| عنوان: | مرشد |
|---|---|
| تحریر: | یوسف رضا بن قاسم عطاری |
| پیش کش: | ماڈل جامعۃ المدینہ، ناگ پور، دعوت اسلامی |
انسان کو رہنمائی کے لیے کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم بات کرتے ہیں آخرت کے راستے کی، جس کی مدد سے ہم اپنی منزلِ مقصود یعنی جنت اور اللہ عزوجل کی رضا تک پہنچ جائیں۔ وہ راستہ قرآن و سنت کا ہے، جس کی رہنمائی ہمیں ایک پیرِ طریقت کی صورت میں ملتی ہے۔ پیر صاحب جس بات کا حکم فرمائیں اس پر عمل کرنے، اور جس کام سے روکیں اس سے بچنے میں ہمیں دنیا و آخرت کے بے شمار فوائد حاصل ہوں گے؛ جیسے نیک اعمال کرنے کی توفیق، برے کاموں سے بچنے کا ذہن، اور اچھے اعمال کے ساتھ زندگی گزار کر آخرت کی انمول نعمتوں کا حصول۔
آئیے اب ہم پیری مریدی کے متعلق قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کے اقوال سنتے ہیں۔
بیعت کا قرآن سے ثبوت:
لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
ترجمہ کنز الایمان: ”بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے۔“ [الفتح: 18]
حدیثِ مبارکہ میں بیعت کا ذکر:
حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے اور جس شخص کو اللہ پاک نے قتل کرنا حرام کر دیا ہے اسے بے گناہ قتل نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس شخص نے اس عہد کو پورا کیا اس کا اجر اللہ کریم پر ہے اور جس نے ان محرمات میں سے کسی کا ارتکاب کیا اور اس کو سزا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے، اور جس نے ان میں سے کسی حرام کا ارتکاب کیا اور اللہ کریم نے اس کا پردہ رکھا تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر وہ چاہے تو اسے عذاب دے۔“ [صحیح مسلم، کتاب الحدود، ص: 725، حدیث: 4461]
مرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟
میرے آقا، اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، پروانۂ شمعِ رسالت، مجددِ دین و ملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، پیرِ طریقت حضرت علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ مرید ہونا واجب ہے یا سنت؟ نیز مرید کیوں ہوا کرتے ہیں؟ مرشد کی کیوں ضرورت ہے اور اس سے کیا کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟
تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا (خلاصہ): ”مرید ہونا سنت ہے اور اس سے فائدہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اتصالِ سلسلہ ہے۔ صحتِ عقیدت کے ساتھ سلسلۂ صحیحہ متصلہ میں اگر انتساب باقی رہا تو نظر والے اس کے برکات ابھی دیکھتے ہیں، جنہیں نظر نہیں وہ نزع، قبر اور حشر میں اس کے فوائد دیکھیں گے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 21، ص: 570]
فوائد کیا ہیں؟
پیرِ کامل سے مرید ہونے سے باطن کی اصلاح، نیکوں سے محبت، گناہوں سے نفرت، اچھے کاموں کی طرف رغبت، اللہ عزوجل کی قربت، قلب میں نورانیت اور اللہ عزوجل کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
مرشد کا قرب:
مرشد دا کم حق دے رستے پا دینا
پیر سنبھل کے دہریے تے تاں گل بنڑدی اے
مرید کو پیر کے قریب ہونے سے صحیح راستہ ملتا ہے۔ مرشد کا معنی ہی یہی ہے کہ ”صحیح راستہ دکھانے والا“۔ پیر اپنے مرید کو گناہوں کے راستے سے اٹھا کر نیکیوں کے راستے پر گامزن کر دیتا ہے۔ مرید کو پیر کے پاس جانے، ان کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے سے دنیا و آخرت کی بھلائیاں نصیب ہوتی ہیں۔
دیدارِ مرشد:
مرشد کو دیکھنے سے بندہ اپنے دکھ درد، رنج و غم، مشکلات اور پریشانیاں سب بھول جاتا ہے۔ مرشد کو دیکھنا ایسے ہی اچھا لگتا ہے جیسے دن چڑھتے سورج کا نکلنا۔ جب سورج اپنی روشنی باغوں میں پھولوں پر ڈالتا ہے تو وہ مہکتے پھول کھل اٹھتے ہیں اور خوشبو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جب مرشد اپنے مرید کی طرف روحانیت کی روشنی بھری نظر فرماتا ہے تب باغوں کے پھولوں کی طرح مرجھایا ہوا دل کھل اٹھتا ہے۔ جس طرح شمع سے نکلتی ہوئی روشنی جب چمکتی ہے تو اپنے قریب میں رہنے والوں کو روشن کر دیتی ہے اور اندھیرے کو دور کر دیتی ہے، اسی طرح پیر صاحب کی نظرِ ہدایت جب مرید پر پڑتی ہے تو مرید کا دل گناہوں کے اندھیرے سے نکل کر نیکیوں کی روشنی کی طرف آ جاتا ہے۔
مرشد کو دیکھتے وقت کیسا لگنا چاہیے؟
مرشد کا دیدار مرید کے لیے ایسا ہی ہونا چاہیے جیسے بلبل کو پھول، رات کو چمکتا چاند، دن کو سورج، مریض کو دوا، درخت کو پھل، آسمان کو بادل، دل کو دھڑکن، پیاسے کو پانی، اندھے کو آنکھیں، بے چین کو چین اور ماں کو اپنا لاڈلا بیٹا اچھا لگتا ہے؛ اسی طرح مرید کو اپنے پیر صاحب کو دیکھتے وقت اچھا لگنا چاہیے۔
پیر صاحب کو دیکھنے کے حوالے سے ایک پنجابی صوفی شاعر (حضرت سُلطان باہُو رحمۃ اللہ علیہ) کیا ہی خوب لکھتے ہیں:
”مرشد دا دیدار ہے باہو، لکھ کروڑاں حجاں“
یعنی اے باہو! مرشد کا دیدار تیرے لیے لاکھ اور کروڑوں حجوں (کی برکات) جیسا ہے۔ جیسے حج کرنا رضائے الٰہی پانے کا طریقہ، اللہ عزوجل کی بندگی، نیکی اور عبادت کا کام ہے، اسی طرح کامل مرشد کو دیکھنا بھی باعثِ ثواب کام ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عشقِ مرشد نصیب فرمائے اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ میرے مرشدِ کریم، بانیِ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کے فیوض و برکات سے ہمیں مالا مال فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہم پر قائم و دائم فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ والہ وسلم۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللهُ عَلٰی مُحَمَّد صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ وَاَصْحَابِهٖ وَبَارَکَ وَسَلَّم۔
