| عنوان: | عورتوں کی نماز کے شرعی احکام |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمود اختر القادری ممبئی |
| پیش کش: | بنت اسلم برکاتی |
عورتوں کے سجدہ کرنے کا طریقہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ عورتوں کے لیے سجدہ کرنے کا طریقہ مردوں کی ہی طرح ہے یا مختلف ہے؟ اگر کوئی عورت مردوں کی طرح سجدہ کرتی ہے تو اس کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ شریعت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ مستفتی: محمد ہارون ہیوسٹن
الجواب بعون الملك العزيز الوهاب (1) عورتوں کے لیے سجدہ کرنے کا سنت طریقہ مردوں سے مختلف ہے۔ عورتوں کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ سمٹ کر سجدہ کرے مرد کی طرح بازو کروٹوں سے اور پیٹ رانوں سے جدا نہ رکھے بلکہ دونوں بازو کروٹوں سے اور پیٹ رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے اور پنڈلیاں زمین سے ملا دے۔ اس میں اس کے لیے زیادہ ستر اور پردہ ہے۔ عالمگیری میں ہے: والمرأة لا تجافي في ركوعها وسجودها وتقعد على رجليها وفي السجدة تفترش بطنها على فخذيها۔ یعنی رکوع و سجدہ میں اعضاء جدا نہ رکھے اور اپنے دونوں پاؤں پر بیٹھے اور سجدہ میں اپنے پیٹ کو اپنی رانوں پر بچھا دے۔ عورت اگر مرد کی طرح سجدہ کرے تو اس کی نماز ہو جائے گی مگر سنت ترک ہوگی۔ اس زمانہ میں مردوں کی طرح عورتوں کو سجدہ نہ کرنے کی زیادہ تاکید ہونی چاہیے کیونکہ مردوں کی طرح سجدہ کرنے میں غیر مقلد عورتوں سے مشابہت ہے۔ والله تعالى أعلم
سونے چاندی کے سوا دیگر دھاتوں کے زیورات کا حکم
سوال: آج کل خواتین سونے چاندی کی مہنگائی کے سبب مختلف قسم کی دھاتوں کے زیورات پہنتی ہیں، جو خوب صورت ڈیزائن میں تیار کیے جاتے ہیں اور کم قیمت میں مل جاتے ہیں۔ کیا غریب خواتین ایسے زیورات پہن سکتی ہیں؟
الجواب: سونے چاندی کے علاوہ کسی بھی دھات کے زیور عورتوں کو بھی جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت سیدنا امام احمد رضا فاضل بریلوی قدس سره العزيز فرماتے ہیں: چاندی سونے کے سوا لوہے، پیتل، تانبے، رانگ کا زیور عورتوں کو بھی مباح نہیں چہ جائیکہ مردوں کے لیے [فتاوی رضویہ، ج: 9، ص: 14] اسی طرح حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ محمد امجد علی اعظمی عليه الرحمة والرضوان فرماتے ہیں: سونے چاندی کے سوا دوسری دھاتوں کے زیور مرد عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں، یہ مصنوعی سونا بھی اسی حکم میں ہے۔ [فتاوی امجدیہ، ج: 4، ص: 287] لہذا خواتین سونے چاندی کے سوا کسی بھی دھات کے زیور خواہ وہ کتنا ہی خوبصورت اور سستا کیوں نہ ہو ہر گز نہ پہنیں۔ پلاسٹک اور لکڑی وغیرہ کے زیورات میں حرج نہیں۔ والله تعالى أعلم
موبائل وغیرہ پر نظر آنے والی صورتیں حقیقتاً تصویر (فوٹو) ہیں
سوال: زید اپنے موبائل کی اسکرین پر جاندار کی تصویر رکھتا ہے۔ اس سے اس بارے میں کہا گیا تو اس نے کہا یہ تو تصویر کا عکس ہے۔ تصویر وہ منع ہے جو کسی چیز پر پرنٹیڈ ہو یعنی کاغذ وغیرہ پر چھپی ہو، کیا زید کا کہنا درست ہے؟
الجواب: ٹی وی، موبائل وغیرہ کی اسکرین پر جو صورتیں نظر آتی ہیں وہ تصویر (فوٹو) ہی ہیں اور ان پر تصاویر ہی کے احکام ہیں۔ شارح بخاری حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی، فقیہ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی و قاضی مفتی عبدالرحیم رضوی عليهم الرحمة اور شرعی کونسل آف انڈیا بریلی شریف کا متفقہ فیصلہ یہی ہے کہ لیپ ٹاپ، ٹی وی، پردہ سیمیں پر نظر آنے والی صورتیں بھی تصویر ہی ہیں، اور ان پر تصاویر ہی کے احکام ہیں۔ موبائل وغیرہ کی اسکرین پر جو کچھ نظر آتا ہے اس کا قیاس آئینہ پر کرنا قياس مع الفارق اور غلط ہے، کیونکہ آئینہ میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ اس میں چھپتا نہیں بلکہ آئینہ کی صقالت کی وجہ سے دیکھنے والے کی نظر خود اسی کو دیکھتی ہے۔ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ مصنف بہار شریعت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عليه الرحمة والرضوان فرماتے ہیں: آئینہ سامنے ہو تو نماز میں کراہت نہیں کہ سبب کراہت تصویر ہے اور وہ یہاں موجود نہیں، اور اگر اسے تصویر کا حکم دیں تو آئینہ رکھنا بھی مثل تصویر ناجائز ہو جائے حالانکہ بالاجماع جائز ہے، اور حقیقت امر یہ ہے کہ وہاں تصویر ہوتی ہی نہیں بلکہ خطوط شعاعی آئینہ کی صقالت کی وجہ سے لوٹ کر چہرہ پر آتے ہیں۔ گویا شخص خود اپنے کو دیکھتا ہے نہ یہ کہ آئینہ میں اس کی صورت چھپتی ہو۔ [فتاوی امجدیہ، ص: 184] لہذا موبائل اسکرین پر جو نظر آتا ہے وہ تصویر ہے اور جاندار کی تصویر کھینچنے کھنچوانے، اعزاز رکھنے وغیرہ کا جو حکم ہے وہ اس پر بھی ہوگا، اسے تصویر کا عکس کہہ کر جائز کہنا صحیح نہیں۔ زید اپنے اس قول سے رجوع کرے۔ والله تعالى أعلم
موبائل، سی ڈی وغیرہ پر قرآن مقدس کی تلاوت سننے کے آداب
موبائل، سی ڈی، یا انٹرنیٹ پر قرآن مقدس کی تلاوت سنی جائے تو اس کے کیا آداب ہیں؟ کیا دوسرا کام کرتے ہوئے مثلاً گاڑی چلاتے ہوئے یا آفس میں کام کرتے ہوئے تلاوت کی ریکارڈنگ بجا سکتے ہیں؟
الجواب: تلاوت قرآن کے آداب سے ہے کہ جب بلند آواز سے قرآن مجید پڑھا جائے اور مجمع سننے کی غرض سے حاضر ہو تو تمام حاضرین پر سننا فرض ہے، اگر مجمع سننے کے لیے نہ ہو تو ایک کا سننا کافی ہے اگرچہ دوسرے اپنے کام میں ہوں۔ موبائل، سی ڈی یا انٹرنیٹ وغیرہ سے قرآن حکیم کی تلاوت کی آواز اگرچہ اصل تلاوت نہیں ہے بلکہ اس کی نقل و حکایت ہے مگر اس کے سننے کے آداب بھی وہی ہونے چاہیے جو اصل تلاوت سننے کے آداب ہیں۔ لہذا جب موبائل وغیرہ سے قرآن حکیم کی تلاوت کی آواز آ رہی ہو تو وہاں شور و غل نہ کیا جائے۔ ہنسی مذاق، لہو و لعب وغیرہ سے بچا جائے اور اس وقت دوسرے کام میں مشغول ہونا کراہت سے خالی نہیں۔ والله تعالى أعلم
سی ڈی، موبائل وغیرہ پر آیت سجدہ سننے کا حکم
سوال: مذکورہ ذرائع یعنی سی ڈی، موبائل یا انٹرنیٹ سے قرآن پاک سننے پر اگر آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت کرنا چاہیے یا نہیں؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں ارشاد فرمائیں۔
الجواب: سی ڈی، موبائل یا انٹرنیٹ سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ تلاوت واجب نہیں، کہ ان سب کی آواز کا حکم صدائے بازگشت کا ہے اور صدائے بازگشت سے آیت سجدہ سننے پر سجدہ واجب نہیں، حضور صدر الشریعہ عليه الرحمة والرضوان غنیۃ عالمگیری اور در مختار کے حوالے سے فرماتے ہیں: یوں ہی پرند سے آیت سجدہ سنی یا جنگل اور پہاڑ وغیرہ میں آواز گونجی اور بجنسہ آیت کی آواز کان میں آئی تو سجدہ واجب نہیں۔ [بہار شریعت، ج: 4، ص: 67] والله تعالى أعلم
مائک سے سنی جانے والی اذان کا جواب ہے یا نہیں؟
سوال: جو اذان مائک سے ہوتی ہے اور دور دور تک سنی جاتی ہے کیا اس اذان کا جواب تمام لوگوں پر ہے جہاں تک وہ آواز جا رہی ہے؟
الجواب: اذان کی آواز اگر اسپیکر وغیرہ سے بھی آئے تو اس کے بھی آداب بجا لانا چاہیے اور اس کا جواب بھی دینا چاہیے کہ اس میں احتیاط ہے۔ والله تعالى أعلم
مقتدی دعائے قنوت پڑھنے میں امام کی متابعت کرے
رمضان میں وتر کی جماعت میں تیسری رکعت میں ابھی مقتدی دعائے قنوت پڑھ رہا تھا کہ امام نے رکوع کر دیا، اب مقتدی اپنی دعائے قنوت مکمل کرے یا امام کے ساتھ رکوع میں چلا جائے؟ شریعت کی روشنی میں جواب عطا فرمائیں۔
الجواب: مقتدی امام کی متابعت کرے یعنی دعائے قنوت مکمل کرنے کے بجائے امام کے ساتھ رکوع کرے۔ فتاوی عالمگیری اور ردالمختار کے حوالے سے حضور صدر الشریعہ اعظمی عليه الرحمة والرضوان فرماتے ہیں: قنوت وتر میں مقتدی امام کی متابعت کرے۔ اگر مقتدی قنوت سے فارغ نہ ہوا تھا کہ امام رکوع میں چلا گیا تو مقتدی بھی امام کا ساتھ دے۔ [بہار شریعت، ج: 4، ص: 6] لہذا مقتدی دعائے قنوت مکمل کرنے کے لیے ٹھہرے نہیں، بلکہ امام کے ساتھ رکوع کرے۔ والله تعالى أعلم
کیا شوہر گھر میں اپنی بیوی کی امامت کر سکتا ہے؟
سوال: شوہر اور بیوی گھر میں جماعت سے نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر پڑھ سکتے ہیں تو کیسے کھڑے ہوں؟
الجواب: اگر امام مسجد میں حاضری سے معذور ہے تو گھر میں وہ بیوی اور اپنی محرم عورتوں کی امامت کر سکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت عليه الرحمة والرضوان فرماتے ہیں: اور اگر مکان ہو اور مرد کو حاضری مسجد سے کوئی عذر صحیح شرعی نہیں تو مطلقاً مکروہ ہے، کہ مرد پر حاضری مسجد واجب ہے اور اگر اسے عذر ہے اور جماعت میں جتنی عورتیں ہوں اس کی محرم یا زوجہ یا غیر مشتہاۃ لڑکیوں کے سوا نہیں تو مطلقاً بلا کراہت جائز ہے۔ [فتاوی رضویہ، ج: 3، ص: 381] جماعت کی صورت میں اگر صرف ایک عورت ہے جب بھی وہ امام کے پہلو میں نہ کھڑی ہو بلکہ اس کے پیچھے کھڑی ہو۔ والله تعالى أعلم
ظہر کی جماعت شروع ہونے پر چار رکعت والی سنت موکدہ پوری کرے یا دو پر سلام پھیر دے؟
سوال: زید ظہر کی چار رکعت سنت ادا کر رہا تھا کہ اسی دوران اقامت ہوئی اور جماعت شروع ہو گئی۔ اب زید اپنی چار رکعتیں مکمل کرے یا دو رکعت پر سلام پھیر کر جماعت میں شریک ہو جائے؟ فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟
الجواب: اس سلسلے میں فقہائے کرام کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ دو رکعت پر سلام پھیر کر جماعت میں شامل ہو جائے اور بعد میں سنت کی قضا کرے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ چار رکعت مکمل کرے اس کے بعد جماعت میں شریک ہو۔ دونوں قول بہت ہی قوی، عالی مرتبت اور رفیع جلیل ہیں، لیکن اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے دونوں قول دلائل کے ساتھ نقل فرما کر ارشاد فرمایا: بالآخر مسئله ازاں قبیل است که انسان از هر دو قول بر هر چه خواهد عمل نماید هیچ جای ملامت نیست و من فقیر بقول اخیر خود را مائل تر می بینم۔ [فتاوی رضویہ، ج: 3، ص: 612] یعنی یہ مسئلہ اس قبیل سے ہے کہ آدمی دونوں قول میں سے جس پر چاہے عمل کرے کوئی ملامت کی جگہ نہیں۔ میں فقیر دوسرے قول پر خود کو زیادہ مائل پاتا ہوں۔ والله تعالى أعلم
شافعی امام کے پیچھے حنفی مقتدی کا زور سے آمین کہنا
سوال: زید ایسی مسجد میں نماز ادا کرتا ہے جہاں نمازی بلند آواز سے آمین کہتے ہیں۔ کیا زید بھی بلند آواز سے آمین کہہ سکتا ہے یا آہستہ آمین کہے؟ فقہ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: زید اگر حنفی ہے تو وہ اپنے مذہب کی پیروی کرے۔ مذہب حنفی میں آہستہ آمین کہنے کا حکم ہے۔ لہذا زید بلند آواز سے آمین نہ کہے بلکہ آہستہ آمین کہے تاکہ اپنے مذہب کے خلاف نہ ہو۔ والله تعالى أعلم
کتبہ: محمود اختر القادری امجدی رضوی، دار الافتا ممبئی [پیغام شریعت دہلی، اگست 2016، ص: 12]
