کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

حضور اکرم ﷺ کی اصحابِ بدر سے بے مثال محبت

حضور اکرم ﷺ کی اصحابِ بدر سے بے مثال محبت
عنوان: حضور اکرم ﷺ کی اصحابِ بدر سے بے مثال محبت
تحریر: بنت محمد یونس

اسلام کی درخشاں تاریخ میں غزوۂ بدر کو وہ امتیازی مقام حاصل ہے جو کسی اور معرکے کو نصیب نہیں ہوا۔ یہ صرف دو لشکروں کا تصادم نہ تھا بلکہ ایمان اور کفر، حق اور باطل، توکل اور غرور کے درمیان ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا۔ اس معرکے میں شریک ہونے والے خوش نصیب صحابہ کرام علیہم الرضوان کو ”اصحابِ بدر“ کہا جاتا ہے، جن کے مقام و مرتبے کو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے غیر معمولی فضیلت اور خصوصی محبت سے نوازا۔

ایک تاریخی و ایمانی پس منظر

غزوۂ بدر 17 رمضان المبارک 2 ہجری کو پیش آیا۔ اس میں تقریباً 313 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک تھے، جن کے پاس نہ تو مکمل اسلحہ تھا اور نہ ہی جنگی تیاری۔ جبکہ کفارِ مکہ ایک ہزار سے زائد تعداد، مکمل ساز و سامان اور جنگی غرور کے ساتھ میدان میں اترے۔ ظاہری اسباب کے اعتبار سے مسلمانوں کی فتح کا کوئی امکان نہ تھا، مگر ان کے دل ایمان، اخلاص اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت سے معمور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی غیبی مدد نازل فرمائی اور تاریخ کا رخ بدل دیا۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر غزوۂ بدر اور اس میں شریک اہلِ ایمان کا ذکر فرمایا ہے:

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ

ترجمہ کنز الایمان: ”اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، حالانکہ تم بے سرو سامان تھے، پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بنو۔“ [سورۂ آلِ عمران: 123]

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اصحابِ بدر محض جنگجو نہ تھے بلکہ اعلیٰ درجے کے ایمان، عبادت اور قربانی کے پیکر تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قلبی محبت اور روحانی تعلق

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اصحابِ بدر سے غیر معمولی محبت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کا ذکر نہایت احترام سے فرماتے اور ان کی فضیلت کو بار بار بیان کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ طرزِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اصحابِ بدر کا مقام محض تاریخی نہیں بلکہ روحانی اور ایمانی ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

”اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر پر خصوصی نظرِ کرم فرمائی اور ارشاد فرمایا: تم جو چاہو عمل کرو، میں نے تمہیں بخش دیا۔“ [صحیح البخاری، باب غزوۂ بدر، جلد: 4، حدیث: 3007]

اس حدیث کا مطلب گناہوں کی کھلی اجازت نہیں بلکہ خصوصی مغفرت اور رضائے الٰہی کی بشارت ہے۔ یہ فضیلت اہلِ بدر کے لیے ایک خصوصی امتیاز ہے۔

حضورِ انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عملی دفاع اور شفقت

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت صرف زبانی نہ تھی بلکہ عملی صورت میں بھی ظاہر ہوتی تھی۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ اس کی روشن مثال ہے۔ جب ان سے ایک اجتہادی خطا ہوئی (جو خیانت یا نفاق نہیں تھا) اور بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

”یہ بدر میں شریک ہوئے ہیں، اور اللہ نے اہلِ بدر کے بارے میں فرما دیا ہے کہ میں نے انہیں معاف کر دیا ہے۔“ [صحیح البخاری، باب غزوۂ بدر، جلد: 5، حدیث: 3983]

یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کی نیت کی گواہی دی اور فرمایا کہ انہوں نے یہ کام کفر کی وجہ سے نہیں کیا۔

اصحابِ بدر کا امتیازی مقام

علمائے امت کے نزدیک اصحابِ بدر کو دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر فضیلت حاصل ہے۔ حضرت امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہلِ بدر کو اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت، مغفرت اور قرب حاصل ہے۔ حضورِ انور صلی اللہ علیہ والہ وسلم بھی ان سے مشورہ لیتے، ان کی رائے کو اہمیت دیتے اور انہیں خصوصی احترام عطا فرماتے۔

امتِ مسلمہ کے لیے پیغام

حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اصحابِ بدر سے محبت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:

  • ایمان اور اخلاص ہی اصل کامیابی ہے۔
  • دین کی خاطر قربانی اللہ اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا ذریعہ بنتی ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔

حاصلِ کلام

اصحابِ بدر وہ مقدس جماعت ہے جن کے نام تاریخِ اسلام میں سنہری حروف سے لکھے گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ان سے محبت، ان کا احترام اور ان کے دفاع کا انداز امتِ مسلمہ کے لیے ایک روشن مینار ہے۔ جو شخص اصحابِ بدر سے محبت رکھتا ہے، وہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کا اظہار کرتا ہے، اور یہی ایمان کی حقیقی پہچان ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!