| عنوان: | صحابہ کرام کا عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم |
|---|---|
| تحریر: | افضل رضا قادری عطاری |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان مخدوم لاھوری، موڈاسا، گجرات |
سب سے پہلے ہم محبت اور عشق کی تعریف کرتے ہیں تاکہ ان کے درمیان فرق کامل طور پر واضح ہو جائے۔ یہ تعریف امام محمد بن محمد بن محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے ”مکاشفۃ القلوب“ میں کی ہے۔
تعریف: محبت نام ہے پسندیدہ چیز کی طرف میلانِ طبع کا، اگر یہ میلان شدت اختیار کر جائے تو اسے عشق کہتے ہیں۔
عشق کی تاثیر بڑی حیرت انگیز ہے۔ عشق نے بڑی بڑی مشکلات میں عقلِ انسانی کی رہنمائی کی ہے، عشق نے بہت سی لاعلاج بیماریوں کا کامیاب علاج کیا ہے، عشق کے کارنامے آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔
مدینے کے پر آشوب ماحول میں جب کہ پیغمبرِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ظاہری وصالِ پر ملال ہو چکا تھا، اطرافِ مدینہ کے بہت سے لوگ دین سے منحرف ہو گئے تھے۔ اسلامی لشکر کو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں روم کے مقابلے پر خود حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم مرضِ وفات میں بھیج چکے تھے۔ سیاسی حالات نے سنگین رخ اختیار کر لیا تھا، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی رائے تھی کہ لشکر کو واپس بلایا جائے، لیکن وہ عشق ہی تھا جس نے سب کے بر خلاف پکار کر کہا:
”قسم اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! ابو قحافہ کے بیٹے (ابوبکر) سے یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اس لشکر کو لوٹائے جسے اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آگے بھیجا۔ خواہ کتے ہماری ٹانگیں کھینچ لے جائیں مگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھیجا ہوا لشکر واپس نہیں بلا سکتا اور آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا باندھا ہوا پرچم کھول نہیں سکتا۔“
عشق کا فیصلہ عقل کے فیصلے سے بالکل متصادم تھا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ جب عشق کا فیصلہ نافذ ہو گیا تو ساری سازشیں خود بخود دم توڑ گئیں۔ دشمنوں کے حوصلے شکست خوردہ ہو گئے اور سیاسی حالات کی کایا پلٹ گئی۔
عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگر پوری طرح دل میں جاگزیں ہو تو اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ظہور ہو جاتا ہے۔ احکامِ الٰہی کی تعمیل اور سیرتِ نبوی کی پیروی عاشق کے رگ و ریشہ میں سما جاتی ہے۔ دل و دماغ اور جسم و روح پر کتاب و سنت کی حکومت قائم ہو جاتی ہے، مسلمان کی معاشرت سنور جاتی ہے، آخرت نکھرتی ہے، تہذیب و ثقافت کے جلوے بکھرتے ہیں اور بے مایہ انسان میں وہ قوت رونما ہوتی ہے جس سے جہاں بینی و جہاں بانی کے جوہر کھلتے ہیں۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
اسی عشقِ کامل کے طفیل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دنیا میں اقتدار و اختیار اور آخرت میں عزت و اکرام ملا۔ یہ ان کے عشق کا کمال تھا کہ مشکل سے مشکل گھڑی اور کٹھن سے کٹھن وقت میں بھی انہیں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے انحراف گوارا نہ تھا۔ وہ ہر مرحلے میں اپنے محبوب آقا علیہ التحیۃ والثنا کا نقشِ پا ڈھونڈتے اور اسی کو اپنا مشعلِ راہ بناتے یہاں تک کہ:
اندھیری رات سنی تھی چراغ لے کے چلے
لحد میں عشقِ رخِ شہ کا داغ لے کے چلے
جنگِ احد میں ایک صحابیہ رضی اللہ عنہا کے باپ، بھائی اور شوہر پروانہ وار لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ انہیں جب یہ معلوم ہوا تو اس کا کچھ غم نہ کیا، بس یہ پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیسے ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم بخیر و سلامت ہیں تو بولیں کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دکھا دو۔ آپ کو دیکھ کر (ایک روایت میں ہے کہ بے تابانہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کپڑا پکڑ کر) کہنے لگیں:
كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ
یعنی: آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ ہے۔
جس سے محبت ہوتی ہے اس کی ہر چیز سے محبت ہوتی ہے۔ اس کی ہر ادا سے محبت، اس کی رفتار سے محبت، اس کی گفتار سے محبت، اس کے لباس و طعام سے محبت، غرض اس کی ہر چیز سے محبت ہوتی ہے۔
حضرت عبید بن جریج نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے دیکھا آپ بیل کے دباغت کیے ہوئے چمڑے کا بے بال جوتا پہنتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا (وہ) ایسا ہی جوتا پہنا کرتے تھے جس میں بال نہ ہوں اسی لیے میں بھی ایسا جوتا پہننا پسند کرتا ہوں۔“
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی، میں بھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ گیا۔ جو کی روٹی اور شوربہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے لایا گیا جس میں کدو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا۔ کھانے کے دوران میں نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھا کہ پیالے کے کنارے سے کدو کی قاشیں تلاش کر رہے ہیں، اسی لیے میں بھی اسی دن سے کدو پسند کرنے لگا۔
مذکورہ بالا روایات میں آپ نے دیکھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کس طرح حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت، عقیدت، چاہت، الفت اور عشق تھا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ہر ہر ادا کو اپنانے کی کوشش کرتے تھے۔ جو چیز حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند تھی، صحابہ کرام بھی اس کو پسند فرمایا کرتے تھے، وجہ یہی تھی کہ یہ میرے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو پسند ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عشق کا انداز دیکھیے! ہجرت کے موقع پر یارِ غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مثال قائم کی ہے وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے۔ پاؤں زخمی ہونے کی وجہ سے جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے پنجوں کے بل چل رہے تھے تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے عشق نے گوارا نہیں کیا کہ محبوب کے پاؤں زخمی ہوتے رہیں اور میں دیکھتا رہوں، یہ ایک عاشقِ صادق سے کب ممکن تھا! حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا اور غار کی طرف اپنے قدموں کو بڑھانے لگے۔ جب غار پر پہنچے تو پہلے خود غار کے اندر داخل ہوئے تاکہ اگر کوئی مضر شے ہو تو وہ مجھے ایذا پہنچائے۔ جب حضور تشریف لے گئے اور ابوبکر کے زانو پر سر رکھ کر آرام کرنے لگے، اتنے میں صدیق اکبر کے پاؤں میں سانپ نے کاٹ لیا۔ شدتِ الم کی انتہا کے باوجود اس خیال سے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نیند مبارک اور خوابوں میں رخنہ و خلل واقع نہ ہو جائے، ساکن و صامت رہے۔ لیکن جب شدتِ الم کی انتہا عروج کی دنیا میں پہنچی اور پیمانۂ صبر لبریز ہو گیا تو آنسو کے قطرات ٹپکنا شروع ہوئے۔ جب آنکھوں سے ہجرت کیے ہوئے آنسو محبوب کے چہرۂ اقدس پر وارد ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی آنکھیں بیدار ہوئیں۔ جب حضرت ابو بکر صدیق کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو حال دریافت فرمایا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو بیان فرمایا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے لعابِ دہن کو اس جگہ پر لگا دیا تو شفا مل گئی۔
یہی ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جنہوں نے عشقِ رسول کا جام بھر بھر کر پیا، اسی عشقِ رسول میں سرشار ہو کر، اسی عشق کے سمندر میں ڈوب کر اپنے بیٹے حضرت عبد الرحمٰن (جب وہ ایمان نہیں لائے تھے اور جنگ میں شریک ہوئے تو ان کے والد ان کی تلوار کے نیچے آ گئے تھے۔ ایک دن گفتگو کے درمیان کہا کہ آپ میری تلوار کے نیچے آ گئے تھے میں نے چھوڑ دیا، جب ایمان لائے تو کہا میری محبتِ پدری غالب آ گئی تھی اس لیے میں نے آپ کو چھوڑ دیا) سے فرمایا تھا کہ: ”اگر اس جگہ میں ہوتا، یعنی میری تلوار کے نیچے تم آ جاتے تو میں تمہیں بیٹا سمجھ کر نہیں چھوڑتا بلکہ دشمنِ رسول سمجھ کر تمہاری گردن اڑا دیتا۔“
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
پروانہ کو چراغ تو بلبل کو پھول بس
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَظَهْرِ قَدَمَيْهِ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مِمَّ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ قَرِيبًا مِنْ هَذِهِ الْبُقْعَةِ فَتَوَضَّأَ كَمَا تَوَضَّأْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مَا أَضْحَكَنِي؟ فَقَالُوا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَعَا بِوَضُوءٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ كُلَّ خَطِيئَةٍ أَصَابَهَا بِوَجْهِهِ فَإِذَا غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ وَإِنْ مَسَحَ بِرَأْسِهِ كَانَ كَذَلِكَ وَإِذَا طَهَّرَ قَدَمَيْهِ كَانَ كَذَلِكَ.
ترجمہ: حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک بار پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر آپ مسکرانے لگے اور ساتھیوں سے فرمایا: ”کیا تم مجھ سے اس چیز کے بارے میں نہ پوچھو گے جس چیز نے میرے چہرے پر مسکراہٹ لائی؟“ انہوں نے عرض کی: اے امیر المؤمنین! آپ کس چیز کی وجہ سے مسکرائے تھے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”ایک بار حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اس جگہ کے قریب ہی وضو فرمایا تھا اور فراغت کے بعد مسکرائے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا تھا: ”کیا تم مجھ سے پوچھو گے نہیں کہ کس چیز کی وجہ سے میرے چہرے پر مسکراہٹ آئی؟“ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم، کس چیز نے آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لائی؟ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ جب وضو کا پانی منگوائے پھر اپنا چہرہ دھوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے گناہ مٹا دیتا ہے، پھر اپنی کہنیاں دھوئے تو کہنیوں کے، سر کا مسح کرے تو سر کے اور اپنے قدموں کو دھوئے تو قدموں کے گناہ مٹا دیتا ہے۔“ (تو میں نے انہی کی ادا کو ادا کیا ہے)۔ [مسند امام احمد، مسند عثمان بن عفان، ج: 1، ص: 130، الحدیث: 415]
مقامِ صہبا میں جنگِ خیبر کے موقع پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب نمازِ عصر پڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زانو پر آرام فرما تھے، ابھی حضرت علی نے نماز ادا نہیں فرمائی تھی، وقت جا رہا تھا اتنے میں سورج ڈوب گیا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو حضرت علی نے اپنے حال کو بیان کیا، حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سورج کو پلٹا دیا پھر حضرت علی نے نماز ادا فرمائی۔
محبتِ رسول کی خاطر، عشقِ رسول کی خاطر افضل العبادات نماز، وہ بھی صلاۃ الوسطیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قربان کر دی، کس لیے؟ تاکہ محبوب کی نیند میں خلل واقع نہ ہو جائے، کہیں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خواب میں خلل نہ پیدا ہو جائے!
سیدی و سندی و شیخی و مولائی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فرماتے ہیں:
مولیٰ علی نے واری تیری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر، سب سے جو اعلیٰ خطر کی ہے
چشمِ فلک نے یہ منظر نہیں دیکھا ہوگا کہ رب تعالیٰ کے ایک بندے کی فریاد پر اس کے ایک فدائی بندے کے لیے ربِ کریم نے ڈوبے ہوئے سورج کو پلٹا دیا اور ایک فدائی نے اپنے محبوب کی محبت میں اپنے آقا کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عشق میں اتنی عظیم قربانی دی۔
حدیث:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتَّی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْهِ مِنْ وَّالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ.
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک مومنِ کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے ماں باپ سے زیادہ، بیٹے سے زیادہ اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے۔“
جو میرے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا اس حدیث کا پورا مجسمہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں نظر آ رہا ہے۔ صرف سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی نہیں بلکہ ہر ہر صحابی کے اندر راسخ پایا جاتا تھا۔ خدا کی قسم! اس حدیث کے مصداق کو دیکھنا ہے تو صحابہ کرام کو دیکھو! صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے فقط محبت ہی نہیں بلکہ عشق کرتے تھے اور عشق کا درجہ جو ہے وہ محبت سے بہت ہی زیادہ ارفع و اعلیٰ ہے، اس کی منزل بہت بلند ہے اور اس میں زیادتی ہوتی ہی رہتی ہے اور وہ مال و دولت، اس پر سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔
زلیخا کی ہی مثال لے لیجیے، اس نے یوسف علیہ السلام کی محبت میں اپنا حسن، اپنا مال و دولت سب کچھ قربان کر دیا تھا۔ زلیخا کے پاس ستر اونٹوں کے بوجھ کے برابر جواہر و موتی تھے جو عشقِ یوسف میں نثار کر دیے۔ جو بھی کہتا میں نے یوسف کو دیکھا ہے تو وہ اسے بیش قیمت ہار دے دیتی، یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رہا۔ اس نے ہر چیز کا نام یوسف چھوڑا تھا۔ فرطِ محبت میں یوسف علیہ السلام کے سوا سب کچھ بھول گئی تھی۔ جب وہ آسمان کی طرف دیکھتی تو ہر ستارے پر یوسف کا نام نظر آتا تھا۔
اور عرب کی سر زمین پر تو صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اس سے کہیں زیادہ محبت کرتے تھے۔ ادھر مصر میں صرف مال کی قربانی ہوئی، ادھر تو مال و اولاد حتیٰ کہ جان بھی قربان کی، محبوب کے نام پر سر کٹائے۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں
سر کٹاتے ہیں تیرے نام پہ مردانِ عرب
