| عنوان: | معانقۂ عیدین بدعت کیوں؟(قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد حسن علی |
| پیشکش: | جاسمین فاطمہ اسماعیلیہ |
بات بات پر شرک و بدعت کے فتوے دینے والے خود ہی شرک و بدعت میں مبتلا ہیں۔
روزنامہ نوائے وقت، پاکستان کی اشاعت عید اسپیشل ایڈیشن کی خصوصی اشاعت 9 اگست میں حافظ الرحیم دیوبندی اشرفی کا ایک مقالہ بعنوان ”عید الفطر کس طرح منائی جائے“ شائع ہوا، جس میں تھانوی صاحب کے حوالے سے معانقۂ عید کو بدعت لکھا ہے، جو بجائے خود بدعت اور خلافِ سنت اور خلافِ تحقیق ہے۔ ”زوال السنۃ“ اور ”بہشتی زیور“ مستند و معتبر اور متفقہ کتابیں نہیں ہیں، معانقہ کو بدعت قرار دینے کا قول احادیث و فقہ سے معارض و متصادم ہے۔
ابو جعفر عقیلی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معانقہ کا مسئلہ دریافت کیا۔ ارشاد فرمایا، تحیت ہے امتوں کی اور اچھی دوستی ہے ان کی اور بے شک پہلے جس نے معانقہ کیا وہ اللہ کے خلیل ابراہیم ہیں (علیہ الصلوٰۃ والسلام)۔“
[الضعفاء الکبیر للعقیلی، حدیث: 1141، دار العلمیہ، بیروت]
احادیثِ کثیرہ وافرہ میں موجود و مرقوم ہے کہ حضورِ اقدس سیدِ عالم نورِ مجسم جانِ رحمت جانِ کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے ہدایت کے ستارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے بار بار معانقہ فرمایا اور اسے جائز رکھا۔
صحیح ترمذی شریف میں حضرت سیدہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہ طیبہ عالیہ آئے تو حضور پر نور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے معانقہ فرمایا اور بوسہ دیا۔
[جامع الترمذی، باب ما جاء فی المعانقۃ والقبلۃ، ص: 97، 98، ج: 2]
طبرانی معجم کبیر اور ابن شاہین کتاب السنۃ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، ایک دن آقائے اکرم نورِ مجسم واقفِ اسرارِ لوح و قلم صلی اللہ علیہ وسلم مع اصحابِ کرام ایک غدیر میں تشریف لے گئے، پھر فرمایا ہر شخص اپنے یار کی طرف پیرے (تیرے) اور خود حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی طرف پیرے اور انھیں گلے لگا لیا (معانقہ فرمایا) فرمایا یہ میرا یار ہے۔
[المعجم الکبیر، حدیث: 11676]
سنن ابو داؤد اور بیہقی میں امام شعبی سے مروی ہے کہ نبیِ پاک صاحبِ لولاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گلے لگایا (معانقہ فرمایا) اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔
[سنن ابی داؤد، کتاب الادب، ص: 353، ج: 2، مطبوعہ لاہور]
امام احمد، یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ایک بار حسن و حسین رضی اللہ عنہما دوڑتے ہوئے حبیب و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، حضور نے اپنے جسمِ اقدس، بدنِ مبارک سے چپٹا لیا۔
[مسند امام احمد بن حنبل، عن یعلیٰ بن مرۃ، ج: 4، ص: 172، مطبوعہ بیروت]
حاکم صحیح مستدرک بافادۃ التصحیح اور ابو یعلیٰ اپنی مسند اور ابو نعیم فضائل صحابہ کرام میں اور برہان خجندی کتاب اربعین مسمیٰ بالماء المعین اور عمر بن ملا محمد سیرت میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے راوی: ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمتِ اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر تھے، خلفائے اربعہ (ابو بکر، عمر، عثمان، علی) و طلحہ و عبد الرحمن بن عوف و سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، حضور سراپا نور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائے، اور خود حضورِ والا صلی اللہ علیہ وسلم عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھ کر تشریف لے گئے، ان سے معانقہ کیا (گلے ملے) اور فرمایا تو میرا دوست ہے دنیا میں اور آخرت میں۔
[المستدرک، ج: 3، ص: 97، مطبوعہ بیروت]
تاریخ ابن عساکر میں حضرت امام حسن مجتبیٰ وہ اپنے والد ماجد حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے راوی کہ حضور سیدِ عالم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان غنی ذو النورین رضی اللہ عنہ سے معانقہ فرمایا اور فرمایا میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا، جس کے کوئی بھائی ہو اس سے معانقہ کرے۔
[کنز العمال، بحوالہ ابن عساکر، ج: 13، ص: 57، مطبوعہ بیروت]
ابو یعلیٰ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ بنت سیدنا صدیقِ اکبر عتیقِ اطہر رضی اللہ عنہا سے راوی، نبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی المرتضیٰ کو گلے لگایا اور پیار کیا۔ الخ
[مسند ابو یعلیٰ، حدیث: 4558، ج: 3، ص: 418، مطبوعہ بیروت]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سینے سے لپٹا لیا (معانقہ فرمایا) اور دعا فرمائی: الٰہی! اسے حکمت سکھا دے۔
[صحیح بخاری، فضائل اصحاب النبی، مناقب ابن عباس، ج: 1، ص: 531]
بحمدہ تعالیٰ و بفضلہ تعالیٰ! اس موضوع پر کثیر احادیثِ مبارکہ نقل کی جا سکتی ہیں مگر اختصار مانع ہے، مختصر اقوالِ ائمہ و فقہا پیش کیے جاتے ہیں تاکہ مسئلہ امس و شمس کی طرح واضح ہو جائے اور کوئی پہلو تشنہ نہ رہے۔
امامِ اجل حافظ الحدیث امام جلال الدین سیوطی جوامع الجوامع میں حضرت مصعب بن عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور چند قدم چل کر اس کی طرف تشریف لے گئے پھر اسے گلے لگا لیا (معانقہ فرمایا) اور ارشاد فرمایا: خوش آمدید! اے ہجرت کرنے والے سوار۔
[اشعۃ اللمعات، شرح مشکوٰۃ، باب المصافحۃ والمعانقۃ، ج: 4، ص: 23]
درِ مختار میں ہے: کسی مرد کو بوسہ دینا اور اس سے گلے ملنا (معانقہ کرنا) صرف ایک چادر میں مکروہ ہے، امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ایک ازار میں بوسہ دینے اور معانقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اگر وہ کرتے پہنے ہوں یا جبہ تو غیر کی کراہت کے بالاجماع جائز ہے۔ ہدایہ میں اس کی تصحیح فرمائی اور اس کے مطابق سارے متون ہیں۔ انتہیٰ ملخصاً۔
[درِ مختار، کتاب الحظر والاباحۃ، باب الاستبراء، ج: 2، ص: 244]
خانیہ میں ہے: گلے ملنا (معانقہ کرنا) اگر قمیص یا جبہ پہن کر ہو تو سب کے نزدیک جائز ہے۔ ملخصاً۔
[فتاویٰ قاضی خاں، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 4، ص: 483، مطبوعہ]
مجمع الانہر میں ہے: معانقہ کرنے والے دونوں نے قمیص یا جبہ پہن رکھا ہو تو بالاتفاق جائز ہے۔ انتہیٰ مختصراً۔
[مجمع الانہر، کتاب الکراہۃ، ج: 2، ص: 541]
ہدایہ میں ہے: فقہائے کرام نے فرمایا اختلاف اس معانقہ میں ہے جو صرف ایک چادر کے ساتھ ہو (یعنی قمیص، کرتہ یا جبہ نہ پہن رکھا ہو) لیکن جب قمیص یا جبہ پہن رکھا ہو تو بالاتفاق گلے ملنے میں کوئی قباحت نہیں اور یہی صحیح ہے۔
[الہدایہ، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 4، ص: 466، مطبوعہ لکھنؤ]
درِ مختار میں ہے: اگر آدمی قمیص یا جبہ پہنے ہو تو پھر معانقہ کرنا بغیر کراہت بالاتفاق جائز ہے۔ ہدایہ میں اس کو صحیح قرار دیا گیا ہے اور متونِ فقہ اسی کے مطابق ہیں۔
[درِ مختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ج: 2، ص: 244، مطبوعہ دہلی]
شرح نقایہ میں ہے: معانقہ کرنا بایں صورت کہ جبہ یا قمیص پہن رکھی ہو بالاتفاق مکروہ نہیں، یہی صحیح ہے۔
[شرح نقایہ للبرجندی، باب الکراہۃ، ج: 3، ص: 181]
مذکورہ بالا دلائل و شواہد اور روشن حقائق کی روشنی میں ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا معانقہ کرنا، گلے ملنا ہرگز ہرگز بدعت و ممنوع نہیں ہے اور معانقہ کو بدعت قرار دینا بجائے خود بدعت و خلافِ تحقیق ہے اور احادیثِ کثیرہ و اقوالِ ائمہ و فقہا کے خلاف ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ جناب تھانوی صاحب اور ان کے مخدوم الکل مطاع العالم گنگوہی صاحب کو خلافِ تحقیق نکاتِ فتاویٰ دینے کی عادت تھی۔ تھانوی صاحب کا مسائل کی تحقیق و فتاویٰ میں افسانوی انداز کی ایک جھلک ملاحظہ ہو، دلائل و شواہد سے عاجز آ کر اور بے بس ہو کر ختم، فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا ڈرامائی انداز میں رد کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
”ایک گاؤں میں ایک مسجد تھی اس میں ایک ملا رہتا تھا۔ ایک بڑھیا فاتحہ کا کھانا ملا کے لیے لائی اتفاق سے اس وقت ملا مسجد میں تھا نہیں، ایک مسافر مسجد میں ٹھہرا ہوا تھا، اس عورت نے اول ملا کو آواز دی، جب وہ نہ بولا تو یہ خیال کیا، مقصود تو ثواب ہے، لاؤ اسی مسافر کو دے دو، چنانچہ وہ چیز کھانے کی مسافر کو دے کر چل دی۔ مسجد کے دروازے سے نکلی ہی تھی کہ ملا آ گیا۔ اس عورت سے دریافت کیا، کہاں آئی تھی، کہا کہ فلاں چیز کھانے کی لائی تھی مگر تم نہ تھے اس لیے مسافر کو دے کر چلی آئی۔ یہ سن کر ملا کو آگ لگ گئی اور یہ خیال کیا، یہ تو بری راہ نکلی، اب ہماری تخصیص مٹ جاوے گی، مسجد میں پہنچا اور ایک لٹھ ہاتھ میں لے کر تمام مسجد کے صحن میں دیوانوں کی طرح (لٹھ) مارتا پھرنے لگا اور آخر میں وہ خود دھڑام سے گر گیا۔ گاؤں والے جمع ہو گئے۔ سوال کرنے پر کہا کہ بس اب میرا گزارا نہیں اور کہیں جا رہوں گا۔ تو لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا بات یہ ہے کہ میں تو یہاں کے مردوں کو پہچانتا ہوں (سب کو ٹھیک ٹھیک ثواب پہنچا دیتا ہوں) مسافر (مردوں کو پہچانتا نہ تھا) جب مردے جمع ہوئے اس مسافر نے تقسیم میں بڑی گڑبڑ کی... جب میں آیا تو میرے سر ہو گئے (مجھ سے لڑنے جھگڑنے لگے) مجھ کو لپٹ گئے، میں نے کتنا ہی ہٹایا، لٹھ بجایا کہ جب مجھے دی ہی نہیں تو میں تم کو کہاں سے دوں، مگر (مردوں نے) ایک نہ سنی۔ آخر سب نے مل کر مجھ کو (مارا پیٹا) گرا دیا۔ اب اگر ہمیشہ ہی ایسا ہوا تو میں تو مر جاؤں گا، اس لیے یہاں سے جاتا ہوں دوسری جگہ۔ گاؤں والے بے چاروں نے متفق ہو کر کہا، بس جی آئندہ ملا ہی کو دیا کریں گے۔“
[الافاضات الیومیہ، ج: 4، ص: 78]
انصاف پسند قارئین کرام! دیکھا آپ نے اپنے اس تحقیقی گپ میں مسجد اور گاؤں اور ملا کا نام تک نہیں بتایا، ختم فاتحہ سے نفرت دلانے کا سو فیصد جھوٹا اور من گھڑت ڈھکوسلا حکیم الامۃ الدیوبندیہ سے، اور ملاحظہ ہو۔ تھانوی صاحب اپنے مخصوص مسخرانہ انداز میں فرماتے ہیں:
”ایک عورت نے کھیر پکائی، کھیر اتار کر رکابی میں رکھی، کتا آیا منہ ڈال گیا۔ عورت نے اپنے بچے سے کہا، جا یہ مسجد کے ملا کو دے آ۔ وہ لے کر گیا، ملا کو نہ معلوم کئی روز میں کھیر ملی تھی، بچے کے ہاتھ سے لے کر ایک طرف سے کھانا شروع کر دی۔ بچے نے کہا ملا جی ادھر سے نہ کھائیو ادھر کتے نے منہ ڈال دیا تھا۔ ملا جی یہ سن کر ہاتھ سے رکابی (پلیٹ) پھینک کر ماری وہ رکابی ٹوٹ گئی۔ بچہ رونے لگا، ملا جی نے دریافت کیا تو کیوں روتا ہے؟ کہا تم نے رکابی پھوڑ دی (توڑ دی) مجھ کو میری ماں مارے گی، یہ (رکابی) تو میرے بھیا کے پاخانہ اٹھانے کی رکابی تھی۔“
[الافاضات الیومیہ، ج: 4]
