| عنوان: | زائد العرض بلاد میں مسئلہ عشاء |
|---|---|
| تحریر: | شمس الہدیٰ مصباحی |
| پیش کش: | محمد رفیع مرکزی |
احناف کے نزدیک قولِ معتمد و مفتی بہ یہ ہے کہ جب شفقِ ابیض غروب ہو جائے تب وقتِ عشاء کا آغاز ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب سورج افق سے 18 درجہ نیچے چلا جائے، یہی جمہور منجمین و فقہائے فلکین کا موقف ہے، حتیٰ کہ اسی پر اجماع کا قول کیا گیا ہے۔
امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں:
”جمہور متاخرین اہلِ ہیئت قدیمہ و جدیدہ کا اس پر اجماع ہے۔“
[تاج التوقیت قلمی، ص: 11]
نیز دیگر مکاتبِ فکر کے اربابِ حل و عقد نے بھی اجماع کی تصریح کی ہے۔ سائنس داں حضرات سبھی اسی کے قائل ہیں، جیسا کہ قدرے تفصیل سے اس کا ذکر ہوا۔ گو کہ کچھ کم و بیش ڈگری کا قول بھی ہے مگر ضعیف و مرجوح ہے۔
ائمۂ ثلاثہ اور صاحبین رحمہم اللہ کے نزدیک غروبِ شفقِ احمر پر وقتِ عشاء شروع ہو جاتا ہے یعنی جب آفتاب افق سے 12 ڈگری نیچے پہنچتا ہے، پس یہاں یو کے وغیرہ بلاد میں تقریباً آٹھ ماہ تک مذہبِ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ پر نمازِ عشاء ادا کرنے میں کوئی دشواری، کسی قسم کا حرج و مشقت درپیش نہیں لہٰذا ہم حنفیوں کا اسی پر عمل کرنا لازم و ضروری ہے، اس کے سوا پر عمل ہرگز روا نہیں۔
اور جن دنوں میں شفقِ ابیض کافی تاخیر سے غائب ہوتی ہے، یا وقتِ عشاء بہت کم مل پاتا ہے تو حرج و مشقت کے سبب مذہبِ صاحبین رحمہم اللہ پر عشاء ادا کرنے کی اجازت ہے۔ ہمارے کثیر علمائے احناف نے ان مشکلات میں اسی قول کو اختیار فرمایا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ”علیہ الفتویٰ“، ”ہو المذہب“۔
[در مختار، رد المختار، ج: 1، ص: 241، نور الایضاح وغیرہ]
فقیہ الہند مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بضرورت اس خادم نے بھی ہالینڈ کے ایک استفتا کے جواب میں ان دیار کے ایام میں صاحبین کے اس قول پر فتویٰ دیا ہے۔ رہا فجر کا معاملہ تو یہ ان دیار کے لیے بالکل واضح ہے کہ اس کا وقت صبحِ صادق کے طلوع سے ہے، چاہے سورج 18 ڈگری زیرِ افق پہنچے یا نہ پہنچے اور فجر کے لیے جو 18 درجے کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج 18 درجے سے زائد نیچے ہوگا تو صبحِ صادق طلوع نہ کرے گی۔
[فتاویٰ شارح بخاری قلمی، ج: 4]
اور جب بالکل غائب نہ ہو اور احمر بہت دیر میں غائب ہو کہ باعثِ دقت و مشقت ہو یا یہ بھی غائب نہ ہو تو بوجۂ تعامل مذہبِ امام مالک اور قولِ جدید امام شافعی رحمہم اللہ کی بنا پر بعد نمازِ مغرب اور نصف شب سے قبل جب بھی عشاء ادا کر لیں ہم منع نہیں کرتے کہ کہیں أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَىٰ عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰ [سورۃ العلق: 9، 10] کی وعید میں داخل نہ ہو جائیں اور انسب یہ کہ جمع بین الصلاتین صورۃً نہ رہے۔
-
مجددِ اعظم امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ والرضوان ارشاد فرماتے ہیں:
أَقُولُ وَأَيْضًا مِنْ مَذْهَبِ الْإِمَامِ مَالِكٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ وَقْتَ الْمَغْرِبِ قَدْرُ خَمْسِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ الْعِشَاءُ فَبَقَاءُ الشَّفَقِ لَا يَضُرُّ.
[جد الممتار، ج: 2، ص: 49]
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى فِي الْجَدِيدِ: لِلْمَغْرِبِ وَقْتٌ وَاحِدٌ يَنْقَضِي بِمُضِيِّ قَدْرِ وُضُوءٍ، سَتْرِ عَوْرَةٍ، وَأَذَانٍ، وَإِقَامَةٍ، وَخَمْسِ رَكَعَاتٍ.
[التعلیق المجلی للمحدث، ص: 2012، المنہاج فی الفقہ الشافعی، ج: 1، ص: 228]
پھر اس دورِ پرفتن اور بے عملی کی گہما گہمی میں کہ لوگ ادا سے کوسوں دور تو ان سے قضا کی کیا توقع رکھی جائے، لہٰذا اگر وہ ایسی مشکل میں مذہبِ مالک و شافعی رحمہم اللہ پر عمل کریں تو منع نہ کریں جیسا کہ بہت سے مسئلوں میں دیگر مجتہدین کے قول پر فتویٰ و عمل دیا، کہا جا رہا ہے مثلاً مفقود الزوج اور مسئلہ مزارعت وغیرہ۔
جب کہ ہمارے قدیم فقہائے احناف کے اس سلسلے میں دو موقف ہیں:
-
سیف السنۃ علامہ بقالی، امام حلوانی، امام مرغینانی، شرنبلالی، حلبی وغیرہم رحمہم اللہ کا موقف یہ ہے کہ عدمِ سببِ وجوب کی بنا پر عشاء کا فریضہ ذمے آیا ہی نہیں۔
-
شیخ برہان الدین کبیر، امام کمال الدین ابن ہمام، صاحبِ تنویر، صاحبِ مجمع الانہر، اور ابن شحنہ محقق ابن امیر حاج محقق قاسم وغیرہم رحمہم اللہ نے عشاء کا فریضہ لازم قرار دیا اور بغیر نیتِ قضا کے پڑھنے کا قول کیا ہے اور یہ دونوں قول مصحح ہیں۔ نیز یہ بھی یاد رہے کہ ادا بہ نیتِ قضا اور بالعکس دونوں طریقے درست ہیں، جیسا کہ کتبِ اصول میں مصرح ہے لہٰذا اگر کوئی بطورِ قضا پڑھے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
-
صحیفۂ مجلسِ شرعی ہند میں کثیر مفتیانِ کرام کا متفقہ فیصلہ محررہ شعبان 1425ھ یہ ہے کہ ”مذہبِ صاحبین پر بھی عمل نہ ہو سکے تو لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے فتنہ و انتشار نہ ہونے دیا جائے“۔
لِأَنَّ هُنَا قَوْلًا آخَرَ مُصَحَّحًا لِمَشَايِخِنَا وَهُوَ عَدَمُ وُجُوبِ الْعِشَاءِ فِي تِلْكَ الْأَيَّامِ فَعَلَى ذٰلِكَ الْقَوْلِ لَا يَجِبُ عَلَيْهِمُ الْأَدَاءُ وَلَا الْقَضَاءُ وَمَا صَلَّوْا يَكُونُ صَلَاةً وَعِبَادَةً غَيْرَ وَاجِبَةٍ عَلَيْهِمْ وَلَا يَنْبَغِي مَنْعُهُمْ عَنْهَا اھ.
اور کتاب ”احسن تقویم“ کے عجائبات شمار کیے جائیں تو اس موضوع پر مستقل کتاب تیار ہو جائے، سردست ایک دو پیشِ خدمت ہیں، کتاب کے صفحہ 407 پر عنوان ہے: ”فتح القدیر سے تصدیق وقتِ مغرب مغیبِ شفقِ احمر تک ہے“۔
اور محقق ابن ہمام حنفی رحمۃ اللہ علیہ کی جو عبارت دلیل کے طور پر پیش کی وہ سراسر ان کے دعویٰ کے خلاف ہے اور صاف صاف اس سے ظاہر ہے کہ وقتِ مغرب شفقِ ابیض کے غروب تک ہے:
وَأَنَّ آخِرَ وَقْتِهَا حِينَ يَغِيبُ الْأُفُقُ.
اور اہلِ علم و فن پر مخفی نہیں کہ مغیبِ افق کب ہوتا ہے۔ ایسے ہی موقع پر عرب کہتے ہیں:
عَلَى أَهْلِهَا تَجْنِي بَرَاقِشُ.
(اپنے اہلِ ہی پر براقش تباہی لاتی ہے)۔
یوں ہی ص: 236 سے کئی صفحات تک تفسیر کبیر، اور تفسیر بحر محیط وغیرہ کے تفصیلی حوالہ جات پیش کیے گئے ہیں اور دعویٰ ہے کہ ختمِ وقتِ سحری انتشارِ صبحِ صادق پر ہے اور دلیل میں:
الْقَدْرُ مِنَ الْبَيَاضِ الَّذِي يَحْرُمُ هُوَ أَوَّلُ الصُّبْحِ الصَّادِقِ وَأَوَّلُ الصُّبْحِ الصَّادِقِ لَا يَكُونُ مُنْتَشِرًا.
ترجمہ: روزہ دار کو اولِ صبحِ صادق سے کھانا حرام ہے اور اس وقت صبحِ صادق منتشر نہیں ہوتی۔
[تفسیر کبیر، ج: 5، ص: 118]
فَبِطُلُوعِ أَوَّلِهِ فِي الْأُفُقِ يَجِبُ الْإِمْسَاكُ هٰذَا مَذْهَبُ الْجُمْهُورِ وَبِهِ أَخَذَ النَّاسُ وَمَضَتْ عَلَيْهِ الْأَعْصَارُ وَالْأَمْصَارُ.
ترجمہ: افق پر اول طلوعِ صبح سے سحری ختم کرنا واجب ہے اور یہی جمہور کا مذہب ہے اور لوگوں کا عرصہ سے عام بلاد میں اسی پر عمل ہے۔
[تفسیر البحر المحیط، ج: 2، ص: 216]
(اگرچہ امام احمد رضا قدس سرہ نے طلوع اور انتشار کو بندوں کے اعتبار سے ایک ہی مانا ہے، دیکھیے جد الممتار، حاشیہ شامی، باب الاذان)
قارئینِ کرام خود فیصلہ کریں کہ یہ کیا ہے، اس لطیفے کی طرح نہیں ہے کہ دو بہرے دوستوں کے ملاقات کرنے پر ایک نے دوسرے کو سلام کیا، دوسرے نے جواب دیا ”بینگن توڑ رہا ہوں“۔ خیریت دریافت کی ”بال بچے بخیر ہیں؟“ جواب ملا ”سب کو بھون کر کھاؤں گا“۔ جمہور کی روش سے انحراف کا یہی کچھ نتیجہ ہوتا ہے پس مسئلہ جمہور کی طرف رجوع کی دعوتِ اخلاص ہے۔
