| عنوان: | اللہ دیکھ رہا ہے (قسط:سوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد اسلم رضا میمن |
| پیش کش: | بنت محمد صدیق |
خود اپنا محاسبہ کیجیے
ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنا محاسبہ کرتا رہے، ان شاء اللہ! اس کے سبب گناہوں سے بچنے میں کامیابی نصیب ہوگی، قیامت کے دن حسرتوں میں کمی ہوگی اور جس نے دنیا میں اپنا محاسبہ نہیں کیا، وہ آخرت میں حسرت کا شکار ہوگا، قیامت کے دن اسے حساب کے لیے زیادہ دیر تک رکنا پڑے گا۔ حضرت سیدنا عمر بن خطاب نے فرمایا: حَاسِبُوْا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوْا ”دنیا میں اپنا محاسبہ کر لو، اس سے پہلے کہ آخرت میں تمہارا حساب ہو۔“ یعنی روزِ قیامت کی پکڑ سے پہلے ہی گناہوں سے سچی توبہ کر لو، نیک اعمال پر استقامت حاصل کر لو، ورنہ آخرت میں ندامت و شرمندگی اٹھانی پڑے گی، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ روزانہ کچھ نہ کچھ وقت ضرور اپنا محاسبہ کرے، کہ آج میں نے نیک عمل کتنے کیے؟ اور کہاں کہاں رب تعالیٰ کی نافرمانی ہوئی؟! حضرت سیدنا وہب بن منبہ نے فرمایا: حَقٌّ عَلَى الْعَاقِلِ أَنْ لَا يُشْغَلَ عَنْ أَرْبَعِ سَاعَاتٍ: سَاعَةٍ يُنَاجِي فِيْهَا رَبَّهُ، وَسَاعَةٍ يُحَاسِبُ فِيْهَا نَفْسَهُ... الحدیث۔ ”عقلمند پر لازم ہے کہ وہ چار اوقات سے غافل نہ ہو، ان اوقات میں سے ایک وقت اپنے رب تعالیٰ سے مناجات کے لیے مخصوص کرے اور ایک مخصوص وقت خود اپنا محاسبہ کرنے کے لیے نکالے۔“
اللہ و رسول سے ہمارے راز پوشیدہ نہیں
مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مسلمانوں کے لشکر کے ہمراہ غزوہِ تبوک سے مدینہ منورہ کی طرف واپس ہوئے، تو اس غزوہ سے پیچھے رہ جانے اور بہانے بنانے والے منافقین، راستے ہی میں آپ سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے اور مختلف قسم کے حیلے بہانے کرنے لگے، کہ ہم فلاں فلاں مجبوری کے باعث جہاد میں شریک نہیں ہو سکے! اللہ تعالیٰ نے ان بہانے باز منافقین کے بارے میں فرمایا:
وَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [التوبہ: 94]
”اللہ و رسول تمہارے کام دیکھیں گے، پھر اس کی طرف پلٹ کر جاؤ گے جو چھپے اور ظاہر سب کو جانتا ہے، وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے تھے۔“
یعنی بارگاہِ رسالت میں اپنے بارے میں تمہیں کچھ عرض کرنے کی حاجت نہیں، وہاں شیخی کام نہیں آتی، انہیں تو ہر شخص کی حقیقت کا پتا چل جاتا ہے، ان کی بارگاہ میں شیخی بگھارنے کے بجائے معافی چاہو، بہانے و عذر کے بجائے توبہ کرو؛ کیونکہ عملی گناہ کی معافی عملی توبہ اور اچھے اعمال سے ہوگی۔ حضرت سیدنا فرقد سنجی فرماتے ہیں کہ منافق جب دیکھ رہا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تو وہ گناہ کر ڈالتا ہے، افسوس! کہ وہ اس بات کا تو خیال رکھتا ہے کہ لوگ اسے نہ دیکھیں، مگر اللہ دیکھ رہا ہے اس بات کا لحاظ نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن سے آگاہ ہے
کائنات میں کوئی ایسی جگہ نہیں جو اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہو، نیز اللہ رب العالمین ظاہر کے ساتھ ساتھ ہمارے باطن سے بھی آگاہ ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اَوَ لَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ [البقرۃ: 77] ”کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے، جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔“
حضرت سیدنا ابو عثمان بیان کرتے ہیں، کہ مجھ سے حضرت ابو حفص نے فرمایا کہ ”جب تم لوگوں کے لیے (وعظ کی) مجلس کا انعقاد کرو، تو اپنے نفس اور دل کے لیے واعظ بن جاؤ کہ کہیں مجلس میں لوگوں کی آمد تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے؛ کیونکہ لوگ تمہارے ظاہر کو دیکھتے ہیں، جبکہ رب تعالیٰ تمہارے باطن کو دیکھ رہا ہے۔“
حضرت سیدنا امام غزالی نے فرمایا کہ ”کسی بزرگ کا ایک نوجوان شاگرد تھا، وہ بزرگ اس کی بڑی تعظیم کیا کرتے، اسے دوسروں سے مقدم رکھا کرتے تھے۔ ان کے دیگر شاگردوں نے پوچھا کہ آپ اس کی اتنی عزت کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ بزرگ نے کچھ پرندے منگوائے اور اپنے ان شاگردوں کو ایک ایک پرندہ دے کر فرمایا، کہ اسے ایسی جگہ ذبح کرنا جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو۔ سب لوگ اپنا اپنا ذبح کیا ہوا پرندہ لے کر واپس بزرگ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے مگر وہ نوجوان زندہ پرندہ ہی ہاتھ میں پکڑے ہوئے واپس آیا، بزرگ نے پوچھا کہ دوسروں کی طرح تم نے پرندہ کیوں ذبح نہیں کیا؟ اس نے عرض کی کہ مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو مجھے ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔ یہ جواب سن کر لوگ سمجھ گئے کہ آخر یہ نوجوان کیوں زیادہ قابلِ احترام ہے۔“
گناہ سے بچنے کے تین طریقے
ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ہمیشہ اللہ رب العالمین کی معصیت و نافرمانی سے بچنا ہے اور گناہوں سے اجتناب کرنا ہے لیکن اس کے باوجود اگر شیطان بہکانے میں کامیاب ہو جائے اور دل گناہ کی طرف مائل ہو جائے تو اپنی توجہ ان تین امور کی طرف مبذول کریں؛ کہ ان کے سبب گناہوں سے بچنے میں بہت مدد ملے گی: (1) جلوت و خلوت میں اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، (2) فرشتے ہمارے اچھے برے اعمال لکھ رہے ہیں، (3) اور ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
(1) جلوت و خلوت میں اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے
جلوت ہو یا خلوت اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہماری ہر بات حتیٰ کہ انتہائی خفیف سرگوشی کو بھی سن رہا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَا اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ [المجادلۃ: 7]
”اے سننے والے! کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو تو چوتھا وہ موجود ہے اور پانچ کی (سرگوشی ہو) تو چھٹا وہ اور نہ اس سے کم کی اور نہ زیادہ کی، مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے جہاں کہیں ہوں، پھر انہیں قیامت کے دن بتا دے گا جو کچھ انہوں نے کیا، یقیناً اللہ سب کچھ جانتا ہے۔“
(2) فرشتے ہمارے اچھے برے اعمال لکھ رہے ہیں
جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ ہمارے ہر عمل سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے، وہیں دوسری طرف خالقِ کائنات کے حکم سے اس کے فرشتے ہمارے اچھے بُرے تمام اعمال و اقوال کو ایک رجسٹر میں بطورِ ریکارڈ تحریر کر رہے ہیں، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ [الزخرف: 80]
”کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ باتیں اور ان کی مشاورت نہیں سنتے! ہاں کیوں نہیں (یعنی یقیناً سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے (بھی) ان کے پاس لکھ رہے ہیں۔“
(3) اعمال نامہ لکھنے کا حکم
جو لوگ غفلت کا شکار ہو کر دنیا کی رنگینیوں میں گم ہیں اور گناہوں بھری زندگی گزار رہے ہیں، انہیں یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ کراماً کاتبین (نیکیاں اور گناہ لکھنے والے فرشتے) ہمارے ہر عمل کو اپنے پاس تحریر کر رہے ہیں، کہ کل بروزِ قیامت ان کے اقرار و اعتراف کے سوا کوئی چارہ اور فرار کی راہ نہیں ہوگی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
هٰذَا كِتَابُنَا يَنْطِقُ عَلَيْكُمْ بِالْحَقِّ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [الجاثیۃ: 29]
”ہمارا یہ نوشتہ (اعمال نامہ) تم پر حق بولتا ہے، ہم لکھ رہے تھے جو تم نے کیا۔“ یعنی ہم نے فرشتوں کو تمہارے اعمال لکھنے کا حکم دیا تھا۔
ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے
ہر انسان کو چاہیے کہ اپنے نفس کو بار بار باور کرائے، کہ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کا ذائقہ ہر ذی روح (جاندار) کو چکھنا ہے؛ کہ اس تصور کے باعث گناہوں سے بچنے میں بڑی مدد ملے گی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ [آل عمران: 185]
”ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے (یعنی اعمال کے صلے) تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے، جو آگ سے بچا کر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔“
دل کا سکون و چین
”اللہ دیکھ رہا ہے“ اس تصور کے سبب انسان اللہ تعالیٰ کی یاد میں رہتا ہے اور یوں اللہ کی یاد کے سبب وہ گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ دلی اطمینان، سکون و چین بھی حاصل کر لیتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ [الرعد: 28]
”وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے سکون و چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔“
گویا گناہ سے انسان کا دل بے چین ہوتا ہے اور جب اللہ کو یاد کرتا ہے تو اسے چین و سکون نصیب ہوتا ہے، لہٰذا ہر گھڑی اپنے دل کو یادِ الٰہی سے معمور رکھیں، گناہوں سے کوسوں دور بھاگیں اور ہمیشہ یہ تصور قائم رکھیں کہ ”اللہ دیکھ رہا ہے“۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امیدِ واثق ہے کہ اس تصور کی بدولت گناہوں سے بچنے میں مدد ملے گی اور نیک اعمال کی طرف رغبت بڑھے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ!
اے اللہ! ہمیں ہر دم اپنی یاد کی توفیق عطا فرما، ہمیں گناہوں سے بچا، نیک اعمال کی توفیق عطا فرما، ہمارے ظاہر و باطن اور قول و فعل کے تفاوت کو ختم فرما، ہمیں اعمالِ صالحہ کا جذبہ و سعادت عطا فرما، اپنی موت کو یاد رکھنے اور اس کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما اور فکرِ آخرت کی سوچ عطا فرما، آمین یا رب العالمین۔ وَصَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلٰى خَيْرِ خَلْقِهٖ وَنُوْرِ عَرْشِهٖ، سَيِّدِنَا وَنَبِيِّنَا وَحَبِيْبِنَا وَقُرَّةِ أَعْيُنِنَا مُحَمَّدٍ، وَعَلٰى اٰلِهٖ وَصَحْبِهٖ أَجْمَعِيْنَ وَبَارِكَ وَسَلَّمَ۔
[سنی دنیا / جولائی 2023ء، ص: 24]
