کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

مصیبت میں صبر کیجیے!

مصیبت میں صبر کیجیے!
عنوان: مصیبت میں صبر کیجیے!
تحریر: محمد رضا توصیفی (مہدیا مہوتری، جنکپور، نیپال)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو اپنی بہترین مخلوق بنایا، اسے حسن و جمال سے نوازا اور بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔ انسان کے وجود میں عقل، فہم، محبت اور خوبیاں رکھی گئیں تاکہ وہ اس دنیا میں اللہ کی عبادت کرے، بھلائی کرے اور زندگی کے مقصد کو پہچانے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی میں صرف خوشیوں اور نعمتوں کا سلسلہ نہیں رکھا، بلکہ اس کے امتحان کے لیے مصیبتوں، پریشانیوں اور بیماریوں کو بھی انسان کی زندگی کا حصہ بنایا۔

یہ بیماریاں، تکالیف اور دکھ صرف ظاہری مشکلات نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم حکمت اور امتحان ہیں۔ یہ اس لیے بھیجی جاتی ہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ کون اپنے رب کی رضا پر صبر کرتا اور شکر ادا کرتا ہے، اور کون ناشکری اور شکایت کی راہ اختیار کرتا ہے۔ بیماری کے ذریعے اللہ تعالیٰ انسان کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اس کی روحانی بلندی کا سبب بنتا ہے اور اسے آخرت کے لیے تیار کرتا ہے۔ لیکن افسوس! بہت سے لوگ بیماری میں صبر اور شکر کے بجائے شکوہ و شکایت کرتے ہیں، مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس حکمت کو نہیں پہچان پاتے۔

یہ ترا جسم جو بیمار ہے تشویش نہ کر
یہ مرض تیرے گناہوں کو مٹا جاتا ہے

[وسائلِ بخشش، ص: 432]

اپنے کیے کا انجام

مسلمانوں پر نازل ہونے والی مصیبتوں کا ایک بڑا سبب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں میں مبتلا ہونا ہے۔ جیسے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ.

ترجمہ کنز الایمان: ”خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں، تاکہ اللہ انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آ جائیں۔“ [سورۂ روم، آیت: 41]

یہاں بہت سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کافروں کے ممالک جہاں کفر و شرک اور زنا و گناہ سب کچھ عام ہے، وہاں فساد کیوں نہیں ہے؟ تو اس کے دو جواب ہیں: اول یہ کہ کفار کو دنیا میں کئی اعتبار سے مہلت ملی ہوئی ہے، لہٰذا وہ اس مہلت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ فساد اور بربادی صرف مال کے اعتبار سے نہیں ہوتی، بلکہ بیماریوں اور ذہنی پریشانیوں بلکہ اور بھی ہزاروں اعتبار سے ہوتی ہے۔ اب ذرا کفار کے ممالک میں جنم لینے والی اور پھیلنے والی نئی نئی بیماریوں کی معلومات جمع کر لیں۔ یونہی یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دنیا میں سب سے زیادہ پاگل خانے، ذہنی مریض، دماغی سکون کی دواؤں کا استعمال، نفسیاتی ہسپتال، طلاقیں، ناجائز اولادیں، بوڑھے والدین کو اولڈ ہومز میں پھینک کر بھول جانے کے واقعات، اور سب سے زیادہ خودکشیاں بھی انہی ممالک میں ہیں، جو ظاہراً تو بڑے خوشحال نظر آتے ہیں لیکن اندر سے گل سڑ رہے ہیں۔

دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ.

ترجمہ کنز الایمان: ”اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا، اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔“ [سورۂ شوریٰ، آیت: 30]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے، وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے، اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔“ پھر رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ...﴾ الخ۔ [جامع الترمذی، کتاب التفسیر، الحدیث: 3263]

انبیاءِ کرام اور بچے اس آیت کے مخاطب نہیں

اس آیت کے تحت مفتی قاسم عطاری مدظلہ العالی نے مفتی نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ”تفسیر صراط الجنان“ میں نقل فرمایا ہے:

”یاد رہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام جو کہ گناہوں سے پاک ہیں، اور چھوٹے بچے جو کہ مکلف نہیں ہیں، ان سے اس آیت میں خطاب نہیں کیا گیا۔ بعض گمراہ فرقے جو آواگون (یعنی روح کے ایک بدن سے دوسرے بدن میں جانے) کے قائل ہیں، وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہے، اور ابھی تک چونکہ ان سے کوئی گناہ ہوا نہیں تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو گی جس میں گناہ ہوئے ہوں گے۔ ان کا اس آیت سے اپنے باطل مذہب پر استدلال باطل ہے کیونکہ بچے اس کلام کے مخاطب ہی نہیں، جیسا کہ عام طور پر تمام خطابات عقلمند اور بالغ حضرات کو ہی ہوتے ہیں۔“ [خزائن العرفان، ص: 895]

مزید فرماتے ہیں:

”نیز بالفرض اگر ان لوگوں کی بات کو ایک لمحے کے لیے تسلیم کر لیں تو ان سے سوال ہے کہ بچوں کو تکالیف تو یقینی طور پر آتی ہی ہیں خواہ وہ ان لوگوں کے عقیدے کے مطابق ساتواں جنم ہو یا پہلا، تو سوال یہ ہے کہ بچوں کے پہلے جنم میں جو تکلیفیں آتی ہیں وہ کون سے گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہیں؟ کیونکہ اس سے پہلے تو کوئی جنم ان کے عقیدے کے مطابق بھی نہیں گزرا ہوتا۔“ [تفسیر صراط الجنان]

اسی آیتِ کریمہ کے تحت شیخ الاسلام و المسلمین حضرت علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی لکھتے ہیں:

”انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کے درجات میں ترقی کے لیے ہوتے ہیں۔ صالحین پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کے امتحان کے لیے ہوتے ہیں۔ دیوانوں (مجانین) اور بچوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کے والدین کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہیں، بشرطیکہ وہ صبر کریں۔ اور کافروں اور زندیقوں پر جو مصائب آتے ہیں وہ ان کی توہین (سزا) کے لیے ہوتے ہیں۔“ [تفسیر اشرفی، ج: 9، ص: 38]

کوئی انسان زندہ نہ رہتا

اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے کیے کے مطابق پوری طرح سزا دیتا، تو زمین پر کوئی بھی جاندار زندہ نہ رہتا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰی ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا.

ترجمہ کنز العرفان: ”اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑتا تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا، لیکن وہ ایک مقرر میعاد تک انہیں ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب ان کی مقررہ مدت آئے گی تو بیشک اللہ اپنے تمام بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“ [سورۂ فاطر، آیت: 45]

یاد رہے! تاخیر یا مہلت اللہ کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی رحمت اور حکمت ہے۔ جب ہم مصیبت، تکلیف یا بیماری میں مبتلا ہوں تو اپنے دل و دماغ میں یہ یقین رکھیں:

مرض اسی نے دیا ہے، دوا وہی دے گا
کرم سے چاہے گا، جب بھی شفا وہی دے گا

اللہ تعالیٰ مخلوق پر مہربان

اللہ تعالیٰ کبھی بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کسی تکلیف میں مبتلا نہیں فرماتا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا.

ترجمہ کنز الایمان: ”اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔“ [سورۂ بقرہ، آیت: 286]

بیماری کے وقت انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بہت تکلیف میں ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ تکلیف اس کی برداشت کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ بیماری کے وقت اللہ کا شکر ادا کرے۔ نادان اور کم فہم لوگ بیماری کے وقت ایسے جملے یا الفاظ استعمال کر لیتے ہیں جو کفر کے قریب لے جاتے ہیں، اور اس کی وجہ سے وہ ایمان سے محروم بھی ہو سکتے ہیں۔ (نوٹ: بیماری کے وقت بولے جانے والے کفریہ کلمات کو جاننے کے لیے امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ”کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب“ کا مطالعہ فرمائیں۔)

بیماری رب کے حکم سے

کائنات میں کوئی چیز بغیر اللہ کے حکم کے نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ.

ترجمہ کنز العرفان: ”ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت دے گا اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔“ [سورۂ تغابن، آیت: 11]

انسان کتنا نافرمان ہے

انسان جتنا نافرمان ہے، شاید ہی کوئی اور مخلوق ہو۔ جب اسے نعمت ملتی ہے تو شکر کے بجائے نافرمانی کرنے لگتا ہے، اور جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو شکوہ شروع کر دیتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوْا بِهَا ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ اِذَا هُمْ یَقْنَطُوْنَ.

ترجمہ کنز العرفان: ”اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ دیتے ہیں تو اس پر خوش ہو جاتے ہیں، اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو اس وقت وہ ناامید ہو جاتے ہیں۔“ [سورۂ روم، آیت: 36]

جو چاہے جمیلؔ رضوی کو تُو عطا کر
مختار ہے تُو اور وہ راضی برضا ہے

زباں پہ شکوۂ رنج و الم لایا نہیں کرتے
نبی کے نام لیوا غم سے گھبرایا نہیں کرتے

صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں صبر کرنے والوں کے لیے عظیم خوشخبریاں سنائی ہیں:

  1. ﴿وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا﴾

    ترجمہ: ”اور جب بنی اسرائیل نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔“ [السجدہ: 24]

  2. ﴿وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ۙ بِمَا صَبَرُوْا﴾

    ترجمہ: ”اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا، بدلہ ان کے صبر کا۔“ [الاعراف: 137]

  3. ﴿وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾

    ترجمہ: ”اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کو ان کا وہ صلہ دیں گے جو ان کے سب سے اچھے کام کے قابل ہو۔“ [النحل: 96]

  4. ﴿اُولٰٓىِٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا﴾

    ترجمہ: ”ان کو ان کا اجر دو بالا دیا جائے گا، بدلہ ان کے صبر کا۔“ [القصص: 54]

  5. ﴿اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴾

    ترجمہ: ”صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔“ [الزمر: 10]

  6. ﴿وَ اصْبِرُوْا ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴾

    ترجمہ: ”صبر کرو، بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔“ [الانفال: 46]

حاصلِ کلام

ان تمام قرآنی آیات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر مہربان ہے اور کبھی کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر مصیبت اس کی مشیت سے ہی پہنچتی ہے اور وہی اسے دور کرنے والا ہے۔ اس لیے مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیماری اور آزمائش کے وقت صبر و شکر کو اپنا شعار بنائے، شکوہ و شکایت سے گریز کرے اور یقین رکھے کہ ہر تکلیف اللہ کی رحمت اور مغفرت کا ذریعہ ہے۔

یاد رہے کہ اس امت سے پہلے کے لوگوں پر انتہائی سخت آزمائشیں آئیں، لیکن وہ صبر کے ساتھ اپنے دین پر جمے رہے۔ یونہی اگر ہم پر مصائب و آلام آئیں تو ہمیں بھی سابقہ لوگوں کی طرح صبر و شکر سے کام لینا چاہیے اور کفریہ کلمات سے بچنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!