Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

محبت

محبت
عنوان: محبت
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

محبت کا لغوی معنی: عشق، پیار، اخلاص۔
محبت کا اصطلاحی معنی: چاہت۔
محب کا لغوی معنی: چاہنے والا، محبت کا دعویٰ کرنے والا، عاشق۔
محب کا اصطلاحی معنی: محبت کا دعویٰ کرنے والا۔
محبوب کا لغوی معنی: معشوق، چاہا جانے والا۔
محبوب کا اصطلاحی معنی: جس سے محبت کی جائے۔

محبت لفظ سے تو ہم واقف ہیں۔ ہمیں کسی نہ کسی سے محبت ہوتی ہے۔ کوئی تو عزیز ہوتا ہے، ہم کسی چیز سے، ہمارے والدین سے، بھائی، بہن سے، بھابھی، خالہ، پھوپھی، دادی، دادا، نانا، نانی، بچوں سے محبت کرتے ہیں۔ ہر کسی سے اندازِ محبت مختلف ہوتا ہے۔

لیکن میں یہاں ایک اور محبت کی بات کر رہی ہوں۔ کائنات میں واقعی محبت کرنے والی ذات ہے، تو وہ صرف ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ محبت اس سے کی جاتی ہے جس کی ہر چیز عزیز ہو۔ محبت کے لائق ہو۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سراپا رحمۃ للعالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نور سے سب سے پہلے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے نورِ مبارک کو پیدا فرمایا، جو چالیس سال تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہا۔ نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال تک اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا رہا۔

اللہ کریم نے اپنے سب سے محبوب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو جلوہ گر فرمایا۔ کہتے ہیں کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں اسی کے گن گاتے ہیں، اسی کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کریم نے ذکر فرمایا: مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ الله کا اور نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ گر ہو گیا۔

جلوہ گر ہوتے ہی نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ چالیس سال تک نورِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کی حمد کرتا رہا:

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ

ربِ کائنات جس سے اتنی محبت کرتا ہے، جس کا ذکر خود ہمارا ربِ کریم کر رہا ہے، تو اس سے بڑھ کر محبت کی کیا دلیل ہو سکتی ہے! عشقِ حقیقی کا کوئی حق دار ہے رب کے بعد، تو وہ صرف اور صرف ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارا ذکر بلند کر دیا۔ [الم نشرح: 4] مفسرین نے سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند ہونے کی مختلف توجیہات بیان کی ہیں۔

اور ایک مشہور حدیث شریف ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما أنا قاسم والله يعطي

ترجمہ: بے شک اللہ مجھے دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے آقا نہیں دیتے کچھ، ان سے مانگ کر لوگ شرک کرتے ہیں۔ اس حدیث شریف سے وہ جان لیں اور مان بھی لیں کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ضرور دیتے ہیں، اور وہ بھی رب کی عطا سے دیتے ہیں۔

اللہ کریم قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّٰهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَّلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيْمًا

ترجمہ کنزالایمان: اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور اللہ سے معافی مانگیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔ [النساء: 64] مفہوم آیت ہے کہ اللہ کریم کی محبت و اطاعت کے لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت ضروری ہے۔

اگر آپ اپنے رب سے قربت چاہتے ہوں تو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے عشقِ حقیقی کر لیں۔ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ اسی میں ہماری دنیا و آخرت میں فلاح ہے۔

دنیا میں لڑکے، لڑکیاں نکاح سے پہلے ایک دوسرے سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ساتھ میں جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ آخر کب تک ساتھ ہے یہ محبت؟ صرف چند دن۔ کچھ وقت بعد محبت پھیکی پڑ جاتی ہے۔ وعدے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور آخر میں ذلت و رسوائی ملتی ہے۔ یہ صرف دنیاوی عارضی محبت ہے۔

نوجوان لڑکے لڑکیاں! آپ محبت کرنا چاہتے ہیں تو ایک بار کائنات کی افضل شخصیت ہمارے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کر کے تو دیکھیے! کتنا لطف، سکون و اطمینان ملے گا دل کو۔ ایک بار حضور کا محبت سے نام لے کر تو دیکھیے! آپ کی محبت میں اضافہ نہ ہوا تو دیکھنا۔ آپ کے بگڑے کام بننا شروع نہ ہو جائیں تو دیکھنا۔ آپ کے گھر میں برکتیں آنا شروع ہو جائیں گی۔ یہ عشق آپ کو سب سے عزیز نہ بنا دے تو دیکھنا!

یہ محبت آپ کو دنیا میں بھی کامیاب کرے گی، قبر میں بھی اور آخرت میں بھی۔ کون اتنا اپنے چاہنے والوں کا خیال رکھتا ہے! دنیا میں بھی، قبر میں بھی جہاں سب دنیادار ہمیں تنہا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ وہاں صرف ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہی خیر خواہی کرتے ہیں۔ ہماری خبر لیتے ہیں۔ اور آخرت میں بھی وہی رب سے سفارش بھی کریں گے۔

ہمارے عزیزو! عشقِ رسول کے رنگ میں رنگ دو اپنی ذات کو۔ اپنی ذات کو کائنات کے عزیز کے حوالے کر دو۔ انہی کی ادا پر مر جائیں۔ انہی کی سنتوں کو اپنی عادت بنائیں۔ انہی کو اپنا حال سنائیں۔ انہی کی محبت میں اپنے آپ کو فنا کر دیں۔ یہی ہماری اصل کامیابی ہے۔

اللہ کریم ہمیں اپنے اور اپنے محبوب سے حقیقی محبت عطا فرمائے۔ اپنے محبوب کی سنتوں پر عمل کرنے کی آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!