Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

گستاخ رسول کی سزا عہد نبوی اور عہد صحابہ میں (قسط دوم)

گستاخ رسول کی سزا عہد نبوی اور عہد صحابہ میں (قسط دوم)
عنوان: گستاخ رسول کی سزا عہد نبوی اور عہد صحابہ میں (قسط دوم)
تحریر: مولانا محمد اسلم رضا قادری باسنی، ناگور شریف
پیش کش: ذکیہ صدیقی

عہد نبوی میں گستاخ رسول کے کفر و قتل کے فیصلے

کعب بن اشرف کا قتل

کعب بن اشرف یہودی تھا۔ جب اس نے حضور ﷺ کو اذیت پہنچائی تو حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم اس طرح فرمایا: ”لكعب بن أشرف فإنه يؤذي اللّٰه ورسوله۔[الشفا للقاضي عياض، ج: ٢، ص: ٢٢١] کون ہے جو کعب بن اشرف کو قتل کرے کیوں کہ اس نے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے؟ بخاری شریف میں ہے کہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے قتل کیا اور حضور ﷺ کو اس کے قتل کی خبر دی۔ [بخاری شریف، ج: ٢، ص: ٥٧٦، کتاب المغازی]

ابو رافع یہودی کا قتل

ابو رافع یہودی تھا۔ یہ گستاخِ رسول، حضور ﷺ نے چند صحابہ کو اس کے قتل کا حکم دیا۔ حدیث کے کلمات اس طرح ہیں: ”كان يؤذي رسول اللّٰه ﷺ ويعين عليه۔[مرجع سابق، ج: ٢، ص: ٢٢١] ابو رافع حضور ﷺ کو اذیت پہنچایا کرتا تھا اور کفار کی مدد بھی کیا کرتا تھا، صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں نے اسے قتل کیا، اور رسول اللہ ﷺ کو اس گستاخ و بے ادب کے قتل کی خبر دی۔ [بخاری شریف، ج: ٢، ص: ٥٧٧، کتاب المغازی]

ابن خطل کا قتل

عبد اللہ بن خطل یہ بڑا بے باک اور گستاخ شخص تھا، فتح مکہ کے دن جان بچانے کے لیے کعبہ شریف کے غلاف میں چھپ گیا، مگر رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن جن چار مردوں کو مستثنیٰ فرمایا تھا ان میں سے ایک ابن خطل بھی تھا جسے خانہ کعبہ کے اندر قتل کیا گیا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ”كذلك أمره يوم الفتح بقتل ابن خطل وجاريتيه اللتين كانتا تغنيان بسبه ﷺ۔[مرجع سابق، ج: ٢، ص: ٢٢١] فتح مکہ کے دن ابن خطل اور اس کی گستاخ لونڈیوں کے قتل کا حکم فرمایا جو گالی کے طور پر اشعار گاتی تھیں۔

عقبہ بن ابی معیط کا قتل

عقبہ بن معیط اپنے کفر کی وجہ سے سرکار ﷺ پر بہتان لگا کر آپ کو تکلیف دیا کرتا، جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کا حکم فرمایا تو قریش سے چلا چلا کر یوں کہنے لگا: ”عن ابن عباس أنه عقبة بن أبي معيط نادى يا معشر قريش ما لي أقتل من بينكم صبرا؟ فقال النبي ﷺ بكفرك وافترائك على رسول الله ﷺ۔[مرجع سابق، ج: ٢، ص: ٢٢١] حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عقبہ بن ابی معیط نے قریشیوں کو پکارا کہ میرا کیا گناہ ہے جس کی وجہ سے میں تمہارے درمیان خاموشی سے قتل کیا جاؤں؟ تو حضور ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا: تیرے کفر اور بہتان کی وجہ سے جو تو اللّٰہ کے رسول پر کیا کرتا تھا۔

گستاخ عورت کے قتل کا حکم

ایک عورت نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو آپ ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا: ”فقال من يكفيني عدوتي؟ فخرج إليها خالد بن الوليد فقتلها۔[مرجع سابق، ج: ٢، ص: ٢٢٢] حضور ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میری گستاخی کا بدلہ لے؟ تو حضرت خالد بن ولید اٹھے اور اسے قتل کر دیا۔

ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں گستاخوں کو قتل کرنے کا حکم فرمایا。

عہد صحابہ میں گستاخ رسول ﷺ کے کفر و قتل کے فیصلے

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عشاق رسول ﷺ تھے، ان کے کردار و عمل سے حضور تاجدار کائنات ﷺ کی تعظیم و توقیر، عشق و محبت، ادب و احترام کا اظہار ہوتا تھا، یہ بات بعید از قیاس ہے کہ کوئی بدطینت ان کے سامنے حضور اقدس ﷺ کی گستاخی و بے ادبی کرے اور وہ اس کے سامنے کوئی دو ٹوک فیصلہ نہ کریں۔ خاتم المحققین حضرت ابن عابدین شامی حنفی (م ١٢٥١ھ / ١٨٣٦ء) قدس سرہ لکھتے ہیں: ”سیرت صحابہ کرام مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ سارے صحابہ اس پر (گستاخ رسول ﷺ کے کفر و قتل پر) متفق ہیں، کیوں کہ صحابہ کرام کے مختلف واقعات، جو اجماع پر مشتمل ہیں کثرت سے منقول ہیں اور کسی نے بھی ان کا انکار نہیں کیا ہے۔“ [گستاخان انبیاء و صحابہ کا حکم، ص: ١٨]

حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور گستاخ رسول کی سزا

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: ”أتيت أبا بكر وقد أغلظ لرجل فرد عليه قال فقلت يا خليفة رسول اللّٰه ﷺ دعني أضرب عنقه، فقال اجلس فليس ذلك لأحد إلا رسول اللّٰه ﷺ قال القاضي أبو محمد بن نصر ولم يخالف عليه أحد، فاستدل الأئمة بهذا الحديث على قتل من أغضب النبي ﷺ بكل ما أغضبه أو آذاه أو سبه۔[الشفا، ج: ٢، ص: ٢٢٢، ٢٢٣]

میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس دوران آپ نے ایک شخص پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ جب میں نے آپ کی یہ حالت دیکھی تو عرض کیا، اے رسول اللّٰہ ﷺ کے خلیفہ! مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں، تو آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، یہ رسول اللّٰہ ﷺ کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔

سنن ابو داؤد، ص: ٢٥٢، میں ہے: اگر میں تجھے اس کے قتل کا حکم دیتا تو کیا تو ایسا ہی کرتا؟ انہوں نے کہا ہاں میں ایسا ہی کرتا۔

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اور گستاخ رسول کی سزا

کتب تفسیر میں مذکور ہے کہ ایک منافق نماز میں اکثر سورۂ عبس پڑھا کرتا تھا تو لوگوں نے اس کی شکایت حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے کی، آپ نے اسے بلا کر پوچھا کیا بات ہے کہ تم اکثر سورۂ عبس کی تلاوت کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ اس سورت میں سرکار ﷺ کو (معاذ اللّٰہ) جھڑکا گیا ہے اس لیے میں اسے نماز میں زیادہ تلاوت کرتا ہوں۔ تفسیر روح البیان میں ہے: ”روي أن عمر بن الخطاب أن بعض المنافقين يؤم قومه فلا يقرأ فيهم إلا سورة عبس فأرسل إليه فضرب عنقه۔[پارہ: ٣٠، زیر آیت] حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ تک یہ بات پہنچی کہ منافقین میں سے ایک شخص اپنی قوم کی امامت کرتا ہے، وہ نماز میں اکثر سورۂ عبس پڑھتا ہے تو آپ نے اسے بلا کر قتل کر دیا۔

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا ایک اور گستاخِ رسول ﷺ کا قتل کرنا

بشر نامی منافق اور ایک یہودی دونوں کا کسی بات پر جھگڑا ہوا تو منافق نے کہا چلو کعب بن اشرف یہودی سے اس بات کا فیصلہ کرا لیتے ہیں۔ تو یہودی اس بات پر راضی نہ ہوا کیوں کہ وہ رشوت خور تھا، اس نے کہا ہم تمہارے نبی کی خدمت میں فیصلہ کرانے چلتے ہیں، تو سرکار علیہ الصلوۃ والسلام نے فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا، وہ فیصلہ اس منافق کو برداشت نہ ہوا، مجبور کر کے اسے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا کہ چلو عمر فاروق سے فیصلہ کرواتے ہیں۔ یہودی نے پوری بات حضرت عمر فاروق کو بتا دی کہ ہم پہلے فیصلہ آپ کے نبی محمد ﷺ سے کرا چکے ہیں اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے، لیکن اسے منظور نہیں۔ آپ نے اس منافق سے پوچھا کیا یہ بات صحیح ہے؟ اس نے کہا ہاں یہ بات صحیح ہے، تو حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے دونوں سے فرمایا: ”رويدكما حتى أخرج إليكما فدخل عمر البيت وأخذ السيف واشتمل عليه ثم خرج فضرب عنق المنافق حتى برد۔[تفسیر مظہری، ج: ٢، ص: ١٥٤، تفسیر کشاف، ج: ١، ص: ٥٢٥، تفسیر در منثور، ج: ٢، ص: ٤٩٤، تفسیر روح البیان، ج: ٣، ص: ١٢٧، تفسیر کبیر، ج: ٣، ص: ٢٤٩، تفسیر روح المعانی، ج: ٥، ص: ٦٧] یہیں ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میں تمہاری طرف نکل آؤں۔ حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ گھر تشریف لے گئے، تلوار اٹھائی اور اس منافق کی گردن اڑا دی یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”هكذا أقضي بين من لم يرض بقضاء الله وقضاء رسوله۔“ میں اس طرح فیصلہ کرتا ہوں اس شخص کے بارے میں جو اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو نہ مانے۔ مدینہ شریف میں یہ بات پھیل گئی کہ عمر نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا تو حضور اقدس ﷺ نے فرمایا: ”ما كنت أظن عمر يجترئ على قتل مؤمن۔[تفسیر کشاف، ج: ١، ص: ٥٢٥] میں گمان نہیں کر سکتا کہ عمر کسی مسلمان کو قتل کرنے کی کوشش کرے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ پر وحی نازل فرمائی:

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖؕ-وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا.

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا [النساء: 60، 65]

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور ان کو تو حکم یہ تھا کہ اسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکا دے۔

تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح گستاخِ رسول ﷺ کے کفر و قتل پر عہد رسالت میں عمل ہوا اسی طرح عہد صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین میں بھی اسی حکم پر عمل کیا گیا، تاکہ امت مسلمہ حضور ﷺ کے کسی بھی گستاخ کے کفر و قتل کے متعلق شک و شبہ میں مبتلا نہ ہو، آج بھی اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ گستاخِ رسول واجب القتل، مباح الدم ہے۔

وحید الدین دہلوی کا موقف: گستاخِ رسول امت مسلمہ کے نزدیک واجب القتل اور مباح الدم ہے۔ کسی بھی محقق، مفسر یا فقیہ نے اس کا انکار کر کے خرقِ اجماعِ امت نہ کیا مگر مولوی وحید الدین خاں صدر اسلامی مرکز دہلی نے اس اجماعی حکم کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے لیے کسی دلیل پر اعتماد کے بجائے اپنا مخصوص اسلوب بیان اختیار کرتے ہوئے لکھا: ”ان کے (یعنی اہل سنت و الجماعت کے) خیال کے مطابق اگر کوئی شخص پیغمبر کی ذات کے معاملے میں گستاخی کا کلمہ کہہ دے تو وہ بھڑک اٹھیں گے اور چاہیں گے کہ ایسے آدمی کو قتل کر ڈالیں۔ ایسے لوگ اپنے پیغمبر کے بارے میں جو کتابیں لکھیں گے ان میں شاعرانہ مبالغہ آرائی تو بہت ہوگی لیکن علمی اور تاریخی مواد ان کے اندر بہت کم پایا جائے گا۔“

مزید لکھا: ”قرآن میں اس حکم کی کوئی اصل موجود نہیں، (کیوں کہ) شاتم کی حیثیت ایک مدعو کی ہے شاتم کو دعوت دینا ہے نہ کہ قتل کرنا۔ بظاہر شاتم دشمن نظر آتا ہے تب بھی اپنی فطرت کے اعتبار سے وہ ایک انسان ہے۔ اگر اس کے سامنے اسلام کا دین حکیمانہ انداز میں پیش کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ اسلام کی حقانیت کا اعتراف کرے اور اس کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہو جائے۔“ [الرسالہ، دہلی، ص: ٩، ١٧، ٢٠١٥ء]

اللّٰہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے اہل سنت و الجماعت کا تحفظ فرمائے جن کے نزدیک گستاخِ رسول بھی مجرم نہیں، بلکہ معافی کے قابل ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ شہید ممتاز قادری کو جزا دے جس نے ایک گستاخ رسول کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!