Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

باورچی خانے سے شوگر کنٹرول تک خون کی شوگر پر غذاؤں کا اثر

باورچی خانے سے شوگر کنٹرول تک: خون کی شوگر پر غذاؤں کا اثر
عنوان: باورچی خانے سے شوگر کنٹرول تک: خون کی شوگر پر غذاؤں کا اثر
تحریر: ڈاکٹر ارم فرح۔ ایم. ڈی (ڈرماٹولوجی)
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

خون کی شوگر، ہمارے جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے، لیکن اس کا توازن برقرار رکھنا صحت مند زندگی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اگر خون میں شوگر کی سطح طویل عرصے تک بلند رہے تو یہ انسانی جسم کے نازک اعضاء جیسے آنکھوں، گردوں، دل اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ دوسری جانب، شوگر کا بہت کم ہو جانا بھی خطرناک ہے کیوں کہ اس سے جسمانی کمزوری، چکر آنا اور بے ہوشی جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اصل چیلنج شوگر کو نہ بہت زیادہ ہونے دینا ہے اور نہ ہی بہت کم، بلکہ اسے ایک مستحکم حد میں رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ سب سے اہم کردار ہماری روزمرہ کی غذا کا ہوتا ہے، کیوں کہ ہم جو کچھ کھاتے ہیں وہ براہِ راست ہمارے خون میں شوگر کی مقدار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

غذاؤں کا انتخاب کرتے وقت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کچھ اشیاء شوگر کو فوری طور پر بڑھا دیتی ہیں جب کہ کچھ آہستہ آہستہ خون میں شامل ہوتی ہیں۔ وہ غذائیں جو شوگر کو تیزی سے بڑھاتی ہیں، ان سے پرہیز یا ان کا بہت کم استعمال ضروری ہے۔ ان میں سفید چاول، میدے سے بنی اشیاء جیسے نان، بھٹورا، سفید بریڈ اور بسکٹ شامل ہیں، کیوں کہ ان میں فائبر کی کمی ہوتی ہے اور یہ فوراً شوگر میں بدل جاتے ہیں۔ اسی طرح مٹھائیاں، جلیبی، چاکلیٹ، کولڈ ڈرنکس اور ڈبہ بند جوسز کے ساتھ ساتھ تلی ہوئی اشیاء جیسے پکوڑے اور چپس بھی شوگر کو بے لگام کر دیتے ہیں۔ آم، کیلا اور انگور جیسے میٹھے پھل بھی اعتدال میں کھانے چاہئیں اور ان کا جوس نکالنے کے بجائے انہیں ثابت کھانا بہتر ہے۔

شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے ایسی غذاؤں کو ترجیح دینی چاہیے جو دیر پا توانائی فراہم کریں۔ اس میں ثابت اناج جیسے گندم کی روٹی، جوار، باجرہ، راگی اور اوٹس بہترین ہیں کیوں کہ یہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں۔ سبزیوں میں لوکی، توری، کدو، پالک اور خاص طور پر کریلے کا استعمال شوگر اور ہاضمے دونوں کے لیے اکسیر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پروٹین کی فراہمی کے لیے دالیں، چنا، انڈا، مچھلی یا چکن کا استعمال شوگر کو اچانک بڑھنے سے روکتا ہے۔ صحت مند چکنائی کے لیے سرسوں یا مونگ پھلی کا تیل اور چند بادام بھی خوراک کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں۔

اپنی روزمرہ زندگی میں چند سادہ اصولوں کو اپنا کر شوگر کو آسانی سے مینج کیا جا سکتا ہے۔ ہمیشہ وقت پر کھانا کھائیں، ناشتہ ہرگز نہ چھوڑیں اور کوشش کریں کہ آپ کی پلیٹ کا آدھا حصہ سبزیوں پر مشتمل ہو۔ خالی پیٹ میٹھا کھانے سے گریز کریں اور ہر کھانے کے بعد کم از کم 10 سے 15 منٹ کی چہل قدمی کو اپنی عادت بنائیں۔ ایک مثالی دن کا آغاز اناج کی روٹی یا اوٹس سے کیا جا سکتا ہے، جب کہ دوپہر میں دال، سبزی، دہی اور سلاد کا استعمال بہترین ہے۔ شام کے وقت بھنے ہوئے چنے یا بغیر شکر کی چائے لی جا سکتی ہے اور رات کا کھانا ہلکا رکھنا چاہیے۔ یاد رکھیں، شوگر کنٹرول کرنے کی بنیاد آپ کے باورچی خانے سے شروع ہوتی ہے؛ اگر آپ سبزیوں اور پروٹین کا استعمال بڑھا دیں، اور میٹھی و تلی ہوئی چیزوں سے دوری اختیار کریں، تو آپ ایک محفوظ اور متوازن زندگی گزار سکتے ہیں۔

جدید علمِ طب (Modern Medical Science) کے تناظر میں شوگر یا ذیابیطس کا انتظام صرف پرہیز تک محدود نہیں بلکہ یہ سمجھنے پر منحصر ہے کہ ہمارا جسم مختلف خوراکوں پر کیسا ردِعمل دیتا ہے۔ طبی تحقیق بتاتی ہے کہ خون کی شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے ”گلائسیمک انڈیکس“ (Glycemic Index) اور ”گلائسیمک لوڈ“ کو سمجھنا سب سے اہم ہے۔ وہ اشیاء جن کا گلائسیمک انڈیکس زیادہ ہوتا ہے، جیسے سفید چینی یا میدہ، وہ خون میں گلوکوز کی سطح کو ایک دم بلند کر دیتی ہیں جس سے لبلبے (Pancreas) پر انسولین بنانے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ جدید طب کے مطابق، اگر یہ عمل بار بار دہرایا جائے تو جسم کے خلیات انسولین کے خلاف مزاحمت (Insulin Resistance) پیدا کر لیتے ہیں، جو ذیابیطس ٹائپ 2 کی اصل جڑ ہے۔

جدید میڈیکل سائنس اب ”کم کاربوہائیڈریٹ اور زیادہ فائبر“ (Low Carb, High Fiber) والی غذا پر زور دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فائبر نہ صرف نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے بلکہ یہ گلوکوز کے جذب ہونے کی رفتار کو بھی سست کر دیتا ہے، جس سے خون میں شوگر کا گراف اچانک اوپر جانے کے بجائے ہموار رہتا ہے۔ اسی طرح، پروٹین اور صحت مند چکنائی (جیسے اومیگا-3 فیٹی ایسڈز جو مچھلی اور اخروٹ میں پائے جاتے ہیں) کا استعمال خون کی نالیوں کی سوزش کو کم کرتا ہے اور دل کی صحت کو تحفظ دیتا ہے، جو شوگر کے مریضوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ جدید طب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ تمام چکنائیاں بری نہیں ہوتیں؛ ”ٹرانس فیٹس“ (بیکری اور تلی ہوئی اشیاء) نقصان دہ ہیں، جب کہ زیتون کا تیل یا دیسی گھی کی محدود مقدار فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

طبی ماہرین اب ”میل ٹائمنگ“ (Meal Timing) اور ”سرکاڈین ردہم“ (Circadian Rhythm) پر بھی بہت تحقیق کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، سورج ڈھلنے کے بعد میٹابولزم سست ہو جاتا ہے، اس لیے رات کا کھانا ہلکا اور جلدی کھانا خون کی شوگر کو مستحکم رکھنے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، جدید سائنس ”مسل ماس“ (Muscle Mass) کی اہمیت پر زور دیتی ہے؛ کیونکہ پٹھے گلوکوز کے سب سے بڑے صارف ہیں، اس لیے صرف خوراک ہی نہیں بلکہ ورزش بھی شوگر کو خلیات کے اندر جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مختصراً یہ کہ جدید طب ہمیں ایک ایسے طرزِ زندگی کی طرف مائل کرتی ہے جہاں ہم صرف کیلوریز نہیں گنتے بلکہ ایسی خوراک کا انتخاب کرتے ہیں جو ہمارے ہارمونز اور میٹابولزم کے ساتھ ہم آہنگ ہو، تاکہ ہم طویل مدتی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ذیابیطس یا شوگر کا مرض اب محض ایک طبی تشخیص نہیں بلکہ طرزِ زندگی میں تبدیلی کا ایک تقاضا ہے۔ جدید طبی تحقیق اور روایتی غذائی حکمت، دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھنا صرف ادویات کا کام نہیں، بلکہ یہ شعوری انتخاب اور نظم و ضبط کا نام ہے۔ ہمارے باورچی خانے میں موجود سادہ اشیاء، جیسے سبزیاں، ثابت اناج اور پروٹین، اگر صحیح مقدار اور وقت پر استعمال کی جائیں تو وہ کسی بھی مہنگی دوا سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ آج کی گئی چھوٹی سی غذائی تبدیلی جیسے سفید چینی سے کنارہ کشی، ریشے دار غذاؤں کا انتخاب اور روزانہ کی مختصر چہل قدمی آپ کو کل کی بڑی جسمانی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یاد رکھیے، آپ کی صحت کا فیصلہ آپ کی پلیٹ سے شروع ہوتا ہے؛ لہٰذا شعور کے ساتھ کھائیں، متحرک رہیں اور ایک بھرپور تندرست و توانا زندگی کا لطف اٹھائیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!