| عنوان: | مشکل احادیث اور ان کا حل |
|---|---|
| تحریر: | مولانا کوثر امام قادری |
| پیش کش: | ثمینہ پروین قادریہ رضویہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
موضوع: نبی کریم ﷺ کی عمرِ مبارک
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا وصال ساٹھ (۶۰) سال کی عمر میں ہوا، جبکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ﷺ کی عمر پینسٹھ (۶۵) سال تھی، اور ایک روایت میں ترسٹھ (۶۳) سال کا ذکر ہے۔
حلِ اشکال
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کا اتفاق ہے کہ ترسٹھ (۶۳) سال کی عمر والی روایت ہی سب سے زیادہ صحیح اور مشہور ہے۔ باقی روایات کی تطبیق یوں ہے:
- ساٹھ سال والی روایت: اس میں دہائی کے ذکر پر اقتصار کیا گیا ہے اور کسر (تین سال) کو ترک کر دیا گیا ہے۔
- پینسٹھ سال والی روایت: اس میں اشتباہ ہے اور اسے جمہور محدثین نے درست تسلیم نہیں کیا۔
علماء کے نزدیک صحیح قول یہ ہے کہ اعلانِ نبوت سے پہلے مکہ میں چالیس سال، اعلانِ نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال، اور مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا۔ اس طرح مجموعی عمر ترسٹھ (۶۳) سال بنتی ہے۔
موضوع: ریشِ مبارک اور خضاب (رنگ)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بال بہت کم سفید ہوئے تھے اس لیے خضاب کی ضرورت نہ تھی، جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی داڑھی مبارک کو زرد رنگ (ورس اور زعفران) سے رنگا۔
حلِ اشکال
ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس حالت کے مطابق بیان کیا جب خضاب کی حاجت نہیں تھی، اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس وقت کا مشاہدہ کیا جب آپ ﷺ نے بعض اوقات خضاب کا استعمال فرمایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی کبھار خضاب لگایا اور اکثر اوقات ترک فرمایا۔ ہر راوی نے اپنے مشاہدے کے مطابق بیان کیا اور دونوں اپنی جگہ صادق ہیں۔
[ماخوذ از: پیغامِ شریعت، دہلی، مارچ ۲۰۱۷ء، ص: ۸ تا ۱۰]
