| عنوان: | باطنی امراض - تعارف و علاج (قسط: اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد افتخار الحسن قادری امجدی، بجنوری |
| پیش کش: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
خالق کائنات نے انسانی جسم کو چند اعضا کا مجموعہ بنایا اور ہر عضو کو ایک مخصوص کام کی صلاحیت ودیعت فرمائی، مثلاً ظاہری اعضا میں ہاتھوں کو پکڑنے، پاؤں کو چلنے، آنکھوں کو دیکھنے اور کانوں کو سننے کی قوت عطا فرمائی۔ انسان مذکورہ جسمانی حصوں کے ذریعے ہر جائز و ناجائز اعمال و افعال کر سکتا ہے، مگر باری تعالیٰ کے حلال کردہ کاموں کے کرنے پر اجر و ثواب اور حرام فرمودہ اعمال کا ارتکاب کرنے پر عذاب و عتاب کا مستحق ہوتا ہے۔ اس طرح باطنی اعضا قلب وغیرہ میں نیک و بد وساوس و خطرات پیدا ہوتے ہیں، لیکن جو حضرات اچھے خیالات پر عمل کرتے ہیں اور برے خیالات کو رد کرتے ہیں، وہ رضائے الٰہی حاصل کر کے جنت کو اپنا مسکن بناتے ہیں، جہنم سے آزادی اور عذاب اخروی سے نجات پاتے ہیں۔ لیکن آج اکثر کا حال یہ ہے کہ ان کا ظاہر و باطن دونوں پراگندہ ہیں، اور کچھ لوگ ہیں جو ظاہری تقویٰ اختیار کر کے اپنی عاقبت سنوارتے ہیں اور باطن پر بالکل توجہ نہیں فرماتے إِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ۔
یہ ایک مسلم الثبوت امر اور ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اگر ظاہری اعضا کام کرنا بند کر دیں تو انسان اس کو قابل عمل بنانے کے لئے اپنی زندگی کا مکمل سرمایہ صرف کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اور اگر قلب باطنی بیماریوں کا گھر بن جائے تو اس کے علاج و اصلاح کا ارادہ تک نہیں کرتے۔ جب کہ ظاہری بیماری انسان کی خوش حال زندگی کو بدحال بناتی ہے، جسمانی قوت و صحت، حسن و خوبصورتی برباد کرتی ہے اور موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، مگر باطنی بیماری انسان کے ایمان اور اعمال صالحہ پر ملنے والی نیکیوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے اور اس کے ناختم ہونے والے اثرات موت کے بعد ایسی بھیانک شکل میں سامنے آتے ہیں جو قبر کا سکون اور آخرت کا چین چھین لیتے ہیں۔
حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔ اگر باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے۔ اور اگر باطن حسد، ریا اور تکبر وغیرہ عیوب سے پاک ہو تو ظاہری اعمال بھی درست ہوتے ہیں۔“ (منہاج العابدین مترجم، پہلا باب، ص: ۴۳)
باطنی بیماری (گناہوں) کا سرچشمہ قلب یعنی دل ہے، اس لئے سب سے پہلے دل کی اصلاح از حد ضروری ہے۔
حضرت سیدنا امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جس کی حفاظت اور نگہداشت از حد ضروری ہے وہ دل ہے کیونکہ یہ تمام جسم کی اصل ہے۔ چنانچہ اگر تیرا دل خراب ہو تو تیرے تمام اعضا خراب ہوں گے اور اگر تو اس کی اصلاح کرلے تو باقی سب اعضا کی اصلاح ہو جائے گی، کیونکہ دل درخت کے تنے کی مانند ہے اور باقی اعضا شاخوں کی طرح اور شاخوں کی اصلاح یا خرابی تنے پر موقوف ہے۔ تو اگر تیری آنکھ، زبان، پیٹ وغیرہ درست ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرا دل درست ہے اور اصلاح یافتہ ہے، اگر آنکھ، زبان، شکم وغیرہ گناہوں کی طرف راغب ہیں تو سمجھ لے کہ تیرا دل خراب ہے۔ پھر تجھے یقین کرنا چاہئے کہ دل کا فساد اور زیادہ سنگین ہے، اس لئے اصلاح قلب کی طرف پوری توجہ دے تاکہ تمام اعضا کی اصلاح ہو جائے اور تاکہ تو روحانی راحت محسوس کرے۔ پھر قلب کی اصلاح نہایت مشکل اور دشوار ہے کیونکہ اس کی خرابی خطرات اور وساوس پر مبنی ہے جن کا پیدا ہونا بندہ کے اختیار میں نہیں، اس لئے اس کی اصلاح میں پوری ہوشیاری، بیداری اور بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر اصحاب مجاہدہ و ریاضت اصلاح قلب کو زیادہ دشوار خیال کرتے ہیں اور ارباب بصیرت اس کی اصلاح کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔“ (منہاج العابدین، تیسرا باب، ص: ۲۶۱)
قرآن و احادیث میں جس طرح ظاہری گناہوں سے اجتناب کا حکم فرمایا گیا، اسی طرح باطنی گناہوں سے دوری اختیار کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ لہٰذا ہر عاقل بالغ مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے کہ ظاہری گناہ کے ساتھ باطنی گناہوں کا علم اور اس کا علاج جانے، تاکہ فانی زندگی باطنی سیئات سے خالی اور حیات اخروی عالی ہو۔
امام اہل سنت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن نے فتاویٰ رضویہ شریف میں چالیس (۴۰) باطنی بیماریاں ذکر فرمائی ہیں، لیکن ہم اپنے اس مختصر مضمون میں ان بیماریوں میں سے صرف نفاق، تکبر، ریاکاری، حسد اور حرص کا تعارف و علاج تحریر کریں گے۔
نفاق کی تعریف:
زبان سے مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نفاق اعتقادی ہے، اور زبان و دل کا یکساں نہ ہونا نفاق عملی کہلاتا ہے۔
اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر منافقین کی پہچان اور ان کی اخروی سزا بیان فرمائی، چند آیات مقدسات بطور استشہاد نذر قارئین ہیں:
بَشِّرِ الْمُنَافِقِيْنَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيْمًا
ترجمۂ کنز الایمان: خوش خبری دو منافقوں کو کہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ (سورۃ النساء: ۱۳۸)
إِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِيْنَ وَالْكَافِرِيْنَ فِيْ جَهَنَّمَ جَمِيْعًا
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔ (سورۃ النساء: ۱۴۰)
إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيْرًا
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔ (سورۃ النساء: ۱۴۵)
اَلْمُنَافِقُوْنَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَأْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَيَقْبِضُوْنَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ هُمُ الْفَاسِقُوْنَ
ترجمۂ کنز الایمان: منافق مرد منافق عورتیں ایک تھیلی کے چٹے بٹے (ایک جیسے ہیں) برائی کا حکم دیں اور بھلائی سے منع کریں اور اپنی مٹھی بند رکھیں (خرچ نہ کریں) وہ اللہ کو چھوڑ بیٹھیں تو اللہ نے انہیں چھوڑ دیا، بے شک منافق وہی پکے بے حکم ہیں۔ (سورۃ التوبۃ: ۶۷)
وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنَافِقِيْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِيْنَ فِيْهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللّٰهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ
ترجمۂ کنز الایمان: اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کو جہنم کی آگ کا وعدہ دیا ہے جس میں ہمیشہ رہیں گے، وہ انہیں بس کافی ہے اور اللہ کی ان پر لعنت ہے اور ان کے لئے قائم رہنے والا عذاب ہے۔ (سورۃ التوبۃ: ۶۸)
منافق حدیث کی روشنی میں:
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین عادتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں وہ منافق ہے، اگرچہ روزہ رکھے، نماز پڑھے اور یہ گمان کرے کہ وہ مسلمان ہے:“
- بات کرے تو جھوٹ بولے۔
- وعدہ کرے تو پورا نہ کرے۔
- امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔
(احیاء العلوم، ج: ۳، ص: ۴۸۹)
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَرْبَعَةٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ كَانَ مُنَافِقًا، أَوْ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنَ الْأَرْبَعِ، كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چار عادتیں جس میں ہوں وہ منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک ہو، اس میں نفاق کی ایک عادت ہے حتیٰ کہ اسے چھوڑ دے:“
- بات کرے تو جھوٹ بولے۔
- وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔
- عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔
- جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے۔
(سنن نسائی، کتاب الایمان وشرائعہ، باب علامۃ المنافق، حدیث ۱۳۲۹)
پہلی حدیث میں تین کاموں کو منافق کی علامت بیان فرمایا ہے اور دوسری حدیث میں چار کاموں کو منافق کی علامت قرار دیا۔ یہ اختلاف مقتضائے حال اور مقام کے اعتبار سے ہے، کبھی آپ کے سامنے ایسے منافق تھے جن میں چار خصلتیں تھیں اور کبھی ایسے تھے جن میں تین خصلتیں تھیں، اس لئے آپ نے کبھی چار اور کبھی تین خصلتیں بیان فرمائیں۔
عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ صَلَاةٌ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِيْنَ مِنَ الْفَجْرِ وَالْعِشَاءِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيْهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عشا اور فجر کی نماز منافقوں پر سب سے بھاری ہے۔“ اور فرمایا: ”کاش ان کو معلوم ہوتا کہ عشا اور فجر کی نماز میں کتنا اجر ہے تو گھٹنوں کے بل حاضر ہوتے۔“ (صحیح البخاری، کتاب الاذان)
جاری ہے۔۔۔
