Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

لفظ اہل سنت و جماعت کی تعریف و مفہوم

لفظ اہل سنت و جماعت کی تعریف و مفہوم
عنوان: لفظ اہل سنت و جماعت کی تعریف و مفہوم
تحریر: ابو احمد محمد انس رضا قادری
پیش کش: محمد رضا توصیفی (مہدیا، مہوتری، جنکپور، نیپال)

”سنت“ کا معنی ہے طریقہ اور اسلامی عقیدہ میں سنت سے مراد وہ طریقہ ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان تھے۔ اسی سے اہل سنت نکلا ہے جس کا معنیٰ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے نقش قدم پر چلنے والے۔ جماعت سے مراد صحابہ کرام علیہم الرضوان، تابعین اور تبع تابعین کی وہ جماعت ہے جو کتاب وسنت پر قائم رہی۔ الوجيز في عقيدة السلف الصالح (أهل السنة والجماعة) اور دیگر کتب عقائد میں اہل سنت و جماعت کی لغوی اور اصطلاحی تعریف یوں کی گئی ہے کہ سنت کا لغوی معنی ہے طریقہ اور اصطلاحی معنی ہے وہ طریقہ جس پر رسول اللہ اور صحابہ کرام علماً، اعتقاداً، قولاً، عملاً اور تقریراً تھے:

”وَتُطْلَقُ السُّنَّةُ أَيْضًا عَلَى سُنَنِ العِبَادَاتِ وَالِاعْتِقَادَاتِ، وَيُقَابِلُ السُّنَّةَ الْبِدْعَةُ.“

اور لفظ سنت کا اطلاق سنن عبادات پر بھی ہوتا ہے اور لفظ سنت بدعت کے بھی مقابل آتا ہے۔

قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ: ”فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ.“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ شدید اختلاف دیکھے گا۔ تم پر میری اور ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت لازم ہے۔

لفظ ”جماعت“ جمع سے نکلا ہے جس کا لغوی معنی ہے کسی شے کا مل جانا اور یہ اجتماع سے مشتق ہے اور یہ تفرقہ کی ضد ہے۔

”وَالْجَمَاعَةُ الْعَدَدُ الْكَثِيرُ مِنَ النَّاسِ، وَهِيَ أَيْضًا طَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ يَجْمَعُهَا غَرَضٌ وَاحِدٌ.“

ترجمہ: جماعت لوگوں کی کثرت کو کہا جاتا ہے اور یہ ایسا ہی ہے جیسے لوگوں کے ایک گروہ کا ایک غرض کے لئے جمع ہو جانا۔

اصطلاحی معنی میں جماعت کا مطلب ہے مسلمانوں کی جماعت۔

”وَهُمْ سَلَفُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الصَّحَابَةِ وَمِنَ التَّابِعِينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ؛ الَّذِينَ اجْتَمَعُوا عَلَى الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، وَسَارُوا عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا. وَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى عِبَادَهُ الْمُؤْمِنِينَ وَحَثَّهُمْ عَلَى الْجَمَاعَةِ وَالِائْتِلَافِ وَالتَّعَاوُنِ وَنَهَاهُمْ عَنِ الْفُرْقَةِ وَالِاخْتِلَافِ وَالتَّنَاحُرِ، فَقَالَ: {وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا} وَقَالَ: {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ} وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ: ((وَإِنَّ هَذِهِ الْمِلَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ، ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَهِيَ الْجَمَاعَةُ)) وَقَالَ: ((عَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَإِيَّاكُمْ وَالْفُرْقَةَ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ، وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، وَمَنْ أَرَادَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ، فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ)).“

ترجمہ: اس جماعت مسلمین میں صحابہ و تابعین اور جنہوں نے ان صحابہ و تابعین کی قیامت تک اتباع کی وہ شامل ہیں۔ وہ جماعت جو قرآن وسنت پر رہی اور اس راہ پر چلے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظاہراً و باطناً تھے۔ اللہ عزوجل نے بندہ مومن کو اس جماعت کے ساتھ رہنے اور اس سے اختلاف و تفرقہ سے منع فرمایا۔ اللہ عز وجل نے فرمایا: اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ دوسری جگہ فرمایا: ان کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے تفرقہ اور اختلاف کیا بعد اس کے کہ ان کے پاس روشن دلیلیں آئیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتّر جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا اور وہ یہ جماعت ہوگی۔ دوسری حدیث پاک میں فرمایا: تم پر لازم ہے کہ جماعت کے ساتھ رہو اور تفرقہ سے بچو۔ شیطان ایک کے ساتھ ہے اور دو سے دور ہے۔ جو جنت میں جانے کا ارادہ رکھتا ہے اس پر جماعت کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ [الوجيز في عقيدة السلف الصالح، ج: 1، ص: 23، وزارة الشؤون الإسلامية، المملكة العربية]

پتہ چلا کہ اہل سنت و جماعت دو حدیثوں سے لیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری اور خلفاء راشدین کی سنت کو تھامے رکھو اور دوسری حدیث میں فرمایا: جماعت کو تھامے رکھو۔ تو اہل سنت و جماعت کا یہ مطلب ہوا کہ وہ گروہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین علیہم الرضوان کے طریقہ پر ہے۔

بریقۃ محمودية في شرح طريقة محمدية وشریعۃ نبویۃ میں ہے:

”(أَهْلُ السُّنَّةِ) أَيْ أَصْحَابُ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ أَيِ التَّمَسُّكُ بِهَا (وَالْجَمَاعَةُ) أَيْ جَمَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَهُمُ الْأَصْحَابُ وَالتَّابِعُونَ وَهُمُ الْفِرْقَةُ النَّاجِيَةُ الْمُشَارُ إِلَيْهَا فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ((سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي ثَلَاثًا وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً)) قِيلَ: وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ ((الَّذِينَ هُمْ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)).“

ترجمہ: اہل سنت یعنی وہ لوگ جو رسول اللہ کی سنت پر عمل پیرا ہونے والے ہیں۔ جماعت کا مطلب ہے رسول اللہ کی جماعت جس میں صحابہ کرام اور ان کی اتباع کرنے والے ہیں۔ یہی فرقہ نجات والا ہے اور اس فرقے کے جنتی ہونے کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ فرمایا ہے کہ یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، بہتر جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا۔ عرض کیا گیا وہ کون ہو گا؟ فرمایا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ [بريقة محمودية، ج: 1، ص: 55، مطبعة الحلبي]

یہی بڑا گروہ ہے اور اسی گروہ کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم ہے۔ ابن ماجہ کی حدیث میں فرمایا:

((إِنَّ أُمَّتِي لَا تَجْتَمِعُ عَلَى ضَلَالَةٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ اخْتِلَافًا فَعَلَيْكُمْ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ)).

ترجمہ: میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔ جب تم اختلاف (فرقہ واریت) دیکھو تو تم پر بڑے گروہ کی اتباع لازم ہے۔ [ابن ماجه، کتاب الفتن، باب السواد الأعظم، ج: 2، ص: 1303، دار إحياء الكتب، الحلبي]

جو اس گروہ سے الگ ہوا جہنم میں گیا جیسا کہ آج کل بعض پڑھے لکھے جاہل کہتے ہیں کہ ہم کسی فرقے میں نہیں، ہم بس مسلمان ہیں۔ دیکھیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرقہ واریت کے وقت کہا کہ بڑے گروہ کے ساتھ ہو جاؤ، الگ نہ رہو۔ الگ رہنے والوں کو شیطان گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مشکوۃ شریف کی حدیث ہے:

”عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاذَّةَ وَالْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ وَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ وَالْعَامَّةِ)).“

ترجمہ: روایت ہے حضرت معاذ بن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کہ شیطان آدمی کا بھیڑیا ہے جیسے بکریوں کا بھیڑیا الگ اور دور اور کنارے والی کو پکڑتا ہے۔ تم گھاٹیوں سے بچو مسلمانوں کی جماعت اور عوام کو لازم پکڑو۔ [مشكوة المصابيح، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج: 1، ص: 40، المكتب الإسلامي بيروت]

مسند احمد اور ابوداؤد شریف کی بسند صحیح حدیث ہے:

”عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ((مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ)).“

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہوا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار دی۔ [سنن ابودائود، کتاب الایمان، باب الخوارج، ج: 2، ص: 655، دار الفکر بیروت]

[73 فرقے اور ان کے عقائد، ص: 22-26]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!