| عنوان: | اللہ تعالیٰ جھوٹ اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد صلاح الدین رضوی |
| پیش کش: | عاطف خان |
پاک ہے اور اُس کے لئے عیوب و نقائص محال ہیں، وعید باری تعالی کے بارے میں بھی اہل سنت کا مذہب یہی ہے کہ وہ اس میں بالکل سچا ہے اور مذہب صحیح کے مطابق اس کے لئے خلف وعید بھی جائز نہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے:
وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ
اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا۔ [الحج: 47]
أَلَا إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ
سن لو بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ [یونس: 55]
وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا
اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔ [النساء: 87]
وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ الْمِيعَادَ
اللہ کا وعدہ اللہ وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ [الزمر: 20]
كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ
ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ صادق ہو گیا۔ [ق: 14]
وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ
میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا، میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں۔ [ق: 28-29]
اس آیت کے تحت تفسیر بیضاوی میں ہے: اللہ تعالی اس بات سے انکار فرماتا ہے کہ کوئی شخص اس سے زیادہ سچا ہو کہ اس کی خبر تک تو کسی کذب کا کسی طرح راستہ ہی نہیں کہ کذب عیب ہے اور عیب اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔
وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا
اللہ کا سچا وعدہ اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔ [النساء: 122]
اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:
یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لئے کہ اس کا کذب ناممکن و محال ہے کیوں کہ کذب عیب ہے اور ہر عیب اللہ پر محال ہے کہ وہ جملہ عیوب سے پاک ہے۔
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ
پوری ہے بات تیرے رب کی سچ اور انصاف میں کوئی بدلنے والا نہیں اس کی باتوں کا۔ [الانعام: 115]
امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں اس آیت کے تحت رقم طراز ہیں: یہ آیت ارشاد فرماتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بہت سی صفتوں سے متصف ہے جن میں سے اس کا سچ ہونا بھی ہے جس پر دلیل یہ ہے کہ کذب عیب ہے اور عیب اللہ تعالی پر محال ہے۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ قرآن و حدیث کی دلیلوں کا صحیح ہونا کذب الہی کو محال ہونے پر موقوف ہے:
فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ
اللہ تعالیٰ ہر گز اپنے عہد کے خلاف نہیں فرماتا۔ [البقرہ: 80]
شاہ عبد العزیز دہلوی اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کی خبر ازلی ہے اس کے کلام میں جھوٹ کا ہونا عظیم نقص ہے لہذا وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ہرگز راہ نہیں پاسکتا۔ اللہ تعالی جو تمام نقائص و عیوب سے پاک ہے اس کے حق میں خبر کا خلاف ہونا سراپا نقص ہے۔ [تفسیر عزیزی]
امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں:
اللہ عز وجل کا فرمانا کہ اللہ ہرگز اپنا عہد جھوٹا نہ کرے گا، دلالت کرتا ہے کہ مولی سبحانہ اپنے ہر وعدہ و وعید میں جھوٹ سے پاک ہے۔
اہل سنت و جماعت اس دلیل سے کذب الہی کو نا ممکن جانتے ہیں کہ وہ نقص ہے اور نقص الله عز وجل پر محال ہے اور معتزلہ اس دلیل سے اللہ تعالیٰ کے لئے جھوٹ کو ممتنع بتاتے ہیں کہ کذب قبیح لذاتہ ہے اور قبیح چیزوں کا اللہ تعالی سے صادر ہونا محال ہے لہذا ثابت ہوا کہ کذب الہی بالکل ممکن نہیں۔ علامہ سعد الدین تفتازانی رقم طراز ہیں:
کلام باری تعالیٰ کا سچا ہونا جب ہم اہل سنت کے نزدیک ازلی ہے تو اس کا کذب محال ہوا کہ جس چیز کا قدیم ہونا ثابت ہے اس کا عدم محال ہے۔ [شرح المقاصد، ج: 2، ص: 237]
کنز الفوائد میں ہے: اللہ عز وجل کو شرع و عقل ہر طرح کذب سے پاک مانا گیا ہے اس لئے کہ کذب قبیح عقلی ہے کہ عقل خود بھی اس کو بری مانتی ہے اس کے قبح کی معرفت کو شریعت پر موقوف ہوئے بغیر لہذا جھوٹ بولنا اللہ تعالیٰ کے حق میں عقلاً و شرعاً ہر طرح محال ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالٰی کے لئے جھوٹ بولنا اس لئے محال ہے کہ وہ عیب ہے اور عیب اللہ تعالیٰ کے لئے محال ہے کہ عیب دار خدا نہیں ہو سکتا کیوں کہ عیب دار ہونے اور خدا ہونے میں تضاد ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ
پاک اور بلند ہے اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ [الانعام: 100]
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
پاکی ہے تمہارے رب کو عزت والے رب کو ہر اُس عیب سے جو یہ مخالفین بیان کرتے ہیں۔ [الصافات: 180]
سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا
اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری۔ [بنی اسرائیل: 43]
کذب الہی اگر ممکن ہو تو قرآن حکیم کے بھی دلائل ہاتھ سے نکل جائیں حشر و نشر حساب و کتاب، جنت و دوزخ اور ثواب و عذاب کسی پر یقین نہ رہے کہ ان تمام باتوں پر ایمان رب کائنات کی خبروں سے ہی حاصل ہوا ہے تو معاذ اللہ اگر کذب الہی ممکن ہو تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام خبروں میں احتمال رہے گا کہ شاید یہ خبریں یونہی فرمادی گئی ہوں، شاید ان باتوں میں کذب بیانی سے کام لیا گیا ہو تو پھر یہ باتیں واقع نہ ہوں گی۔ لیکن وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ (معاذ اللہ) خدائے تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے۔ [رسالہ یکروزی، ص: 145] کہ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور کذب بھی ایک شے ہے لہذا وہ کذب پر بھی قادر ہو گا لیکن اگر اس کو کذب پر قادر نہ مانا جائے تو اس آیت کریمہ کا انکار بھی ہو جائے گا اور انسان کی قدرت اللہ تعالی کی قدرت سے بڑھ بھی جائے گی کہ انسان جھوٹ پر بھی قادر ہے۔ [رسالہ یکروزی، ص: 145]
غور کیجئے کہ یہ کس قدر باطل دلیل ہے کہ ہر چیز پر قادر ہونے کا اگر یہی مطلب لے لیا جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ سبحانہ اپنی قدرت کھو دینے، اپنے کو عاجز بنا لینے اور دوسرا خدا پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھے حالاں کہ ایسی بات کسی نے بھی نہیں کہی ہے کہ یہ سب باتیں الوہیت کے سراسر منافی ہیں۔ ایسا غلط مطلب نکالنے سے لازم آئے گا کہ معاذ اللہ خدائے تعالی اپنی اولاد پیدا کرنے، چوری کرنے زنا کرنے اور شراب پینے پر بھی قادر ہو کیوں کہ اگر اللہ تبارک وتعالی ان چیزوں پر قادر نہ ہو تو وہابیہ کے بقول انسان کی قدرت اللہ تعالی کی قدرت سے بڑھ جائے گی۔
ارشاد باری تعالی ہے:
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
تم اور جو کچھ تم کرتے ہو سب اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا ہے۔ [الصافات: 96]
معلوم ہوا کہ انسان کا صدق و کذب، کفر و ایمان اور طاعت و عصیان جو کچھ بھی ہے سب کو اسی قادر مطلق نے پیدا کیا ہے تو پھر انسان کی قدرت خالق کائنات کی قدرت سے کیسے بڑھ سکتی ہے؟
اب إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تبارک و تعالی ہر ممکن چیز پر قادر ہے کہ واجب و محال ہرگز احاطہ قدرت میں آنے کے لائق نہیں کہ محال کہتے ہیں جو کسی بھی طرح موجود نہ ہو سکے اور مقدور کہتے ہیں کہ قادر کے چاہنے سے موجود ہو جائے تو پھر محال مقدور کیسے بن سکتا ہے؟
تفسیر جلالین میں اس آیت کے تحت ہے: إِنَّ اللَّهَ (كَانَ) عَلَى كُلِّ شَيْءٍ (شَاءَ) قَدِيرٌ. یعنی اللہ تعالیٰ ہر اس چیز پر قادر ہے جس کو کرنا چاہے (اور جن کو کرنا نہ چاہے ان میں سے محالات پر قادر نہیں) ملا علی قاری رقم طراز ہیں:
در اصل لفظ شے مصدر ہے جو کبھی مفعول کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ تعالی ہی ہر چیز پر قادر ہے یعنی چاہی ہوئی چیز پر۔ [شرح فقہ اکبر، ص: 40]
وہابی دیوبندیوں کا یہ بھی نظریہ ہے کہ امکان کذب کا مسئلہ کوئی نیا نہیں بلکہ اس تعلق سے قدیم علماء کے درمیان اختلاف رہا ہے۔ چنانچہ خلیل احمد انبیٹھوی رقم طراز ہے امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے کہ نہیں۔ [براہین قاطعہ، ص: 10]
حالاں کہ کذب الہی کا محال ہونا اجماعی مسئلہ ہے کہ کسی بھی دیندار عالم نے اسے ممکن نہیں کہا ہے۔ شرح المقاصد بحث کلام میں ہے:
جھوٹ باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاً عیب ہے اور عیب اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ مواقف بحث کلام میں ہے: اہل سنت و معتزلہ سب کا اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ محال ہے۔
مسامرہ شرح مسایرہ میں ہے:
اشاعرہ و غیر اشاعرہ کسی کو اس بات میں اختلاف نہیں کہ جو بھی صفت عیب ہے، باری تعالٰی اس سے پاک ہے، وہ اللہ تعالی پر ممکن نہیں۔ اور کذب بھی صفت عیب ہے۔
البتہ غیر محققین اشاعرہ نے خلف وعید کو جائز کہا ہے کہ رب کائنات بعض مسلمانوں کو معاف فرما دیتا ہے اور بعض کو عذاب دیتا ہے جو خلف وعید ہے لیکن اس خلف وعید کو ان کے نزدیک جھوٹ سے کوئی واسطہ نہیں بلکہ یہ تو فضل و کرم ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ
بے شک اللہ تعالیٰ کفر کو معاف نہیں فرماتا کفر سے نیچے جتنے گناہ ہیں جسے چاہے گا بخش دے گا۔ [النساء: 48]
تو جب عفو و درگزر اور وعید دونوں طرح کی آیات وارد ہوئی ہیں تو مطلب یہ ہوا کہ جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ معاف فرمادے گا، وہ سزا نہیں پائیں گے اور جنہیں معاف نہیں کرے گا وہ سزا پائیں گے تو پھر جواز خلف وعید کو امکان کذب سے تعلق ہی کہاں رہا؟
اگر کوئی بادشاہ حکم نافذ کر دے کہ جو شخص اس جرم کا ارتکاب کرے گا اُس کے لئے یہ سزا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی ارشاد فرمادے کہ ہم جسے چاہیں گے اسے معاف بھی فرمادیں گے تو اگر وہ بعض مجرموں کو معاف فرمادے تو وہ اپنے پہلے حکم میں جھوٹا نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اسے اس کا عفو و درگزر کہا جائے گا۔ اسی طرح بعض گنہگار مومنوں کو معاف کر دینا بھی رب کائنات کا عفو و درگزر اور فضل و کرم ہے۔
دیکھئے شرح المقاصد کے مبحث ثانی میں ہے:
إِنَّ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْهُمْ يُجَوِّزُونَ الْخَلْفَ فِي الْوَعِيدِ
یعنی اشاعرہ میں سے متاخرین خلف وعید کو جائز مانتے ہیں۔
اسی شرح المقاصد کے مبحث سادس میں ہے:
کذب الہی باجماع علماء محال ہے کہ وہ باتفاق عقلاء عیب ہے اور عیب اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ شرح المواقف مقصد سادس میں ہے: لَا يُعَدُّ الْخَلْفُ فِي الوَعِيدِ نَقْصًا (خلف وعد نقص نہیں گنا جاتا)
اسی شرح المواقف مقصد سابع میں ہے: کذب باری تعالیٰ بالاتفاق محال ہے۔ تو اگر چہ غیر محققین اشاعرہ نے خلف وعید کو جائز کہا ہے لیکن محققین اشاعرہ کے نزدیک وعدہ کی طرح خلف وعید بھی جائز نہیں کہ ارشاد باری تعالی ہے:
وَقَدْ قَدَّمْتُ إِلَيْكُمْ بِالْوَعِيدِ مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ
میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا میرے یہاں بات بدلتی نہیں۔ [ق: 28-29]
وَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ
اللہ ہرگز اپنا وعدہ جھوٹا نہ کرے گا۔ [الحج: 47]
وعدہ جیسا کہ تفتازانی وغیرہ محققین نے تصریح کی ہے کہ خلف وعید جائز نہیں اور امام نسفی نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ خلف وعید اللہ تعالی پر محال ہے اور یہی صحیح ہے۔ [رد المحتار، ج: 1، ص: 351]
جب قرآن حکیم میں رب کائنات کا یہ ارشاد مبارک موجود ہے: وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ کفر سے نیچے جتنے گناہ ہیں اللہ جسے چاہے گا بخش دے گا۔
تو پھر بعض گنہگار مسلمانوں کو بخش دینے میں خلف وعید کہاں ہوا کہ وعید انہی لوگوں کے لئے ہوئی جنہیں وہ معاف نہ کرے گا۔ ظاہر ہے کہ محققین کے مقابلے میں غیر محققین کی کوئی اہمیت نہیں پھر بھی غیر محققین کے خلف وعید کے جواز کے قول کو دلیل بنا کر کذب باری تعالیٰ کو ممکن بتانا بہت بڑا جرم ہے جب کہ خود غیر محققین اشاعرہ کے نزدیک بھی خلف وعید کذب نہیں بلکہ فضل و کرم ہے۔
اس لئے اللہ سبحانہ کے بارے میں وہابیوں کا یہ باطل عقیدہ جمہور متکلمین کے نزدیک بدعت و بد مذہبیت اور گمراہی ہے جب کہ جمہور فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔
