Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امریکہ میں درسِ نظامی کا فروغ

امریکہ میں درسِ نظامی کا فروغ
عنوان: امریکہ میں درسِ نظامی کا فروغ
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: محمد سلمان العطاری

اس وقت ساری دنیا کا موضوع نئے امریکی صدر کے وہ صدارتی احکامات ہیں جن سے پورے امریکہ میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے، اور دنیا بھر کے میڈیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں کہ اگلے دن کون سا فرمان صادر ہوتا ہے۔ سیاسی اہلکار، ارکانِ حکومت اور میڈیا کے افراد کے مابین وہ دھینگا مشتی مچی ہے کہ اس سے پہلے ایسے مناظر دیکھنے کو نہیں ملے، اور احتجاج کی رسم وراہ جو تیسری دنیا کے لوگوں کا طرۂ امتیاز رہا ہے وہ سب کچھ امریکی ہوائی اڈوں اور سرکاری آفسوں کے سامنے دیکھنے کو بھی ملا ہے۔

بہر کیف اس سرگزشت سے ایک بات کھل کر سامنے آئی ہے، وہ یہ کہ آج تک دنیا کا سب سے طاقت ور شخص وہ مانا جاتا تھا جس کی رسائی وہائٹ ہاؤس کے مسندِ اقتدار تک ہو جاتی ہے، لیکن قوت و اقتدار کا یہ طلسم اُس وقت ٹوٹ گیا جب سات مسلم ممالک کے شہریوں کو نوے دن کے لیے امریکہ آنے پر پابندی کا صدارتی فرمان صادر ہوا اور اس کے بعد امریکی ہوائی اڈوں پر سراپا احتجاج عوام کا جو ہجوم اُمڈ پڑا اس کے زیر اثر وفاقی کورٹ کے جج نے اس فرمان کو کالعدم قرار دے دیا، اور نئے امریکی صدر کے صدارتی حکم کے باوجود ہوائی کمپنیاں ان سات ممالک کے شہریوں کو امریکہ لانے لگ گئیں، اور امریکی صدر ایک حریف کی صورت بس اس پر تنقید کرتے رہے۔

خیر اس پر تبصرہ پھر کبھی، فی الحال ہم اپنے قارئین کی بارگاہ میں ایک خوش گوار خبر لے کر آئے ہیں۔ وہ یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کا حلف لینے کے دوسرے دن جب سات مسلم ممالک کے مسافروں پر امریکہ آمد پر پابندی کا حکم نامہ جاری کر رہے تھے ٹھیک اسی دن ہیوسٹن کے النور انسٹی ٹیوٹ (دارالعلوم) میں چار امریکی طالبِ علم کے سروں پر دستارِ فضیلت باندھی جا رہی تھی۔ یہ واقعہ امریکہ کی اسلامی تاریخ کا اہم واقعہ ہے جب یہاں درسِ نظامی کے نصاب پر علما کی پہلی ٹیم تیار کی گئی ہے۔ راقم الحروف کے لیے یہ واقعہ اس لیے زیادہ اہم ہے کہ ہمارے اس سفر کا مقصد یہی تھا کہ یہاں درسِ نظامی کو فروغ دیا جائے۔

2012ء میں جب امریکہ آمد ہوئی اور اس کام کا آغاز کیا گیا اس وقت کیا منصوبہ تیار کیا گیا اور اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اپنائی گئی اور کیا کیا رکاوٹیں سامنے آئیں؟ ان سب کی پوری داستان ہے جو ہم کسی اور موقع کے لیے اٹھا رکھتے ہیں، لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ انت بھلا تو سب بھلا، بالآخر ہماری کوششیں رنگ لائیں اور پچاس سے زائد طلبہ ہمارے ساتھ تعلیمی سرگرمیوں میں پورے ذوق وشوق کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔

در اصل مغربی ممالک میں درسِ نظامی کے امکانات بڑے محدود ہیں، اسی لیے جو علما ان ممالک میں آئے ان کی خدمات دعوت وتبلیغ اور امامت وخطابت تک محدود رہیں، تدریس کا سلسلہ نہ بن پایا تھا، کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام نے ہر شخص کو عصری تعلیم اور دولت کمانے میں مصروف کر دیا ہے۔ جتنے مسلمان اسی ماحول میں رنگ گئے ان کی مذہبی زندگی بس جمعہ اور عیدین کی نماز تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے، اور جو لوگ دینی مزاج رکھتے ہیں وہ باقاعدہ مسجدوں سے ربط و تعلق رکھتے ہیں، ان کے لیے ہفتہ وار درسِ قرآن اور درسِ حدیث کا بھی اہتمام ہوتا ہے، یہ لوگ جمعہ کی تقریر بہت شوق سے سنتے ہیں، ان کے لیے دینی تعلیم وتربیت کا ذریعہ یہی خطابات اور دروس ہوتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت مختصر ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ممالک میں درسِ نظامی اور عالم کورس کے لیے باقاعدہ درسگاہی نظام کی کتنی گنجائش ہوگی، اور اس کے لیے ان کی زبان اور ان کے اسلوب میں پڑھانے والے استاذ کہاں سے آئیں گے؟ اور پڑھنے والے طلبہ کہاں سے دستیاب ہوں گے؟ اسکول کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد جو لوگ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ پروفیشنل کورسز کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، دینی تعلیم حاصل کرنے سے ان کو دنیا کمانے کے امکانات نظر نہیں آتے، اس لیے بھی ادھر توجہ نہیں ہو پارہی ہے۔

ایسے ماحول میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کہیں کوئی ایسا نظم جاری ہوا ہو تو اس کو کن حالات کا سامنا ہوگا۔ اس تناظر میں اپنی داستان سنانے کے بجائے اس سلسلے کی ایک کوشش اور اس کے نتائج پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ طلبہ اور اساتذہ کے سامنے یہ فارمیٹ بھی آجائے جو آزمایا جا چکا ہے، اور بڑے شہروں میں حسب ضرورت اس کو نافذ بھی کیا جاسکے۔

شمالی امریکہ کے چوتھے مرکزی شہر ہیوسٹن کی مرکزی مسجد النور مسجد جہاں مفتی محمد قمر الحسن بستوی گزشتہ پچیس سال سے دینی خدمات انجام دے رہے ہیں، یہاں کے ذمہ داروں نے حالات اور بدلتے ہوئے تقاضوں کو محسوس کرتے ہوئے عالم کورس شروع کرنے کا منصوبہ بنایا، اس کے لیے ان کے پاس وسیع وعریض جگہ بھی تھی اس لیے ان حضرات نے ناچیز کو 2012 میں اس خدمت کے لیے مدعو کیا، اکتوبر کی آخری تاریخوں میں جب میں پہنچا تو انتظامیہ نے ملکی حالات اور مسلمانوں کی ضرورت کے مطابق تین سالہ ایسا عالم کورس ترتیب دینے کو کہا جس کو پڑھ لینے کے بعد ایک شخص خطابت و امامت کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار عالم دین کی حیثیت سے دینی خدمات انجام دے سکے۔ لیکن تدریس کی زبان انگلش ہوگی۔ یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا، لیکن ہم نے اسے قبول کیا، اس کے امکانات ہمیں اس لیے نظر آرہے تھے کہ یہاں کے طلبہ ہوشیار، ذہین اور لازمی طور پر عصری درسگاہوں کے تعلیم یافتہ تھے، نحو وصرف اور عربی ادب سکھانے میں جو دو تین سال لگ جاتے ہیں ہم امید کر سکتے تھے کہ ان طلبہ کو چند ماہ میں ان فنون پر کنٹرول دیا جا سکتا ہے۔ اور عربی زبان پر کنٹرول حاصل ہونے کے بعد باقی فنی کتب کو بس سمجھانے کا کام رہ جاتا ہے۔ دوسری تکنیک یہ لگائی کہ ان تین سالوں کے دوران ان طلبہ سے گھنٹوں کے اعتبار سے اتنا وقت لیا جائے جتنا وقت ہمارے ملکوں میں تعلیم پر پانچ چھ سال میں صرف کیا جاتا ہے۔ یعنی ہر روز چھ سے سات گھنٹے تعلیمی وقت، رمضان میں تعلیم جاری رکھی جائے۔ امتحان کی تیاری کا وقفہ نہ دیا جائے بلکہ ہر کتاب کی تکمیل پر اسی وقت امتحان لے لیا جائے، وغیرہ۔ اس کے بعد ہم نے اس کا نصاب تیار کیا اور اس کی کامیابی کے لیے چند شرطیں رکھیں:

  1. طالب علم ہائی اسکول یا اس کے مساوی نصاب کا گریجویٹ ہو یعنی انگلش لکھنا پڑھنا خوب اچھی طرح جانتا ہو۔
  2. قرآن پاک دیکھ کر روانی کے ساتھ پڑھ سکتا ہو۔
  3. تین سالوں میں امتحان کی تیاری کا کوئی وقفہ اور بڑی چھٹیاں نہیں ہوں گی۔
  4. طلبہ کی حاضری سو فیصد لازمی ہوگی۔

ان شرطوں نے ان پر واضح کر دیا کہ ہم اس کام کو ایک چیلنج کے طور پر لینے کے لیے تیار تھے۔ ہم نے واضح کر دیا یہ شرطیں پہلے بیچ (Batch) کے لیے ہیں، جن کو آئندہ تدریس کے لیے تیار کرنے کا ارادہ تھا۔ نصاب کی تیاری بھی بڑا مرحلہ تھا کہ کون سی کتابیں رکھیں کون سی نکالیں۔ ہر کتاب اپنی جگہ اہم تھی، چند روزہ کوششوں کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ نحو و صرف، منطق و فلسفہ وغیرہ علومِ آلی کی کئی کتابیں کم کیں تو دوسری کئی کتابوں کا اضافہ کرنا پڑا، مثلاً عقیدہ کے لیے شرح عقائد پر اکتفا کرنے کی بجائے اور کتابیں بھی پڑھانے کی ضرورت محسوس ہوئی، لہٰذا ہم نے المعتقد المنتقد، المستند المعتمد، البدایہ فی اصول الدین، اور شفا للقاضی عیاض کے آخری ابواب داخل کر دیے۔ یوں ہی اصولِ فقہ میں تو مروجہ کتابیں ہی پڑھائیں لیکن فقہ و اصولِ حدیث کے لیے کتابیں بڑھانی پڑیں۔

عرض یہ کرنا ہے کہ عصری تعلیم یافتہ طلبہ کی جو چھوٹی سی ٹیم ملی اور ان کو منہاج العربیہ سے بخاری شریف تک پڑھانے کا بڑا خوش گوار تجربہ رہا اس سے اندازہ ہوا کہ اگر طریقِ تعلیم میں تھوڑی سی تبدیلی لائی جائے تو کم وقت میں تعلیم کے بہت سارے مرحلے طے کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً، کتاب سے زیادہ فن کو اہمیت دی جائے، ہر روز زیادہ کتابوں اور فنون پر تھوڑا تھوڑا وقت لگانے کی جگہ دو تین کتابوں پر زیادہ وقت لگا دیا جائے، اس سے وہ فن یا کتاب جلد تکمیل تک پہنچتی ہے اور خوب تفصیل و تشریح میسر آنے کے سبب طلبہ کو بحثیں خوب راسخ ہو جاتی ہیں۔

اس کورس کے چار سال مکمل ہونے کے بعد فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے دستار بندی کا شاندار پروگرام رکھا گیا، جس کے لیے 21 جنوری کی تاریخ طے کی گئی۔ طلبہ میں اس پروگرام کے لیے بڑا جوش و خروش تھا۔ اور ارکانِ ادارہ نے بھی اس کے لیے بھرپور انتظامات کیے۔ فراغت کے اس پہلے پروگرام کے لیے فارغین کے وہ تحریری کام جو انھوں نے دورانِ درس مختلف موضوعات پر تیار کیے تھے ان کو کتابی شکل میں شائع بھی کیا گیا، جس سے مہمان علمائے کرام نے بھی ان فارغین کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا، اس پروگرام کو ہم نے اس طرح ترتیب دیا کہ یہاں کے لوگوں کے لیے اسے درسِ نظامی کا ایک تعارفی کنونشن بنا دیا جائے، جس سے لوگوں کو اندازہ ہو کہ عالم کورس میں طلبہ کون کون سے فن اور کتابیں پڑھتے ہیں؟ اور تعلیم کس معیار کی ہوتی ہے؟ اس کے لیے تمام طلبہ نے مختلف موضوعات اور فنون پر اپنا اپنا تحریری نمونہ انگلش زبان میں بڑے سلیقے سے تیار کیا جس کی نمائش کی گئی، جسے دیکھ کر لوگ خوب محظوظ ہوئے اور اس کی تصویریں فیس بک اور سوشل میڈیا پر عام کی گئیں۔ جلسے میں مہمان علمائے کرام کے علاوہ علاقے کے تمام علمائے کرام شریک تھے، دینی پروگراموں کا رواج تو یہاں عام ہے، لیکن لوگوں نے اتنے علمائے کرام ایک اسٹیج پر پہلی بار دیکھے تھے، ہندوستان سے شہزادۂ صدر الشریعہ حضرت مفتی بہاء المصطفیٰ قبلہ قادری تشریف لائے تھے، پاکستان سے مفتی منیب الرحمن صاحب اور انگلینڈ سے مفکرِ اسلام علامہ قمر الزماں اعظمی شریک تھے۔ پروگرام میں پہلے اساتذہ کی دستار بندی کرائی گئی پھر فارغین کی دستار بندی ہوئی۔ دستار بندی کے بعد چاروں فارغین کی چار کتابیں علمائے کرام اور سامعین کے مابین تقسیم کی گئیں۔ اس طرح کا پروگرام دیکھ کر یہاں کے لوگوں میں نیا احساسِ حب جاگا ہے، اور بڑی خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے، اور امید ہو گئی ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں اس خطے میں اس نئی نسل کے ذریعہ دین کا بڑا کام ہو سکے گا۔ السَّعْيُ مِنَّا وَالْإِتْمَامُ مِنَ اللهِ۔ [15 فروری 2017ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!