Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فرضی قصہ گوئی اور اس کے گمراہ کن اثرات

فرضی قصہ گوئی اور اس کے گمراہ کن اثرات
عنوان: فرضی قصہ گوئی اور اس کے گمراہ کن اثرات
تحریر: مولانا عبد الرحمن پٹیل مصباحی
پیش کش: بنت اسلم برکاتی

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ

ترجمۂ کنز الایمان: اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکا دیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں، ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ [لقمان: 6]

یہ آیت نضر بن حارث کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے بھی لوگوں کی قصہ کہانیوں پر مشتمل کتابیں خریدی ہوئی تھیں اور وہ کہانیاں قریش کو سنا کر کہا کرتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں عاد و ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں تمہیں رستم، اسفند یار اور ایران کے شہنشاہوں کی کہانیاں سناتا ہوں، کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہو گئے اور قرآن پاک سننے سے دور ہو گئے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی، اللہ کا کلام اور پیغمبر کے فرامین چھوڑ کر محض دنیا داروں کے قصے سننے والوں کو لہو و لعب میں مبتلا قرار دیا گیا۔

آیت کریمہ میں قصہ گوئی کا کام کرنے والوں کا مقصد یہ بیان ہوا کہ وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکانا چاہتے ہیں اور اپنی قصہ گوئی سے الٰہی تعلیمات کا مذاق اڑانے کے خواہاں ہیں، ایسے لوگوں کی خاص صفت ”بغیر علم“ ذکر کی گئی، یعنی قصہ گوئی کی کثرت اور اس کی تمام تر علمی ملمع سازی کے باوجود یہ لوگ بے علم ہیں، قصہ گوئی سے ان کی جہالت وقتی طور پر چھپ تو جائے گی مگر فکر و نظر کے درست استعمال کے ذریعے وہ حقیقی علم تک پہنچنے سے محروم رہیں گے، آیت کے آخری جز میں جہالت و بد نیتی پر مشتمل گمراہ کن قصہ گوئی کے سبب ان لوگوں کے لیے ذلت آمیز عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔

قاضی بیضاوی ”لَهْوَ الْحَدِيثِ“ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

مَا يُلْهِي عَمَّا يَعْنِي كَالْأَحَادِيثِ الَّتِي لَا أَصْلَ لَهَا وَالْأَسَاطِيرِ الَّتِي لَا اعْتِبَارَ بِهَا وَالْمَضَاحِكِ وَفُضُولِ الْكَلَامِ

ترجمہ: لایعنی کلام کو ”لَهْوَ الْحَدِيثِ“ کہتے ہیں جیسے وہ باتیں جن کی کوئی اصل نہیں اور وہ قصہ کہانیاں جن کا کوئی اعتبار نہیں اور ہنسنے ہنسانے کی باتیں اور بے ہودہ بکواس ہیں۔ [تفسیر بیضاوی]

ہمارا زمانہ تو خاص طور پر پر تکلف قصہ گوئی کا زمانہ ہے، ہمارے دور کا ناول نگار فرضی قصہ گوئی کا بے تاج بادشاہ ہے، موٹیویشنل اسپیکر فرضی حکایات کی چلتی پھرتی دکان ہے، اسٹینڈ اپ کامیڈین اپنے وضع کردہ مزاحیہ قصوں سے بناوٹی مسکراہٹ کی سوداگری کا ماہر ہے، ڈرامہ نگاری تو جھوٹ کا پورا ایک کارخانہ ہے جہاں ہمہ وقت ہزاروں فرضی کردار تراشے اور اسکرین پر نبھائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ حقیقت کی پرستار کہی جانے والی سائنس میں بھی فکشن وضع کر لی گئی ہے جہاں مستقبل کی دنیا کے فرضی نقوش اور مفروضہ واقعات کے من گھڑت پرزے جوڑے جاتے ہیں، افسانوی ادب کے تحت خود نوشتوں سے لے کر سفر ناموں تک ہر تحریری شعبہ مفروضہ قصہ گوئی سے اثر پذیر دکھائی دیتا ہے، گویا پوری دنیا کا ہر انسان کتاب سے لے کر اسکرین تک اپنے آس پاس کے علمی وسائل میں فرضی واقعہ نگاری اور من گھڑت قصہ گوئی سے گھرا ہوا ہے۔

مزید یہ کہ جدید قصہ گوئی کا یہ پورا سسٹم اس طور پر کام کرتا ہے کہ ہر مرتبہ اس کا نتیجہ یا خلاصہ الٰہی تعلیمات کی مخالفت یا تضحیک پر مبنی ہوتا ہے اور ہر واقعہ کا شعوری ٹارگٹ مذہبی تعلیمات کا کوئی نہ کوئی پہلو ہوتا ہے، یہاں تک کہ حیا سوز معلومات پر مشتمل فحش نگاری کو بھی قصہ گوئی کی ایک صنف کا درجہ دیا جاتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ لوگوں کی اخلاقیات سے لے کر اعتقادات تک ہر چیز میں تخریب کاری کرنا ہی جدید قصہ گوئی کا اول و آخر مقصد ہے۔

ہمارے دور میں امت کا المیہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمان نسل زندگی خوش گوار بنانے کے لیے ہر قصہ گو موٹیویشنل اسپیکر کو سن رہی ہے، ہر فکشن نگار لکھاری کو پڑھ رہی ہے، ہر اسٹینڈ اپ کامیڈین کی فرضی حکایات میں رہنمائی تلاش کر رہی ہے، مگر کلام الٰہی کے ”أَحْسَنَ الْقَصَصِ“ اور حکمت بھرے واقعات سے غافل ہے، قرآن کے صفحات پر موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے درجنوں واقعات میں پوشیدہ ہدایت اور زندگی کے لیے کارآمد افکار سے مسلمانوں کی نئی نسل لاپروائی کی حد تک بے تعلقی کا مظاہرہ کر رہی ہے، دینی تعلیم سے آراستہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلم نوجوانوں کی ذہنی کیفیت یہ ہو چکی ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے بیان کردہ قرآنی واقعات کو شبہ کی نظر سے دیکھتے اور غیر شعوری طور پر سوال اٹھاتے ہیں کہ اس کے حقیقی ہونے کی کیا گارنٹی (ضمانت) ہے؟ ممکن ہے یہ واقعات غلط ہوں یا بعینہٰ ایسے نہ ہوں جیسے آسمانی کتاب میں نازل ہوئے ہیں، لہٰذا ایسے واقعات سے رہنمائی لینا عقلی معیار کے خلاف ہے۔

ایک طرف تو یہ بے جا احتیاط بلکہ ہٹ دھرمی کہ آسمانی کتاب میں بیان شدہ انسانی تاریخ کے متواتر واقعات سے انحراف اور اس کی افادیت سے انکار، جب کہ دوسری طرف جانتے بوجھتے ہوئے کہ یہ سب ناول نگار کی اختراع ہے یا موٹیویشنل اسپیکر کا فرضی واڑا ہے یا ڈرامہ نگار کا خیالی پلاؤ ہے یا اسٹینڈ اپ کامیڈین کے ذہن کی مضحکہ خیز پیداوار ہے، اس کے باوجود اس میں زندگی کی حقیقت کا راز پنہاں ہونے کے دعوے اور اپنے ماضی کا عکس نظر آجانے یا اپنے مستقبل کی دھندلی تصویر دکھ جانے کا راگ الاپا جا رہا ہے، ایسی دو طرفہ بے احتیاطی اور دوہری جہالت نے مسلمانوں کی نئی نسل کو مثبت عقلی اقدام سے محروم کر رکھا ہے۔

ایسے ماحول میں قرآن مجید کی درج بالا آیت اہلِ اسلام کے شعور کو کس قدر متاثر کرنے والی ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو بات بیان کر رہے ہیں؛ وحی متلو (قرآن) یا غیر متلو (حدیث) کی شکل میں؛ اس کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے حکیموں کے اقوال یا ان کے قصوں میں مشغول ہو جانا، قرآن کے نقطۂ نظر سے ”لَهْوَ الْحَدِيثِ“ (کھیل کی بات، لغو بات) کہلاتا ہے، غور کا مقام ہے ان لوگوں کے لیے جو ارسطو سے لے کر ڈیوڈ ہیوم تک، ہر فلسفی کے لایعنی خیالات میں الجھے ہوئے ہیں اور بات بات پر منٹو سے لے کر چغتائی تک، لکھاریوں کے ناولانہ فقروں میں زندگی کی حقیقت نظر آنے کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔

نیز سائنس کی (ایلین یا ڈائنوسار جیسی) لایعنی ابحاث اور جدید سیاست کے (پارٹی و لیڈر پرستی) گمراہ کن معاملات میں الجھ کر قرآن و سنت کی تعلیمات کو فراموش کر جانا بھی ”لَهْوَ الْحَدِيثِ“ کی واضح مثال ہے، ہمیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جب تک ہم ”لَهْوَ الْحَدِيثِ“ کی نئی بھول بھلیاں سے نہیں نکلیں گے اس وقت تک صراطِ مستقیم پر دل جمعی کے ساتھ چلنا ناممکن نہیں تو کم از کم انتہائی مشکل ضرور ہوگا۔ [سنی دنیا، ص: 15]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!