| عنوان: | گھر سے مدرسہ |
|---|---|
| تحریر: | یوسف رضا بن قاسم عطاری |
| پیش کش: | ماڈل جامعۃ المدینہ، ناگ پور، دعوت اسلامی |
مدرسے کی چھٹیوں میں گھر کی رونقیں ہی الگ ہوتی ہیں۔ یہاں ماں کی ممتا، والد صاحب کی محبتیں، بھائیوں کا پیار، دوستوں کی یاری اور بزرگوں کے تجربات حاصل کر کے دل کو سکون ملتا ہے، ایک نئی زندگی ملتی ہے۔ اور جب واپس جانے کا وقت قریب آتا ہے اور مدرسہ جانے کے لیے پہلے سے ہی ٹکٹ بنانے کی باری آتی ہے، تو ماں کی ممتا کہتی ہے: ”ابھی مت نکالو، پھر تمہیں مدرسے جانے کے دن کا انتظار رہے گا اور مجھ سے دور جانے کا صدمہ رہے گا۔“ ماں کی یہ ممتا بھری بات سن کر دل میں ایک عجیب کیفیت بن جاتی ہے، پھر بھی ٹکٹ بنوا کر جانے کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔
اب ٹکٹ نکال لی تو ایک طرف ماں سے دور جانے کا غم ذہن میں آتا ہے، تو دوسری طرف جانے کے لیے تیاریاں کرنے لگ جاتے ہیں۔
مدرسہ جانے کے لیے جب ایک ہفتہ باقی رہ جاتا ہے، تو ایک طرف دل خوش ہوتا ہے کہ اب پھر سے ”قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی“ اور ”قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ“ کی صداؤں میں رحمت بھری گھڑیاں گزریں گی، تو دوسری طرف یہ خیالات ہوتے ہیں کہ ماں کی ممتا اور والد صاحب کی محبتوں سے دور جانا ہے۔
بالآخر وہ گھڑی بھی آ جاتی ہے جب گھر والوں کو ”فی امان اللہ“ کہہ کر مدرسہ جانا ہوتا ہے۔ آخری رات تھی جس کو گزار کر دوسرے دن صبح نکلنا تھا۔ سامان باندھ لیا۔ اب چونکہ آخری رات تھی اور پھر گھر سے دور جانا تھا، اور رات بھی کیا بابرکت رات تھی، 10 شوال کی، جس دن میرے آقا و مولیٰ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا یومِ ولادت ہے۔ میں نے گھر والوں کو اس دن کی خبر دی اور پھر منقبتِ اعلیٰ حضرت پڑھنا شروع کی۔ الحمدللہ سب جھومنے لگے اور کہنے لگے: ”مسلکِ اعلیٰ حضرت سلامت رہے۔“ یہ نورانی محفل ختم ہوئی، پھر کھانا کھایا۔ اب چونکہ سونے کا وقت قریب تھا، تو والدہ نے سینے سے لگایا، دعائیں دیتی رہیں اور روتی رہیں کہ: ”اللہ پاک میرے بیٹے کو سلامت رکھے، تمہارا سفر اللہ تعالیٰ سلامت رکھے، جس جگہ رکھے اپنی امان میں رکھے۔“ وہ یہی دعائیں دیتی رہیں۔
یہاں میں آپ سے عرض کرتا چلوں کہ کہیں بھی نکلنا ہو، والدین کی دعائیں لے کر نکلیں اور والدین کو بھی چاہیے کہ اپنے بچے کے لیے دعائیں کرتے رہیں، کیونکہ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ ”دعا مومن کا ہتھیار ہے۔“ اب ہم چلتے ہیں سفر شروع کرنے کی طرف۔
اب میں گھر سے نکلا، ماں کی آنکھ کو نم کرتے ہوئے اور والد صاحب اور بھائیوں کے دل کو رنجیدہ کرتے ہوئے۔ ان کو مجھ سے اس طرح محبت ہے جس طرح ایک کاتب کو اپنے قلم سے، مالک کو اپنے غلام سے، مالی کو پھول سے اور مچھلی کو پانی سے ہوتی ہے۔ یہ ساری محبتیں چھوڑ کر میں بس کی طرف چلا جو مجھے اپنی منزل تک پہنچانے کے لیے ایک ذریعہ تھی۔ اب میں بس میں بیٹھ چکا جو مجھے اپنے گھر سے دور اور اپنی منزل یعنی جامعۃ المدینہ کے قریب کرنے جا رہی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ بس مجھے اپنے علاقے کے آخری مناظر کی طرف لے گئی، وہ مناظر جو میں اکثر دیکھا کرتا تھا۔ پھر اس بس نے مجھے ریلوے اسٹیشن کے قریب منتقل کر دیا، جو مجھے اپنی منزل ناگپور تک پہنچائے گی، جس کو ہم ”تاج پور“ بھی کہتے ہیں، جہاں بادشاہِ ہفت اقلیم حضور تاج الاولیاء رحمۃ اللہ علیہ کا مزارِ پُر انوار ہے جو آنے والے محبین پر انوار کی بارش کر رہا ہے۔
بالآخر میں ٹرین میں بیٹھ ہی گیا، سفر چلتا رہا اور میں اپنی منزل کے قریب ہوتا چلا۔ مسافر اکیلا ہی رہتا ہے۔ بندہ جب پیدا ہوتا ہے تب اکیلا آتا ہے اس دنیا میں، اور جب دنیا کی زندگی مکمل کر کے موت کے قریب ہونے لگتا ہے تب بھی اکیلا ہوتا ہے، جب اس کو قبر میں دفنایا جاتا ہے تب بھی اکیلا ہوتا ہے، اور جب کل بروزِ قیامت قبر سے اٹھایا جائے گا تب بھی اکیلا اٹھے گا۔
سفر میں میرے ایک دوست ساجد بھائی بھی میرے ساتھ تھے، میں اکیلا نہیں تھا۔ انسان کو اکیلے سفر نہیں کرنا چاہیے، کوئی نہ کوئی ساتھ میں ہو تو وہ سفر اچھا رہتا ہے۔ اگر انسان کو کسی دوسرے انسان کے بارے میں کچھ جاننا ہے یا اس کے اخلاق وغیرہ دیکھنے ہیں تو سب سے اچھا طریقہ اس کے ساتھ سفر کرنا ہے، کیونکہ انسان سفر میں سب کچھ جان لیتا ہے۔
سفر میں مطالعے کے لیے میں نے اپنے ساتھ کتابیں بھی رکھی تھیں۔ علمِ دین حاصل کرنے کے لیے جا رہا ہوں تو علمِ دین طالبِ علم سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتا۔ حضر ہو یا سفر، ہر وقت وہ طالبِ علم پڑھتا ہی رہتا ہے۔ یہ سوچ کر میں نے ”علم القرآن“ نامی کتاب لی جو کہ حضرت علامہ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف شدہ ہے، جس میں قرآنی قواعد ہیں جن کی مدد سے قرآنِ پاک کے ترجمے میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔ اور اس کتاب میں مزید عقائدِ اہلِ سنت کی اہم معلومات اور باطل فرقوں اور ان کے جھوٹے ترجموں کی معلومات ہیں جن سے وہ بد مذہبی اور گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ ان ترجموں کا رد بھی ہے اور اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و نظریات کے مدِ نظر قرآنِ پاک کا ترجمہ بھی ہے۔
کتاب پڑھتا چلا اور سفر مکمل ہوتا چلا، اب میں ناگپور کی سرزمین پر پہنچا۔ اب مجھے جامعہ کے قریب پہنچنے میں کچھ ہی دیر تھی۔ بالآخر وہ وقت بھی آ گیا کہ میں ناگپور پہنچ چکا ہوں، اور اب ناگپور کے ریلوے اسٹیشن سے جامعۃ المدینہ ناگپور (ماڈل جامعۃ المدینہ) کی طرف جانے کے لیے رکشہ میں بیٹھا۔ وہ رکشہ مجھے ناگپور کی گلیوں سے جامعہ تک پہنچانے کے لیے چل پڑا۔ اب گھر سے دور، جامعہ سے قریب ہو گیا میں۔ اب ان گلیوں کو دیکھتا چلا جن گلیوں کو میں دو سال سے دیکھتا آ رہا ہوں، ان گلیوں کو پار کرتے ہوئے مدرسہ تک پہنچا۔
جامعہ میں پہنچنا ہی تھا کہ بچے باہر میدان میں تھے جو میرے ساتھی ہیں۔ انہوں نے مجھے اور ساجد بھائی کو دیکھ کر جلدی سے ہمارے قریب آئے اور محبتوں کے ساتھ ملے۔ ان کی یہ محبت بھری ملاقات جامعہ کے دروازے پر ہی ہو رہی تھی۔ اب انہوں نے ہمارا سامان اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور روم میں رکھنے کے لیے پہنچ گئے۔ میں نے اپنے چھوٹے والے بیگ سے تیار ہونے کے لیے کپڑے نکالے کیونکہ مجھے اب میرے ان اساتذہ کرام سے ملاقات کرنے جانا تھا جو کہ باعمل عالم و مفتی ہیں۔ کیونکہ حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ ”جس نے باعمل عالمِ دین کی زیارت کی اس نے میری زیارت کی۔“
بالآخر اب میں تیار ہو ہی گیا اور اپنے اساتذہ کرام سے ملنے کے لیے چلا۔ الحمدللہ ان سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے میرے حالات وغیرہ دریافت کیے اور دعائیں دیں۔ اب پھر میں رحمتوں بھرے ماحول میں آ گیا جہاں پر ”قَالَ اللّٰهُ“ اور ”قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ“ کی صدائیں گونجتی ہیں۔
اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ سب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ضروریاتِ دین سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مجھے اللہ پاک باعمل عالمِ دین و مفتیِ اسلام اور دعوتِ اسلامی کا مخلص مبلغ بنائے، دین و سنت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیشہ اساتذہ کرام کا باادب رکھے۔ آمین۔
