| عنوان: | ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے جرائم کا تجزیاتی مطالعہ |
|---|---|
| تحریر: | مبارک حسین مصباحی |
| پیش کش: | معراج فاطمہ مدنیہ، ممبئی |
آج جب ہم اپنے گرد و پیش دیکھتے ہیں اور نوجوانوں کی سرگرمیوں پر ملکی اور عالمی سطح پر تجزیاتی نظر ڈالتے ہیں تو دل و دماغ غم و الم سے نڈھال ہونے لگتے ہیں، ایک بچہ سادہ لوح اور اسلامی فکر و مزاج پر پیدا ہوتا ہے مگر حالات کا دباؤ اس کی سوچ و فکر کے زاویے بدل دیتا ہے اور پھر یہ انہی حالات میں عنفوانِ شباب تک پہنچ جاتا ہے۔ اس قسم کے نوجوان نہ صرف اپنے لیے مضر ہوتے ہیں بلکہ اپنے خاندان، اپنے معاشرے اور اپنے ملک کے لیے ناکامی اور بدنامی کا سبب بن جاتے ہیں، بے عملی اور بد عملی کے یہ زہریلے اثرات شعوری اور غیر شعوری طور پر دنیا بھر میں پھیل جاتے ہیں اور پھر ان خطرناک جرائم کا سلسلہ جہاں در جہاں عام ہو جاتا ہے۔ اے کاش! اگر ہم نے اپنے بچوں اور اپنے معاشرے کی تعلیم و تربیت اسلامی اصول اور شرعی قوانین کی روشنی میں کی ہوتی تو نہ صرف ہماری اولاد کامیاب ہوتی بلکہ ہمارا معاشرہ اور ہماری قوم و ملت بھی کامیاب و سرفراز ہوتی۔ ہم ذیل میں ان دونوں رخوں پر قدرے تفصیلی گفتگو کریں گے۔
اب ذرا سنجیدگی سے غور کریں کہ آپ کو اندازہ ہوگا کہ آج ہمارے معاشرے، ہمارے ملک اور ہماری دنیا میں کتنی برائیاں پنپ رہی ہیں۔ آج جدید ذرائع ابلاغ نے ہمارے اچھے اور برے پیغامات کی رسائی اتنی آسان کر دی ہے کہ گھر کے بند کمرے میں بیٹھ کر ہماری اچھائیاں اور برائیاں دنیا کے ہر گوشے تک پہنچ جاتی ہیں، ہم اچھائیوں اور نیکیوں کی دعوت و تبلیغ کا ذکر بعد میں کریں گے، سردست ہمارا موضوعِ سخن برائیوں اور بدکاریوں کا فروغ ہے۔ اس وقت دنیا میں ریڈیو، ٹی وی، کمپیوٹر، سوشل میڈیا اور اخبارات و رسائل کے ذریعے جو کچھ ہو رہا ہے اس کا ایک بڑا حصہ برائیوں کے فروغ میں لگا ہوا ہے۔ ایک دور تھا کہ ہمیں بات پہنچانے کے لیے کبوتروں اور گھڑ سواروں کا استعمال کرنا پڑتا تھا پھر ڈاک نظام نے ترقی کی اور اب ریڈیو، ٹی وی اور کمپیوٹر کا زمانہ ہے۔ اب دنیا کے کسی بھی گوشے میں اپنی بات پہنچانا چاہیں تو آپ کو نہ کبوتروں کو تربیت دینا ہے اور نہ گھڑ سواروں کو تیار کرنا ہے، بلکہ الیکٹرانک ذرائع سے اپنا پیغام دنیا کی کسی بھی جگہ تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایک انسان گھر کے بند کمرے میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کا استعمال کر کے کسی بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے سے ہم کلام ہو سکتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ سامنے والا آپ سے ہم کلام ہونے اور رابطہ رکھنے کے لیے تیار ہو۔
آج نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیاؤں میں بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مالوں کی خرید و فروخت اور عام لوگ محبت یا نفرت کی ترسیل کا کام کر رہے ہیں۔ اور اس رخ پر کروڑوں اربوں روپے نوجوان اور عالم لوگ برباد کر رہے ہیں۔ نوجوان خواتین ترسیلِ محبت کے نتیجے میں عصمتیں لٹوا رہی ہیں، بدلگامی، بدکلامی، جھوٹ اور غیبت تو عام بات ہو کر رہ گئی ہے۔ بے وقوف بنانے اور پیسہ لوٹنے کا سلسلہ بھی خوب جاری ہے۔ جن نوجوانوں کے پاس سوشل میڈیا کی سہولت نہیں ہوتی وہ کیفے میں حسبِ منشا چیٹنگ کرتے ہیں۔ اس گفتگو اور پیغامِ محبت میں نہ دین و مذہب دیکھا جاتا ہے اور نہ ملک و قوم بلکہ منظر اگر دلکش ہے تو ترسیلِ محبت نکاح خوانی تک پہنچ جاتی ہے۔ 13 اپریل 2014ء کو راقم سنی مرکز دہلی کے ایک پروگرام میں شریک ہوا، وہاں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ اس علاقے کی دس بارہ مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہو گئیں، نیز انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لڑکیاں جاہل نہیں تھیں، یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ تھیں، بس کمی یہ تھی کہ پابندی سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتی تھیں۔ 19 اپریل 2014ء کو راقم ناسک مہاراشٹر گیا وہاں بھی ایسی ہی افسوسناک خبر ملی کہ اس علاقے کی قریب 15 لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ فرار ہو گئیں۔ ان کی تاریخ بھی اسی قسم کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے، کیا اس کے پیچھے کوئی سازش ہے یا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے۔ اگر یہ سب کچھ کسی سازش کے تحت ہو رہا ہے تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس کی بنیاد تلاش کریں اور سنجیدگی سے اپنے معاشرے کی اصلاح و فلاح کی طرف توجہ کریں اور اگر یہ اتفاقاً حوادث ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے میں اسلامی تعلیم و تربیت کو فروغ دیں اور اپنے ماحول میں نیک سیرت خواتین کی زندگیوں کو عام کریں، ظاہر سی بات ہے کہ اس قسم کے حادثے ملک میں دو ہی جگہ نہیں ہوئے ہوں گے بلکہ خدا جانے کتنے علاقے اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہوں گے۔ والدین اور اجداد کو سوچنا ہوگا کہ اس کی ذمہ داری کس پر ہے، وہ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور کمپیوٹر کے جرائم ہیں، اگر انسان کے دل میں خشیتِ الٰہی اور محبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہو تو وہ خود اس قسم کی خرافات سے پرہیز کرے گا۔
اس وقت ہمارا معاشرہ، ہمارا ملک اور ہمارا خاندان بداعمالیوں اور بداخلاقیوں میں مبتلا ہے، اس کی بہت بڑی وجہ ٹی وی اور سوشل میڈیا وغیرہ ہیں۔ فحاشی اس حد تک عام ہے۔ عصمت دری کے دردناک واقعات سامنے آ رہے ہیں، خواتین پر مظالم بھی بڑھ رہے ہیں۔ جہیز کی زیادتی بھی خوب ہو رہی ہے، حوادث اور وقت گزاری کی وبا بھی خوب پھیل رہی ہے۔ سودی کاروبار اور عام سود کی لعنت بھی بھرپور عام ہو رہی ہے۔ زنا کاری اور ہم جنسی پرستی کا ماحول بھی گرم ہو رہا ہے۔
جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ ان جدید ذرائع ابلاغ کے فوائد بھی بہت ہیں مگر افسوس آج ان کا غلط استعمال بہت زیادہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ چیزیں سامنے آ رہی ہیں اور اسی طرح کی بے شمار برائیاں انسانی دنیا میں وبا کی طرح پھیل رہی ہیں۔ یہ ایک سچائی ہے کہ کسی بھی جمہوری ملک کے چار ستون ہوتے ہیں (1) مقننہ (2) عاملہ (3) عدلیہ (4) ”میڈیا“۔ عہدِ حاضر میں میڈیا نے اپنے ماقبل کے ستونوں پر بھی ترجیح حاصل کر لی ہے۔ آپ اپنے ملک ہندوستان ہی کو دیکھ لیجیے، اس وقت تین سو پچاس سے زیادہ ٹی وی چینل ہیں، جن میں قریب چالیس نیوز چینل ہیں، یہ میڈیا کا فروغ ہے کہ اس وقت ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا ٹیلی ویژن مارکیٹ بن گیا ہے۔
مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے آج ہم سوشل میڈیا تک پہنچے ہیں، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ نے بلاشبہ آج کے عہد کو ذرائع ابلاغ کی انتہا پر پہنچا دیا ہے، لیکن سر پٹکنے کا مقام یہ ہے کہ اس کو ہم نے نیکیوں کی دعوت کے بجائے گناہوں کی امنگیں پھیلانے کا کام زیادہ لیا ہے۔
