Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: اول)

حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: اول)
عنوان: حیاتِ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ (قسط: اول)
تحریر: مفتی عبد المنان علیہ الرحمہ
پیش کش: محشر فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کی حیات اور سوانحی حالات پر چھوٹے بڑے متعدد مقالات ہندو پاک میں شائع ہو چکے ہیں لیکن بحر العلوم حضرت مفتی عبد المنان صاحب علیہ الرحمہ کی تحریر جو انہوں نے خود حضور صدر الشریعہ سے پوچھ پوچھ کر تیار کی تھی پہلی بار پاکستان میں حضرت مفتی عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ نے شائع کی اور ہندوستان میں ہنوز منتظرِ طبع ہے۔ دراصل رمضان 1365ھ کی تعطیل میں حضرت بحر العلوم جب اشرفیہ میں زیرِ تعلیم تھے اس مقصد سے گھوسی پہنچے، بڑی مشکل سے حضور صدر الشریعہ کو اس کے لیے راضی کیا اور حالات قلم بند کرنا شروع کیا، کوئی دس روز تک یہ سلسلہ جاری رہا، ابھی قیامِ اجمیر شریف تک کے حالات لکھے جا سکے تھے کہ 20 رمضان کی تاریخ آ گئی اور حضرت اعتکاف میں چلے گئے اور فرمایا: ”میاں اب خدا کے گھر میں وہ بھی حالتِ اعتکاف میں اپنا ذکر اپنے ہی منھ سے اچھا نہیں لگتا۔“ لہٰذا اس پر یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔ جو کچھ حضرت بحر العلوم علیہ الرحمہ نے جمع و ترتیب فرمایا مفتی عبد الحکیم شرف قادری علیہ الرحمہ نے اسے لاہور سے شائع کیا، جس کا ایک نسخہ ہمیں مولانا نوید اختر امجدی بھیونڈی کے ذریعہ دستیاب ہوا، ہم اس کے کچھ حصے چند قسطوں میں نذرِ قارئین کرتے ہیں۔

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ سے متعلق حیات و خدمات، ماہنامہ اشرفیہ کا صدر الشریعہ نمبر، اور دیگر متعدد سوانحی خاکے موجود ہیں۔ لیکن ہمیں خوشی ہے کہ اس تعلق سے مفتی بحر العلوم علیہ الرحمہ کی تحریر پیغامِ شریعت کے صفحات پر ہندوستان میں پہلی بار شائع ہو رہی ہے۔ زیرِ نظر تحریر کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت بحر العلوم نے کہیں حضرت صدر الشریعہ کے حالات انہیں کے الفاظ میں درج کیے ہیں اور کہیں اپنے الفاظ میں۔ اس کا آغاز صدر الشریعہ نے سنہ اور جائے ولادت کی بجائے ابتدائی تعلیم سے کیا ہے۔ (ادارہ)

ابتدائی تعلیم

میں ریل گاڑی نہ تھی اور سواری کے انتظام میں دشواری تھی یہاں سے اعظم گڑھ تک پیدل پھر وہاں سے جونپور اونٹ گاڑی پر پہنچے مدرسہ حنفیہ میں اپنے برادرِ عزیز اور مولوی محمد صدیق صاحب کے پاس قیام کیا۔ خود مولوی صدیق صاحب اور مولانا سید ہادی حسن صاحب جو حضرت مولانا محمد ہدایت اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ کے شاگرد تھے اور اس مدرسہ میں مدرسِ دوم تھے ان لوگوں سے کچھ دنوں تعلیم حاصل کی۔ تھوڑے زمانہ کے بعد حضرت مولانا ہدایت اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ نے اپنے ذمہ تعلیم لے لیا۔

سے ۔ بالکل ابتدائی تعلیم اپنے دادا مولانا خدا بخش صاحب مرحوم سے حاصل کی۔ ان کے وصال کے بعد مولوی الٰہی بخش صاحب اور ساکن کوپاگنج ضلع اعظم گڑھ تلمیذ مولوی تراب علی صاحب لکھنوی سے کچھ پڑھا جو یہیں گھوسی کے مدرسہ میں مدرس تھے اور یہیں کچھ دنوں سے پڑھا رہے تھے مگر یہ زمانہ ایسا تھا کوئی شخص بھی نہ تعلیم کا مکلف تھا نہ نگراں تھا، پھر بچپن کا زمانہ، بہر صورت کئی سال تک بے انتظامی کے ساتھ تعلیم کا کچھ معمولی سا سلسلہ جاری رہا۔

مولانا ہدایت اللہ خان جونپوری علیہ الرحمہ کی خدمت میں:

پھر غالباً ابتدائے شوال 1314ھ جونپور کا سفر کیا۔ اس زمانہ میں

اول باخر نسبت دارد:

شروع ہی سے پڑھانے کا شوق زیادہ تھا یہاں تک کہ سپرد کیا گیا۔ پہلے دن جب مدرسہ میں جانا ہوا تو یہ بھی نہ معلوم تھا کہ کون سی کتابیں پڑھانی ہیں اور کس جگہ سے پڑھانا ہے؟

میں ندوۃ العلما کا ایک عظیم الشان تاریخی اجتماع پٹنہ میں ہوا کہ ایسا اجلاس آج تک کبھی بھی نہیں ہوا۔

پٹنہ میں آفتابِ حق کی ضیا باریاں:

اس موقع پر حق کی حمایت کے لیے پٹنہ میں قاضی عبد الوحید صاحب کی ہی ایک شخصیت تھی جنہوں نے اپنا مال تنہا خرچ کیا، بڑے علما جو ندوے کی باطل پرستی اور گمراہی سے واقف تھے ان کو دعوت دی جس میں اعلیٰ حضرت مجددِ ملت امام احمد رضا خاں صاحب بریلوی، تاج الفحول حضرت مولانا عبد القادر صاحب بدایونی، حضرت محدث سورتی، حضرت مولانا سید شاہ عبد الصمد سہسوانی اور حضرت مولانا ہدایت اللہ خاں صاحب رامپوری ثم جونپوری اور بہت سے گرامی قدر علما مدعو تھے اور تشریف لائے تھے۔ ان علما کی تقریروں سے ندوہ کی گمراہی آشکارا ہوئی اور اس کا سارا پول کھل گیا، اس وقت سے جناب قاضی عبد الوحید صاحب نے یہ مدرسہ اہلِ سنت قائم کیا تھا اور اپنا ایک بڑا سا مکان اس کے لیے وقف کر دیا تھا اور اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تحفہِ حنفیہ کی اشاعت میں (جو ماہنامہ مجلہ تھا) صرف کرتے۔

قاضی صاحب کی یہ دینداری اہلِ حق کے نزدیک کچھ اتنی مقبول تھی کہ ان کی عیادت کے لیے حضرت محدث سورتی اور اعلیٰ حضرت بریلوی باوجود کثرتِ مشاغل کے تشریف لائے تھے اور انہیں حضرات کی موجودگی میں قاضی صاحب نے وفات پائی۔ اعلیٰ حضرت قبلہ علیہ الرحمہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور محدث صاحب نے قبر میں اتارا۔ ایک بزرگ کے آستانہ کے قریب مدفن کے لیے جگہ پائی۔

امتحان گاہ:

دفعۃً سامنے ہدایہ جلد ثالث پڑھانے کے لیے پیش کی گئی یہ نہیں کہ صرف پڑھنے والے طلبا کے سامنے پڑھاتا تھا، بلکہ خود قاضی عبد الوحید صاحب جو ایک اچھے عالم تھے اور بعض دیگر علما تعلیم دیکھنے کی خاطر بیٹھے تھے۔ نئی جگہ، کتاب جس کی پیشتر سے خبر نہیں اور علما کا مقصدِ امتحان وہاں موجود ہونا کس قدر پریشان کن اور دہشت ناک ہوگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فضل و کرم اور اساتذہ کی دعاؤں کی برکت کہ سبق پڑھایا اور ایسا پڑھایا کہ سامعین دنگ رہ گئے۔ بہرحال وہاں کے تمام لوگوں کو تعلیم کافی پسند آئی اور مدرسہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔

قاضی عبد الوحید صاحب:

کچھ زمانہ کے بعد قاضی عبد الوحید صاحب علیل ہوئے اور انتقال کر گئے۔ قاضی عبد الوحید صاحب ایک دیندار رئیس تھے، بڑی خوبیوں کے جامع تھے حافظِ قرآن اور نہایت زود خواں اور درسی کتابوں کے عالم مولانا عبد العزیز صاحب کے شاگردِ رشید، انگریزی بھی اچھی جانتے تھے اور اس کی بھی ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کے والد نے چاہا تھا کہ بیرسٹری وغیرہ کے امتحانات کے لیے لندن جائیں۔ جس کا انہوں نے سب کچھ سامان بھی کر دیا تھا مگر قاضی صاحب نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ یورپ جائیں اس لیے انکار کر دیا۔

ندوہ کی ملمع کاری:

ندوہ کی گمراہی نے جس زمانہ میں ہندوستان کے اندر وسعت پائی اور مذہبی امتیازات کو اٹھانے کے لیے علما کی ایک بھاری جماعت ساتھ ہوئی، ان کا مقصد ہی یہی تھا کہ سنی، شیعہ، وہابی اور غیر مقلد یہ سب امتیازات بیکار ہیں۔ چنانچہ اس رویہ نے نہایت زوروں کے ساتھ ہندوستان میں ترقی پکڑی۔

اس سلسلہ میں فاضلِ بریلوی سے شرفِ نیاز:

اسی زمانہ میں اعلیٰ حضرت (امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ) پٹنہ تشریف لائے تھے۔ ان کے حالات کے مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ چنانچہ ان کی جانب عقیدت پیدا ہوئی، دل بے اختیار ادھر مائل ہوا۔ حضرت محدث صاحب کی رائے اور مشورے سے

قیامِ پیلی بھیت میں مشغلہِ درس و تدریس:

آپ نے والد صاحب کی کسی بات کا جواب عمر بھر کبھی نہیں دیا تھا مگر اس بات کے متعلق یہ کہا کہ اگر مجھ سے علمِ طب ہی پڑھوانا تھا تو اتنے دنوں تک علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مشغول رہنے کی کیا ضرورت تھی؟ چند فلسفہ کی کتابیں بطور مقدمہ علمِ طب کے لیے کافی تھیں اور طب میں مشغول ہونے کے بعد یہ امید نہیں کہ اپنے مقاصد میں یعنی علومِ نقلیہ و عقلیہ میں کامیابی حاصل کر سکوں لہٰذا میں اجازت چاہتا ہوں کہ انہیں علوم میں مجھے مشغول رہنے دیا جائے۔ والد صاحب نے فرمایا: میں نے تمہارے لیے ہی کہا تھا اگر تم نہیں چاہتے ہو تو میری طرف سے اجازت ہے میں تم کو مجبور نہیں کرتا۔

پٹنہ میں ورود اور منصبِ تدریس:

یہاں تک طالب علمی کا دور تھا جو اب ختم ہوا۔ اس کے بعد دو تین ماہ مکان پر قیام رہا اور اسی درمیان میں جناب قاضی عبد الوحید صاحب رئیس پٹنہ نے حضرت مولانا محدث سورتی کی خدمت میں یہ خط بھیجا کہ مدرسہ اہلِ سنت کے لیے مدرسِ اول کی ضرورت ہے اگر کوئی شخص آپ کے علم میں ہو تو ان کو مقرر فرما دیجیے۔ واضح ہو کہ یہ وہی جگہ تھی کہ پہلے جناب مولانا عبد العزیز صاحب انبیٹھوی جو حضرت مولانا خیر آبادی علیہ الرحمہ کے شاگردِ رشید تھے اور منطقی مشہور تھے اس جگہ پر فائز تھے اور مدرسِ اول کا کام انجام دے رہے تھے۔ اس کے بعد حضرت مولانا وصی احمد صاحب سورتی مدرسِ اول رہے اور کارِ تدریس انجام دیتے رہے جس جگہ ایسی مقتدر ہستیاں جو اپنے علم و فضل کے اعتبار سے نامی و گرامی اور اپنی عمر کے لحاظ سے تجربہ کار تھیں ان کی جگہ پر ایک نئے شخص کا تقرر کتنا اہم کام ہے؟ مگر حضرت محدث صاحب سورتی کا حکم تھا جس کی تعمیل لازمی تھی، ناچار اس عہدہ کو قبول کرنا ہی پڑا۔ مکان سے جونپور بغرضِ تحصیلِ اجازت حضرت مولانا ہدایت اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اجازت عطا فرمائی اور اپنی دعائیں شاملِ حال کیں، پٹنہ پہنچا، دور دراز تک جناب قاضی صاحب رئیس پٹنہ کے مہمان رہا پھر مدرسہ کا کام۔

پیلی بھیت کے زمانہِ قیام میں عموماً سارا دن پڑھنے پڑھانے میں اور رات کا اکثر حصہ مطالعہ میں صرف ہوتا تھا حمد اللہ میر زاہد اور ملا حسن پڑھنے والے طلباء یہ کتابیں مجھ سے پڑھتے، کیوں کہ اب تک جو دور گزرا تھا وہ زیادہ تر علومِ عقلیہ ہی کی تحصیل میں گزرا تھا اب جو علم شروع کیا تھا وہ بالکل نیا تھا اور اس علم کی بنا حقانیت اور حقیقت پر ہے اس تعلیم میں زیادہ محنت کرنی پڑی۔ صحاحِ ستہ، موطا امام محمد علیہ الرحمہ، کتاب الآثار و کتاب الحجج، شرح معانی الآثار اور مسند امام اعظم اور ان کے علاوہ بعض کتابیں حرفاً حرفاً قراءۃً و سماعاً پڑھیں۔ چودہ مہینہ پیلی بھیت میں اقامت کی مگر شاید ہی کسی روز چھٹی ملی ہو، جمعہ کو بھی اسباق ہوتے تھے۔

استاذ کی ستائش:

حضرت مولانا محدث صاحب علیہ الرحمہ بہت زیادہ محبت فرماتے تھے۔ یہاں تک کہ بعض مرتبہ یہ بھی فرمایا کہ مجھ کو ساری عمر میں سنی یہ ایک طالب علم ملا ہے جو محنتی بھی ہے اور سمجھ دار بھی اور علم سے شوق و دلچسپی رکھتا ہے۔ اس زمانہِ اقامت میں اگر کہیں تشریف لے جاتے تو اپنے ساتھ مجھے بھی لے جاتے اور سفر میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا۔

والد کی خدمت میں اور ان کی خواہش:

اس علمِ شریف سے فراغت کے بعد وطن مراجعت کی، والدِ ماجد قبلہ نے علمِ طب کی طرف توجہ دلائی اور یہ فرمایا: ”مِيْرَاثُ پِدَرْ خَوَاهِيْ عِلْمِ پِدَرْ آمُوْزْ“ چوں کہ یہ فن ہمارے خاندان میں کئی پشت سے چلا آ رہا تھا اور خصوصاً والدِ ماجد کو اس میں زبردست یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ لکھنؤ میں مولوی عبد الحی صاحب فرنگی محلی سے علوم و فنون کی تکمیل کے بعد حکیم عبد الحی جھوائی تولہ لکھنؤ سے مکمل طور پر اس علم کو حاصل کیا اور معالجہ ہی کو اپنا پیشہ اور طریقہِ کار بنایا۔ لہٰذا ان کی یہی خواہش ہوئی۔

آدابِ فرزند:

کافیہ، تہذیب اور شرح تہذیب پڑھنے کے زمانے میں ان سے نیچے کی تمام کتابیں طلبا کو پڑھایا کرتے تھے، چوں کہ بڑے اساتذہ کو نیچے کی کتابوں کی تعلیم میں پوری دلچسپی نہیں ہوتی سمجھ دار طالب علم اس بات کی جستجو میں رہتا ہے کہ کوئی شخص کوشش کے ساتھ ہمیں تعلیم دے، اس نظریے کے ماتحت طلبا کی رجوع روز بروز زیادہ ہوتی رہی۔ جتنا خود اوپر کے درجہ کی تعلیم میں ترقی کرتے جاتے تھے، اسی انداز سے پڑھانے کا سلسلہ برابر بڑھتا ہی جاتا تھا۔ سبق پڑھنے کے بعد دن کا سارا وقت بلکہ رات کا بھی کچھ حصہ پڑھانے میں صرف ہوتا تھا۔

حضرت مولانا ہدایت اللہ خان صاحب علیہ الرحمہ اپنے زمانہ میں گویا ایک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ منطق و فلسفہ اور اصولِ فقہ کی تعلیم ان کا مخصوص حصہ تھا۔ حضرت مولانا خاتم المحققین عمدۃ الحکماء والمتکلمین سیدنا و مولانا فضلِ حق خیر آبادی علیہ الرحمہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ مدتوں ان کی خدمت میں رہ کر علوم و فنون کی تکمیل فرمائی۔ زمانہِ جنگِ آزادی میں بھی مولانا خیر آبادی علیہ الرحمہ کے ساتھ ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ جزیرہِ انڈمان بھیج دیے گئے اس کے بعد استاد سے جدائی ہوئی اور خود مستقل طور پر مسندِ درس پر متمکن ہوئے اور تشنگانِ علوم کو اپنے فیوض سے سیراب کرتے رہے۔ اکثر و بیشتر ہندوستان کے منتخب اور چنے ہوئے طلبا مخصوص کتابوں کو پڑھنے کے لیے ان کے پاس حاضر ہوا کرتے تھے۔

شفاء، افق المبین اور تجرید مع حواشی قدیم و جدیدہ اور شرح اشارات مع محاکمات وغیرہ اس قسم کی کتابیں تقریباً ہمیشہ پڑھایا کرتے تھے۔ زواہدِ ثلث (میر زاہد ملا جلال، میر زاہد رسالہ قطبیہ، میر زاہد امور عامہ) میں ہندوستان میں یگانہ مانے جاتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ حاشیہ بحر العلوم کی تعلیم بھی ضروری جانتے تھے۔
جاری۔۔۔۔۔۔

[ماہنامہ پیغامِ شریعت دہلی اگست 2016ء ص: 40]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!