| عنوان: | روزۂ رمضان اور ربِ کریم کا قرآن |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
جس بھی اشیائے خیر کا ذکر قرآنِ مقدس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے تو ہم اہلِ سنت و جماعت کے نزدیک اس کی شرف و بزرگی اور فضیلت و اہمیت کے لیے اتنا ہی کافی ہوا کرتا ہے کہ اس کا ذکر قرآنِ مقدس نے بھی کیا۔ اب پڑھیے! رمضان المبارک کا باسعادت اور ذی وقار مہینہ آنے والا ہے۔ رمضان المبارک ہی وہ مقدس اور پاکیزہ مہینہ ہے جس کا ذکرِ جمیل نام کے ساتھ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے یوں کیا ہے:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ
ترجمہ کنز الایمان: ”رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا۔“ [البقرۃ: 185]
آیتِ سابقہ میں ربِ ذوالجلال و الاکرام نے رمضان المبارک کا ذکر اس انداز میں فرمایا کہ یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآنِ مقدس کا نزول ہوا۔ اس سے رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت واضح و عیاں ہے۔ یہ مہینہ متعدد اعتبار سے شرف و بزرگی والا ہے۔ آئیے! چند ایک، تقریبِ فہم کے لیے ذکر کی جاتی ہیں:
- اس کے ذکر کا نام کے ساتھ قرآن میں ہونا۔
- روزے کے لیے اسی مہینے کا منتخب ہونا۔
- اسی مہینے میں شیطان کا قید کیا جانا۔
- ہر افطاری کے وقت بے شمار افراد کو جہنم سے رہائی مل جانا اور متعدد افراد کو جنت نصیب ہونا۔
اور بھی اس کے کئی فضائل و خصوصیات کتابوں میں مذکور ہیں۔ فقیر راقم الحروف نے چند آپ کے گوش گزار کرنے کی سعادت حاصل کی۔
روزۂ رمضان اور رب کا قرآن:
اب آئیے! اللہ پاک نے جو ہم سب پر اس مبارک مہینے کا روزہ فرض کیا ہے، اس کو جاننے کی جانب توجہ مبذول کرتے ہیں۔ اللہ پاک قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ.
ترجمہ کنز الایمان: ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔“ [البقرۃ: 183]
اللہ اللہ!
اب ذرا آیت کے اسلوب پر نظر کرتے ہوئے یہ بات بھی زیرِ غور لائیں کہ ربِ کریم نے کس دلنشیں اور دلربا انداز میں ارشاد فرمایا: ”اے ایمان والو!“ کیا مطلب؟ مطلب یہ کہ روزہ ہر ایرے غیرے پر فرض نہیں ہے، بلکہ اسی پر فرض ہے جو ایمان والے ہیں۔
تفسیر صراط الجنان:
شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم عطاری دام ظلہ العالی اپنی شہرۂ آفاق تفسیر ”صراط الجنان“ میں فرماتے ہیں:
”اس آیت میں فرمایا گیا ’جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض تھے۔‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ بہت قدیم عبادت ہے۔ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر تمام شریعتوں میں روزے فرض ہوتے چلے آئے ہیں اگرچہ گزشتہ امتوں کے روزوں کے دن اور احکام ہم سے مختلف ہوتے تھے۔“ [صراط الجنان، تحت الآیہ]
روزہ کب فرض ہوا؟
یاد رہے کہ رمضان کے روزے 10 شعبان 2 ہجری میں فرض ہوئے تھے۔ [صراط الجنان، تحت الآیہ]
روزہ فرض کرنے کا بنیادی مقصد:
ذی شرف و فضل قارئین!
آپ پر بھی یہ بات اظہر من الشمس ہوگی کہ دنیا میں جو کچھ جو کوئی کرتا ہے، تو اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ مقصد ضرور ہوا کرتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی کام ہو اس میں ایک مقصد بالیقین ہوا کرتا ہے۔ اب یہاں پر محلِ نظر یہ بات ہے کہ کیا ربِ کریم نے روزے کا بھی کوئی مقصد ارشاد فرمایا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ماقبل ذکر آیت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مقصدِ روزہ کو یوں بیان فرمایا ہے: ”لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ“ (تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ)۔ یعنی روزے کا بنیادی مقصد پرہیزگاری اختیار کرنا ہے۔ اسی بات کی جانب شیخ الحدیث و التفسیر مفتی محمد قاسم عطاری دام ظلہ العالی نے یوں ایما فرمایا:
”آیت کے آخر میں بتایا گیا کہ روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری کا حصول ہے۔ روزے میں چونکہ نفس پر سختی کی جاتی ہے اور کھانے پینے کی حلال چیزوں سے بھی روک دیا جاتا ہے تو اس سے اپنی خواہشات پر قابو پانے کی مشق ہوتی ہے جس سے ضبطِ نفس اور حرام سے بچنے پر قوت حاصل ہوتی ہے اور یہی ضبطِ نفس اور خواہشات پر قابو وہ بنیادی چیز ہے جس کے ذریعے آدمی گناہوں سے رکتا ہے۔“ [صراط الجنان، تحت الآیہ]
یوں تو اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں جابجا تقویٰ کا ذکر فرمایا ہے جس سے تقویٰ کی فضیلت و اہمیت بالکل روزِ روشن کی طرح ظاہر و باہر ہے۔ آئیے! تقویٰ کے تعلق سے چند اہم چیزیں ذکر کی جاتی ہیں۔
تقویٰ کسے کہتے ہیں؟
شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کا معنی یہ ہے کہ نفس کو ہر اس کام سے بچانا جسے کرنے یا نہ کرنے سے کوئی شخص عذاب کا مستحق ہو، جیسے کفر و شرک، کبیرہ گناہوں، بے حیائی کے کاموں سے اپنے آپ کو بچانا، حرام چیزوں کو چھوڑ دینا اور فرائض کو ادا کرنا وغیرہ۔ اور بزرگانِ دین نے یوں بھی فرمایا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ تیرا خدا تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ہے۔ [صراط الجنان، البقرۃ، تحت الآیہ الثانیہ]
اصل معیارِ فضیلت صرف تقویٰ ہے:
اس کے فضائل پر کئی احادیث شاہد ہیں۔ تطویل کے خوف سے فقط ایک ہی یہاں بیان کی جاتی ہے۔
حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”تمہارا رب عزوجل ایک ہے، تمہارا باپ ایک ہے اور کسی عربی کو عجمی پر فضیلت نہیں ہے، نہ عجمی کو عربی پر فضیلت ہے، نہ گورے کو کالے پر فضیلت ہے، نہ کالے کو گورے پر فضیلت ہے مگر صرف تقویٰ سے۔“ [صراط الجنان، البقرۃ، تحت الآیہ الثانیہ]
مراتبِ تقویٰ اور امامِ اہلِ سنت:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن کے فرمان کے مطابق تقویٰ کی سات قسمیں ہیں:
- کفر سے بچنا۔
- بد مذہبی سے بچنا۔
- کبیرہ گناہ سے بچنا۔
- صغیرہ گناہ سے بچنا۔
- شبہات سے پرہیز کرنا۔
- نفسانی خواہشات سے بچنا۔
- اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی ہر چیز کی طرف توجہ کرنے سے بچنا۔
اور قرآنِ عظیم ان ساتوں مرتبوں کی طرف ہدایت دینے والا ہے۔ [صراط الجنان، البقرۃ، تحت الآیہ الثانیہ]
قارئینِ ذوی الاحترام!
ماقبل ذکر کردہ امور سے ہمیں یہ چند اہم باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں:
- رمضان کی فضیلت و اہمیت۔
- روزے کی فضیلت و اہمیت۔
- مقصدِ روزہ حصولِ تقویٰ ہے۔
- تقویٰ اور مراتبِ تقویٰ کے بارے میں معلومات۔
اور دیگر ضمنی چیزیں بھی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دونوں جہاں میں اپنی رحمت میں با عافیت رکھے۔ رمضان المبارک کا مہینہ جیسا کہ اللہ پاک اور اس کے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چاہتے ہیں، اسی طرح عافیت کے ساتھ گزارنا مقدر فرمائے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
