| عنوان: | ملک ہند میں گستاخوں کو کیسے لگام لگائی جائے؟ |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | محمد شفیع احمد عطاری رضوی |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج |
ماہ ستمبر ٢٠٢٤ء میں یتی نرسنگھا نند نے حضور اقدس نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے ادبی کی۔ ملک بھر میں اس پر احتجاج و مظاہرہ کیا لیکن آج تک اس کمینے کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
- جب سے بھاجپا مرکز میں برسرِ اقتدار آئی ہے، تب سے متعصب ہنود کے حوصلے بلند ہو چکے ہیں۔ وہ مسلمانوں پر مظالم بھی ڈھاتے ہیں اور مذہبِ اسلام، قرآنِ مقدس، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اسلامی شخصیات کی توہین و بے ادبی بھی کرتے ہیں۔
- یہ تو اللہ تعالیٰ عزوجل کا بھارتی مسلمانوں پر خاص فضل و احسان ہے کہ لوک سبھا الیکشن ٢٠٢٤ء میں بھاجپا جیت نہیں پائی اور مرکز میں کمزور مخلوط حکومت بنی، ورنہ اہلِ تعصب کا ظلم و ستم مزید بڑھ جاتا اور مسلمانوں و اقلیتوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔
- موجودہ وقت میں مسلم سیاسی لیڈران کو سیاسی سطح پر کچھ کرنا چاہیے۔ مسلمانوں کے عوامی اجلاس میں تقریریں کرنا اور لفافے سمیٹنے کا کام پیشہ ور مقررین بھی کر لیتے ہیں۔ اس کام کے لیے خاص طور پر سیاسی لیڈروں کی ضرورت نہیں ہے۔
- میں روایتی احتجاج و مظاہرہ کی حمایت نہیں کرتا، کیوں کہ ایسے مظاہروں میں کچھ الزام لگا کر پولیس والے مظاہرین پر فائرنگ کر دیتے ہیں اور بعض مظاہرین کی موت ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات پولیس والے مظاہرین پر مقدمہ بھی درج کر دیتے ہیں اور مسلمانوں کو جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح مظاہروں سے مسلمانوں کا ہی نقصان ہوتا ہے۔
- تھانوں میں ایف آئی آر درج کرانے سے بھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ تاہم حضور اقدس شفیعِ محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غلامی اور عشقِ نبوی کے تقاضوں کے تحت ایف آئی آر درج کرا دیں، کیوں کہ اس میں مسلمانوں کا نقصان نہیں اور ملزم پر دباؤ بنتا ہے۔
- احتجاجی ریلی کی بجائے احتجاجی اجلاس کرایا جا سکتا ہے جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوں اور کم وقتی اجلاس ہو، مثلاً تین گھنٹے کا یا دو گھنٹے کا۔ علمائے کرام و دانشورانِ قوم و ملت وقتِ مقررہ پر آئیں اور اپنی باتیں پیش کریں۔ ایسے اجلاس میں مقامی لیڈروں اور پولیس کے اعلیٰ افسران کو ضرور بلایا جائے، تاکہ پولیس والے فائرنگ نہ کریں، ورنہ کسی بہانے جلسوں پر فائرنگ ہو سکتی ہے۔ سازشوں کا دائرہ بہت وسیع ہوتا ہے۔
- سیاسی لیڈران ہوں یا عظیم مذہبی قائدین، ایسے مواقع پر سب لوگ خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں، لہٰذا گمنام مومنین پیش قدمی کریں اور جا بجا احتجاجی جلسے کریں اور مقامی علماء، مقامی سیاسی و سماجی لیڈران اور مقامی پولیس افسران کو شریکِ اجلاس کریں، تاکہ پولیس والے کچھ غلط اقدام نہ کر سکیں۔ ہر شعبہ میں گہری سازشیں ہوتی رہتی ہیں۔
- ایسے اجلاس میں خطاب کرنے والوں کو کم وقت دیا جائے، مثلاً دس منٹ، نیز ایسے اجلاس کو لفافوں سے پاک رکھا جائے، ورنہ پیشہ ور مقررین اپنی دعوت کے لیے ہیرا پھیری کریں گے اور ایسے پاکیزہ اجلاس بھی شکم پروری کا ذریعہ بن جائیں گے۔
- الیکشن میں ایسی پارٹی کو ووٹ دیا جائے جو مسلمانوں کو کم نقصان دے۔ [ماخوذ: از تحفظ ناموس رسالت، ص: 26-28]
