| عنوان: | فجر کی نماز کی اہمیت |
|---|---|
| تحریر: | احمد رضا عطاری، کچھوچھہ شریف |
ایمان لانے کے بعد ہر مسلمان پر پانچ وقت کی نماز فرض ہے۔ نماز وہ عظیم تحفہ ہے جو اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو عرش سے اوپر بلا کر عطا فرمایا۔ نماز کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے نماز کا تقریباً سات سو سے زائد مرتبہ حکم فرمایا ہے اور اسے مومن کی معراج بھی قرار دیا گیا ہے۔
اللہ رب العالمین قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا
ترجمہ کنز العرفان: ”بے شک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔“ [النساء: 103]
ہر نماز کو وقت پر ادا کرنے کی اپنی فضیلت ہے لیکن فجر کی نماز کو خاص فضیلت حاصل ہے۔ بندہ جب اپنے رب کی رضا کے لیے اپنی میٹھی نیند کو قربان کر کے، اپنے گرم گرم بستر کو چھوڑ کر ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے تو اسے ایک روحانی سکون، لذت اور اللہ کی قربت نصیب ہوتی ہے جو کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جو صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ شام تک اللہ پاک کے ذمے میں ہے۔“ [معجم کبیر، ج: 12، ص: 270، حدیث: 1321]
علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”جو فجر کی نماز اخلاص کے ساتھ پڑھے وہ اللہ پاک کی حفظ و امان میں ہے اور فجر کی نماز کا ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اس نماز میں مشقت (یعنی محنت) ہے اور اس پر پابندی صرف وہی شخص کر سکتا ہے جس کا ایمان خالص ہو اسی لیے وہ امان و حفاظت کا مستحق ہوتا ہے۔“
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں ایک شخص کے متعلق ذکر کیا گیا کہ وہ صبح تک سوتا رہا اور نماز کے لیے نہ اٹھا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے۔“ [صحیح بخاری، ج: 1، ص: 288، حدیث: 1177]
حضرت علامہ محمد بن احمد انصاری قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”یہ بات ثابت ہے کہ شیطان کھاتا، پیتا اور نکاح کرتا ہے تو اگر وہ پیشاب بھی کر لے تو اس میں کیا رکاوٹ ہے؟“ [عمدۃ القاری، ج: 5، ص: 783]
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: ”(اس سے مراد) نمازِ تہجد کے لیے یا نمازِ فجر کے لیے نہ اٹھنا ہے۔ پہلے یعنی تہجد میں نہ اٹھنے والا معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان فجر کی نماز ہرگز قضا نہ کرتے تھے اور ممکن ہے کہ یہ کسی منافق کا واقعہ ہو جو فجر میں نہ آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ نمازِ فجر میں نہ جاگنا بڑی نحوست ہے، نیز کوتاہی کرنے والوں کی شکایت اصلاح کی غرض سے کرنا جائز ہے، غیبت نہیں۔“ [مرآۃ المناجیح، ج: 2، ص: 257]
آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے مسلمان دوسری نمازیں تو پڑھ لیتے ہیں مگر فجر میں سستی کر جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ بھی دیگر نمازوں کی طرح فرض ہے اور اس کو ترک کرنے والا شخص گنہگار و عذابِ نار کا حقدار ہے۔
چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت سیدی امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جس نے قصداً یعنی جان بوجھ کر ایک وقت کی نماز چھوڑی ہزاروں برس جہنم میں رہنے کا مستحق ہوا جب تک توبہ نہ کرے اور اس کی قضا نہ کر لے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 9، ص: 158 تا 159]
صبح جلدی اٹھنے سے صحت بہتر رہتی ہے، سستی ختم ہوتی ہے اور انسان وقت کا پابند بنتا ہے۔ فجر کے بعد کا وقت پڑھائی، محنت اور منصوبہ بندی کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح فجر کی نماز نہ صرف روحانیت بلکہ دنیاوی کامیابی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دن کی شروعات اللہ پاک کے ذکر اور اس کی بندگی سے کریں تاکہ پورا دن ہمیں اس کی برکتیں ملتی رہیں۔ دوستوں کے ساتھ دیر رات تک بیٹھ کر موبائل فون یا دیگر فضولیات میں اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ جلدی سو جائیں، الارم لگا کر سوئیں تاکہ فجر کی نماز باجماعت مل سکے۔
اللہ رب العالمین ہمیں پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
