| عنوان: | کثرت طلاق کی وجوہات اور ان کا شرعی حل (قسط: ششم و آخر) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی مشتاق احمد امجدی |
| پیش کش: | بنت شہاب عطاریہ |
۹۔ طعنہ زنی
انسان خطا کا پتلا ہے اسی لیے انسان ہی سے غلطی ہوتی ہے، کسی کی غلطی پر اس کی مناسب اصلاح ہونی چاہیے مگر بہت سے مردوں اور عورتوں کو بات بات پر ایک دوسرے کو طعنہ دینے کی عادت سی ہو جاتی ہے، طعنہ دینا وہ مذموم عادت ہے جو بہت بار انتہائی مہلک اور خطرناک ثابت ہوتی ہے، بہت سے حریص اور لالچی شوہر اور بسا اوقات شوہر کے اہلِ خانہ سامانِ جہیز کم ملنے پر اس قدر لعن طعن کرتے ہیں کہ عورت کا جینا دو بھر ہو جاتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کہ اس نے سامانِ جہیز سے شادی کی ہو یا سامانِ جہیز کے لیے ہی پروان چڑھا ہو، ایسے میں ایک عورت سکون کی سانس لینے کے لیے علاحدگی اختیار کر لیتی ہے اور دونوں کا گھر اجڑ جاتا ہے، لہٰذا ہر مرد و عورت کو چاہیے کہ طعنہ زنی کے نقصانات سے بچنے کے لیے، عفو و درگزر اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں خصوصاً مرد کے اہلِ خانہ اس پر کامل توجہ دیں۔
۱۰۔ بیوی کو بے سبب زدوکوب کرنا
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو مارنے پیٹنے اور کسی بھی قسم کی تکلیف پہنچانے سے منع فرمایا اور ایسے لوگوں کو ”برے لوگ“ قرار دیا، خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے نمونہ ہے کہ آپ نے کبھی اپنی بیویوں میں سے کسی پر کبھی اپنا ہاتھ نہیں اٹھایا، ہاں مخصوص صورتوں میں بیوی کو بغرضِ اصلاح معمولی پٹائی کی اجازت ہے مگر کچھ ناہنجار مرد اس قدر ظالم و جابر، اخلاق و مروت سے عاری اور نفس کے غلام ہوتے ہیں جو بات بات پر اپنی بیوی کو تختۂ مشق بناتے ہیں، خوب زدو کوب کرتے ہیں اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے ہیں لاچار عورت مجبور ہو کر اس سے علاحدگی حاصل کر لیتی ہے۔ جو لوگ بے جا اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتے ہیں انہیں اس حدیث شریف سے سمجھ حاصل کرنی چاہیے۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ
(بخاری شریف، کتاب النکاح، باب ما یکرہ من ضرب النساء، ج ۲، ص ۱۸۴)
یعنی تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو اس طرح نہ پیٹنے لگے جس طرح غلام کو پیٹا جاتا ہے اور پھر دوسرے دن جنسی میلان کی تکمیل کے لیے اس کے پاس جائے۔
۱۱۔ موبائل کا غلط استعمال
یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے کہ موبائل آج کل ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، اس کے فوائد سے بھی کسی کو انکار کی گنجائش نہیں تاہم اس کے نقصانات اس کے فوائد پر غالب ہیں، خصوصاً اس کی وجہ سے انسانی اقدار اور اسلامی اخلاق و آداب میں جو گراوٹ اور بدتری پیدا ہوئی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے، عوام تو عوام بعض خواص بھی جس سینما بینی کو پہلے معیوب سمجھتے تھے اور خلافِ شرع جانتے تھے اب اس پر اسلامی سیریل کا خوبصورت لیبل لگا کر نہ صرف تنہائی میں دیکھنا بلکہ اپنے افرادِ خانہ میں اجتماعی نمائش سے ذرا برابر بھی نہیں ہچکچاتے، اس سیریل بینی نے بالعموم سب کو اور بالخصوص خواتین کو انسانی ہمدردی اور رشتوں کی نزاکت سے غافل و بے بہرہ کر دیا ہے، جس کے سبب اکثر گھروں میں ساس بہو، میاں بیوی اور نند بھوجائی وغیرہ میں ان بن لگی رہتی ہے بالآخر بات طلاق تک پہنچتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دینی حمیت و غیرت کا مظاہرہ کریں، خود بھی اس بلا سے دور رہیں اور اپنے بچوں کو بھی دور رکھیں، خالی اوقات میں سیریل کی جگہ محافلِ درود سجائیں یا صالحین و صالحات کی حکایات پر مشتمل کتابیں پڑھیں یا کسی اور نیک کام میں اپنی مصروفیت رکھیں۔
کثرتِ طلاق کے یہ چند اسباب قدرے اختصار کے ساتھ بیان ہوئے، امید ہے کہ اگر ان اسباب پر دھیان دیا گیا اور اسے دور کرنے کی کوشش کی گئی تو ہمارے سماج سے کثرتِ طلاق کی یہ وبا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور چین و سکون ہمارے معاشرہ کا مقدر ہوگا، اللہ تعالیٰ ہمیں عقلِ سلیم کی دولت سے نوازے اور ہمارے سماج و معاشرہ سے اس بیماری کا خاتمہ فرمائے، آمین یا رب العالمین۔
