Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط: دوم)

فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط: دوم)
عنوان: فلسفہ قربانی اور ہمارا معاشرہ (قسط: دوم)
تحریر: نامعلوم
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَا أُنْفِقَتِ الْوَرِقُ فِي شَيْءٍ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ مِنْ نَحِيرٍ يُنْحَرُ فِي يَوْمِ عِيدٍ

جو مال عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا، اس سے زیادہ کوئی مال پیارا نہیں! [المعجم الکبیر للطبرانی، طاؤس عن ابن عباس، ر: 10894، ج: 11، ص: 15]

قربانی واجب ہونے کی شرائط

حضرات محترم! قربانی واجب ہونے کی کیا شرائط ہیں؟ اس بارے میں حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی فرماتے ہیں کہ:

  1. اسلام، یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں۔
  2. اقامت، یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں۔
  3. تونگری، یعنی مالکِ نصاب ہونا۔ یہاں مالداری سے مراد وہی (نصاب) ہے جس سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے، وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ (صدقہ فطر یا قربانی واجب ہونے کے لیے، مسلمان آزاد مرد و عورت کا عید الفطر یا قربانی کے ایام میں، ساڑھے سات تولے سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا چاندی کی مالیت کے برابر رقم کا مالک ہونا ضروری ہے۔ جس کے پاس ان ایام میں ضروریات زندگی سے زائد اتنی رقم ہو اس پر قربانی واجب ہے، اس میں سال گزرنا شرط نہیں۔)
  4. حریت، یعنی آزاد ہونا، جو آزاد نہ ہو اُس پر قربانی واجب نہیں؛ کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں، لہٰذا عبادتِ مالیہ اُس پر واجب نہیں۔ مرد ہونا اس (قربانی) کے لیے شرط نہیں، عورتوں پر (بھی) واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے۔ [بہار شریعت، قربانی کا بیان، حصہ پانزدہم: 15، ج: 3، ص: 332]

قربانی کا وقت

حضرات گرامی قدر! قربانی کا وقت تین دن، یعنی 10 ذی الحجہ کی صبح سے لے کر 12 ذی الحجہ کا سورج ڈوبنے تک ہے۔ قربانی کے وقت کے بارے میں حضرت نافع سے روایت ہے، کہ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

الأَضْحَى يَوْمَانِ بَعْدَ يَوْمِ الأَضْحَى

قربانی بقر عید کے بعد دو دن تک ہے۔ [مؤطا الإمام مالك، كتاب الضحايا، ر: 1052، ص: 276]

حضرت سید امام مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس کے مثل روایت پہنچی ہے۔ [مؤطا الإمام مالك، تحت ر: 1052]

یہ حدیث حضرت امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد کی قوی دلیل ہے کہ قربانی دس ذی الحجہ کی صبح سے 12 ویں کے سورج ڈوبنے تک ہے۔ [مرآۃ المناجیح، قربانی کا باب، تیسری فصل، زیر حدیث: 1473، ج: 2، ص: 376]

قربانی کے جانور سے متعلق حکم شرعی

عزیزانِ من! جس شخص پر قربانی واجب ہو، اسے چاہیے کہ جانور اچھا اور بے عیب خریدے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أَرْبَعَةٌ لَا تُجْزِي فِي الْأَضَاحِي : الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ طَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تُنْقِي

چار قسم کے جانوروں کی قربانی درست نہیں:
1۔ وہ کانا جانور جس کا کانا پن صاف معلوم ہو۔
2۔ ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو۔
3۔ ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن صاف معلوم ہو۔
4۔ ایسا کمزور و ناتواں جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو۔ [سنن النسائي، كتاب الضحايا، ر: 4377، ج: 7، ص: 228]

قربانی سے متعلق چند شرعی مسائل

برادرانِ اسلام! حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی قربانی کے چند اہم مسائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

  1. قربانی واجب ہونے کا سبب وقت ہے، جب وہ وقت آیا اور شرائطِ وجوب پائے گئے، قربانی واجب ہو گئی۔
  2. مالکِ نصاب نے قربانی کے لیے بکری خریدی تھی وہ گم ہو گئی، اور اس شخص کا مال نصاب سے کم ہو گیا، اب قربانی کا دن آیا تو اس پر یہ ضرور (لازم) نہیں کہ دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے۔ اور اگر وہ بکری قربانی ہی کے دنوں میں مل گئی، اور یہ شخص اب بھی مالکِ نصاب نہیں ہے، تو اس پر اس بکری کی قربانی واجب نہیں۔
  3. عورت کا مہر شوہر کے ذمہ باقی ہے، اور شوہر مالدار ہے، تو اس مہر کی وجہ سے عورت کو مالکِ نصاب نہیں مانا جائے گا، اگر چہ مہر معجل ہو، اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدرِ نصاب مال نہیں ہے، تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
  4. بالغ لڑکوں یا بی بی (زوجہ) کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہے، تو ان سے اجازت حاصل کرے، بغیر اُن کے کہے اگر کر دی تو ان کی طرف سے واجب ادا نہ ہوا۔ اور نابالغ کی طرف سے اگر چہ واجب نہیں ہے مگر کر دینا بہتر ہے۔
  5. یہ ضرور (لازم) نہیں کہ دسویں کو ہی قربانی کر ڈالے، اس کے لیے گنجائش ہے کہ پورے وقت (10 ذی الحجہ کی صبح سے لے کر 12 ذی الحجہ کے سورج ڈوبنے تک) میں جب چاہے کرے، لہٰذا اگر ابتدائے وقت میں اس کا اہل نہ تھا، وجوب کے شرائط نہیں پائے جاتے تھے، اور آخرِ وقت میں اہل ہو گیا، یعنی وجوب کے شرائط پائے گئے تو اس پر واجب ہو گئی، اور اگر ابتدائے وقت میں واجب تھی اور ابھی کی نہیں، اور آخرِ وقت میں شرائط جاتے رہے، تو واجب نہ رہی۔
  6. ایک شخص فقیر تھا مگر اس نے قربانی کر ڈالی، اس کے بعد ابھی وقت قربانی کا باقی تھا کہ غنی ہو گیا، تو اُس کو پھر قربانی کرنی چاہیے؟ کہ پہلے جو کی تھی وہ واجب نہ تھی، اور اب واجب ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ وہ پہلی قربانی کافی ہے۔
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!