| عنوان: | رمضان المبارک میں نمازِ تہجد پڑھنا ہوا آسان! |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
نمازِ تہجد نفل عبادت ہے جو عشاء کی نماز اور نیند کے بعد رات کے پچھلے حصے میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ انتہائی فضیلت اور قربِ الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نمازِ تہجد خداوندِ متعال سے راز و نیاز اور تنہائی میں عبادت کا حسین موقع ہے۔ جو شخص اس کا اہتمام کرتا ہے، وہ روحانی ترقی اور ربِ کریم عزوجل کی رضا حاصل کرتا ہے۔ اسے دعاؤں کی قبولیت کا بہترین موقع ملتا ہے، نیز گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی نصیب ہوتی ہے۔
فضیلتِ نمازِ تہجد (قرآنِ حکیم کی روشنی میں):
قرآنِ حکیم کی متعدد آیاتِ کریمہ سے نمازِ تہجد کی فضیلت ثابت ہے، چنانچہ چند آیاتِ کریمہ ملاحظہ فرمائیں:
-
إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُوْمُ أَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّيْلِ.
ترجمہ کنز الایمان: ”بیشک تمہارا رب جانتا ہے کہ تم قیام کرتے ہو کبھی دو تہائی رات کے قریب۔“ [المزمل: 20]
-
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَّأَقْوَمُ قِيْلًا.
ترجمہ کنز الایمان: ”بیشک رات کا اٹھنا، وہ زیادہ دباؤ ڈالتا ہے اور بات خوب سیدھی نکلتی ہے۔“ [المزمل: 6]
-
تَتَجَافٰی جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ.
ترجمہ کنز الایمان: ”ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے۔“ [السجدہ: 16]
-
وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا.
ترجمہ کنز الایمان: ”اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لیے سجدے اور قیام میں۔“ [الفرقان: 64]
احادیثِ کریمہ سے فضیلتِ نمازِ تہجد:
-
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا: وہ لوگ کہاں ہیں جن کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے الگ رہتے تھے؟ چنانچہ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ تھوڑے ہوں گے اور وہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے، پھر باقی تمام لوگوں کو حساب کی (جگہ کی) طرف جانے کا حکم دیا جائے گا۔“ [شعب الایمان]
-
حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: ”آدھی رات میں بندے کا دو رکعتیں نماز پڑھنا، دنیا اور اس کی تمام اشیاء سے بہتر ہے۔ اگر میری امت پر دشواری نہ ہوتی تو میں یہ دو رکعتیں ان پر فرض کر دیتا۔“ [کنز العمال]
-
حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں بالا خانے ہیں جن کے بیرونی حصے اندر سے اور اندر کے حصے باہر سے نظر آتے ہوں گے۔“ ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! یہ کس کے لیے ہوں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، ہمیشہ روزہ رکھے اور رات میں نماز ادا کرے جبکہ لوگ سوئے ہوئے ہوں۔“ [جامع الترمذی]
رمضان المبارک میں نمازِ تہجد پڑھنا ہوا آسان:
رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس مبارک ماہ میں عبادت کا ذوق خود بخود بڑھ جاتا ہے، دل نرم ہو جاتا ہے اور گناہوں سے بچنا نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے۔ دن بھر روزہ رکھنے کی برکت اور رات کو تراویح کی سعادت انسان کو قیام اللیل یعنی نمازِ تہجد کے لیے آمادہ کر دیتی ہے۔
رمضان المبارک کی ایک بڑی برکت یہ ہے کہ سحری کے لیے بیدار ہونا خود بخود تہجد کو آسان بنا دیتا ہے۔ جب انسان سحری کی نیت سے اٹھ ہی جاتا ہے تو چند لمحے اللہ عزوجل کے حضور کھڑے ہو کر دو یا چار رکعت نمازِ تہجد ادا کرنا مشکل نہیں رہتا۔ اسی لیے رمضان میں تہجد کا اہتمام نسبتاً آسان محسوس ہوتا ہے، جبکہ دیگر مہینوں میں یہ باقاعدہ مجاہدہ مانگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نمازِ تہجد کے لیے طویل قیام شرط نہیں، بلکہ پختہ نیت اور چند رکعات کا اہتمام ہی کافی ہے۔ اصل چیز اخلاص اور دل کی حاضری ہے۔ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشتا ہے اور بندوں کو اپنے قرب سے نوازتا ہے۔
لہٰذا سحری کے قیمتی لمحات کو غنیمت جانیے، انہیں غفلت میں نہ گنوائیے، بلکہ چند لمحے اپنے رب کے حضور جھک کر اپنی دنیا و آخرت سنوار لیجیے۔ یہی لمحات انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے تہجد کے لمحات کو غنیمت جاننا چاہیے۔
كَمْ صَحِيْحٍ رَأَيْتُ مِنْ غَيْرِ سُقْمٍ
خَرَجَتْ نَفْسُهُ الصَّحِيْحَةُ فَلْتَةً
ترجمہ: ”میں نے کتنے ایسے تندرست دیکھے ہیں جنہیں کوئی بیماری نہیں تھی، اور اچانک (بغیر کسی ظاہری سبب کے) ان کی روحیں پرواز کر گئیں۔“
