| عنوان: | نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا گوشِ مبارک |
|---|---|
| تحریر: | محمد قمر الزماں قادری |
| پیش کش: | سکھرام پور، تولہوا، کپل وستو، نیپال |
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا گوشِ مبارک
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَزَلْ عَالِمًا قَدِیْرًا، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ الَّذِیْ اَرْسَلَهٗ لِلنَّاسِ کَافَّةً بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا، وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّصَحْبِهٖ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا.
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو باکمال و ممتاز بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات ہر اعتبار سے اکمل و افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جسمِ اطہر کا ہر ہر حصہ سراپائے نور کا آئینہ دار ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور بزرگانِ دین نے صرف آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت سے ہی نہیں، بلکہ ہر ہر عضو سے محبت و تعظیم کی ہے۔ انہی میں سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا گوشِ مبارک (کان مبارک) بھی ہے جو بے انتہا کمال و حسن کا محور ہے۔
گوشِ مبارک احادیث کی روشنی میں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گوشِ مبارک کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے دیگر اعضاء کی طرح تام و کامل بنایا تھا۔ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم فرماتے ہیں:
كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ تَامَّ الْأُذُنَيْنِ.
ترجمہ: ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گوشِ مبارک کامل و تام تھے۔“ [الطبقات الکبریٰ لابن سعد، ج: 1، ص: 413]
سیاہ بالوں میں روشن ستارے:
آپ کے گوشِ مبارک کے اوپر آپ کی زلفِ نازنین اپنا جلوہ بکھیرتی تو آپ کا گوشِ مبارک ایسا محسوس ہوتا گویا سیاہ بادلوں میں ستارے چمک دمک رہے ہوں۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
وَكَانَ ﷺ رُبَّمَا جَعَلَهٗ غَدَائِرَ أَرْبَعٍ، تَخْرُجُ الْأُذُنُ الْيُمْنٰی مِنْ بَيْنِ غَدِيْرَتَيْنِ يَكْتَنِفَانِهَا، وَتَخْرُجُ الْأُذُنُ الْيُسْرٰی مِنْ بَيْنِ غَدِيْرَتَيْنِ يَكْتَنِفَانِهَا، وَتَخْرُجُ الْأُذُنَانِ بِبَيَاضِهِمَا مِنْ بَيْنِ تِلْكَ الْغَدَائِرِ كَأَنَّهُمَا تُوْقَدُ الْكَوَاكِبُ الدُّرِّيَّةُ بَيْنَ سَوَادِ شَعَرِهٖ.
ترجمہ: ”حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کبھی اپنے مبارک بالوں کو چار حصوں میں تقسیم فرما دیتے۔ ایک طرف کے دو حصوں میں دایاں گوشِ مبارک نمایاں ہوتا جسے بالوں نے گھیرا ہوتا اور دوسرے دو حصوں میں سے بایاں گوشِ مبارک نمایاں ہوتا جسے بالوں نے گھیرا ہوا ہوتا، اور ان بالوں میں گوشِ مبارک اپنی سفیدی کے ساتھ ایسے نمایاں ہوتے جیسے سیاہ بالوں میں روشن ستارے چمک رہے ہوں۔“ [تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر، ج: 3، ص: 357]
قوتِ سماعتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم:
اللہ تعالیٰ نے قوتِ بصارت کی طرح قوتِ سماعت بھی آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بطریقِ خرقِ عادت غایت درجے کی عطا کی تھی۔ اسی واسطے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرماتے:
إِنِّي أَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُوْنَ.
ترجمہ: ”جو میں دیکھتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ سکتے اور جو میں سنتا ہوں وہ تم نہیں سن سکتے۔“ [سنن الترمذی، کتاب الزہد، ج: 4، ص: 147، حدیث: 2312]
امت کے درود کو سماعت فرمانا:
اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کانِ مبارک میں یہ اعجاز و کمال رکھا ہے کہ وہ ہمہ وقت سب کا درود سنتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کرنے والے مسلمان اگرچہ لاکھوں میل دور مشرق میں ہوں یا مغرب میں، جنوب میں ہوں یا شمال میں، کسی بھی مقام پر ہوں، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے درود کو سنتے ہیں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ﷺ: أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَإِنَّهٗ يَوْمٌ مَشْهُوْدٌ تَشْهَدُهُ الْمَلَائِكَةُ، لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلَّا بَلَغَنِي صَوْتُهٗ حَيْثُ كَانَ. قُلْنَا: وَبَعْدَ وَفَاتِكَ؟ قَالَ: وَبَعْدَ وَفَاتِي، إِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ.
ترجمہ: ”حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر روزِ جمعہ زیادہ درود پڑھا کرو، اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ تم میں سے جو بھی شخص مجھ پر درود پڑھتا ہے اس کی آواز مجھ تک پہنچ جاتی ہے چاہے وہ آواز جہاں کہیں کی بھی ہو۔ ہم نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد (بھی)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: میرے وصال کے بعد بھی (مجھ تک آواز پہنچتی ہے)، کیونکہ اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو کھائے۔“ [القول البدیع للسخاوی، ص: 164]
آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز کی سماعت:
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قوتِ سماعت کا عالم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز بھی سماعت فرما لیتے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں:
بَيْنَمَا جِبْرِيْلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ، سَمِعَ نَقِيْضًا مِنْ فَوْقِهٖ، فَرَفَعَ رَأْسَهٗ فَقَالَ: هٰذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ، لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ.
ترجمہ: ”ایک روز حضرت جبرائیل امین علیہ السلام خدمتِ اقدس میں حاضر تھے کہ ناگاہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے اوپر کی طرف ایک آواز سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مبارک سر اٹھایا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! یہ آسمان کا ایک دروازہ ہے جو آج ہی کھلا ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا۔“ [مشکوٰۃ المصابیح، باب فضائل القرآن، الفصل الاول، حدیث: 2124]
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنی نعتیہ شاعری میں آپ کی سماعت کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
دور و نزدیک کے سننے والے وہ کان
کانِ لَعلِ کَرامت پہ لاکھوں سلام
نباتات کی آواز اور سماعتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم:
بس اتنا ہی نہیں ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گوشِ مبارک کا عالم یہ ہے کہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آسمان اور دیگر چیزوں کی آواز سماعت فرماتے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نباتات کی آواز بھی سماعت فرماتے تھے۔
کھجور کی شاخ کی آواز سماعت فرمانا:
حدیث میں آیا ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کھجور کی ایک شاخ کا رونا سماعت فرمایا۔ چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا خَطَبَ اسْتَنَدَ إِلٰی جِذْعِ نَخْلَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صُنِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ فَاسْتَوٰی عَلَيْهِ، صَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا حَتّٰی كَادَتْ تَنْشَقُّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ ﷺ حَتّٰی أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِيْنَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتّٰی اسْتَقَرَّتْ. قَالَ: بَكَتْ عَلٰی مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ.
ترجمہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو کھجور کی ایک شاخ سے ٹیک لگا لیتے تھے جو مسجد کے ستونوں میں سے تھی۔ پھر جب حضور کے لیے منبر بنا دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس پر جلوہ گر ہوئے، تو وہ شاخ جس کے پاس آپ خطبہ پڑھتے تھے، چیخ پڑی حتیٰ کہ قریب تھا کہ چر جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم منبر سے اترے، اسے پکڑا اور اپنے سے چمٹایا تو وہ اس بچے کی سسکیوں کی طرح سسکیاں بھرنے لگی جسے چپ کرایا جاتا ہے، حتیٰ کہ اس نے قرار پکڑا۔ راوی نے کہا کہ وہ اس ذکرِ الٰہی پر روئی جو وہ سنا کرتی تھی۔“ [مشکوٰۃ المصابیح، حدیث: 5903]
کھانے کا تسبیح سماعت کرنا:
حضرت قاضی عیاض مالکی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب ”الشفاء“ میں حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہما سے درج ذیل روایت نقل کی ہے:
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دفعہ علیل ہو گئے۔ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام ایک طبق لے کر حاضرِ خدمت ہوئے، اس میں انار اور انگور تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سے تناول فرمایا تو وہ رب تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہے تھے۔
اسی طرح حضرت ابو شیخ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت انس نے فرمایا:
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں ثرید پیش کی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کھانا تسبیح بیان کر رہا ہے۔“ صحابہ کرام عرض گزار ہوئے: کیا آپ اس کی تسبیح کو سمجھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: ”یہ پیالہ اس شخص کے قریب کرو۔“ انہوں نے اس شخص کے قریب کیا۔ اس نے عرض کی: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! یہ کھانا تسبیح خوانی کر رہا ہے۔ پھر آپ نے اسے وہ پیالہ واپس لے آنے کا حکم دیا، وہ اسے واپس لے آئے۔ ظاہر یہی ہے کہ وہ کھانا اس برتن میں ہی تسبیح خوانی کر رہا تھا۔
جمادات کی آواز اور سماعتِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم:
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جہاں نباتات کی آواز سماعت فرمایا کرتے تھے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جمادات کی آواز بھی سماعت کیا کرتے تھے۔ [السیرۃ النبویۃ، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، ج: 2، ص: 390]
حجر (پتھر) کا سلام سماعت فرمانا:
امام مسلم، حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں:
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”اب بھی میں مکہ مکرمہ کے اس پتھر کو جانتا ہوں جو بعثت سے قبل مجھ پر سلام بھیجا کرتا تھا۔“
بعض شارحین نے لکھا ہے کہ وہ پتھر حجرِ اسود ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ وہ ایک گلی میں تھا جو بعد میں ”زقاق الحجر“ کے نام سے معروف ہوئی۔ لوگ اسے چھو کر برکت حاصل کرتے۔ وہ کہتے تھے یہ پتھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سلام عرض کرتا تھا جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس کے پاس سے گزرتے تھے۔
شجر و حجر کا سلام سماعت فرمانا:
ایک واقعہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبانی بھی ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”میں مکہ مکرمہ میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ کی ایک گلی میں چل رہا تھا۔ ہم مکہ مکرمہ کی ایک سمت باہر نکلے۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جس درخت یا پتھر کے پاس سے گزرتے وہ یوں سلام عرض کرتا: اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ۔“ [السیرۃ النبویۃ، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، ج: 2، ص: 384]
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے محبوب کا عشق عطا فرمائے، ان کی غلامی ہی میں جینا مرنا نصیب فرمائے اور دو جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
