کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

محبت کی راجدھانی

محبت کی راجدھانی
عنوان: محبت کی راجدھانی
تحریر: خدیجہ خاتون
پیش کش: جامعہ اہلِ سنت امداد العلوم سدھارتھ نگر، یوپی

آج نوکِ قلم باوضو ہے۔ قلب و روح آسماں کی بلندی پر ہیں۔ فکر کی دنیا میں الفاظ کا نزول تو ہو رہا ہے، لیکن خرد پریشان ہے کہ ان الفاظ کو کیسے ترتیب دیا جائے، کہاں سے ابتدا کی جائے، کیسے شروعات ہو؛ کیونکہ آج تذکرہ کرنا ہے ایک ایسے شہر کا، ایسی بستی کا، جو دلوں میں بستی ہے۔ جس کا رستہ دل کے اندر ہے۔ ایسے شہر کا جہاں دل نہیں توڑے جاتے، بلکہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو، بکھری ہوئی امیدوں کو، زخمی اور شکستہ حال انسانیت کو جوڑا جاتا ہے۔ ایک ایسے شہر کا جس کی عظمت کتابوں، دلوں اور ذہنوں میں لکھی ہوئی ہے۔

آج دل کے تار چھڑ گئے ہیں۔ آج قلم چلنے والا ہے شہرِ جاناں کی طہارت و تقدیس پر۔ آج خامہ فرسائی ہوگی اس پاک سرزمین کی خوبیوں پر جہاں عرش سے تسلیم اترتی ہے، جس کی مقدس فضا میں ہر آن نوری مخلوق کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ آج ذکر چھیڑتے ہیں اس بستی کا جس میں شاہوں کے شاہ، عالم پناہ، صاحبِ عز و جاہ، محبوبِ یزداں، سیاحِ لامکاں، والیِ انس و جاں، ہادی و رہبر، ہر قلبِ مومن کی دھڑکن، رب العالمین کی جناب کے رسا، راحتِ جاں، نیرِ تاباں، جن و انس و ملک کے سلطاں، ہم سب کے آقا و مولیٰ احمدِ مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم جلوہ فرما ہیں۔ وہ شہر جو محبت کی راجدھانی ہے۔ عشاق کے دلوں پر جس کی حکمرانی ہے۔

دار الہجرۃ اور مدینۃ النبی ﷺ

جی ہاں! وہ شہرِ محبت، عشق و وفا کا مرکز، قلوبِ عاشقاں کی راحت، وہی شہرِ جاناں ہے۔ جس کا نام بانیِ اسلام، سیدِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ﴿وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی﴾ والی زبانِ مبارک پر کبھی طابہ، کبھی طیبہ اور کبھی مدینہ آیا ہے۔ اسی مقدس شہر کو ”مدینۃ النبی“ اور ”دار الہجرۃ“ کی حیثیت حاصل ہے۔

یہ وہ مقدس شہر ہے جسے اللہ رب العزت نے اپنے محبوب، اپنے آخری نبی کی ہجرت گاہ، قیام گاہ اور تاحشر آرام گاہ کے طور پر منتخب فرمایا ہے۔ یہ شہرِ مقدس نہ صرف تاریخِ اسلام کا مرکز، بلکہ روحانیت، محبتِ رسول اور اخوتِ اسلامی کا سرچشمہ بھی ہے۔ اس کی محبت ہر مومن کے دل میں فطری طور پر بسی ہوئی ہے۔ بلکہ عشاق کی زبان میں یوں کہا جاتا ہے کہ:

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے

صحیح مسلم میں ام المؤمنين سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”یا اللہ! تو مدینہ کو ہمارا محبوب بنا دے، جیسے ہم کو مکہ محبوب ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور اس کی آب و ہوا کو ہمارے لیے درست فرما دے۔ اس کے صاع و مد میں برکت عطا فرما، اور یہاں کے بخار کو منتقل کر کے جحفہ میں بھیج دے۔“

(بہارِ شریعت، حصہ: ششم، ص: 1226، حج کا بیان، فضائلِ مدینہ طیبہ)

یہ دعائیں اس بات کی دلیل ہیں کہ مدینہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ ایمان کی دلیل ہے۔ ہجرت کا مرکز، ریاستِ اسلامی کی بنیاد اور اسلامی معاشرے کی تشکیل اسی مقدس شہر سے ہوئی۔ اس مقدس شہر سے اخوت، محبت اور ایثار کا وہ بے مثال چراغ روشن ہوا، دنیا جس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے۔

ریاض الجنہ: زمین پر جنت کا ٹکڑا

کیا مدینہ کی تعریف لکھی جائے، مدینہ تو جنت ہے اور جنت کی تعریف کیسے احاطۂ تحریر میں آ سکتی ہے۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

«مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ»

”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“

شہرِ حبیب کی فضا روحانی سکون، آنسوؤں کی طہارت اور دل کی لطافت کا سبب بنتی ہے۔ مدینہ منورہ؛ محبت کی وادی، الفت کا گلشن، اور چین و سکون کا گہوارہ ہے۔ وہاں عالمِ تخیل میں ہی اگر پہنچ جائیں تو محسوس ہوتا ہے قلب و روح پر سکینہ نازل ہو رہا ہے۔ ایک ایسا شہر ہے جس کے تقدس کا یہ عالم ہے کہ وہاں کے پاکباز باشندوں کی محبت ایمان کی نشانی ہے۔ ساری دنیا میں انہی کی عذب البیانی کا شہرہ ہے۔ جذبۂ ایثار کو جن پر ناز ہے؛ وہ اسی شہر کے باسی ہیں۔ اس شہر کی ارفع و اعلیٰ شان ایسی ہے کہ آسمان جھک جھک کر اس شہر کی سرزمین کو سلامی پیش کرتا ہے۔

اس سرزمین پر وہ ہستی جلوہ فرما ہے جس کے قدموں کے بوسے لینے کے لیے عرشِ الٰہی بے قرار رہتا ہے۔ عرش و کعبہ سے افضل وہاں ایک تربتِ منور ہے جس کی دید نویدِ نجات و بخشش ہے۔ دنیا کے شہروں کے پھولوں کو لوگ دلوں میں بساتے ہوں گے، لیکن واہ شہرِ حبیب! تیری عجب شان ہے۔ تیرے کانٹوں کو بھی عشاق آنکھوں میں بساتے ہیں:

پھولوں پہ مدینے کے دل، جان و جگر قرباں
آنکھوں میں بسائے ہیں ہم خار مدینے کا

﴿جَآءُوْكَ﴾ کی منزل اور روحانی سکون

وہاں کی فضا میں سانس لیتے ہی دل گواہی دیتا ہے کہ واقعی یہی تو مرکزِ محبت ہے۔ ﴿جَآءُوْكَ﴾ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے جب ہم درِ کریم پر حاضر ہوتے ہیں، خطائیں یاد آتی ہیں، آنکھیں برستی ہیں، گناہ دھلتے ہیں۔ قلب کو سکون، اور روح کو قرار نصیب ہوتا ہے۔ خاموشی ذکر اور آنسو فریادی بن جاتے ہیں۔ ایک روحانی سکون اور ٹھہراؤ اس شہرِ جاناں میں ہے۔ دل تخیل میں ہی جب درِ حبیب پر پہنچتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ اب میں اپنی منزل پر پہنچ گیا ہوں۔ اب میرا مرنا جینا سب یہیں پر ہے۔

مدینہ منورہ محبت کی ایسی راجدھانی ہے جہاں کا سلطان سراپا محبت ہے۔ جہاں کا قانون عفو و رحمت اور محبت ہے۔ وہاں کی مٹی میں وفا ہے۔ فضاؤں میں محبت، اور حبیب کی خوشبو بکھری ہے۔ زلفِ جاناں کی بھینی بھینی مہک آج تک موجود ہے۔ ہر چہار جانب رحمت کی جھلک ہے۔

آہ شہرِ مدینہ! تو دنیا کا ایسا واحد شہر ہے جس شہر میں جینے اور مرنے کی آٹھوں پہر بے شمار عشاق دعائیں کرتے ہیں۔ اپنے اپنے انداز میں ہر قلبِ عاشق تیرا ذکر چھیڑتا ہے، تیرا چرچا کرتا ہے۔ زمین و آسماں ہر سمت تیری باتیں ہوتی ہیں۔ جن آنکھوں نے تیرا دیدار نہیں کیا، وہ آنکھیں فقط تیری متلاشی ہیں۔ جو ایک بار دیکھ چکی ہیں وہ مزید بے قراری میں ہیں۔ اے شہرِ حبیب! تیری کشش کتنے دیوانوں کو مرنے نہیں دیتی، اور تیرا ہجر کتنے عاشقوں کو چین سے سونے نہیں دیتا۔

ادیبوں کے ادب میں تیرا نام ہوتا ہے، شاعروں کی شاعری میں تیرے تذکرے ہوتے ہیں۔ دلِ حزیں والیِ مدینہ کی بارگاہ میں ہر رات عریضہ پیش کرتا ہے:

اب مدینے میں بلا لیجیے بے چین ہے دل
روتے روتے ہی گزرتی ہے ہراک رات حضور!

اے شہرِ محبت! تیرے فضائل بے شمار ہیں۔ تیری خوبیاں مجھ ناقص کی فہم سے ماورا ہیں۔ ابھی دل تیرے ذکر سے آسودہ نہیں ہوا ہے، لیکن غریب العلم کے الفاظ ختم ہو گئے۔ رب العالمین کی بارگاہ میں عرض ہے کہ: مولائے کریم! دل کی کھیتی ہمیشہ تیری محبت سے سرسبز و شاداب رکھے۔ ہمیشہ، ہر آن، ہر لحظہ یہ دل تیرے ہجر میں پریشاں رہے، تڑپتا رہے۔ کبھی دل سے تیری چاہت ختم نہ ہو۔ مرنے کے بعد بھی تیری یاد دل سے نہ جائے۔

شہرِ جاناں کی یاد میں اس دل کا حال تو یہ ہے:

مدینے کا نقشہ ہی دل میں جما ہے
نظارہ وہاں کا عجب خوش نما ہے

اسی کے لیے رو رہی ہیں یہ آنکھیں
اسی کی طلب میں ہیں چلتی یہ سانسیں

ہر عاشق کی آنکھوں کا ہے وہ ہی تارا
ہے پرکیف، دلکش، انوکھا نظارا

ہواؤں کی خوشبو پہ قرباں گلاب
نہیں اس کے کانٹوں کا کوئی جواب

یہ دنیا ہے انگوٹھی وہ ہے نگینہ
خدیؔجہ جسے سب ہیں کہتے مدینہ

مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ
مدینہ مدینہ مدینہ مدینہ

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!