کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

کرب آشنا

کرب آشنا
عنوان: کرب آشنا
تحریر: مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا
پیش کش: لباب اکیڈمی

کرب آشنا

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں

(علامہ اقبال)

یہ کائناتِ ہست و بود اپنی تمام تر پہنائیوں اور کہکشاؤں سمیت شاید اتنی پیچیدہ اور پُر اسرار نہیں جتنا انسان کا اپنا وجود ہے۔ انسان کی ذات فی الواقع ایک ہوش ربا طلسماتی آئینہ ہے جس میں عکس تو دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت کہیں گہرے پردوں میں روپوش رہتی ہے۔

اس کارزارِ حیات میں سب سے زیادہ سربستہ و طلسم افزا انسان ہی کی ذات ہے، کسی قلزمِ بے کراں کی مانند، جو باہر سے تو خاموش اور پرسکون دکھائی دیتا ہے، مگر اندر سے شور و شغب کا ایک تلاطم آمیز طوفان اپنے اندر جذب کیے ہوتا ہے۔

وہ چہرے جو بظاہر شاداں نظر آتے ہیں، ان کے پیچھے کرب و ضرب سے لبریز ایک مکمل داستان چھپی ہوتی ہے۔ بظاہر کامیاب دکھنے والا شخص اپنے وجود میں کتنی ہی ناکامیوں کے قصے سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ لبوں پر سجے بے ترتیب تبسم کے پیچھے صحرائے غم کی تپش آتشِ سوزاں کی طرح روح کو جھلسا رہی ہوتی ہے۔

فرحت و شادمانی میں رقص کرتا شخص بسا اوقات شدتِ غم کے باعث ایسی وارفتگی و بے خودی کا شکار ہوتا ہے۔ محافل میں قہقہوں کی بازگشت کے پسِ پردہ زندگی کی تلخیوں اور اندرونی شکست و ریخت کو حدِ ضبط میں رکھنے کی سعی ہوتی ہے۔ بظاہر سکوت میں ڈوبا ہوا شخص اپنے اندر کی کتنی ہی چیخوں کو دبانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ اور بسا اوقات وقار و شہرت کے لبادے میں ملبوس شخص اپنی ہی باطنی عمارت کے ملبوں تلے دبا ہوا ہوتا ہے۔

یہ وہ لمحات ہیں جہاں چیخیں تو بلند و بانگ ہوتی ہیں مگر ان کا شور سننا سماعتِ انسانی کے بس کا روگ نہیں، یہ تو بس اس دل کا منصب و خاصہ ہے جو کرب آشنا اور درد شناس ہو۔ یہ آشنائی فقط بصیرت کا جلوہ اور دیدۂ قلب کا کرشمہ ہے۔

کوئی دیکھے تو سہی۔۔۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

(علامہ اقبال)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!