کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

علم و علماء کی فضیلت

علم و علماء کی فضیلت
عنوان: علم و علماء کی فضیلت
تحریر: معراج فاطمہ مدنیہ

(فرمانِ باری تعالیٰ ہے)

یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ

ترجمہ کنز الایمان: ”اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔“ [المجادلۃ: 11]

قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۠

ترجمہ کنز الایمان: ”تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان؟ نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں۔“ [الزمر: 9]

(احادیثِ مبارکہ میں ہے)

  1. ”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“ [سنن ابن ماجہ، ج: 1، ص: 146، حدیث: 224]
  2. ”تھوڑا علم زیادہ عبادت سے بہتر ہے۔“ [معجم اوسط، ج: 6، ص: 257، حدیث: 8698]
  3. ”فرشتے طالبِ علم کے پاؤں کے نیچے پر بچھاتے ہیں۔“ [سنن الترمذی، ج: 5، ص: 315، حدیث: 3546، ملخصاً]
  4. ”جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ پاک اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دے گا۔“ [صحیح مسلم، ص: 1110، حدیث: 6853، ملخصاً]
  5. ”علم میں غور و فکر کرنا روزے کے برابر اور پڑھانا رات کی عبادت کے برابر ہے۔“ [جامع بیان العلم و فضلہ، ص: 77، حدیث: 240، ملخصاً]
  6. ”تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآنِ مجید سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔“ [مسند احمد، ج: 1، ص: 151، حدیث: 500]
  7. مجالسِ علم کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جنت کی کیاریوں سے تشبیہ دی۔ [الترغیب والترہیب، ج: 1، ص: 63، ماخوذاً]
  8. ”رات میں ایک گھڑی علمِ دین کا پڑھنا پڑھانا رات بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔“ [سنن الدارمی، ج: 1، ص: 94، حدیث: 264، ملخصاً]
  9. ”عالم بنو یا طالبِ علم بنو یا (علمی باتیں) سننے والے بنو، ان کے علاوہ چوتھا نہ بننا ہلاک ہو جاؤ گے۔“ [سنن الدارمی، ج: 1، ص: 91، حدیث: 248]

جو بھی شخص کوئی کام کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی مقصد اس کے پیشِ نظر ضرور ہوتا ہے جس کے حصول کے لیے وہ تگ و دو کرتا ہے۔ علم تو اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، تو اس کے مقاصد اور فوائد بھی مدِ نظر ہونے چاہئیں تاکہ اسے یکسوئی سے حاصل کیا جا سکے۔

چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ”علم حاصل کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا اللہ پاک کی خشیت، اسے طلب کرنا عبادت، علمی مذاکرات کرنا تسبیح، علمی تحقیق کرنا جہاد، بے علم کو علم سکھانا صدقہ اور اہل لوگوں تک پہنچانے سے اللہ پاک کا قرب ملتا ہے۔ یہ تنہائی میں غمخوار، خلوت کا ساتھی اور راہِ جنت کا مینار ہے۔ اللہ پاک اس کے باعث قوموں کو بلندیوں سے نوازتا ہے اور انہیں نیکی و بھلائی کے کاموں میں ایسا رہنما اور پیشوا بنا دیتا ہے کہ ان کی پیروی کی جاتی ہے، ہر خیر و بھلائی کے کام میں ان سے رہنمائی لی جاتی ہے، ان کے نقشِ قدم پر چلا جاتا ہے، ان کے اعمال و افعال کی اقتدا کی جاتی ہے، ان کی رائے حرفِ آخر ہوتی ہے، فرشتے ان کی دوستی کو پسند کرتے ہیں اور انہیں اپنے پروں سے چھوتے ہیں۔“

ہر خشک و تر شے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں، کیڑے مکوڑے، خشکی کے درندے اور جانور سب ان کی مغفرت چاہتے ہیں۔ اس لیے کہ علم اندھے دلوں کی زندگی اور تاریک آنکھوں کا نور ہے۔ بندہ اس کے سبب دنیا و آخرت میں نیک لوگوں کے مراتب اور بلند درجات تک جا پہنچتا ہے۔ علم میں غور و فکر کرنا روزے رکھنے کے برابر اور اسے پڑھانا رات کے قیام کے مساوی ہے۔ اسی کے سبب صلہ رحمی کی جاتی ہے، علم امام ہے اور عمل اس کا تابع ہے۔ علم نیک بخت لوگوں کے دلوں میں ڈالا جاتا ہے جبکہ بدبختوں کو اس سے محروم رکھا جاتا ہے۔

”اللہ عزوجل قیامت کے دن بندوں کو اٹھائے گا پھر علماء کو علیحدہ کر کے ان سے فرمائے گا: اے علماء کے گروہ! میں تمہیں جانتا ہوں اسی لیے تمہیں اپنی طرف سے علم عطا کیا تھا اور تمہیں اس لیے علم نہیں دیا تھا کہ تمہیں عذاب میں مبتلا کروں گا۔ جاؤ! میں نے تمہیں بخش دیا۔“ [جامع بیان العلم و فضلہ، ص: 69، الحدیث: 211]

علمِ دین حاصل کرنا اللہ عزوجل کی رضا کا سبب، بخشش و نجات کا ذریعہ اور جنت میں داخلے کا ضامن ہے۔ علمِ دین کے فضائل کی تو کیا ہی بات ہے! کہ صدر الشریعہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو، ساری دنیا ہی جانتی ہے کہ علم بہت بہتر چیز ہے، اس کا حاصل کرنا بلندی کی علامت ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیا و آخرت بہتر ہو جاتی ہے۔ (اس علم سے) وہ علم مراد ہے جو قرآن و حدیث سے حاصل ہو کہ یہی وہ علم ہے جس سے دنیا و آخرت دونوں سنورتی ہیں اور یہی علم ذریعۂ نجات ہے، اور اسی کی قرآن و حدیث میں تعریفیں آئی ہیں، اور اسی کی تعلیم کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔“ [بہارِ شریعت، ج: 3، ص: 618]

علم انبیائے کرام علیہم السلام کی میراث ہے، علم قربتِ الٰہی کا راستہ ہے، علم ہدایت کا سرچشمہ ہے، علم گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہے، علم خوفِ خدا کو بیدار کرنے کا عظیم نسخہ ہے، علم دنیا و آخرت میں عزت پانے کا سبب ہے، علم مردہ دلوں کی حیات ہے، علم سلامتیِ ایمان کا محافظ ہے، علم مخلوقِ خدا کی محبت پانے کا سبب ہے۔ الغرض! علم بے شمار خوبیوں کا جامع ہے، اس میں دین بھی ہے دنیا بھی، اس میں آرام بھی ہے اطمینان بھی، اس میں لذت بھی ہے راحت بھی۔ لہٰذا عقلمند وہی ہے جو طلبِ علمِ دین میں مشغول ہو کر نجاتِ آخرت کا سامان کر جائے۔

کسی شاعر نے خوب کہا ہے:

لکھنا نہیں آتا جسے، پڑھنا نہیں آتا
اس شخص کو جینے کا سلیقہ نہیں آتا

افسوس کہ آج ہمارے دلوں سے علمِ دین کی قدر و منزلت ختم ہو چکی ہے۔ ہمارے معاشرے کی اکثریت نہ تو خود علمِ دین سیکھنے کی طرف راغب ہوتی ہے اور نہ ہی اپنی اولاد کو علمِ دین سکھاتی ہے۔ اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے خوب دنیاوی علوم و فنون تو سکھائے جاتے ہیں مگر دینی تعلیم دلوا کر اپنی اور اپنے بچوں کی آخرت بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ بچہ اگر ذہین ہو تو اسے ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، کمپیوٹر پروگرامر بنانے کی خواہشیں انگڑائی لیتی ہیں، اور اگر کند ذہن، شرارتی یا معذور ہو تو جان چھڑانے کے لیے اسے کسی دارالعلوم یا جامعہ میں داخل کروا دیا جاتا ہے۔

خدا کا نام لے کر پڑھ یہی پہلی وحی اتری
یہ آیت کیا ترے دل میں بھی اے مسلم کبھی اتری؟

جبکہ ہمارے اسلاف بچپن ہی سے اپنی اولاد کو علمِ دین سکھاتے، یہاں تک کہ بڑے بڑے بادشاہ بھی اپنی اولاد کو علمِ دین کے زیور سے آراستہ کرتے کیونکہ وہ خود علم و علماء کے قدر دان ہوا বক্তے تھے۔

جیسا کہ خلیفہ ہارون الرشید بہت نیک اور علم کی قدر و منزلت جاننے والے بادشاہ تھے۔ ایک بار (اپنے بیٹے) مامون الرشید کی تعلیم کے لیے حضرت امام کسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی تو آپ نے فرمایا: ”میں یہاں پڑھانے نہ آؤں گا، شہزادہ میرے ہی مکان پر آ جایا کرے۔“ ہارون الرشید نے عرض کی: ”وہ وہیں حاضر ہو جایا کرے گا مگر اس کا سبق پہلے ہو جائے۔“ فرمایا: ”یہ بھی نہ ہوگا بلکہ جو پہلے آئے گا اس کا سبق پہلے ہوگا۔“ غرض مامون الرشید نے پڑھنا شروع کیا۔ اتفاقاً ایک روز خلیفہ ہارون الرشید کا گزر ہوا، دیکھا کہ امام کسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور ان کا بیٹا مامون الرشید پانی ڈالتا ہے۔ بادشاہ غضب ناک ہو کر گھوڑے سے اترے اور مامون الرشید کو کوڑا مار کر کہا: ”بے ادب! خدا نے دو ہاتھ کس لیے دیے ہیں؟ ایک ہاتھ سے پانی ڈال اور دوسرے ہاتھ سے ان کا پاؤں دھو۔“ [ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 122]

خلیفہ ہارون الرشید نہ صرف علماء و فقہائے کرام رحمہم اللہ السلام کی تعظیم کیا کرتے بلکہ امورِ سلطنت اور اپنے دیگر دینی و دنیوی معاملات میں بھی علماء و فقہا کی رائے کو فوقیت دیتے۔ ان کی بات کو حرفِ آخر سمجھتے، آخرت کی بہتری کے لیے ان سے نصیحت طلب کرتے، بسا اوقات نصیحت حاصل کرنے علماء کے دروازے تک خود حاضر ہوتے، اور اگر علمائے کرام دربار میں تشریف لے آتے تو شاہانہ شان و شوکت اور رعبِ سلطنت کی پروا کیے بغیر ان کے اعزاز میں کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ جیسا کہ ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے: ہارون الرشید کے دربار میں جب کوئی عالم تشریف لاتے، بادشاہ ان کی تعظیم کے لیے کھڑا ہو جاتا۔ ایک بار درباریوں نے عرض کی: ”یا امیر المؤمنین! رعبِ سلطنت جاتا ہے۔“ جواب دیا: ”اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعبِ سلطنت جاتا ہے تو جانے ہی کے قابل ہے۔“ [ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 158]

ذرا سوچیے! آخر کیا وجہ تھی جو ہارون الرشید جیسے عظیم بادشاہ نے اپنے بیٹے کو حضرت امام کسائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں علمِ دین سیکھنے کے لیے بھیج دیا اور خود بھی علمائے کرام کی اس قدر تعظیم بجا لا رہے ہیں؟

یقیناً اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ علماء کے مقام و مرتبے اور معاشرے میں ان کی ضرورت و اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے، اور اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ اس لہلہاتے گلشنِ اسلام کو آباد رکھنے میں ان نفوسِ قدسیہ کا کیا اہم کردار ہے۔

قدر ہیرے کی یہاں کرتا ہے شبنم جوہری
علم والے جانتے ہیں علم والوں کا مقام

اسی طرح امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا نہایت عمدہ انتظام کیا کہ جلیل القدر محدث حضرت سیدنا صالح بن کیسان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ، جو خود ان کے بھی استاد تھے، انہیں اپنی اولاد کا استاد مقرر فرمایا۔ [التحفۃ اللطیفۃ فی تاریخ المدینۃ الشریفۃ، ج: 1، ص: 233]

حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والدِ محترم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ خود اگرچہ پڑھے لکھے نہ تھے لیکن علمِ دین کی اہمیت کا احساس رکھنے والے تھے۔ ان کی دلی خواہش تھی کہ دونوں صاحبزادے، محمد غزالی اور احمد غزالی رحمہما اللہ تعالیٰ، زیورِ علمِ شریعت و طریقت سے آراستہ ہوں۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے اپنے صاحبزادوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کچھ اثاثہ بھی جمع کر رکھا تھا جو ان دونوں سعادت مند بیٹوں کے حصولِ علم میں بہت کام آیا۔ [اتحاف السادۃ المتقین، مقدمۃ الکتاب، ج: 1، ص: 8]

اسی طرح ہمارے غوثِ پاک حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بچپن میں ہی اپنی والدہ محترمہ کی اجازت سے علمِ دین کے حصول کے لیے بغداد پہنچے تھے۔ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بھی بچپن ہی سے علمِ دین سیکھتے رہے یہاں تک کہ ساڑھے چار سال کی ننھی سی عمر میں قرآنِ مجید ناظرہ مکمل پڑھنے کی نعمت سے باریاب ہوئے، اور صرف تیرہ (13) سال دس ماہ چار دن کی عمر میں تمام مروجہ علوم اپنے والدِ ماجد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے حاصل کر کے سندِ فراغت حاصل کر لی۔

ہمیں اپنے شاندار ماضی پر فخر تو ہے مگر ہم میں وہ جذبہ نہیں جو ہمارے اسلاف میں حصولِ علم کی خاطر ہوا کرتا تھا، اور اسی لیے ہم ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف رواں ہیں۔ کسی نے خوب ہی کہا ہے:

قوموں کا ہے عروج و زوال اس پہ منحصر
حاصل کسی بھی طرح سے تعلیم کیجیے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!