Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

معاشرے کی چند خرابیاں اور اصلاح و فلاح کے طریقے (قسط: اول)

معاشرے کی چند خرابیاں اور اصلاح و فلاح کے طریقے (قسط: اول)
عنوان: معاشرے کی چند خرابیاں اور اصلاح و فلاح کے طریقے (قسط: اول)
تحریر: مفتی محمد نظام الدین رضوی
پیش کش: بنت افضل

معاشرہ آج جن برائیوں سے دوچار ہے ان کا اجمالی جائزہ یہ ہے: جھوٹ، وعدہ خلافی، حسد، کینہ، بغض، عداوت، غرور، تکبر، خود بینی، خیانت، غیبت، چغل خوری، بدگمانی، شراب نوشی، جوا بازی، سود، رشوت خوری، لاٹری، لالچ، بے عملی، فرضی مزار، جادو ٹونا، تھیٹر سنیما، ٹی وی کا غلط استعمال، بدکاری، تصویر کشی، غیر اخلاقی لٹریچر کا مطالعہ، لباس میں بڑھتی ہوئی عریانیت، غیر اسلامی رہن سہن، رقص، گانا، بے پردگی و بے حیائی، اولاد کی پرورش میں کوتاہی، شادی بیاہ کے موقع پر بے جا رسومات، فضول خرچیاں، ناچ گانا، ڈھول تماشہ، بینڈ باجے، پٹاخے چھوڑنا، گولے داغنا، جہیز کی کثرت، طلاق کی زیادتی، نماز سے دوری، روزے سے بے اعتنائی، چھوٹے کا بڑے کی توقیر نہ کرنا اور بڑے کا چھوٹے پر شفقت نہ کرنا۔

معاشرے کی اصلاح کی ترغیب:

اسلام نے معاشرے کی اصلاح پر بہت زور دیا ہے، کیونکہ غلط معاشرے کی وجہ سے پوری نسلِ انسانی خرافات اور برائیوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے۔ اب یہاں ہم اسلامی تعلیمات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔

غرور اور تکبر:

صالح معاشرے کی پراگندگی میں کبر و نخوت اور غرور و تکبر کا بھی بڑا ہاتھ ہے، نیکی کو ملیا میٹ کر کے برائی پھیلانے میں اس شیطانی حرکت کا بڑا دخل ہے۔ تکبر انسان کو بھلائی سے دور کر کے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے، اس لیے قرآن و حدیث میں اس کی بہت سخت مذمت کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”یہ آخرت کا گھر ہم ان کے لیے تیار کرتے ہیں جو زمین میں تکبر نہیں چاہتے اور نہ فساد۔“ [سورۃ القصص: 83]

اور ایک جگہ فرماتا ہے: ”میں اپنی آیتوں سے انہیں پھیر دوں گا جو ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔“ [سورۃ الاعراف: 146]

اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی گھمنڈ ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا اور جس کے دل میں دانہ برابر بھی ایمان ہوگا جہنم میں داخل نہ ہوگا۔“ [مشکوٰۃ، بخاری]

بدنظری و بدنگاہی:

قرآنِ مقدس میں پروردگارِ عالم اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے: اے میرے محبوب! ”آپ مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہوں کو جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں۔“ [سورۃ النور: 31]

اور دوسری جگہ فرمایا: ”تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور زمانۂ جاہلیت کی طرح بے پردہ نہ نکلو۔“ [سورۃ الاحزاب: 33]

مگر آج کل مسلمان مرد اور عورتیں اللہ کے حکم کی مکمل خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بدنظری اور بدنگاہی اور بن سنور کر حسن و جمال کا بھرپور مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس کے برے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ اب جو نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بدنگاہی اور بدنظری کی بلا اور مصیبت میں گرفتار ہیں، ان حدیثوں کو ضرور پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی نگاہوں کو جھکاؤ اور شرمگاہوں کی حفاظت کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں کو بگاڑ دے گا۔“ [المعجم الکبیر]

ایک دوسری حدیث میں اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آنکھوں کا زنا دیکھنا، کان کا زنا حرام سننا، زبان کا زنا بولنا (فحش کلامی)، ہاتھوں کا زنا (حرام) پکڑنا، پاؤں کا زنا (حرام کی طرف) چلنا ہے۔ دل زنا کی خواہش اور تمنا کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔“ [صحیح مسلم، حدیث: 6753]

مگر آج کچھ لوگ بغیر نکاح کیے لڑکیوں سے بے روک ٹوک باتیں کرتے ہیں اور ان کے ساتھ گھومتے ہیں، کمر یا کاندھے پہ ہاتھ ڈال کر سیر و تفریح کرتے ہیں، تو ایسے لوگ اپنے انجام کو سمجھیں۔

ایک اور حدیث میں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی میخ ٹھونک دی جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہ ہو۔“ [المعجم الکبیر، حدیث: 4117]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!