Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

طلبۂ مدارس کو روحانی غذا کی ضرورت

طلبۂ مدارس کو روحانی غذا کی ضرورت
عنوان: طلبۂ مدارس کو روحانی غذا کی ضرورت
تحریر: کلیم اشرف رضوی مظفرپوری
متعلم: جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ
پیش کش: بشیر مدنی

مکرمی! سیر و تفریح کی غرض سے میں اپنے دوست کے ساتھ لکھنؤ گیا۔ وہاں سے واپسی کے دوران بارہ بنکی میں رکنے کا اتفاق ہوا۔ میرے دوست نے بتایا کہ اسٹیشن سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر مسولی شریف ہے۔ ہمارے علاقے کے بہت سے طلبہ وہاں زیرِ تعلیم ہیں۔ کیوں نہ آج کی شب ہم سرکارِ مسولی سید اسماعیل شاہ واسطی قادری رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر ان کے روحانی فیوض و برکات سے مستفیض ہوں۔ چونکہ گاڑی بھی لیٹ تھی، اس لیے میں نے بھی بلا کسی تاخیر کے ارادہ بنا لیا اور کچھ ہی دیر بعد ہم سرکارِ مسولی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ ان کے نورانی روضے کی زیارت سے شادکام ہونے کے بعد ہم نے ”الجامعۃ الاسماعیلیہ“ مسولی شریف میں قیام کیا۔ جو سرکارِ مسولی رحمۃ اللہ علیہ کے بابرکت نام سے منسوب اور آپ کے روضۂ مبارک سے متصل ایک عظیم دینی قلعہ ہے۔ جس کے روحِ رواں پیرِ طریقت حضرت سید شاہ گلزار اسماعیل واسطی قادری مدظلہ العالی ہیں۔ موصوف مدظلہ نے اپنی کڑی محنت و مشقت سے بہت مختصر عرصے میں اس جامعہ کو شاہراہِ ترقی پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ اور آج دو سو سے زائد تشنگانِ علم اس علم و معرفت کے چشمے سے سیراب ہو رہے ہیں۔

صبح بیدار ہو کر ہم نے باجماعت نمازِ فجر ادا کی۔ نماز کے بعد ہم نے وہاں کے طلبہ کے درمیان ایک ایسی چیز دیکھی جو آج کل طلبۂ مدارس کے اندر بہت کم یا پھر نہ کے برابر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اور جس سے طلبہ کو وہ روحانی طاقت و قوت فراہم ہوتی ہے، جو انہیں کائنات کو مسخر کر لینے کا حوصلہ اور جذبہ عطا کرتی ہے اور طالب علم اس طاقت کے ذریعے ہر محاذ پر کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ ہم نے وہاں دیکھا کہ نمازِ فجر کے بعد تمام طلبہ و اساتذہ مسجد ہی میں ذکر کی مجلس میں بیٹھ جاتے ہیں اور اللہ اللہ، لا إله إلا الله اور محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جیسی صدائے دل نواز سے اپنے قلوب و اذہان کی صفائی کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہم نے بھی اس مجلس میں شریک ہو کر اس کے انوار و تجلیات سے دل کے نہاں خانے کو منور و تاباں کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ہم نے محسوس کیا کہ ہمارے دل گناہوں کی وجہ سے اتنے سیاہ ہو چکے ہیں کہ اسے پانچ دس منٹ کے ذکر و مجاہدے سے کیا ہونے والا ہے۔

اور اس لیے کہ آج ہم طرح طرح کی برائیوں میں مشغول ہیں اور دن بھر میں نہ جانے کتنے گناہ ہم سے سرزد ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم پروردگار سے اپنے گناہوں کی معافی طلب نہیں کرتے، یہ کتنے دکھ کی بات ہے۔ اور طلبۂ مدارس، کہ مستقبل میں جن کے ناتواں کندھوں پر امتِ مسلمہ کی قیادت و رہنمائی اور دینِ اسلام کی حفاظت و صیانت کا بارِ گراں آنے والا ہے۔ اس لحاظ سے عام لوگوں کی بنسبت طلبۂ مدارس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ لیکن کیا طلبۂ مدارس کو اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہے؟ اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ ہم پڑھتے لکھتے تو بہت کچھ ہیں، اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم ہی مستقبل کے مذہبی قائدین ہیں، اور ہم ہی وہ ہیں کہ جن کے سروں پر ”العلماء ورثة الأنبياء“ کا تاجِ زریں رکھا گیا ہے۔ لیکن پھر بھی ہم اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے کما حقہ اسے ادا کیوں نہیں کرتے؟ اگر ہم خود بے راہ روی کے شکار ہوں گے تو پھر ہم اپنی قوم کی رہبری کیسے کر سکیں گے؟ اگر ہم قوم کے مخلص اور مضبوط لیڈر بننا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے تمام گناہوں سے پاک و صاف اور علم کے ساتھ اپنے اندر عمل بھی پیدا کرنا ہوگا، اور ساتھ ہی سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا بہترین نمونہ بھی بننے کی ضرورت ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں ایسا بہت کم ہو رہا ہے۔ لیکن ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم طلبہ کو علم کے ساتھ علم کو منور کرنے اور اس کو جلا بخشنے کے لیے روحانی غذا فراہم نہیں ہو پاتی ہے، اور یہ ہماری بدعملی کا نتیجہ ہے کہ ہم اس سے محروم ہیں۔ کیونکہ ہمیں کلاس کے علاوہ اور کسی چیز سے کوئی سروکار ہی نہیں۔ ہم کوئی ایسا عمل کرنا ہی نہیں چاہتے کہ جس سے ہمیں روحانی طاقت و قوت حاصل ہو۔ ہم صرف اپنی محنت اور ذہانت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

بلاشبہ کامیابی کے حصول میں محنت و مشقت اور ذہانت کا دخل ہے، لیکن کامیابی کے حصول کا محنت و جفاکشی اور ذہانت سے کہیں زیادہ فضلِ خداوندی اور بزرگوں کا فیضان اہم رول ادا کرتا ہے۔ یاد رکھیں! آپ لاکھ علوم و فنون سیکھ لیں، علامۃ الدہر بن جائیں لیکن اگر آپ پر اللہ کا فضل نہ ہو تو پھر آپ علامۃ الدہر ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ سے کوئی دینی خدمت انجام نہیں پا سکتی۔ کیونکہ بے عمل اور بدکردار عالم جب اپنے علم سے خود کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا تو پھر اپنی قوم اور دین کو کیا فائدہ پہنچائے گا۔ اس سلسلے میں الجامعۃ الاسماعیلیہ مسولی شریف کا نظام ہمیں بہت اچھا لگا کہ وہاں کے طلبہ علم کے ساتھ ذکر و اذکار کے ذریعے روحانی غذا بھی حاصل کر رہے ہیں۔ جو بلاشبہ ان پر خاص توفیقِ الٰہی کا ثبوت ہے۔ اور اس سے ان کے اندر بہت سے کمالات اور خوبیاں بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ لہٰذا ہم طلبہ بھی جہاں کہیں بھی زیرِ تعلیم ہیں، روحانی غذا کے حصول کے لیے کبھی کبھی یادِ الٰہی میں ایک دو لمحے کے لیے وقت نکال کر ذکر و اذکار کی مجلسیں منعقد کریں اور یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کو یاد کر کے اس سے اس کا فضل مانگیں۔ یوں ہی اوراد و وظائف سے اپنے دل کو پاک و صاف کریں۔ اس لیے کہ اگر دل پاک و صاف ہو گیا تو پھر تعلیم اور میدانِ عمل میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آ سکتی۔ یوں ہی دل صاف ہونے کے بعد ہم جو پڑھیں گے وہ ہم پر اثر انداز بھی ہو سکے گا۔ [ماہنامہ اشرفیہ، فروری 2018ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!