| عنوان: | فروعی مسائل میں تشدد سے گریز کریں: اکابرین کے منہج کی روشنی میں ایک سنجیدہ گزارش |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار |
آج کے ماحول میں یہ امر نہایت باعثِ تشویش ہے کہ فروعی اور اجتہادی مسائل میں اختلافِ رائے کو بعض افراد نے باہمی تنقید، لعن طعن اور کردار کشی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ حالانکہ علمی دنیا کی مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ فروعی اختلاف امت کے لیے تنگی نہیں بلکہ وسعت اور آسانی کا سبب رہا ہے۔
اگر فروعی مسائل میں اختلاف ناجائز یا موجبِ گمراہی ہوتا تو فقہِ اسلامی میں چار عظیم مذاہب (حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی) وجود میں نہ آتے۔ خود امامِ اعظم کے تلامذۂ کرام، امام محمد الشیبانی اور امام ابو یوسف رحمہما اللہ نے اپنے استاذ سے متعدد مسائل میں اختلاف کیا؛ مگر یہ اختلاف علمی تھا، نہ کہ شخصی عداوت کا اظہار۔ اگر ہر فرعی مسئلہ ناقابلِ تغیر اور اختلاف ناقابلِ برداشت ہوتا تو خود اکابرینِ امت اس گرفت سے محفوظ نہ رہتے۔
اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی قدس سرہٗ کے نزدیک مزامیر کے ساتھ قوالی مطلقاً حرام ہے، جبکہ سید علی حسین اشرفی میاں علیہ الرحمہ اس کے جواز کے قائل تھے اور سماعت بھی فرماتے تھے۔ اس اختلاف کے باوجود امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے نہ انہیں فاسق کہا اور نہ ان کی علمی و روحانی عظمت میں کمی کی۔ بلکہ ان کے مرشدِ گرامی، سید آلِ رسول مارہروی رحمۃ اللہ علیہ نے اشرفی میاں علیہ الرحمہ کو خلافت سے نوازا اور اپنے آخری خلفاء میں شمار فرمایا۔ اگر فروعی اختلاف فسق و فجور کا معیار ہوتا تو یہ طرزِ عمل کیسے ممکن تھا؟
اسی طرح مفتیِ اعظمِ ہند مصطفیٰ رضا خان علیہ الرحمہ نے ”زوجۂ مفقود الخبر“ کے مسئلے میں اپنے فقہی مسلک (مسلکِ امامِ اعظم ابو حنیفہ) سے ہٹ کر مسلکِ امام مالک پر عمل کی اجازت مرحمت فرمائی۔ کیا اس بنا پر کسی نے ان پر فتویٰ لگانے کی جسارت کی؟ ہرگز نہیں، کیونکہ اہلِ علم جانتے ہیں کہ یہ اجتہادی وسعت ہے، نہ کہ انحراف۔
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے دینی مصالح کے تحت فوٹو گرافی کے جواز کا فتویٰ دیا۔ غزالیِ زماں علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ موبائل تصویر کے مطلقاً جواز کے قائل تھے۔ علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ علیہ لاؤڈ اسپیکر کے جواز کے حامی تھے۔ کیا ان حضرات کو ان فتاویٰ کی بنیاد پر مطعون کیا گیا؟ نہیں! کیونکہ اکابرین کے اختلاف کو علمی تناظر میں سمجھا جاتا تھا، نہ کہ جذباتی انداز میں۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب انہی فروعی مسائل میں کسی خاص دینی تنظیم—خصوصاً دعوتِ اسلامی—کا نام آتا ہے تو بعض افراد کا طرزِ بیان بدل جاتا ہے۔ جب دعوتِ اسلامی نے مفتی احمد یار خان نعیمی اور دیگر اکابرین کے فتاویٰ کی روشنی میں دینی و اصلاحی کاموں کو وسعت دی اور ”مدنی چینل“ جیسے پلیٹ فارم کے ذریعے اشاعتِ دین کا بیڑا اٹھایا، تو حوصلہ افزائی کے بجائے اعتراضات اور مخالفت کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔
یہ رویہ علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اگر ایک ہی مسئلے پر اکابرین کی رائے قابلِ احترام ہے تو اسی رائے پر عمل کرنے والی تنظیم کو نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
یاد رکھیے کہ اعتدال ہی:
- اکابرین کا راستہ ہے۔
- علمی روایت کا حصہ ہے۔
- فقہی اجتہاد کی علامت ہے۔
- اور امت کے لیے سہولت کا ذریعہ ہے۔
اسے تعصب، حسد یا گروہی رقابت کا میدان بنانا نہ تو اکابرین کا طریقہ ہے اور نہ ہی امت کے مفاد میں ہے۔
لہٰذا تمام اہلِ علم، خطباء، ذمہ داران اور وابستگان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ:
- اختلاف کو دلیل تک محدود رکھیں۔
- شخصیات کی تحقیر سے اجتناب کریں۔
- اور تنظیمی وابستگی کو دشمنی کا معیار نہ بنائیں۔
ابھی بھی وقت ہے کہ شدت پسندی اور طعن و تشنیع کے اسلوب کو ترک کر کے اعتدال، حلم اور باہمی احترام کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہی اکابرین کا منہج ہے، یہی امت کی ضرورت ہے، اور اسی میں خیر و برکت مضمر ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وسعتِ قلبی، حسنِ ظن اور اتحادِ امت کی حقیقی فکر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
