| عنوان: | بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلیم رضوی |
| پیش کش: | بشیر مدنی |
مشہور کہانی ہے کہ بلی کا ظلم و ستم ایک زمانے میں انتہائی عروج پر پہنچ گیا تو چوہے سر جوڑ کر بیٹھے۔ شہر بھر کے چوہے جمع تھے۔ ہر ایک اپنی برادری پر ہونے والے ظلم کے باعث آگ بگولا تھا۔ مقرر چوہے زمین و آسمان کی قلابیں ملا رہے تھے۔ سب کی زبان پر بلی کے ظلم و ستم کی شکایات تھیں۔ ”یہ ہونا چاہیے وہ ہونا چاہیے“ کی گونج تھی۔ سب اسی جملے کی جگالی کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک سیانے چوہے نے رائے دی کہ بلی جب سو رہی ہو تو اس کے گلے میں ایک گھنٹی باندھ دی جائے، تاکہ جب وہ حرکت کرے تو گھنٹی کی آواز کے باعث ہم چوکنا ہو جائیں اور شکار ہونے سے بچ جائیں۔ اس پر پورا ہال داد و تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تالیوں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، لیکن جب اس تجویز کو عملی شکل دینے کی بات شروع ہوئی تو سب چوہے سراپا سوال بن گئے۔ کوئی بھی اس گھنٹی کے باندھنے کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوا۔ دھیرے دھیرے چوہے کھسکنا شروع ہو گئے اور ہال خالی ہو گیا۔
حضرات! مشورے دینا اور ”یہ کرنا چاہیے وہ ہونا چاہیے“ کہنا بہت آسان ہوتا ہے، کام کرتے جان نکلتی ہے۔
اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ ہمارے یہاں کام کرنے والے کتنے ہیں اور کام کرنے والوں کے ساتھ تعاون کرنے والے کتنے ہیں؟ شاید کام کرنے والے چند اور کام کرنے والوں کا ساتھ دینے والے اس سے بھی تھوڑے ہیں، لیکن ہماری ایک بڑی تعداد وہ ہے جو مفت کے اور بلاوجہ و بلاضرورت و بلاطلب ”مشورے دینے“ کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ جب جہاں یہ موقع پاتے ہیں اپنا پٹارا کھول کر بیٹھ جاتے ہیں، اور ”یہ ہونا چاہیے، فلاں کو یہ کرنا چاہیے، اس کو ایسا ہونا چاہیے، اس کو ویسا ہونا چاہیے، یہ غلط وہ غلط اور سب غلط“، جب تک آپ کی قوتِ برداشت جواب نہ دے جائے آپ کو سناتے رہیں گے۔ امریکا سے لے کر چین تک، دنیا کے ہر ملک، ہر صدر، ہر شعبے، ہر شخص کے لیے ان کے پاس ”چاہیے منجن“ موجود ہے۔ یہ دنیا کا ہر علم رکھتے ہیں۔ ہر کام میں انھیں مہارت ہے۔ کوئی ایسا نہیں جن کے لیے ان کے پاس ”یہ ہونا چاہیے“ والا جملہ نہ ہو۔ خود سوچیں کہ ایک انسان کے پاس اتنی ذہنی استطاعت کیسے آ گئی کہ وہ ہر فن میں کامل و اکمل ہو گیا، چاہے وہ سیاست کا میدان ہو، معاشرتی معاملات ہوں، مذہبی معاملات ہوں یا کچھ بھی۔ اتنے جمیع علوم پر لیاقت اور تبصرے کی مہارت موصوف نے کہاں سے حاصل فرما لی؟ اس سوال پر غور کرتے ہی شاید ساری حقیقت آپ پر کھل جائے کہ ”چاہیے چاہیے“ تو ایک بیماری ہے اور کچھ نہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ”یہ ہونا چاہیے“ کہنے والے عملی زندگی میں کیا کرتے ہیں، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے۔ یہ کچھ بھی نہیں کرتے، صرف زبانی جمع خرچ کرتے رہتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو انھی کے مشورے پر کہ ”یہ ہونا چاہیے“ کے جواب میں آپ ان سے کہیں: ”بالکل ہونا چاہیے، آؤ مل کر کام کریں“، پھر دیکھیں وہی بلی کے گلے میں گھنٹی والی ہماری کہانی آپ کو یاد آئے گی۔ ان کے چہرے بدل جائیں گے۔ یہ ایسے ایسے عذر پیش کریں گے کہ بس۔ یعنی کام کچھ بھی نہیں کرنا، بس یہ کہنا ہے کہ ”یہ ہونا چاہیے وہ ہونا چاہیے“۔
اگر کہیں سے یہ مرض آپ کو بھی لگ گیا ہے تو غور کریں اور اس ”چاہیے“ سے جان چھڑائیے اور کچھ کر جائیے۔ آپ کا چھوٹا سا کام زندگی بھر کے ”چاہیے چاہیے“ کی رٹ لگانے سے لاکھ گنا اچھا ہے۔
اور ان ”چاہیے چاہیے“ کی گردان کرنے والوں کو مشورہ دیں کہ آپ کو چاہیے کہ آپ کام کریں ورنہ آپ کو خاموش رہنا چاہیے۔ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ اگر آپ نے ایک دو کا بھی کامیاب اور دائمی علاج کر کے انھیں شاہراہِ عمل پر اتار دیا تو یہ آپ کا بے مثال کارنامہ ہوگا۔
یاد رکھیں، کامیاب اشخاص باتیں کرنے کے بجائے کام کرتے ہیں۔ باتوں کے پل تو سست و کاہل افراد بناتے ہیں جو ان کی باتوں کی طرح ہی کچے ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم پر ہمارے عیوب روشن فرما کر ہمیں ان کی اصلاح کی توفیق سے نوازے۔ آمِيْن۔ [ماہنامہ جہانِ رضا، لاہور، جولائی 2023ء]
