| عنوان: | اعلی حضرت بحیثیت طالب علم |
|---|---|
| تحریر: | محمد توصیف رضا عطاری |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
تمہید
تعلیم کی دنیا میں ہر شخص ایک طالب علم کی حیثیت سے قدم رکھتا ہے، چاہے وہ کسی بھی عمر کا ہو یا کسی بھی منصب پر فائز ہو۔ طالب علم وہ انسان ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنے دل کو جستجو اور تلاش میں لگائے رکھتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر غور و فکر، احساس، اور شریعت کی پابندی پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ایک حقیقی کامیاب طالب علم اپنے آپ کو کبھی کامل نہیں سمجھتا بلکہ ہمیشہ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
طالب علم کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے کردار کو بہتر بنانا، اخلاق سنوارنا، اور مقصد حیات کی صحیح پہچان حاصل کرنا ہے۔ علم ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ ایک چیز سیکھنے سے دوسری چیزیں سیکھنے کا شوق بڑھ جاتا ہے۔
ایک سچا طالب علم اپنے استاد سے فیض حاصل کرتا ہے، ان کا ادب کرتا ہے اور کتاب سے متصل رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ عاجزی اختیار کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ غرور اور تکبر سے علم کی معرفت حاصل نہیں ہو سکتی۔
اعلی حضرت جیسی عظیم روحانی شخصیت بھی اس سے مستثنیٰ نہ تھے۔ بحیثیت طالب علم آپ نے ایسے بے شمار کارنامے انجام دیے جن کی وجہ سے آپ کی شخصیت کو عروج ملا۔ اعلی حضرت رحمة الله عليه کی تعلیم و تربیت کا دائرہ نہایت وسیع تھا، جس میں آپ کا شوقِ مطالعہ، اساتذہ سے محبت، اور بڑوں کا ادب نمایاں تھا۔ طالب علمی کا مرحلہ انسان کے لیے ہمیشہ صبر، استقامت اور لگن کا دور ہوتا ہے۔ اعلی حضرت رحمة الله عليه نے اس میدان میں اپنے آپ کو کامیاب اور اپنے آپ کو ایک نیک، متقی اور پرہیزگار انسان کے طور پر پیش کیا۔
آپ رحمة الله عليه نے ہمیشہ اپنے علمی سفر کو جاری رکھا، چاہے آپ کا مقام و مرتبہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو گیا ہو۔ اس مضمون میں ہم اعلی حضرت کے زمانۂ طالب علمی، آپ کے تعلیم کی طرف قلبی میلان، اور زمانہ طالب علمی میں تصنیف و تالیف کے بارے میں جانیں گے تاکہ آپ کے علم کے خزانے کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور اس سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔
اعلی حضرت رحمة الله عليه کے زمانہ طالب علمی
بچپن کی ایک حکایت
جناب سید ایوب علی شاہ صاحب رحمة الله تعالى عليه فرماتے ہیں کہ بچپن میں آپ کو گھر پر ایک مولوی صاحب قرآن مجید پڑھانے آیا کرتے تھے۔ ایک روز کا ذکر ہے کہ مولوی صاحب کسی آیت کریمہ میں بار بار ایک لفظ آپ رحمة الله تعالى عليه کو بتاتے تھے مگر آپ رحمة الله تعالى عليه کی زبانِ مبارک سے نہیں نکلتا تھا وہ زبر بتاتے تھے آپ زیر پڑھتے تھے یہ کیفیت جب آپ رحمة الله تعالى عليه کے دادا جان حضرت مولانا رضا علی خان صاحب رحمة الله تعالى عليه نے دیکھی تو حضور (یعنی اعلی حضرت) کو اپنے پاس بلایا اور کلام پاک منگوا کر دیکھا تو اس میں کاتب نے غلطی سے زیر کی جگہ زبر لکھ دیا تھا، یعنی جو اعلیٰ حضرت رحمة الله تعالى عليه کی زبان سے نکلتا تھا وہ صحیح تھا۔ آپ رحمة الله تعالى عليه کے دادا نے پوچھا کہ بیٹے جس طرح مولوی صاحب پڑھاتے تھے تم اُسی طرح کیوں نہیں پڑھتے تھے؟ عرض کی: میں ارادہ کرتا تھا مگر زبان پر قابو نہ پاتا تھا۔
اعلیٰ حضرت رحمة الله تعالى عليه خود فرماتے تھے کہ میرے استاد جن سے میں ابتدائی کتاب پڑھتا تھا، جب مجھے سبق پڑھا دیا کرتے، ایک دو مرتبہ میں دیکھ کر کتاب بند کر دیتا، جب سبق سنتے تو حرف بحرف لفظ بہ لفظ سنا دیتا۔ روزانہ یہ حالت دیکھ کر سخت تعجب کرتے۔ ایک دن مجھ سے فرمانے لگے کہ احمد میاں! یہ تو کہو تم آدمی ہو یا جن؟ کہ مجھ کو پڑھاتے دیر لگتی ہے مگر تم کو یاد کرتے دیر نہیں لگتی! آپ نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے میں انسان ہی ہوں ہاں اللہ عزوجل کا فضل و کرم شامل حال ہے۔ [حیات اعلیٰ حضرت، ج: 1، ص: 68]
تعلیم کی طرف قلبی میلان
آپ رحمة الله عليه بغیر کسی تقاضے کے خود برابر پڑھنے کے لیے اپنی درسگاہ میں حاضری دیتے اور کبھی ناغہ نہیں کرتے، جمعہ کے دن بھی پڑھنا چاہا تو والد ماجد کے منع فرمانے سے رک گئے۔ قرآن پاک اور ابتدائی اردو تو ایک صاحب نے پڑھائی البتہ درس نظامی کی ابتدائی تعلیم حضرت مولانا مرزا غلام قادر بیگ سے حاصل کی جو آپ کے والد ماجد کے دوست اور بڑے متقی و پرہیزگار عالم تھے اس کے بعد آپ کے والد ماجد نے آپ کی تعلیم اپنے ذمہ لے لی جو عظیم عالم زبردست مفتی اور مصنف تھے پھر مکمل تعلیم والد ماجد ہی سے حاصل کی آپ کے والد ماجد آپ کو درسی کتاب پوری نہ پڑھاتے تھے بلکہ جب وہ یہ دیکھتے کہ احمد میاں مصنف کے طرزِ تحریر اور طریقے سے خود واقف ہو گئے ہیں اور اپنا سارا سبق مطالعہ میں نکال لیتے تو اس کتاب میں اگر کچھ مشکل مقامات ہوتے تو ان پر عبور کرا دیتے اور پھر دوسری کتاب شروع کروا دیتے، شاید ہی کوئی کتاب پوری پڑھی ہو۔ [جہان امام احمد رضا، ج: 1، ص: 22]
زمانہ طالب علمی میں تصنیف و تالیف
آپ رحمة الله تعالى عليه نے اپنے تعلیمی دور میں صرف آٹھ سال کی عمر میں فن نحو کی مشہور کتاب ہدایۃ النحو کی شرح لکھی جو کہیں غائب ہو گئی، اسی طرح 10 سال کی عمر میں اصول فقہ کی مشہور کتاب مسلم الثبوت پر حاشیہ لکھا جب آپ مسلم الثبوت پڑھتے تھے۔ اسی طرح صفات باری تعالی کے تعلق سے آپ نے عربی زبان میں ایک کتاب ”القول النجیح“ کے نام سے لکھی، یہ کتاب بھی آپ کے طالب علمی کے زمانہ کی ہے، لیکن اس کا نام تاریخی نہیں۔ پھر اس پر آپ نے ایک حاشیہ ”السعی المشکور“ کے نام سے 1290ھ میں لکھا جب آپ کی عمر مبارک 18 سال تھی۔ [جہان امام احمد رضا، ج: 1، ص: 24]
اختتامیہ
آپ رحمة الله عليه کا زمانۂ طالب علمی حصول علم دین، ادب، عاجزی، پرہیزگاری اور مسلسل محنت کا عملی نمونہ تھا۔ آپ رحمة الله عليه نے بچپن ہی میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے، شوق مطالعہ اور علمی مہارت کو ثابت کر دیا کہ سچا طالب علم ہمیشہ محنت کے ساتھ پڑھنے میں مشغول رہتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اعلی حضرت رحمة الله عليه کے صدقے علم نافع عطا فرمائے۔
