| عنوان: | استقبال رمضان |
|---|---|
| تحریر: | محمد کامران رضا |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان اولیاء احمدآباد، گجرات |
عنقریب ہمارے درمیان رمضان المبارک کا مہینہ جلوہ گر ہوگا۔ ان شاء اللہ بہت جلد ہم رحمتوں، برکتوں، نیکیوں اور مغفرتوں والے مہینے میں داخل ہوں گے۔ اس مبارک ماہ کو مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، جن میں ایک نام ”ماہِ غفران“ بھی ہے۔ یقیناً ہم گناہگار بندوں کے لیے یہ مہینہ خدائے رحمٰن کی طرف سے ایک عظیم نعمت اور بے مثال تحفہ ہے۔ اس مقدس مہمان کی آمد ہوتے ہی اہلِ ایمان کے دلوں میں خوشی اور مسرت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس ماہ کی برکتوں سے فضا روشن اور منور ہو جاتی ہے، اس ماہ میں نیک بندوں کے ساتھ ساتھ ہم جیسے گنہگاروں کے دلوں میں بھی عبادت کا شوق و ذوق بڑھ جاتا ہے، ختمِ قرآن کی محافل سج جاتی ہیں اور تلاوتِ قرآن کرنے والوں اور نمازیوں سے مساجد آباد ہو جاتی ہیں۔ ماہِ رمضان المبارک کی شان ہی نرالی ہے۔ اس ماہ کا ہر لمحہ برکتوں اور رحمتوں والا ہوتا ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رمضان المبارک سے بے حد محبت و الفت تھی۔ اس ماہِ مقدس کی آمد کے موقع پر خود آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس ماہِ مقدس کا شاندار استقبال فرماتے اور اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے سامنے اس ماہِ مقدس کی شان و عظمت، فضائل و برکات اور دیگر اوصاف بیان فرماتے اور اس ماہِ مقدس کی اہمیت و فضیلت کو اجاگر کرتے تھے۔
ہر گھڑی رحمت بھری ہے ہر طرف ہیں برکتیں
ماہِ رمضاں رحمتوں اور برکتوں کی کان ہے
عاصیوں کی مغفرت کا لے کر آیا ہے پیام
جھوم جاؤ مجرمو! رمضاں مہِ غفران ہے
استقبالِ رمضان اور خطبہِ محبوبِ رحمٰن:
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماہِ شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا کہ: ”اے لوگو! تمہارے پاس عظمت و برکت والا مہینہ جلوہ گر ہو رہا ہے، وہ مہینہ جس میں ایک رات ایسی بھی ہے کہ جو ہزار (1000) مہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ عزوجل نے اس ماہِ مبارک کے روزے فرض فرمائے ہیں۔ اس کی رات میں قیام (یعنی تراویح ادا کرنا) سنت ہے، جو اس میں نیکی کا کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہینے میں فرض ادا کیا اور جس نے اس میں فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں 70 فرض ادا کیے۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے، یہ غمخواری و بھلائی کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ جو اس میں روزے دار کو افطار کرائے تو یہ اس کے گناہوں کے لیے مغفرت ہے، اسے آگ سے آزادی بخشی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں کچھ کمی ہو۔“
ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! ہم میں سے ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کروائے۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل یہ ثواب تو اس شخص کو دے گا جو ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ سے روزہ افطار کروائے، یہ وہ مہینہ ہے کہ جس کا اول (یعنی ابتدائی 10 دن) رحمت، درمیان (یعنی درمیانے 10 دن) مغفرت ہے اور آخر (یعنی آخری 10 دن) جہنم سے آزادی ہے۔ جو اپنے غلام (یعنی ماتحت) سے اس مہینے میں کام کم لے، اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور اسے جہنم سے آزاد فرما دے گا۔ جس نے روزے دار کو پیٹ بھر کر کھلایا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو میرے حوض سے ایک ایسا گھونٹ پلائے گا کہ (جسے پینے کے بعد) وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے۔“ [ابن خزیمہ، کتاب الصیام، ج: 3، ص: 191، حدیث: 1887]
مفسرِ شہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ماہِ رمضان کا نفل دوسرے مہینوں کے فرض کے برابر ہے اور اس ماہ کی فرض عبادت دوسرے ماہ کے 70 فرائض کے مثل ہے۔ (مزید فرماتے ہیں) ماہِ رمضان کے 3 عشرے ہیں: پہلے عشرے میں رب تعالیٰ مومنوں پر خاص رحمتیں فرماتا ہے جس سے انہیں روزہ تراویح کی ہمت ہوتی ہے اور آئندہ ملنے والی نعمتوں کی اہلیت پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے عشرے میں تمام صغیرہ گناہوں کی معافی ہے جو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلے کا سبب ہے۔ تیسرے عشرے میں روزے داروں کے جنتی ہونے کا اعلان، وہاں کے داخلے کا (گویا) ویزا اور پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے۔ [مرآۃ المناجیح، ج: 3، ص: 140 تا 141 بتغیر قلیل]
مرحبا صد مرحبا پھر آمدِ رمضان ہے
کھل اٹھے مرجھائے دل تازہ ہوا ایمان ہے
حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے رمضان کی آمد کے موقع پر ایک دن ارشاد فرمایا: ”تمہارے پاس برکت والا مہینہ رمضان آ گیا کہ جس میں اللہ عزوجل تمہیں غنی فرماتا اور (تم پر) رحمت نازل فرماتا ہے، گناہوں کو مٹاتا اور دعا قبول فرماتا ہے۔ اللہ عزوجل تمہاری نیکیوں کی رغبت دیکھتا ہے اور فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرماتا ہے، لہٰذا اس مہینے میں اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اچھے اعمال پیش کرو کیونکہ بدبخت وہی ہے جو اس مہینے میں اللہ عزوجل کی رحمت سے محروم رہا۔“ [مجمع الزوائد، کتاب الصیام، باب فی شہور البرکۃ وفضل شہر رمضان، ج: 3، ص: 344، رقم: 4783]
رمضان کی مبارک باد:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو خوشخبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے کہ:
”تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آیا ہے جو نہایت بابرکت ہے، اللہ پاک نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے ہیں۔ اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے، دوزخ کے دروازے بند کر دیے جاتے اور شیطانوں کو باندھ دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اس کی خیر سے محروم رہا وہ بالکل ہی محروم رہا۔“ [مسند امام احمد، مسند ابی ہریرہ، ج: 3، ص: 331، حدیث: 9001]
حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: چونکہ ماہِ رمضان میں حسی (یعنی محسوس ہونے والی) برکتیں بھی ہیں اور غیبی برکتیں بھی، اس لیے اس مہینے کا نام ماہِ مبارک بھی ہے، رمضان میں قدرتی طور پر مومنوں کے رزق میں برکت ہوتی ہے اور ہر نیکی کا ثواب ستر (70) گنا یا اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ماہِ رمضان کی آمد پر خوش ہونا، ایک دوسرے کو مبارک باد دینا سنت ہے اور جس کی آمد پر خوشی ہونا چاہیے، اس کے جانے پر غم بھی ہونا چاہیے۔ اسی لیے اکثر مسلمان جمعۃ الوداع کو مغموم اور چشمِ پُر نم (یعنی رمضان کی جدائی میں رو رہے) ہوتے ہیں اور خطباء اس دن میں کچھ وداعیہ کلمات (یعنی الوداعی جملے) کہتے ہیں تاکہ مسلمان باقی گھڑیوں کو غنیمت جان کر نیکیوں میں اور زیادہ کوشش کریں، ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ [مرآۃ المناجیح، ج: 3، ص: 137، ملتقطاً]
صحابہ کرام اور رمضان کی تیاری:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شعبان کا چاند نظر آتے ہی صحابہ کرام علیہم الرضوان تلاوتِ قرآنِ پاک کی طرف خوب متوجہ ہو جاتے، اپنے اموال کی زکوٰۃ نکالتے تاکہ غرباء و مساکین مسلمان ماہِ رمضان کے روزوں کے لیے تیاری کر سکیں۔ حکام قیدیوں کو طلب کر کے جس پر حد (یعنی شرعی سزا) جاری کرنا ہوتی اس پر حد قائم کرتے، بقیہ میں سے جن کو مناسب ہوتا انہیں آزاد کر دیتے، تاجر اپنے قرضے ادا کر دیتے، دوسروں سے اپنے قرضے وصول کر لیتے (یوں ماہِ رمضان المبارک سے قبل ہی اپنے آپ کو فارغ کر لیتے) اور رمضان شریف کا چاند نظر آتے ہی غسل کر کے (بعض حضرات) اعتکاف میں بیٹھ جاتے۔ [غنیۃ الطالبین، ج: 1، ص: 341]
فرمانِ فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ:
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے: ”اس مہینے کو خوش آمدید جو ہمیں پاک کرنے والا ہے۔ پورا رمضان خیر ہی خیر (یعنی بھلائی ہی بھلائی) ہے، دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام، اس مہینے میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے۔“ [تنبیہ الغافلین، ص: 177]
رمضان المبارک کے بے شمار فضائل، برکات اور خصوصیات ہیں۔ مثلاً رمضان ماہِ صیام ہے، رمضان ماہِ نزولِ قرآن ہے، ماہِ رمضان کی پہلی شب میں اللہ مخلوق پر نظرِ رحمت فرماتا ہے، ماہِ رمضان میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے، ماہِ رمضان میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، ماہِ رمضان میں شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے، ماہِ رمضان مہینوں کا سردار ہے، ماہِ رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ستر گنا ملتا ہے اور مہینوں میں رمضان ہی کا نام قرآن میں موجود ہے۔ ان کے علاوہ بھی رمضان کی بے شمار خصوصیات ہیں، جن میں سے چند کو ہم نے مختصر انداز میں بیان کیا ہے۔
ماہِ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور عظمتوں کے ساتھ تشریف لے آتا ہے مگر کچھ لوگ اس ماہِ مقدس میں بھی گناہوں اور نافرمانیوں سے باز نہیں آتے اور اس ماہِ مقدس میں اپنی بداعمالیوں سے اس کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جیسے کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، ٹینس، تاش، شطرنج، لڈو، کیرم، ویڈیو گیمز، موبائل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال کر کے اس ماہِ مقدس کی بے حرمتی کرتے ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس مقدس مہینے کا اس شان سے استقبال کریں کہ گناہوں سے ہمیشہ کے لیے سچی توبہ کر لیں، نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، نمازوں کی پابندی کریں، تراویح کا خوب اہتمام کریں، تلاوتِ قرآن کریں، خوب دعائیں کریں، کثرت سے نوافل ادا کریں اور صدقہ و خیرات کثرت سے کریں۔ ان شاء اللہ اس طرح ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا انبار لگ جائے گا۔ خصوصاً عمل کے ساتھ علمِ دین بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ جو چیزیں ہم پر سیکھنا فرض ہیں انہیں ضرور سیکھیں۔ مثلاً عقائد کا علم، نماز کے مسائل، روزوں کے احکام، زکوٰۃ کے مسائل اور ہر وہ علم جو ہم پر سیکھنا فرض ہے۔
یہ ہے اللہ کا احسان، آیا ماہِ رمضان
اہلِ ایماں کا مہمان، آیا ماہِ رمضان
