| عنوان: | روحِ اسلام (قسط: آخر) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ محمد احمد مصباحی ناظمِ تعلیمات جامعہ اشرفیہ |
| پیش کش: | غوثیہ واسطی بنت لئیق نوری عفی عنہما |
ریائے خفی جو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ ہے
ایک ریائے جلی ہے، دوسری ریائے خفی:
- ریائے جلی: یہ ہے کہ ثواب بھی مقصود ہو مگر عمل پر برانگیختہ (آمادہ) کرنے والی چیز جذبۂ نمائش ہو۔
- دوم (اس سے کچھ خفی): وہ یہ ہے کہ عمل کے لیے ریا تنہا محرک تو نہ ہو مگر باعثِ تخفیف (آسانی کا سبب) ہو۔ جیسے وہ شخص جو تہجد کا عادی ہو مگر ادائیگی میں گرانی و دشواری محسوس کرتا ہو، اور اگر کوئی مہمان آ گیا تو وہی عمل بڑے نشاط اور چستی سے ادا کرتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اسے اگر ثواب کی امید نہ ہوتی تو محض مہمانوں کے لیے نماز نہ پڑھتا۔
- سوم (اس سے بھی زیادہ خفی): جذبۂ نمائش نہ محرک ہے، نہ باعثِ آسانی، مگر دل میں چھپا ہوا بیٹھا ہے۔ جس کی علامت یہ ہے کہ لوگ اس کی عبادت گزاری سے مطلع ہو گئے تو سارا احساسِ مشقت جاتا رہا اور وہ مسرت و راحت محسوس کرنے لگا۔
- چہارم (انتہائی خفی): خفیہ طور پر عبادت کرے کہ لوگوں کو پتہ نہ چلے، اور اگر لوگوں کو پتہ چل گیا تو اسے خوشی نہ ہو، البتہ اس کے دل کی آرزو یہ ہو کہ لوگ اسے پہلے سلام کریں، اس کی تعظیم و توقیر کریں۔ اگر اس میں کسی سے کوتاہی ہو تو اس کے دل پر گراں گزرے کہ اس قدر عبادت اور اخلاص کے باوجود میرا اعزاز نہیں۔
اس کے بعد یہ تفصیل ہے کہ لوگوں کی آگاہی سے جو مسرت ہوتی ہے اس میں کون سی محمود ہے اور کون سی مذموم؟ اس کی پانچ صورتیں بتائی گئیں۔ ایک مذموم، باقی محمود۔ پھر کون سی وہ ریا ہے جس سے عمل برباد ہو جاتا ہے اور کس سے بالکل برباد نہیں ہوتا؟ پھر ریا کا علاج کیا ہے اور اس بارے میں قلب کی اصلاح کیسے ہوگی؟ یہ ساری تفصیلات ہیں۔
یہ دقائق و حقائق ان علوم کا شمہ ہیں جو ان علمائے ربانیین کے قلوب میں موجزن ہیں، کیونکہ جو کچھ سینوں میں تھا وہ سب کتابوں میں منتقل نہ ہوا، اور بہت سے علوم تو وہ ہیں جو محض دل ہی سے تعلق رکھتے ہیں اور تحریر کی گرفت میں نہیں آتے۔
بتائیے یہ معارف صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ کے سوا کسی ظاہری و غیر مقلد کے ہاں بھی دستیاب ہو سکتے ہیں؟ انہیں تو ان سب کی ہوا بھی نہ لگی، اگر کچھ بیان بھی کرتے ہیں تو وہ انہی علماء سے سرقہ ہوتا ہے۔ یہ بھی غور کیجیے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات ایسی بھی ہے جو کتاب و سنت سے متصادم اور قابلِ رد و انکار ہو؟ ہرگز نہیں۔ وہ حضرات جو کچھ فرماتے ہیں کتاب و سنت میں ان کے طویل غور و فکر اور رب کی خاص نوازشات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کتاب و سنت میں ان امور کا ذکر ایجاز و اجمال کے ساتھ ہوتا ہے، اور ہر عالم کو اس کی بسط و شرح تک رسائی نہیں ہوتی۔
مثلاً حدیثِ پاک میں ہے:
”فِي الرِّيَاءِ شَوَائِبُ أَخْفٰی مِنْ دَبِيْبِ النَّمْلِ“
ترجمہ: ”ریا میں ایسی آمیزشیں ہوتی ہیں جو چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ ہوتی ہیں۔“ [مسند احمد، طبرانی، بروایت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ]
یا فرمایا:
”اتَّقُوْا هٰذَا الشِّرْكَ فَإِنَّهٗ أَخْفٰی مِنْ دَبِيْبِ النَّمْلِ“
ترجمہ: ”اس شرک (ریا) سے بچو کہ یہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے۔“ [ابن حبان فی الضعفاء، دار قطنی، بروایت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ]
یہ بہت مجمل کلام ہے جس کی کچھ تفصیلات وہ ہیں جو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کی کتابِ مبارک سے نقل ہوئیں۔ اگر یہ علمائے ربانیین نہ ہوں تو ان مصائب و مکائد کی شرح کون کرے اور بندوں کو دامِ شیطان و نفس سے کون بچائے؟ وہ لوگ جہلِ مرکب کا شکار ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کتاب و سنت میں جو کچھ صاف و صریح طور پر بیان ہوا، اس سے کچھ اور علوم کے چشمے نہیں نکلتے، اور ان پر فکر و تدبر کے نتیجے میں علمِ باطن کے ہزاروں اسرار و رموز نہیں کھلتے، یا علمِ باطن کوئی چیز نہیں، یا ہے تو اس کی کوئی ضرورت نہیں، ورنہ کتاب و سنت نے کھول کر بیان کر دیا ہوتا۔
نادانو! کتاب و سنت میں صریح بیان کے ساتھ فکر و تدبر کی دعوت بھی تو ہے، اہلِ ذکر سے پوچھنے کی تاکید بھی تو ہے، اہلِ استنباط کی جانب رجوع کا حکم بھی تو ہے۔ وہ کیوں ہے؟ اگر سب کچھ بیان ہی ہو چکا ہے اور سب پر عیاں و آشکارا ہی ہو چکا ہے تو فکر و تدبر کی دعوت کیوں؟ اہلِ استنباط کی جانب رجوع کی حاجت کیا؟ اہلِ ذکر سے پوچھنے کا فائدہ کیا؟
حقیقت یہ ہے کہ جو امور تعلیمِ خدا و رسول کے بغیر بندوں کی دسترس سے باہر تھے یا دسترس کے باوجود مقامِ دعوت و ارشاد میں ان کا اعلان و اظہار ضروری تھا، وہ ضرور بیان کر دیے گئے، اور انہی کی اساس قرار دے کر ان سے استخراج کے لیے دعوت و تاکید فرمائی گئی تاکہ امت کو فکر و تدبر کا ثواب بھی حاصل ہو اور معارف و عطایا کے لحاظ سے بندوں کے رتبہ و مقام کا فرق بھی ظاہر ہو۔ ربِ جلیل کی حکمتیں بیان و شمار سے باہر ہیں۔
