| عنوان: | رمضان المبارک کی تیاریاں آپ بھی کر لیں! |
|---|---|
| تحریر: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
ماہِ رمضان، جو یقیناً ماہِ غفران ہے، ہم سب کے لیے ایک خصوصی مہمان بن کر آ رہا ہے۔ ہر کوئی رمضان المبارک کی تیاریاں تو ضرور کرتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن عموماً یہ تیاریاں فقط دنیاوی اعتبار سے ہوتی ہیں؛ یعنی کھانا کیسا ہو، افطاری میں کیا کیا ڈشیں ہوں اور عید پر کپڑے کس طرح کے خریدے جائیں وغیرہ۔
ذی احترام قارئین! آپ جانتے ہی ہوں گے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ سرکش شیاطین کو قید کر دیتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور جنت کے ابواب کھول دیے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ مہینہ بالخصوص نیکیاں کمانے کا سیزن ہوا کرتا ہے۔ دانشمندی اور ذی شعوری اسی میں ہے کہ جس نیکی کا سیزن چل رہا ہو، اس سیزن میں وہی کام کثرت سے کیا جائے۔ چونکہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ نیکیاں اکٹھا کرنے، گناہوں کی بخشش کروانے، جہنم سے دوری اور جنت کے حصول کا مہینہ ہے، اس لیے غور طلب بات یہ ہے کہ ہم نے اس مہمانِ خصوصی اور اہم سیزن کے لیے کیا تیاریاں کی ہیں؟
اگر آپ نے تیاریاں کر لی ہیں تو ماشاء اللہ! اور اگر ابھی تک آپ کی استعداد مکمل نہیں ہو پائی ہے، تو کم از کم رمضان المبارک کی آمد سے ایک یا دو دن قبل اپنی تیاریاں اس حوالے سے مکمل فرما لیں کہ نیکیاں جمع کیسے کرنی ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شعبان المعظم سے ہی اپنی تیاریاں مکمل فرما لیا کرتے تھے؛ تلاوتِ قرآنِ پاک بڑھا دیا کرتے، قرضے ادا کر دیا کرتے تھے اور اپنی دیگر مصروفیات کو سمیٹ کر خود کو مکمل طور پر رمضان المبارک کے لیے تیار کر لیا کرتے تھے۔
اب آئیے! ذیل میں چند ایسے امور صفحۂ قرطاس پر نوکِ قلم کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے سے رمضان المبارک میں نیکیاں جمع کرنے سے متعلق ہماری تیاریاں تقریباً مکمل ہو جائیں گی:
- سب سے پہلے اپنا جدول (Schedule) سیٹ کر لیں: جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کا مکمل جدول بنا لیں۔ بے مقصد اور بے ترتیب زندگی ایسی ہی ہے جیسے انسان بغیر خوراک کے۔ اپنا کام جدول کے مطابق کرنے کی کوشش کریں، ان شاء اللہ کام بروقت ہوگا اور وقت میں بے شمار برکتیں بھی ہوں گی۔
- روزانہ کم از کم 1 پارہ تلاوتِ قرآن کریں: اس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔ ایک صورت یہ بھی ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد قرآنِ کریم کے 2 صفحات کی تلاوت کر لی جائے، تو بآسانی ایک پارہ مکمل کیا جا سکتا ہے اور یوں ایک ماہ میں پورا قرآنِ کریم مکمل ہو جائے گا۔
- روزانہ 1200 مرتبہ درودِ پاک پڑھیں: درود شریف کا بھی جدول سیٹ کیا جا سکتا ہے کہ جب نماز کے لیے جائیں اور واپس آئیں تو درود شریف پڑھتے رہیں۔ البتہ کم از کم 313 بار درود شریف بالکل یکسو ہو کر، باوضو اور گنبدِ خضراء کا تصور باندھ کر پڑھیں۔ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی جانب سے ملا ہوا یہ عظیم الشان ہدف (1200 مرتبہ) پورا کرنے کی کوشش کریں۔
- کسی دینی کتاب کا ضرور مطالعہ کریں: ان دنوں ہمارے پاس کافی وقت ہوا کرتا ہے، لہٰذا عقلمندی اسی میں ہے کہ اس فارغ وقت کا اچھا اور مثبت استعمال کیا جائے۔ روزانہ کم از کم 5 صفحات کسی مستند دینی کتاب کے ضرور پڑھنے کی کوشش کریں۔
- روزانہ ایک حدیثِ پاک یاد کریں: رمضان المبارک کو اس طور پر بھی گزارا جا سکتا ہے کہ ہر روز کوئی ایک حدیثِ پاک بحوالہ یاد کی جائے۔ عصرِ حاضر کا بھی یہی تقاضا ہے کہ احادیثِ کریمہ کو یاد کرنے، ان پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے۔
- روزانہ ایک دعا بھی یاد کریں: ہو سکے تو اس رمضان المبارک میں روزانہ وہ مسنون دعائیں یاد کرنے کی کوشش کریں جو قرآن و حدیث میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر آپ روزانہ ایک دعا بھی یاد کرتے ہیں تو پورے ماہِ رمضان میں تقریباً 30 دعاؤں کا ذخیرہ آپ کے پاس جمع ہو جائے گا۔
- دوسروں کو بھی سحر و افطار کروائیں: اگر اللہ پاک نے آپ کو صاحبِ ثروت بنایا ہے تو اپنے مال و دولت سے روزانہ کسی کو سحر و افطار کی دعوت دیں یا صرف سحر یا فقط افطار ہی کروا دیں۔ احادیثِ کریمہ میں اس کے متعدد فضائل بیان کیے گئے ہیں۔
- گناہوں سے بچنے کا خاص اہتمام کریں: رمضان المبارک کے مہینے میں جس طرح نیک اعمال کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، اسی طرح اس مبارک مہینے میں گناہ کی سنگینی بھی بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا اس باسعادت مہینے میں بالخصوص گناہوں سے بچنے کو لازم جانیں۔
- سحر و افطار میں اپنے رب سے دعائیں ضرور کریں: عام طور پر ہم سحری مزے سے کھاتے ہیں لیکن اس قبولیت کے وقت میں دعا کا کوئی خاص اہتمام نہیں کر پاتے۔ اسی طرح افطاری کے وقت بھوک پیاس کی شدت ہوتی ہے اور ہم جلدی جلدی افطار شروع کر دیتے ہیں۔ افطار ضرور کریں، لیکن اس سے چند منٹ قبل اپنے کریم رب سے دعا بھی ضرور کریں۔
- روزانہ تہجد، اشراق اور چاشت کی نماز بھی ادا کریں: عام دنوں میں تہجد کے لیے اٹھنا نفس پر کافی گراں گزرتا ہے، لیکن اب تو سحری کے لیے اٹھنا ہی ہے۔ اس وقت کو غنیمت جانیں اور سحری سے قبل یا بعد نمازِ تہجد کا ضرور اہتمام کریں اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا کریں۔
- ہر وہ کام کریں جس سے رب راضی ہو: ہر وہ کام کریں جس سے ربِ کریم اور نبیِ رحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم راضی ہوں۔ یاد رکھیں! کیا خبر کہ اگلے سال ماہِ غفران نصیب ہو یا نہ ہو۔ لہٰذا جو نیکیاں جمع کرنی ہیں، اسی مبارک مہینے میں کر لیں۔
- ہفتے میں ایک دن بغیر سوشل میڈیا کے گزاریں: رمضان المبارک میں اس بات پر بھی عمل کرنے کی سعی کریں کہ ہفتے میں کم از کم ایک دن بغیر سوشل میڈیا کا استعمال کیے گزاریں۔ یہ کر کے دیکھیں، دلی سکون اور عبادات میں لطف آئے گا۔
ذی شرف و ذی فضل قارئین! ماہِ رمضان المبارک آنے والا ہے۔ اگر آپ بھی ماہِ غفران کو اچھا، مثبت اور نیکیوں بھرا بنانے کی خواہش رکھتے ہیں، تو مذکورہ بالا امور پر عمل کرنے کی سعی کریں۔ ان شاء اللہ کریم! رمضان المبارک کا مہینہ نیکیوں سے بھرپور ہو جائے گا۔ پیارے اسلامی بھائیو! اپنے رب کو راضی کرنے میں لگ جائیں، اس مختصر سی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
مختصر سی زندگی ہے بھائیو!
نیکیاں کیجیے، نہ غفلت کیجیے۔
اس رمضان المبارک کو یادگار بنانے کے لیے جو دیگر جائز اور مستحسن طریقے آپ کو اچھے لگیں، وہ بھی ضرور بجا لائیں۔
اللہ پاک ہمیں رمضان المبارک میں خوب نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ علمِ نافع اور عملِ صالح کی توفیق بعافیت عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
