Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ضیائے حدیث (قسط ثانی)

ضیائے حدیث (قسط: ثانی)
عنوان: ضیائے حدیث (قسط: ثانی)
تحریر: حضور محدث کبیر مدظلہ العالی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی اتر پردیش

اللہ کے نام سے شروع جو مہربان اور بہت رحم والا ہے، اللہ کے بندے اور پیغمبر محمد (صلى الله عليه وسلم) کی طرف سے، روم کے فرمانروا کی طرف۔ سلامتی ہے اس کے لیے جو ہدایت کی پیروی کرے بعد ازاں میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام قبول کر لو گے تو امن میں رہو گے اور اللہ تمہیں تمہارا دوگنا ثواب دے گا اگر تم (میری دعوت سے) منہ پھیرو گے تو بلاشبہ تم پر پوری رعیت (کے ایمان نہ لانے) کا گناہ ہوگا اور اے اہل کتاب! تم ایک ایسی قدر کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، یعنی ہم سب ایک خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کریں اور ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں اور خدا کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو اپنا خدا نہ قرار دیں (ارشادِ خداوندی ہے) اگر اہل کتاب اس بات کو نہ مانیں تو تم ان سے کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم ایک خدا کے فرمانبردار ہیں۔

ابو سفیان بیان کرتے ہیں کہ ہرقل نے جو کہنا تھا کہہ چکا اور خط پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے ارد گرد ہلچل سی مچ گئی اور آوازیں بلند ہوتی گئیں پھر ہم لوگ وہاں سے اٹھا دیے گئے، میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ جب ہم باہر نکال دیے گئے تو ابو کبشہ کے بیٹے (محمد صلى الله عليه وسلم) کا مقام تو بہت بڑھ گیا کہ روم کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پس اس وقت سے مجھے یقین ہو چلا کہ محمد (صلى الله عليه وسلم) ضرور غالب آئیں گے یہاں تک کہ خدا نے مجھے بھی حلقہ اسلام میں داخل کر دیا۔ ابنِ ناطور (جو ایلیا کا حاکم اور ہرقل کا درباری اور شام کے انصاری کا پیرِ پادری تھا) اس کا بیان ہے کہ ہرقل جب ایلیا (بیت المقدس) میں آیا تو ایک دن صبح کو بہت افسردہ ہو کر بیدار ہوا اس کے بعض مصاحبین نے اس سے کہا کہ (چشمِ بد دور) ہم آپ کو رنجیدہ و خاطر محسوس کر رہے ہیں، ابنِ ناطور کا کہنا ہے کہ ہرقل خود ہی کاہن اور ماہرِ نجوم تھا، اپنے مصاحبین کے استفسار پر بتایا کہ میں نے جب رات کو تاروں پر نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ ایک ختنہ کرنے والا بادشاہ غالب آ گیا ہے (یہ پتہ چلاؤ) کہ اس زمانے میں کون ختنہ کرواتا ہے؟ لوگوں نے کہا یہودیوں کا طریقہ ہے، لیکن یہود سے آپ کو کوئی خطرہ محسوس نہ کریں اور اپنے ملک کے تمام بڑے شہروں میں اطلاع کر دیجئے کہ تمام یہودی قتل کر دیے جائیں، ابھی وہ لوگ اسی سوچ بچار میں تھے کہ ہرقل کی خدمت میں ایک شخص حاضر کیا گیا جسے دائی غسان نے بھیجا تھا، اس نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بارے میں کچھ بیان کیا تو ہرقل بولا: جاؤ اور دیکھو کہ ان میں ختنہ کیے ہوئے ہیں؟ لوگوں نے اس کو دیکھا تو بیان کیا کہ وہ ختنہ کیے ہوئے ہیں، ہرقل نے اس سے عرب کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ لوگ بھی ختنہ کرتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ ہاں، تب ہرقل بولا کہ یہی رسول (اللہ صلى الله عليه وسلم) آج کے دور کا بادشاہ ہے جو ظاہر ہو گیا، ہرقل نے یہ تمام تفصیلات اپنے ایک دوست کو لکھ بھیجیں، وہ علم (نجوم) میں ہرقل کا ہم پلہ تھا ہرقل حمص کی طرف روانہ ہو گیا، وہ بھی حمص سے باہر نہیں نکلا تھا کہ اس کے دوست کا جواب آ گیا کہ وہ نبی (صلى الله عليه وسلم) کے ظہور کے سلسلے میں ہرقل کی رائے سے متفق ہے اور یہ کہ وہ نبی ہیں، بعد ازاں ہرقل نے سردارانِ روم کو جو حمص میں موجود تھے طلب کیا اور کہا کہ محل کے دروازے بند کر دیئے جائیں، دروازے چڑھا دیئے گئے، ہرقل باہر آیا اور کہا رومیو! کیا ہدایت اور کامیابی میں کچھ تمہارا حصہ بھی ہے اور تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری حکومت بھی باقی رہے اگر یہ سب تمہیں منظور ہے تو اس نبی کی بیعت کر لو۔ یہ سننا تھا کہ سب حاضرین وحشی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف لپکے تو انہیں بند پایا ہرقل نے انہیں اس درجہ متنفر پایا کہ ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا، کہنے لگا انہیں پھر ہمارے پاس لاؤ، انہیں لایا گیا تو کہنے لگا میں نے ابھی جو کچھ تم سے کہا وہ محض تمہیں آزمانے کے لیے تھا کہ دیکھوں تم اپنے عقیدے میں کتنے پختہ ہو تو میں نے دیکھ لیا کہ تم بہت پکے ہو، تو سب نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے، یہی آخری ہرقل کا حال ہے۔ امام بخاری نے فرمایا اس حدیث کو صالح ابن کیسان اور یونس اور معمر نے امام زہری سے روایت کیا۔

تشریح:

ہمیں حدیث سنائی ابو الیمان نے جن کا نام حکم بن نافع ہے انہوں نے کہا ہمیں حدیث سنائی شعیب ابن ابوحمزہ نے امام زہری سے روایت کر کے (امام زہری کثیر التلامذہ ہیں ان کے تلامذہ میں یونس بن یزید اور معمر بن راشد، عقیل بن خالد شعیب یہ لوگ آپ کی صحبت اور حدیثیں سننے کا بہت التزام رکھتے تھے) انہوں نے کہا مجھے خبر دی عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے وہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس نے مجھے خبر دی اور عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں مجھے ابو سفیان ابن حرب نے جو حضرت امیر معاویہ کے والد ہیں انہوں نے خبر دی۔ کہ ہرقل نے ان کی طرف قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلاوا بھیجا یعنی قافلہ تجارت لے کر میں ملکِ شام دمشق میں گیا تھا اسی وقت ہرقل نے بلاوا بھیجا کہ میری طرف اپنے قافلہ کے ساتھ آؤ اور اس مدت کی یہ بات ہے کہ جب رسول پاک صلى الله عليه وسلم نے ابو سفیان اور کفارِ قریش سے صلح حدیبیہ کی تھی ”ماد يماد“ کے معنی (مدت طے کرنا) مراد یہاں پر صلح کی مدت ہے، صلح ہوئی تھی دس سال کے لیے کہ ہم آپس میں دس سال تک لڑائی نہ کریں گے اور ہم میں سے کسی کا بھی حلیف اگر دوسرے کے حلیف سے لڑ جائے تو نہ ہم اپنے حلیف کا ساتھ دیں گے اور نہ تمہارا حلیف اپنے حلیف کا ساتھ دے گا مگر ہوا یہ کہ ابھی دو ہی سال گزر پائے تھے کہ نہیں اتنے میں بنو بکر جو قریش کے حلیف تھے اور بنو خزاعہ جو کہ رسول پاک صلى الله عليه وسلم کے حلیف تھے ان دونوں میں لڑائی ہو گئی، خفیہ طور پر قریش مکہ نے اپنے حلیفوں کو مدد پہنچا دی اور بنو بکر کی طاقت بڑھ گئی بنو خزاعہ کے لوگ دوڑ کر حضور کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ بنو بکر نے ان سے مدد حاصل کر لی اور انہوں نے مدد کر دی تو آپ ہماری مدد فرمائیں حضور نے فرمایا کہ جاؤ مجھے جو کرنا ہو گا میں دیکھوں گا، اس کے بعد رسول پاک صلى الله عليه وسلم نے لشکر تیار کیا اور مکہ پر چڑھائی کر دی کیوں کہ انہوں نے اپنے حلیف کا ساتھ دے کر عہد شکنی کی، کہتے ہیں کہ ہم لوگ اس مدت میں مطمئن ہو گئے تھے کہ اب لڑائی وغیرہ تو ہونی نہیں ہے اور ہمارا قافلہ خیر و خوبی سے جائے گا اور خیر و خوبی سے تجارت کر کے آئے گا کوئی روکنے والا بھی نہ ہوگا، روکنے والے حضور تھے کیونکہ انھیں مدینہ ہی سے ہو کر گزرنا تھا اور اسی زمانہ میں یہ قصہ ہو گیا کہ ادھر صلح حدیبیہ ہو رہی تھی اور ادھر روم اور ایرانی میں جنگ ہو رہی تھی، ایران اور روم میں پہلی جنگ جو ہجرت کے پہلے تھی اس میں بحرین رومیوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو مکہ والے مذاق اڑاتے تھے کہ لو تم بھی آسمانی کتاب مانتے ہو اور وہ لوگ بھی کتاب مانتے ہیں تمہارے دوست لوگ تو شکست کھا گئے۔ تو قرآنِ مجید کی آیت نازل ہوئی:

الٓمّٓ غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْۤ اَدْنَی الْاَرْضِ وَ هُمْ مِّنْۢ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَیَغْلِبُوْنَ فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَؕ

کہ روم شکست کھا گیا ایک چھوٹی حکومت سے اور یہ مغلوب ہونے کے بعد چند سال میں پھر غالب آئیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق طعنہ سن رہے تھے تو انھوں نے کہا دیکھو روم ایران پر فتح پائے گا تو ان لوگوں نے کہا کب فتح پائے گا؟ حضرت ابو بکر صدیق نے کہا تین سال میں۔ بضع کا اطلاق کم سے کم تین اور زیادہ سے زیادہ نو پر، عاص بن وائل نے اس بات پر ابو بکر صدیق سے شرط طے کر لی کہ روم نے ایران پر فتح پالی تو میں دس اونٹ تم کو دوں گا اور اگر اس کا برعکس ہوا تو تم دس اونٹ دینا، حضور کے پاس آکر انھوں نے بیان کیا کہ ایسا ایسا میں نے شرط نامہ طے کر لیا تو سرکار نے فرمایا تم نے کیوں تین سال کہا، بضع کے معنی تین سال ہی تو نہیں ہیں، تم مدت کو جا کر بڑھاؤ اور شرط بھی بڑھا دو عرض کی کتنی مدت؟ فرمایا نو سال تو انھوں نے ایسا ہی کیا جیسے ہی عاص بن وائل کے پاس گئے وہ طعنہ دینے لگا کہ شرمندہ ہو کر آ گئے فرمایا شرمندہ ہو کر نہیں آیا ہوں میں مدت بڑھاؤں گا اور شرط کا پیسہ بھی بڑھاؤں گا تو کہا کتنا رکھو گے آپ نے فرمایا نو سال رکھو اور سو اونٹ، اگر تیری بات صحیح ہوئی تو میں دوں گا اور میری بات صحیح ہوئی تو تو دینا۔

تو جس وقت صلح حدیبیہ ہوئی تھی وہی نو سال پورے ہوئے تھے اس وقت روم کو فتح ہو گئی اور بحرین وغیرہ کا حصہ روم نے اپنے قبضہ میں کر لیا اب فتح ہو گئی تو ہرقل روم شکرانہ کی نماز پڑھنے کے لیے بیت المقدس آیا کہ اللہ نے ہمیں فتح دے دی تو بیت المقدس جا کر شکرانہ کی نماز پڑھیں، اسی کا ذکر کر رہے ہیں۔

فأتوه وهم بإيلياء“ یہ لوگ آئے اس کے یہاں یعنی ہرقل کے پاس، ہرقل اس کا نام تھا اور لقب تھا قیصرِ روم، جو بادشاہ ہوتا تھا اس کو قیصر کہتے تھے جیسے کسریٰ خسرو کا معرب ہوا تو خسرو ایران کے بادشاہ کو کہتے تھے، یہ لوگ ایلیا میں تھے (بیت المقدس کو کہتے ہیں اس مسجدِ اقصیٰ کو اور ایلیا اس شہر کا نام ہے) ایلیا میں کفارِ روم موجود تھے جب اس کے یہاں گئے تو اس نے ان کو اپنے دربار میں بلوایا اس وقت عظمائے روم اس کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے پھر ان کو اپنے سامنے بلایا، پہلی مرتبہ جو بلانے کا ذکر کیا کہ ہرقل نے ان کے پاس آنے کا پیغام بھیجا تو وہ آئے اور ویٹنگ روم میں بیٹھائے گئے اور جب دربار میں بلایا گیا تو پھر دربار میں پیش کیا گیا اور اپنے ترجمان کو بلایا اور کہا تم لوگوں میں نسب کے اعتبار سے اس شخصیت سے کون زیادہ قریب ہے جو اپنے کو نبی کہتے ہیں تو ابو سفیان نے کہا میں ان سب لوگوں میں سب سے زیادہ قریبی والا ہوں تو اس نے کہا اس کو میرے اور قریب کرو اور ان کے دوستوں کو قریب ہی رکھو مگر دوستوں کو پیٹھ کے پاس رکھو یعنی کوئی سامنے نہ رہے بلکہ پیٹھ پیچھے رہے اب ان سے پوچھوں گا ان کے پیچھے والے ان کے جوابات کی تصدیق یا تکذیب کریں گے اور اپنے ترجمان سے کہا ان سب سے کہہ دو کہ میں اس شخصیت کے بارے میں پوچھوں گا اگر یہ جھوٹ بولیں تو تم تکذیب کر دینا، ابو سفیان کہتے ہیں خدا کی قسم اگر یہ شرم میرے اوپر نہ ہوتی کہ لوگ میری طرف جھوٹ منسوب کریں گے تو ضرور میں جھوٹ بولتا یعنی مجھے یہ ڈر نہیں تھا کہ کوئی میری تکذیب کرے گا لیکن یہ ضرور ڈر تھا کہ مکہ میں جائیں گے توکہیں گے دیکھو نہ یہ ہمارے سردار ہیں ایسے ایسے جھوٹ ہرقل کے دربار میں بولیں ہیں، یہی مجھ کو ڈر تھا کہ میرے طرف نقل کر کے جھوٹ منسوب کریں گے تو اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو میں ضرور جھوٹ بولتا مگر میں جھوٹ نہ بول سکا۔

سب سے پہلا سوال اس نے کیا کہ ان کا نسب نامہ آپ سب کے درمیان میں کیسا ہے؟ میں نے کہا ”هو فينا ذو نسب“ وہ تو ہم لوگوں میں اونچے نسب والے ہیں یعنی اچھا نسب ہے، اس نے دوسرا سوال کیا ”هل قال أحد منكم قط قبله“ کیا یہ قول ان سے پہلے تم لوگوں میں سے کسی نے کہا تھا یعنی نبی ہونے کا دعویٰ ان سے پہلے مکہ میں کسی نے کیا تھا؟ تو میں نے کہا نہیں یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مکہ میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

(حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بعد کئی ہزار سال کا عرصہ گزر گیا اس درمیان کوئی بھی نبی نسلِ اسماعیل میں نہ ہوئے، جتنے بھی نبی ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں آئے وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے تھے اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے اور ان کا ایک لقب اسرائیل تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد سارے انبیاء بنو اسرائیل میں آئے اور اسماعیل علیہ السلام نبی تھے اس کے بعد سے ہزاروں سال گزر گئے کسی نے ان کی نسل میں نبوت کا دعویٰ کیا ہی نہیں)

اس نے تیسرا سوال کیا کہ ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ گزرا ہے تو میں نے کہا کہ نہیں، چوتھا سوال کیا ”أشراف الناس اتبعوه أم ضعفاءهم“ قوم کے شریف لوگوں نے ان کی پیروی کی یا پسماندہ لوگوں نے یعنی امیر امراء وغیرہ نے پیروی کی یا غلام محتاج فقیر ایسے قسم کے لوگوں نے، اس سے مراد اکثریت یہ، نہیں مطلب ہے کہ مطلق۔ ورنہ شرفا میں ابو بکر و عمر بھی تھے عثمان و علی بھی تھے سعد و سعید بھی تھے یہ سب بڑے بڑے لوگ تھے اور ابو ذر غفاری بھی اپنی قوم کے سرداروں میں تھے۔ میں نے کہا ”بل ضعفاءهم“ بلکہ پسماندہ لوگ ہی زیادہ ہیں۔

اس نے پھر سوال کیا ”أيزيدون أم ينقصون“ ان کی تعداد بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے میں نے کہا کہ بڑھ رہی ہے۔ اس نے پھر سوال کیا کہ ”هل يرتد أحد سخطة لدينه بعد أن يدخل فيه“ کیا کوئی ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد ان کے دین سے ناراض ہو کر چھوڑتا ہے؟ مطلب دین میں کوئی عیب نکال کر اور ناراضگی ظاہر کر کے ان کا دین کوئی چھوڑتا ہے۔ یہ سوال کرنے کی ضرورت کیوں پڑی جب یہ کہہ دیا کہ بڑھ رہے ہیں اس کی وجہ یہ کہ بڑھ تو رہے ہیں مگر ہو سکتا ہے دو چار آدمی نکلتے ہوں اور دس آدمی بڑھ جاتے ہوں اس میں بھی تو بڑھنا ہی پایا گیا تو اس وجہ سے یہ سوال کرنا پڑا۔ اس نے پھر سوال کیا ”هل أنتم تتهمونه بالكذب قبل أن يقول ما قال“ اپنا دعویٰ کرنے سے پہلے کیا تم لوگ ان پر جھوٹ کی کچھ تہمت لگاتے تھے کہ جھوٹ بولتے ہیں تو میں نے کہا نہیں کیوں کہ یہ بات سب میں مشہور تھی ”الأصادق الأمين“ ایک مرتبہ بھی حضور نے کذب اور غدر کا کوئی خیال بھی دل میں نہ پیدا ہونے دیا اور نہ کبھی کوئی ایسی صورت پیش آئی۔ اس نے پوچھا ”هل يغدر“ کیا وہ کوئی دھوکہ بھی دیتے ہیں کہ معاہدہ کریں اور معاہدہ کو توڑیں تو میں نے کہا نہیں وہ تو معاہدہ کر کے کسی سے توڑتے نہیں مگر ابھی ہم کو شبہ ہو رہا ہے، ہم لوگ ان سے ایک صلح کی مدت میں ہیں نہیں معلوم کہ وہ اس میں کیا کریں گے صلح وہ باقی رکھیں گے یا توڑ دیں گے۔ کوئی بات انھوں نے تحقیقی نہیں کہی بلکہ اپنے شبہ کا اظہار کیا اب وہ شبہ بھی اس لیے کہ اصل میں کسی نے یعنی کسی سوال نے مجھے گنجائش نہیں دی کہ اس میں کوئی اپنی بات داخل کروں سوائے اس سوال کے اپنی بات ڈھکیلنے کا موقع نہیں ملا اس لیے میں نے یہ بات کہہ دی کہ ایک صلح ہوئی ہے پتہ نہیں کہ اس میں گڑبڑی کریں گے یا نہیں یہ ہم کو پتہ نہیں تو اس نے اس پر کوئی دھیان بھی نہیں دیا۔

اب اس نے پھر سوال کیا کیا تم نے ان سے کبھی قتال کیا تو کہا کہ ہاں قتال کیا اس نے کہا کیا نتیجہ رہا تو میں نے کہا ”الحرب بيننا وبينه سجال“ جنگ ہمارے اور ان کے درمیان ڈول کھینچنے کی طرح ہے کبھی ایک ہاتھ میں کبھی دوسرے ہاتھ میں تو کبھی وہ ہم سے نقصان اٹھاتے ہیں کبھی ہم، اس نے اخیر میں پوچھا تمہیں کیا حکم دیتے ہیں اور کیا تعلیم دیتے ہیں تو میں نے کہا کہ کہتے ہیں صرف اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ مانو اور چھوڑ دو وہ تمام بت جو تمہارے باپ دادا مانتے تھے اور نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں سچ بولنے کا اور پاکدامنی کا اور صلہ رحمی کا۔ اب اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کے علاوہ کوئی تعلیم نہیں دیتے ہیں بلکہ اہم اہم تعلیمات انھوں نے بتا دی۔ [ماہنامہ: سہ ماہی ۳ امجدیہ, ص: 33, جنوری تا مارچ 2023ء]

جاری۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!