ہے اور دوسری طرف ہمارے اسی ملک میں بدمذہبوں اور بدعقیدوں کی بدمعاشیاں چل رہی ہیں۔ لوگوں کا ایمان چھینا جا رہا ہے، ان کو غلط وسوسے دے کر، ان کو غلط باتیں بتا کر لوگوں کے ایمان کو لوٹا جا رہا ہے۔ ایمان کے چور چاروں طرف پھیل رہے ہیں، لوگوں میں بدعملی ہے، لوگوں کو اپنے عقائد معلوم ہی نہیں ہیں۔ پیارے اسلامی بھائیو! یہ تو ایک مثال تھی، لیکن ایسے کتنے ہی فتنے ہیں جو لوگوں کا ایمان چھین رہے ہیں۔

اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ہم غفلت کی نیند سے بیدار ہوں اور آخرت کی بہتری کے لیے بانیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے مدنی مقصد کو اپنا مقصد بناتے ہوئے کوشش کریں۔ ان کا مدنی مقصد ہے: ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔“ اپنی اصلاح کے لیے ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے اعمال کو درست کرنا چاہیے، ان شاء اللہ عزوجل۔

یاد رکھیے! اپنی اصلاح کے لیے نیک اعمال پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لیے راہِ خدا عزوجل میں سفر کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں کا مسافر بننا بے حد ضروری ہے، کیونکہ ساری دنیا میں نیکی کی دعوت مدنی قافلوں کا مسافر بن کر ہی عام کی جا سکتی ہے۔

خود ہمارے مدنی آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے راہِ خدا میں متعدد سفر کیے، جن کے دوران سرورِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا، مصیبتیں جھیلیں، طعنے سنے، زخم سہے، پتھر کھائے، فاقوں کے سبب پیٹ پر پتھر باندھے، لیکن پھر بھی راتوں کو اٹھ اٹھ کر، رو رو کر لوگوں کی ہدایت کے لیے دعائیں کیں اور راہِ خدا میں سفر کر کے لوگوں کے پاس جا جا کر اسلام کی دعوت کو عام کیا۔ اسی طرح امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی راہِ خدا میں سفر کیا اور کربلا کے میدان میں بھوک، پیاس اور دشمنوں کے بہت بڑے گروہ کا سامنا کیا حتیٰ کہ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔ خود شہید ہو کر اسلام کا پرچم اونچا کر گئے اور ہمیں یہ سبق دے دیا کہ اسلام کی اشاعت اور نیکی کی دعوت دینے کے لیے راہِ خدا میں سفر اختیار کریں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی اکثریت ایسی تھی جنہوں نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے علمِ دین حاصل کیا، پھر اسے ساری دنیا میں پھیلانے کے لیے راہِ خدا میں سفر اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مزارات صرف مدینہ طیبہ ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے متعدد مقامات پر بھی موجود ہیں۔ ان کے بعد تابعین، تبع تابعین، ائمہ عظام اور اولیائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے نیکی کی دعوت کو عام کرنے کے اس سلسلے کو جس آب و تاب کے ساتھ قائم رکھا، وہ واقفانِ تاریخ (تاریخ جاننے والوں) سے مخفی نہیں۔

اسی طرح حضور سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے دامنِ اقدس سے جو پاکباز لوگ وابستہ ہوئے انہوں نے دینِ اسلام کے لیے بھرپور کوششیں کیں، اور اعلیٰ حضرت عظیم المرتبت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اور آپ کے مریدین و متوسلین نے بھی اس کام کا بیڑا اٹھایا اور اسلام کے پیغام کو دنیا میں عام کرنے کی بھرپور جدوجہد کی۔ انہی اکابرینِ اسلام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے شب و روز کوشش کی اور ان کی کوششوں کا نتیجہ آج ”دعوتِ اسلامی“ کی دینی تحریک کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔

بانیِ دعوتِ اسلامی مدظلہ العالی نے ہر اسلامی بھائی کے لیے خصوصی طور پر دو دینی کام عطا فرمائے ہیں، جن کے تحت ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوششیں کی جا سکتی ہیں:

  1. نیک اعمال (رسالہ)
  2. مدنی قافلے

اگر ہر اسلامی بھائی ان دو دینی کاموں کے لیے اپنی بھرپور کوشش صرف کرے تو پوری دنیا میں دعوتِ اسلامی کی دھوم مچ جائے گی اور کچھ ہی عرصے میں دعوتِ اسلامی کا یہ پیغام ہر ملک، ہر صوبے، ہر شہر، ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر گھر میں پہنچ جائے گا، ان شاء اللہ عزوجل۔

پیارے اسلامی بھائیو! اگر ہم مدنی قافلوں میں سفر نہ کریں اور دین کے لیے اپنا وقت نہ دیں تو یہ ہمارے لیے بہت نقصان کا باعث ہے۔ آئیے کچھ رپورٹس سنتے ہیں کہ ہماری دین سے دوری اور دین کی طرف لگاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اغیار نے ہم پر کس طرح کے مظالم ڈھائے اور ہماری مسجدوں اور دیندار لوگوں کے ساتھ کیا کیا:

  1. ایک رپورٹ کے مطابق ایک ملک میں غیر مسلموں نے 157 مساجد کو تالے لگا دیے اور مساجد کو تجارتی اور رہائشی مقاصد کے لیے غیر مسلموں کے حوالے کر دیا۔ سرکاری تحویل کے بہانے 324 مساجد کو نمازیوں کے لیے بند کر دیا گیا۔
  2. ایک ملک کے ایک شہر میں 92 مساجد کو مویشیوں کے باڑے اور رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا۔
  3. اسی طرح ایک ملک کے ایک قصبے میں 23 مئی 1988ء کو مسجد پر ناجائز قبضہ کر کے اس میں مورتیاں وغیرہ رکھ دی گئیں۔
  4. اس طرح ایک اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی کہ یورپ کے ایک ملک میں ترک مسلمانوں کی ایک مسجد کو آگ لگا دی اور شہید کر دیا۔

پیارے اسلامی بھائیو! ان سب حقائق کے باوجود ہم ابھی تک خوابِ غفلت میں ہیں۔ گھریلو آسائشیں چھوڑ کر چند دن کے لیے راہِ خدا میں سفر کے لیے ہمارا نفس تیار نہیں ہوتا، ہاں! دنیا کی مادی دولت کمانے کے لیے اپنے گھر والوں سے برسہا برس کے لیے سینکڑوں میل دور جانے کے لیے فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔

کیا مسلمانوں کی خستہ حالی، مسجدوں کی ویرانی، سینما گھروں کی آبادی، فیشن کی یلغار، مغربی تہذیب کا طوفان، گھر گھر ٹی وی، کیبل سسٹم، انٹرنیٹ اور قدم قدم پر نافرمانیوں کی بھرمار، ہائے! مسلمان کا بگڑا ہوا کردار... یہ سب کچھ ہمیں پکار پکار کر دعوتِ فکر نہیں دے رہا کہ ہمیں ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لیے ضرور بالضرور سفر کرنا چاہیے؟ ذرا سوچیے تو سہی! اگر ہم میں سے ہر ایک اپنی مجبوریوں میں پھنس کر رہ گیا تو آخر کون ان قافلوں میں سفر کرے گا؟ کون ساری دنیا کے لوگوں تک نیکی کی دعوت پہنچائے گا؟ تاجدارِ انبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری امت کی خیر خواہی کون کرے گا؟ اغیار کی وضع قطع پر اترانے والے مسلمانوں کو سنتوں کے سانچے میں ڈھلنے کا ذہن کون دے گا؟ کون انہیں یہ مدنی مقصد اپنانے کی ترغیب دے گا کہ ”مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے“؟

یاد رکھیے! آج لوگوں کی نگاہیں دعوتِ اسلامی کے قافلوں کی منتظر ہیں۔ ہر مسجد، ہر گاؤں، ہر شہر، ہر ڈویژن، ہر صوبے اور ہر کابینہ سے یہ صدا سنائی دے رہی ہے کہ مدنی قافلوں کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کی اصلاح، مسجدوں کی آباد کاری، ساری دنیا میں سنتوں کی دھوم مچانے، پوری دنیا میں نیکی کی دعوت عام کرنے اور ہر اسلامی بھائی کی تربیت کا بہترین ذریعہ قافلے ہیں۔ امیرِ اہلِ سنت، شیخِ طریقت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ: ”دعوتِ اسلامی کی بقاء قافلوں میں ہے۔“

لہٰذا ہمیں نہ صرف خود قافلے میں سفر کرنا ہے بلکہ اپنے گھر، مسجد، محلے، آفس، اسکول، کالج، فیکٹری، دکان، مارکیٹ، بازار اور ہر مقام پر دیگر اسلامی بھائیوں کو انفرادی کوشش کے ذریعے قافلوں میں سفر کی ترغیب بھی دینی ہے، ان شاء اللہ عزوجل۔

آج ہمیں زندگی میں یکمشت 12 ماہ، ہر 12 ماہ میں 30 دن اور عمر بھر ہر ماہ 3 دن کے لیے راہِ خدا میں سفر کرنا ہے۔ ان شاء اللہ کریم اس کے بدلے میں اللہ پاک ہمیں خوب برکتیں نصیب فرمائے گا اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ جنت الفردوس میں مقام نصیب فرمائے گا۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!