| عنوان: | تقلید کی حقیقت اور اس کا شرعی حکم |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد مطیع الرحمن رضوی |
| پیش کش: | آمنہ امن رضویہ، گلبرگہ شریف |
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد وہ احکام جن کی صراحت و تفصیل قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے، ان پر عمل سے متعلق احادیث و سیر کی کتابوں میں صحابہ کرام کے دو گروہ نظر آتے ہیں:
پہلے گروہ وہ حضرات خلفائے راشدین کے علاوہ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت زید بن ثابت، حضرت معاذ بن جبل، حضرت امیر معاویہ، حضرت عائشہ صدیقہ وغیرہ کی ذواتِ قدسیہ ہیں، رضی اللہ تعالی عنہم۔
یہ حضرات قرآن و حدیث ہی میں غور و فکر اور تدبر و اجتہاد کر کے مسائل کا استخراج کرتے، خود ان پر عمل فرماتے اور دوسرے مسلمانوں کو بھی اس پر عمل کے لیے کہتے۔ اس استخراجِ مسائل میں کبھی تو سب کا اتفاق ہوتا اور کبھی اختلاف بھی ہو جاتا۔ اختلاف کی صورت میں ہر صحابی عمل تو اپنے ہی استخراج کردہ مسائل پر کرتے، مگر دوسرے کے استخراج کردہ مسائل کو باطل و ناروا نہیں کہتے۔ چنانچہ عبداللہ بن مسعود کا مسلک یہ تھا کہ کوئی شخص مہر مقرر کیے بغیر نکاح کر کے انتقال کر جائے تو اس کی بیوی مہر پائے گی اور مقدار مہرِ مثل ہوگی یعنی اس خاندان کی اسی طرح کی دوسری عورت کا جو مہر ہے وہی مہر اس کا بھی ہوگا۔ مگر حضرت علی یہ فرماتے تھے کہ وہ عورت مہر نہیں پائے گی صرف میراث میں اس کا حصہ ہوگا۔
رُوِيَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ سُئِلَ عَمَّنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا حَتَّى مَاتَ عَنْهَا، فَاجْتَهَدَ شَهْرًا وَقَالَ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَلٰكِنْ أَجْتَهِدُ بِرَأْيِي فَإِنْ أَصَبْتُ فَمِنَ اللّٰهِ وَ إِنْ أَخْطَأْتُ فَمِنِّي وَمِنَ الشَّيْطَانِ، أَرَى لَهَا مَهْرَ مِثْلِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ. وَقَالَ عَلِيٌّ حَسْبُهَا الْمِيرَاثُ وَلَا مَهْرَ لَهَا الْمُخَالَفَةُ رَأْيَهُ.
حضرت عبداللہ بن مسعود سے سوال ہوا کہ جو شخص مہر مقرر کیے بغیر نکاح کر کے انتقال کر جائے اس کی بیوی مہر پائے گی یا نہیں؟ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک مہینے تک غور کرنے کے بعد جواب دیا کہ اس تعلق سے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا ہے، ہاں اپنے اجتہاد سے بتاتا ہوں اگر میرا اجتہاد درست ہو تو اللہ کی توفیق سے ہوگا؛ اور نادرست ہو تو میری سمجھ کا قصور اور شیطان کا بہکاوا ہوگا۔ میرے اجتہاد میں وہ عورت مہرِ مثل یعنی اس خاندان کی اسی طرح کی دوسری عورت کا جو مہر ہے وہی مہر پائے گی، کم و بیش نہیں۔ مگر حضرت علی نے فرمایا کہ وہ عورت مہر نہیں پائے گی صرف میراث میں اس کا حصہ ہوگا۔ [نور الانوار، ص: 180]
یوں ہی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا مسلک یہ تھا کہ وتر کی تینوں رکعتیں ایک ہی سلام سے پڑھی جائیں۔ ان کے برخلاف حضرت امیر معاویہ ایک رکعت الگ سلام سے پڑھتے تھے اس پر حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے شکایت کی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ امیر معاویہ مجتہد ہیں اس لیے اس کو غلط نہیں کہا جائے گا۔
فَفِي صَحِيحِ الْبُخَارِي عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ مُعَاوِيَةَ أَوْتَرَ بِرَكْعَةٍ. فَقَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ. [تطہیر الجنان از ابن حجر ہیثمی، ص: 40]
دوسرے گروہ میں عام صحابہ و تابعین ہیں۔ یہ حضرات مندرجہ بالا صحابہ کرام کے بتائے ہوئے متفقہ مسائل پر عمل پیرا ہوتے؛ اور ان کے اختلاف کی صورت میں جس کو جن سے دریافت کرنا ممکن ہوتا یا جس کو جن پر زیادہ اعتماد ہوتا وہ ان سے دریافت کر کے ان کے بتائے ہوئے مسئلے پر عمل کرتے۔ یہ حضرات ارشادِ قرآنی:
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آ کر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ بچیں۔ [سورۃ التوبہ: 122]
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو۔ [سورۃ الانبیاء: 7]
أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ
نہ جانتے تھے تو پوچھ کیوں نہیں لیا؟ ناواقفیت کی شفا تو پوچھنے ہی میں ہے۔ کے مطابق اسی کو اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔
عرف و اصطلاح کی زبان میں پہلی قسم کے حضرات کو مجتہدِ مطلق اور دوسری قسم کے حضرات کو مقلد کہا جاتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ تقلید، دلیل کے بغیر مجتہد کی بات کو مان لینے کا نام نہیں بلکہ اجمالی دلیل:
فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
تو اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہ ہو [سورۃ الانبیاء: 7]
أَلَا سَأَلُوا إِذْ لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ
نہ جانتے تھے تو پوچھ کیوں نہیں لیا؟ ناواقفیت کی شفا پوچھنے ہی میں ہے۔ کے مطابق اس گمانِ غالب کی بنا پر کہ مجتہد نے قرآن و حدیث کی تفصیلی دلیل ہی سے یہ مسئلہ مستخرج کیا ہے، مان لینے کا نام تقلید ہے۔ تو درحقیقت مجتہد کی تقلید بھی قرآن و حدیث ہی کی دلیل کو ماننے کا نام ہوا۔ اس لیے وہ حضرات جو قرآن و حدیث کے غیر مصرح مسائل کو قرآن و حدیث میں غور و فکر اور تدبر و اجتہاد کر کے تفصیلی دلیلوں کے ساتھ استخراج و استنباط کر سکتے، یعنی مجتہد نہیں ہیں، ان پر فرض ہے کہ وہ مجتہد کی تقلید کرتے ہوئے دینی احکام پر عمل پیرا ہوں یعنی مجتہد کے استخراج و استنباط کردہ مسائل کے مطابق عمل کریں۔ ان کو قرآن کی کوئی آیت یا حدیث بظاہر مجتہد کے مذہب کے خلاف بھی معلوم ہو تو بھی ان پر فرض ہے کہ مجتہد ہی کے استخراج کردہ حکم پر ہی عمل پیرا ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ اپنے فریضے سے روگردانی کرتے ہوئے مجتہد کے استخراج کردہ حکم کو چھوڑ کر قرآن کی آیت یا حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو گمراہی کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔ مثلاً:
-
قرآن کریم میں ایک آیت ہے:
أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
تم جن باندیوں کے مالک ہو وہ باندیاں تمہارے لیے حلال ہیں۔ [سورۃ النساء: 24]
اب اگر کوئی اس آیت کو سامنے رکھ کر ایسی دو باندیوں سے وطی کرنے لگ جائے جو سگی بہنیں ہوں تو یقیناً وہ گمراہ ہوگا۔ کیونکہ قرآن ہی نے دوسرے مقام پر دو سگی بہنوں سے وطی کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ
اور حرام ہے دو بہنوں کو اکٹھی کرنا۔ [سورۃ النساء: 23]
اسی لیے حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا:
أَحَلَّتْهَا آيَةٌ وَ حَرَّمَتْهَا آيَةٌ وَ التَّحْرِيمُ أَوْلَى
ایک آیت میں ظاہر اسے حلال کہا اور دوسری آیت نے حرام بتایا ہے تو حرام ہی مانا جائے گا۔
-
کوئی اسی آیتِ کریمہ: أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (تم جن باندیوں کے مالک ہو وہ باندیاں تمہارے لیے حلال ہیں۔ [سورۃ النساء: 24]) کو سامنے رکھ کر یہ سوچے کہ جب مملوکہ باندیاں حلال ہیں تو چاہے فطری طور پر ان سے مباشرت (وطی) کی جائے یا غیر فطری طور سے مباشرت (لواطت) کی جائے، بہر صورت حلال ہوگی؛ اور غیر فطری مباشرت (لواطت) کرنے لگ جائے تو یقیناً وہ گمراہ ہوگا۔
-
اسی طرح کوئی یہ سوچ کر کہ أَنَّىٰ کا ترجمہ جیسے، اور، جس، جگہ، دونوں ہوتا ہے، آیتِ کریمہ: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ (تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیت ہیں جیسے چاہو اپنے کھیت میں آؤ۔ [سورۃ البقرہ: 223]) کا ترجمہ یہ کرے کہ ”تمہاری بیویاں تمہارے لیے کھیت ہیں جس طرح چاہو اپنے کھیت میں آؤ“ اور بیوی سے غیر فطری مباشرت (لواطت) جیسے فعلِ قبیح کو جائز سمجھ کر اس کا مرتکب ہونے لگے تو یقیناً وہ گمراہ ہوگا۔ کیونکہ دوسرے دلائل کے علاوہ خود اسی آیتِ کریمہ کی إشارۃ النص سے بھی حرمت ثابت ہو رہی ہے اسی لیے کہ کھیت سے پیداوار مطلوب ہوتی ہے اور اس فعلِ قبیح سے پیداوار (اولاد) کا امکان ہی نہیں ہے، نیز شانِ نزول سے بھی اسی کی وضاحت ہوتی ہے۔ حدیثِ صحیح میں ہے کہ یہودیوں کے اعتقاد میں یہ بات تھی کہ عورت کو چت لٹا کر کسی اور طریقے سے مباشرت کی جائے تو بچہ احول (بھینگا) پیدا ہوتا ہے اس لیے آیت میں ان کی تردید کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ بچے کے احول (بھینگا) ہونے نہ ہونے میں طریقۂ وطی کا کوئی دخل نہیں ہے، بیویاں تمہارے کھیت ہیں اپنے کھیت میں پیداوار کے لیے جو طریقہ چاہو اپناؤ۔
-
حدیث میں: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ....... فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ (جو شراب پیے اسے کوڑے مارو دوبارہ سہ بارہ پیے تو دوبارہ، سہ بارہ کوڑے مارو، چوتھی بار پیے تو قتل کر دو) آیا ہے۔ اب اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر چوتھی بار شراب پینے والے کے لیے قتل کا حکم دے دے تو یقیناً گمراہی ہوگی۔ اس لیے کہ اس بات پر اجماع ہو چکا ہے کہ خواہ کوئی کتنی ہی بار شراب پیے اسے قتل نہیں کیا جائے گا ہر مرتبہ کوڑے ہی مارے جائیں گے۔
-
صحیح مسلم میں متعدد طرق سے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ:
جَمَعَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَ الْعَصْرِ، وَ الْمَغْرِبِ وَ الْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ وَلَا مَطَرٍ.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں کسی خوف، سفر اور بارش کے بغیر بھی جمع بین الصلاتین کیا ہے۔ [ج: 1، ص: 246]
اب اگر کوئی اس حدیث کو سامنے رکھ کر بلا عذر گھر پر بھی ایک ہی وقت میں دو نمازوں کے ادا کرنے کو جائز سمجھے اور اس پر عمل پیرا ہو تو بلاشبہ گمراہی ہوگی۔ کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا
بے شک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے۔ [سورۃ النساء: 103]
خود حضرت ابن عباس ہی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے:
مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ.
جس نے بلا عذر دو نماز ایک ہی وقت میں پڑھ لیں اس نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا۔ [ترمذی، ج: 1، ص: 48]
ابو العالیہ نے روایت کی ہے:
إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ وَ اعْلَمْ أَنَّ جَمْعَ مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنَ الْكَبَائِرِ إِلَّا مِنْ عُذْرٍ.
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ابو موسیٰ اشعری کو تحریر فرمایا کہ بلا عذر دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنا گناہِ کبیرہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام ترمذی نے حضرت ابن عباس کی روایت کردہ یہ حدیث اور چوتھی بار شراب پینے پر قتل کے حکم کی حدیث کو نقل کر کے فرمایا ہے:
لَيْسَ فِي كِتَابِي هٰذَا حَدِيثٌ أَجْمَعَتِ الْأُمَّةُ عَلَى تَرْكِ الْعَمَلِ بِهِ إِلَّا حَدِيثَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْجَمْعِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ وَ حَدِيثَ قَتْلِ شَارِبِ الْخَمْرِ فِي الْمَرَّةِ الرَّابِعَةِ.
میری اس کتاب میں مذکورہ بالا دو حدیثوں کے علاوہ اور کوئی ایسی حدیث نہیں جس پر بلا اجماع عمل متروک ہو۔ [نووی بر حاشیہ مسلم، ج: 1، ص: 246]
اسی طرح کی بے شمار مثالیں ہیں جن کے پیش نظر ایک مسلمان کا ایمان قرآنِ کریم کے فرمان:
يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
اللہ بہتوں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت فرماتا ہے۔ [سورۃ البقرہ: 26]
اور حدیث پاک کے ارشاد:
نَضَّرَ اللّٰهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ
اللہ تعالی اس بندے کو سرسبز و شاداب رکھے جس نے میری حدیث سنی پھر یاد کیا، یاد رکھا اور دوسرے تک پہنچا دیا، کتنے فقہ کے حامل فقیہ نہیں ہوں گے، پر مزید پختہ ہو جاتا ہے۔
محدث جلیل احمد بن عیینہ نے سچ فرمایا:
الْأَحَادِيثُ مَضَلَّةٌ إِلَّا لِلْفُقَهَاءِ
غیر فقیہ، احادیث سے استدلال کریں تو گمراہ ہو جائیں۔
الغرض، قرآن و حدیث اور صحابہ و تابعین کی طرزِ عمل سے واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ جو حضرات قرآن و حدیث کے غیر مصرح مسائل کو قرآن و حدیث میں غور و فکر اور تدبر و اجتہاد کر کے تفصیلی دلیلوں کے ساتھ استخراج و استنباط نہیں کر سکتے، یعنی مجتہد نہیں ہیں ان پر فرض ہے کہ وہ مجتہد کی تقلید کرتے ہوئے احکامِ شرع پر عمل پیرا ہوں یعنی مجتہد کے استخراج و استنباط کردہ مسائل کے مطابق عمل کریں، ان کو قرآن کی کوئی آیت یا حدیث بظاہر مجتہد کے مذہب کے خلاف بھی معلوم ہو تو بھی ان پر یہی فرض ہے کہ وہ مجتہد ہی کے استخراج کردہ حکم پر عمل کریں۔ یہ نہیں کہ وہ اپنے فریضے سے روگردانی کرتے ہوئے مجتہد کے استخراج کردہ حکم کو چھوڑ کر قرآن کی آیت یا حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا شروع کر دیں، اگر وہ ایسا کریں گے تو بلاشبہ گمراہی میں مبتلا ہوں گے۔
صحابہ کے بعد تابعین و تبع تابعین کے دور میں بھی بہت سے حضرات درجۂ اجتہاد پر فائز تھے مثلاً امام اوزاعی، امام سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل وغیرہ، یہ حضرات قرآن و حدیث کے غیر مصرح مسائل کو قرآن و حدیث ہی میں غور و فکر اور تدبر و اجتہاد کر کے تفصیلی دلیلوں کے ساتھ استخراج و استنباط کرتے اور اس استخراجِ مسائل میں صحابہ ہی کی طرح کبھی تو سب کا اتفاق ہوتا اور کبھی اختلاف بھی ہو جاتا۔ اختلاف کی صورت میں ہر ایک مجتہد عمل تو اپنے ہی استخراج کردہ مسئلے پر کرتے مگر دوسرے کے استخراج کردہ مسئلے کو بھی باطل و ناروا نہیں کہتے۔ اس لیے عام مسلمانوں کو جن سے دریافت کرنا ممکن ہوتا ان سے دریافت کر کے انہی کے بتائے ہوئے مسئلے پر عمل کر لیتے۔ مگر جب زمانۂ رسالت سے دوری بڑھ گئی، خیر القرون کا عہد ختم ہو چکا تو عام مسلمانوں میں دینی احکام پر عمل سے متعلق وہ جذبۂ فراواں جو صحابہ و تابعین میں پایا جاتا تھا باقی نہ رہا، کتنے ہی لوگ عزیمتوں کی بجائے رخصتوں کے متلاشی ہو گئے، اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر مجتہدین کے استخراج کردہ مسائل جن میں ان کی خواہشاتِ نفس کی تکمیل کی صورت نظر آتی، اختیار کرنے لگے مثلاً:
-
بیوی سے صحبت کی جائے اور انزال نہ ہو تو امام ابو حنیفہ کے استخراج و استنباط کے مطابق غسل فرض ہو جاتا ہے غسل کیے بغیر اسی حالت میں نماز نہیں پڑھی جا سکتی؛ اور امام شافعی کے استخراج و استنباط کے مطابق غسل فرض نہیں ہوتا ہے غسل کیے بغیر اسی حالت میں نماز پڑھی جا سکتی ہے لہٰذا غسل کی کلفت سے نجات کے لیے امام شافعی کے استخراج کو بہانہ بنانا شروع کیا۔
-
یوں ہی اپنی شرمگاہ چھو لینے سے امام ابو حنیفہ کے استخراج و استنباط کے مطابق وضو نہیں ٹوٹتا ہے، دوبارہ وضو کرنا فرض نہیں؛ اور امام شافعی کے استخراج و استنباط کے مطابق وضو ٹوٹ جاتا ہے اب نماز پڑھنی ہو تو دوبارہ وضو کرنا فرض ہے لہٰذا وضو کی کلفت سے نجات کے لیے امام شافعی کے بجائے امام اعظم کے استخراج کا سہارا لینا شروع کیا۔
-
اسی طرح منی، امام شافعی کے استخراج و استنباط کے مطابق ناپاک نہیں ہے، تو منی لگے ہوئے کپڑے پہن کر نماز پڑھی جا سکتی ہے اور امام ابو حنیفہ کے استخراج و استنباط کے مطابق ناپاک ہے تو منی لگے ہوئے کپڑے پہن کر نماز نہیں ہوگی لہٰذا کپڑے کو دھونے کی کلفت سے بچنے کے لیے امام ابو حنیفہ کی بجائے امام شافعی کے استخراج کی آڑ لینی شروع کی۔
-
ایسے ہی نماز میں مقتدی سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو امام شافعی کے استخراج و استنباط کے مطابق نماز نہیں ہوتی ہے؛ اور امام ابو حنیفہ کے استخراج و استنباط کے مطابق نماز گو مکروہ ہو مگر ہو جاتی ہے لہٰذا سورۂ فاتحہ پڑھنے سے چھٹکارا پانے کے لیے امام شافعی کی بجائے امام ابو حنیفہ کے استخراج کو ڈھال بنانا شروع کیا۔
اس طرح کچھ لوگ اپنے آپ کو شریعت کا تابع بنانے کی بجائے شریعت کو اپنے تابع بنانے لگے، تو شخصِ واحد کی تقلید فرض ہو گئی تاکہ شریعت کی مصلحتوں میں خلل نہ ہو اور نظم و ضبط برقرار رہے۔
اگر ہوا و ہوس کے اس زمانے میں شخصِ واحد کی تقلید فرض نہ ہو، کسی بھی امام کے استخراج و استنباط کے مطابق عمل کی اجازت رہے تو لوگوں کو شریعت سے کُھل کھیلنے کی آزادی مل جائے گی۔ کیونکہ مثلاً امام ابو حنیفہ کے استخراج و استنباط کے مطابق دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح منعقد ہو جاتا ہے اگرچہ اعلان نہ ہو، لیکن دو گواہ نہ ہوں تو منعقد نہیں ہوتا اگرچہ اعلان ہو جائے، اس کے برعکس امام مالک کے استخراج و استنباط کے مطابق اعلان نہ ہو تو نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے اگرچہ گواہ موجود ہوں، اور اعلان ہو جائے تو منعقد ہو جاتا ہے اگرچہ گواہ موجود نہ ہوں؛ اور امام شافعی کے استخراج و استنباط کے مطابق ولی کی اجازت نہ ہو تو نکاح منعقد نہیں ہوتا ہے، اگرچہ گواہ موجود ہوں، اور ولی کی اجازت ہو تو منعقد ہوتا ہے اگرچہ اعلان نہ ہو۔ اس کے برخلاف امام احمد بن حنبل کے استخراج و استنباط کے مطابق غیر کفو میں نکاح منعقد نہیں ہوتا اگرچہ ولی کی اجازت ہو، گواہ بھی موجود ہوں، اور اعلان بھی ہو جائے۔
اب اگر شخصِ واحد کی تقلید فرض نہ ہو تو ایک عورت امام مالک کے استخراج و استنباط کے مطابق ولی کی اجازت اور گواہوں کے بغیر اعلانیہ غیر کفو مرد سے نکاح کر کے کچھ دنوں اس کے ساتھ رہے گی۔ پھر امام احمد بن حنبل کے استخراج و استنباط کو بہانہ بنا کر پہلے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی کسی ایسے مرد سے جو اس کا کفو ہو نکاح کر کے اس کے ساتھ ہو جائے گی، اور یہ بے چارہ شوہر منہ دیکھتا رہ جائے گا، پھر ابھی کچھ دن ہی گزرے ہوئے ہوں گے کہ امام شافعی کے استخراج و استنباط کو آڑ بنا کر ولی کی اجازت سے اعلان کیے بغیر کسی تیسرے سے شادی رچا کر اس کا پہلو گرم کرے گی اور پہلا دوسرا دونوں شوہر منہ دیکھتے رہ جائیں گے، پھر جب اس شوہر سے بھی جی بھر جائے گا، تو امام ابو حنیفہ کے استخراج و استنباط کی آڑ بنا کر دو گواہوں کی موجودگی میں چوتھے مرد سے نکاح کر لے گی، اور پہلے کے تینوں شوہر منہ تکتے رہ جائیں گے۔
اسی لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی علیہ الرحمہ نے اپنے رسالہ الانصاف میں فرمایا ہے:
اعْلَمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا فِي الْمِائَةِ الْأُولَىٰ وَالثَّانِيَةِ غَيْرَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى التَّقْلِيدِ بِمَذْهَبٍ مُعَيَّنٍ وَبَعْدَ الْمِائَتَيْنِ ظَهَرَ فِيهِمُ التَّمَذْهُبُ وَقَلَّ مَنْ كَانَ لَا يَعْتَمِدُ عَلَىٰ مَذْهَبِ مُجْتَهِدٍ بِعَيْنِهِ وَكَانَ هٰذَا الْوَاجِبُ فِي ذٰلِكَ الزَّمَانِ. فَإِنْ قِيلَ كَيْفَ يَكُونُ شَيْءٌ وَاحِدٌ وَاجِبًا فِي زَمَانٍ وَغَيْرَ وَاجِبٍ فِي زَمَانٍ مَعَ أَنَّ الشَّرْعَ وَاحِدٌ. قُلْتُ: الْوَاجِبُ الْأَصْلِيُّ هُوَ تَقْلِيدُ مَنْ يَعْرِفُ الْأَحْكَامَ الْفَرْعِيَّةَ عَنْ أَدِلَّتِهَا التَّفْصِيلِيَّةِ، أَجْمَعَ عَلَىٰ ذٰلِكَ أَهْلُ الْحَقِّ، فَإِذَا كَانَ لِلْوَاجِبِ طُرُقٌ مُتَعَدِّدَةٌ وَجَبَ تَحْصِيلُ طَرِيقٍ مِنَ الطُّرُقِ مِنْ غَيْرِ تَعَيُّنٍ وَإِذَا كَانَ لَهُ طَرِيقٌ وَاحِدٌ تَعَيَّنَ ذٰلِكَ الطَّرِيقُ بِخُصُوصِهِ كَمَا كَانَ السَّلَفُ لَا يَكْتُبُونَ الْحَدِيثَ ثُمَّ صَارَ فِي يَوْمِنَا هٰذَا كِتَابَةُ الْحَدِيثِ وَاجِبَةً لِأَنَّ رِوَايَةَ الْحَدِيثِ لَا سَبِيلَ لَهَا إِلَّا مَعْرِفَةُ هٰذِهِ الْكُتُبِ، وَكَانَ السَّلَفُ لَا يَشْتَغِلُونَ بِالنَّحْوِ وَالصَّرْفِ وَاللُّغَةِ لِأَنَّ لِسَانَهُمْ كَانَتْ عَرَبِيَّةً ثُمَّ صَارَ فِي يَوْمِنَا هٰذَا مَعْرِفَتُهَا وَاجِبَةً.
پہلی دو صدیوں تک مذہبِ معین کی تقلید پر لوگوں کا اجماع نہیں ہوا تھا۔ یہ تیسری صدی میں ہوا، اس وقت شاید و باید ہی کچھ لوگ مذہبِ معین کی تقلید سے آزاد رہے ہوں۔ یہاں کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ جو چیز (مذہبِ معین کی تقلید) پہلے زمانے میں غیر واجب رہی وہی چیز بعد کے زمانے میں واجب کیسے ہو گئی؟ تو میں کہوں گا کہ اس پر تو شروع ہی سے اہلِ حق کا اجماع تھا کہ بلا تعین مجتہد کی تقلید واجب ہے اور قاعدہ ہے کہ حصولِ واجب کے کئی طریقے ہوں تو بلا تعین کسی بھی طریقے کی تحصیل واجب رہتی ہے لیکن جب واجب کے حصول کی ایک ہی صورت ہو تو متعین طور پر اسی صورت کی تحصیل واجب ہوتی ہے۔ جیسے سلف اپنے زمانوں میں احادیث کی روایت زبانی ہی کرتے تھے، لکھتے نہیں تھے، پھر بعد کے زمانوں میں لکھے ہوئے کے مطابق روایت کرنا واجب ہو گیا۔ کیونکہ اب روایتِ حدیث کی یہی صورت رہ گئی۔ اسی طرح سلف، نحو و صرف اور علم اللغۃ کی تحصیل نہیں کرتے تھے، کیونکہ ان کی زبان ہی عربی تھی۔ پھر اس زمانے میں ان علوم کی تحصیل واجب ہو گئی۔
پھر فرمایا ہے:
وَبِالْجُمْلَةِ فَالتَّمَذْهُبُ لِلْمُجْتَهِدِينَ سِرٌّ أَلْهَمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى الْعُلَمَاءَ وَجَمَعَهُمْ عَلَيْهِ مِنْ حَيْثُ يَشْعُرُونَ أَوْ لَا يَشْعُرُونَ.
خلاصہ یہ کہ مجتہدین کی تقلید کرنے میں وہ راز ہے جسے اللہ تعالی نے علماء کو الہام فرمایا اور انہیں اس پر اجماع کی توفیق دی، چاہے لوگ اس کا ادراک کر سکیں یا نہ کر سکیں۔
عقد الجید میں فرمایا ہے:
اعْلَمْ أَنَّ فِي الْأَخْذِ بِهٰذِهِ الْمَذَاهِبِ الْأَرْبَعَةِ مَصْلَحَةً عَظِيمَةً، وَفِي الْإِعْرَاضِ عَنْهَا كُلِّهَا مَفْسَدَةً كَبِيرَةً وَنَحْنُ نُبَيِّنُ لَكَ بِوُجُوهٍ. أَحَدُهَا أَنَّ الْأُمَّةَ أَجْمَعَتْ عَلَىٰ أَنْ يَعْتَمِدُوا عَلَى السَّلَفِ فِي مَعْرِفَةِ الشَّرِيعَةِ، فَالتَّابِعُونَ عَلَى الصَّحَابَةِ، وَتَبَعُ التَّابِعِينَ اعْتَمَدُوا عَلَى التَّابِعِينَ، وَهٰكَذَا اعْتَمَدَ الْعُلَمَاءُ فِي كُلِّ طَبَقَةٍ مَنْ قَبْلَهُمْ. وَالْقَبُولُ يَدُلُّ عَلَى حُسْنِ ذٰلِكَ وَإِذَا تَعَيَّنَ الِاعْتِمَادُ عَلَىٰ أَقَاوِيلِ السَّلَفِ فَلَا بُدَّ أَنْ تَكُونَ أَقَاوِيلُهُمُ الَّتِي يُعْتَمَدُ عَلَيْهَا مَرْوِيَّةً بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ أَوْ مُدَوَّنَةً فِي كُتُبٍ مَشْهُورَةٍ، وَلَيْسَ مَذْهَبٌ مِنَ الْمَذَاهِبِ بِهٰذِهِ الصِّفَةِ إِلَّا هٰذِهِ الْمَذَاهِبَ الْأَرْبَعَةَ.
وَثَانِيهَا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ فَمَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ. وَلَمَّا انْدَرَسَتِ الْمَذَاهِبُ الْحَقَّةُ إِلَّا هٰذِهِ الْأَرْبَعَةَ كَانَ اتِّبَاعُهَا اتِّبَاعًا لِلسَّوَادِ الْأَعْظَمِ.
یاد رکھیے کہ ان چار مذاہب کو اختیار کر لینے میں عظیم مصلحت ہے اور ان سے اعراض کرنے میں بڑی خرابی۔ جس کی کئی وجہیں ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ شریعت کی معرفت کے لیے اسلاف پر اعتماد کے سلسلے میں امت کا اجماع ہے، اسی بنا پر تابعین نے صحابہ اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا، اسی طرح ہر طبقہ اپنے سے پہلے طبقے کے علماء پر اعتماد کرتے چلے آئے۔ جب اسلاف کے اقوال پر اعتماد متعین ہو گیا تو ضروری ہے کہ اسلاف کے یہ اقوال جن پر اعتماد کیا جائے صحیح سندوں سے مروی یا مشہور کتابوں میں مدون ہوں اور یہ بات اس وقت مذاہبِ اربعہ کے علاوہ کہیں نہیں پائی جاتی۔
دوسری وجہ یہ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: سوادِ اعظم کا اتباع کرو، جو اس سے جدا ہوگا جہنم میں جا گرے گا۔ اب چونکہ ان مذاہبِ اربعہ کے علاوہ کوئی اور مذہب اس طور پر باقی نہیں اس لیے انہی کی پیروی سوادِ اعظم کی پیروی ہے۔ [باب تاکید الاخذ بہذہ المذاہب الاربعۃ الخ، ص: 37، مکتبہ حقیقۃ ترکی]
حجۃ اللہ البالغہ میں فرمایا ہے:
وَمِمَّا يُنَاسِبُ هٰذَا الْمَقَامَ التَّنْبِيهُ عَلَى مَسَائِلَ ضَلَّتْ فِي بَوَادِيهَا الْأَفْهَامُ، وَزَلَّتِ الْأَقْدَامُ وَطَغَتِ الْأَقْلَامُ، مِنْهَا أَنَّ هٰذِهِ الْمَذَاهِبَ الْأَرْبَعَةَ الْمُدَوَّنَةَ الْمُحَرَّرَةَ قَدِ اجْتَمَعَتِ الْأُمَّةُ أَوْ مَنْ يُعْتَدُّ بِهِ مِنْهَا عَلَىٰ جَوَازِ تَقْلِيدِهَا إِلَىٰ يَوْمِنَا هٰذَا وَفِي ذٰلِكَ مِنَ الْمَصَالِحِ مَا لَا يَخْفَىٰ لَا سِيَّمَا فِي هٰذِهِ الْأَيَّامِ الَّتِي قَصُرَتْ فِيهَا الْهِمَمُ جِدًّا وَأُشْرِبَتِ النُّفُوسُ الْهَوَىٰ وَأُعْجِبَ كُلُّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ.
اس مقام پر مناسب ہے کہ چند ایسی باتوں پر تنبیہ کر دی جائے جن کی گہرائیوں میں عقلیں گم ہو گئیں، قدم پھسل گئے اور قلم سرکشی پر اتر آئے اور وہ یہ کہ یہ چار مدون مذاہب کی تقلید درست ہونے پر پوری امت یا کم از کم اربابِ حل و عقد کا اجماع ہو چکا ہے۔ اس میں بڑی مصلحتیں ہیں جو اہلِ نظر سے مخفی نہیں۔ خاص طور سے اس زمانے میں جب ہمتیں بہت زیادہ قاصر ہو چکی ہیں، نفس خواہشات کا خوگر ہو چکا ہے، اور ہر ذی رائے اپنی رائے پر عُجب میں مبتلا ہے۔ [ج: 1، ص: 153]
یوں تو اس زمانے میں بہت سے مجتہدین ہوئے جنہوں نے وہ احکام جن کی صراحت و تفصیل قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے، قرآن و حدیث ہی میں غور و فکر کر کے مسائل کا استنباط و استخراج کیا مگر امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل کے علاوہ کسی نے اسے اس طرح مدون نہیں فرمایا کہ آج براہِ راست ان کی معلومات حاصل کر کے ان پر عمل کیا جا سکے۔ خدا کی ہزار ہزار رحمتیں ہوں امام ابو حنیفہ، امام شافعی، امام مالک، اور امام احمد بن حنبل پر کہ انہوں نے صرف مسائل کے استخراج و استنباط پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جن مسائل کو مستنبط کیا ان کو باقاعدہ تحریر کی شکل بھی دے دی اس لیے ان حضرات کے مستنبط کردہ مسائل آج تک موجود و محفوظ ہیں۔ باقی حضرات نے مسائل تو مستنبط کیے مگر انہیں باقاعدہ تحریر کی شکل نہیں دی اس لیے ان کے مستنبط کردہ مسائل محفوظ نہیں رہ پائے۔
لہٰذا قرآن و حدیث کے غیر مصرح مسائل پر عمل کے لیے یہی چار مذاہب متعین رہے۔ آج اگر کسی کو قرآن کی کوئی آیت یا حدیث بظاہر ان چاروں مذاہب کے خلاف بھی معلوم ہو تو بھی ان پر یہی فرض ہے کہ انہی مذاہب کے مطابق عمل کریں، یہ نہیں کہ وہ اپنے فریضے سے روگردانی کرتے ہوئے ان مذاہب میں بیان شدہ حکم کو چھوڑ کر قرآن کی آیت یا حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو بلاشبہ گمراہی میں مبتلا ہوں گے۔
