| عنوان: | رمضان میں خیر خواہی یوں بھی کر سکتے ہیں |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
رمضان میں خیر خواہی یوں بھی کر سکتے ہیں
رمضان المبارک کا برکتوں والا ماہ اپنے جلوے بکھیر رہا ہے۔ جی ہاں! اس مہینے کی ہر گھڑی رحمت بھری ہے اور اپنے اندر بخشش کا پروانہ لیے ہوئے ہے۔ اسی مبارک مہینے میں خداوندِ متعال نے اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر اپنی پاک اور لاریب کتاب قرآنِ مقدس نازل فرمائی۔ اور ہاں! اس مبارک مہینے میں نیکیاں کرنا ایسا ہے جیسا کہ عام مہینوں اور عام دنوں میں ستّر نیکیاں کرنا۔ نیز گناہ کا بھی یہی معاملہ ہے۔
اب ہمارے ہاں ایک بہترین روایت یہ چلتی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ لوگ اپنے علاقے کے امام، مؤذن اور عالمِ دین حضرات کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اب دیکھا یہی جا رہا ہے کہ بالعموم ہمیں اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کس طرح خدمت کریں۔ بس جس طرح ہمارے آبا و اجداد خدمت کرتے تھے، اسی طرح ہم بھی خدمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر: اگر کسی کے آبا و اجداد امام صاحبان اور دیگر اہلِ ضرورت حضرات کو کپڑے دیتے تھے، تو اب بھی ان کی آل اولاد ان حضرات کو کپڑے ہی دینا پسند کرتی ہے۔
اب آئیے! استاذِ محترم مفتی وسیم اکرم مصباحی صاحب دام ظلہ العالی کی اس حوالے سے لکھی گئی اہم معلومات کو صفحۂ قرطاس پر نوکِ قلم کیا جاتا ہے۔
مفتی وسیم اکرم مصباحی اور اہم رہنمائی
استاذِ محترم فرماتے ہیں: ”اگر آپ رمضان المبارک میں کسی کی خیر خواہی کر کے نیکیاں کمانا چاہتے ہیں تو اسے ضرور پڑھیں۔“
آج کل ہمارے یہاں ایک اچھی روایت ہے کہ لوگ اپنے علاقے کے امام صاحب، مؤذن صاحب اور حفاظِ کرام کی خدمت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر رمضان المبارک میں۔ زیادہ تر لوگ ستائیسویں شب کو عید کے جوڑے تحفے میں دیتے ہیں، جو یقیناً ایک اچھی بات ہے۔ لیکن بعض اوقات ہم نیکی کرتے ہوئے چند باتوں کا خیال نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے فائدہ کم اور مشکلات زیادہ ہو جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر، 27 رمضان کو کپڑے دینے کا رجحان بہت زیادہ ہے، جبکہ ان دنوں درزی حضرات کے پاس پہلے ہی بہت زیادہ کام ہوتا ہے۔ کئی درزی تو 15 رمضان کے بعد مزید کپڑے لینے سے انکار کر دیتے ہیں کیونکہ وہ پہلے سے مصروف ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی 27 رمضان کو کپڑے دے تو وہ عید پر پہننا مشکل ہو جاتا ہے۔
اسی طرح، زیادہ تر لوگ کپڑے ہی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے امام صاحب یا مؤذن صاحب کے پاس ایک ساتھ بہت زیادہ کپڑے جمع ہو جاتے ہیں، لیکن بعض اور ضروری چیزیں رہ جاتی ہیں۔ اسی طرح، رمضان میں لوگ غریبوں کو راشن بھی دیتے ہیں، جو اچھی بات ہے، لیکن اگر ہر کوئی صرف راشن ہی دے تو دیگر ضروری اخراجات، جیسے گیس اور بجلی کے بل، کیسے پورے ہوں گے؟
اسی لیے سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کی مدد کرنی ہو تو نقد رقم دی جائے، تاکہ وہ اپنی ضروریات کے مطابق اسے خرچ کر سکیں۔ سوچیں، اگر امام صاحب کو دس جوڑے کپڑے مل جائیں، لیکن گھر جا کر پتہ چلے کہ ان کی اہلیہ اور بچوں کے لیے کچھ نہیں آیا، تو یہ کتنی عجیب بات ہوگی؟
اس لیے جب بھی کسی کی مدد کریں، تو اس کی اصل ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کی نیکی زیادہ فائدہ مند ثابت ہو۔
اور ہاں! خدمت کا ذہن رکھ کر خیر خواہی کریں، یہ سمجھیں کہ سامنے والے کا احسان ہے کہ وہ آپ کی دنیاوی چیز قبول کر رہا ہے، جس کے بدلے اللہ پاک دنیاوی نعمتیں بھی عطا فرمائے گا اور اخروی بھی۔ اور دیتے وقت اللہ پاک کا شکر بھی ادا کریں کہ اس نے آپ کو دینے والا بنایا ہے۔ بعض عجیب و غریب لوگوں کو بھی دیکھا گیا ہے کہ غریب کو دیا، لیکن اس کی تصویر لی، کبھی ویڈیو بنائی، تو کبھی احسان جتایا۔ حالانکہ روایات میں تو اس بات کی ترغیب ملتی ہے کہ بندہ اس انداز سے پیش کرے کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔ دینے سے پہلے آپ اپنے آپ کو اس مقام پر تصور کریں کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا اور مجھے سخت حاجت ہوتی، تو میں کس انداز سے لینا پسند کرتا؟
اللہ تعالیٰ ہمیں بہتر انداز میں خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محترم قارئینِ کرام!
اگر آپ رمضان المبارک میں بہترین انداز میں خیر خواہی کرنا چاہتے ہیں تو ماقبل ذکر کردہ امر کو اپنائیں اور نقد رقم دے کر مواسات (ہمدردی و غم خواری) کا صحیح معنوں میں حق ادا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اللہ پاک ہمیں اپنے علماء سے پوچھ کر اور بہتر سے بہترین طریقے پر دوسروں کی خیر خواہی و مواسات کی توفیق عطا فرمائے۔
