Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

مسلمانان ہند کی موجودہ صورت حال اور سوشل میڈیا

مسلمانان ہند کی موجودہ صورت حال اور سوشل میڈیا
عنوان: مسلمانان ہند کی موجودہ صورت حال اور سوشل میڈیا
تحریر: فیضان المصطفیٰ قادری
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ہجومی تشدد، مسجدوں اور مزارات کی بے حرمتی، مدارس کے کردار کو کنٹرول کرنے کی کوشش، ڈرا دھمکا کر غیر مذہبی نعرے لگوانے کی جارحیت، وغیرہ جو کچھ اس وقت ملک میں ہو رہا ہے ان میں کچھ بھی خلافِ توقع نہیں، بلکہ اگر یہ سب نہ ہوتا تو خلافِ توقع تھا۔ یہ سب تو پرانے منصوبے کا حصہ ہے، یا بڑے منصوبے کی تمہید ہے۔ اس پر شکوہ کہ حکومت کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے موجودہ حکومت سے اس قسم کی توقعات وابستہ کرنا ہماری افسوسناک سادہ لوحی ہوگی۔ سنگھ کی گود اور ہندوتوا کی تربیت میں پلی بڑھی ٹیم کے قدم اقتدار کے تخت تک پہنچ جانے کے بعد کیا وہ مساجد اور مدارس تعمیر کریں گے؟ کیا مسلمانوں کے فلاح و بہبود کے لیے قانون بنائیں گے؟

ان حالات میں ہمیں کیا کرنا ہے اس کے لیے فی الحال تجویز کی باڑھ آئی ہوئی ہے، سوشل میڈیا پر ہمارے اربابِ فکر و نظر مسلسل تجاویز کے خزانے انڈیلتے رہتے ہیں، ان میں سے لوگ اپنی اپنی پسند کے مطابق انتخاب کر لیں۔ کچھ لوگ دوسروں کی غلطیاں گنانے میں لگے ہوئے ہیں، اور اسی عمل کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہیں، قیادت کا فقدان، بڑوں کی بے حسی الگ مسئلہ ہے، لوگ اپنے اپنے مزاج اور احساسات کے اعتبار سے حالات کا تجزیہ کر رہے ہیں، ہم سب کا تجزیہ درست مان لیتے ہیں، مگر جن سے خاموشی کا شکوہ ہے وہ اگر مہرِ سکوت توڑ بھی ڈالیں تو بس یہی ہوگا کہ ایک تحریر جاری کر دی جائے جس میں خطاب تو حکومت و انتظامیہ کو کیا گیا ہوگا، مگر اسے عام لوگوں تک ارسال کیا جا رہا ہوگا تاکہ قومی مسائل پر اپنی فکرمندی کی سند حاصل کی جا سکے۔

علمائے کرام اور اہل خانقاہ سے سیاسی امور میں بیان دینے کا دباؤ بنانا بھی غور طلب ہے، جو جس میدان کا آدمی نہیں اس کو اس معاملے میں خاموش رہنا ہی بہتر ہے، ہاں ان کو کام کر رہے افراد کی پشت پناہی اور افرادی، اخلاقی اور مالی تعاون ضرور دینا چاہیے، ہاں یہ شکوہ بے جا نہیں کہ ان حضرات کی طرف سے ایسی پشت پناہی نہیں ہو رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت میں عوام کا احتجاج بڑی اہمیت رکھتا ہے، مگر یہ اس وقت جب کہ اقتدار کے ہاتھ مضبوط نہ ہوں، اس کی پشت پر افرادی قوت کارفرما نہ ہو، اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آئینی ذمہ داری ادا کرتی ہو۔ ملک کی اکثریت جب ملحد ہو چکی ہو تو اقلیتوں کا خدا ہی حافظ و ناصر ہے، ان کا احتجاج جانوروں کی چیخ و پکار سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا، ان احتجاجی صداؤں سے حکومت کی صحت پر بھلا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ لہذا موجودہ حالات میں احتجاج اور مظاہرے حسرتوں کی تسکین اور دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں، اس لیے احتجاج کی زمین سے کوئی اچھی فصل اگنے کی توقع نہیں ہے، تاہم احتجاج جمہوری حکومت میں عوام کا حق ہے، اور اس حق سے ہمیں عملاً دستبردار نہیں ہونا چاہیے، کہ ظلم پر خاموشی بھی ظلم کا جواز فراہم کرتی ہے۔

لیکن ایک بات ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیائی احتجاج پر غور کرنا چاہیے، اور اس پر ہر طرح کے مواد شیئر کرنے کی روایت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے اس سے دشمن کا ہی مقصد پورا ہوتا ہو۔

قتل و غارت گری کی واردات ہر زمانے میں ہوتی رہی ہیں، لیکن اب کہیں کچھ ہو جائے تو اس کی رپورٹ فوراً دنیا کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے، جس کی مثال نیوزی لینڈ کی النور مسجد میں جمعہ کے نمازیوں پر کی گئی اندھا دھند فائرنگ کا واقعہ ہے، کہ جس وقت ہوا اسی منٹ اس کی کوریج پوری دنیا میں ہوئی، اور فیس بک کے ذمہ داروں کو اس ویڈیو کو ہٹانے میں جتنا وقت لگا اتنے وقت میں وہ بجلی کی طرح ہر طرف پھیل چکی تھی۔ سوشل میڈیا کی اس طاقت کا اندازہ پوری دنیا کو ہو گیا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ سینسر کرنے والوں کے ہاتھ وہیں تک کام کر سکتے ہیں جہاں تک ان کی پہنچ ہے، اور سوشل میڈیا کسی کی پہنچ سے باہر ہے۔

اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ اسی سوشل میڈیا کو افواہوں کا بازار بنا دیا گیا ہے، ایک طرف شر پسند عناصر ہیں جو شر پھیلانے پر تلے ہوئے ہیں، دوسری طرف شیئر کرنے والے شیروں کی بہت بڑی جماعت ہے جس کو بس یہ پسند ہے کہ اپنی آئی ڈی سے ہر طرح کی کلپ شیئر کرتے رہیں، ان کا کام ہی یہی رہ گیا ہے کہ فرصت ملتے ہی جو کچھ دستیاب ہوا جلد از جلد دو چار گروپ میں شیئر کر دیا جائے تاکہ کم از کم شیئر کرنے میں اولیت حاصل ہو جائے۔

بہت ایسا ہوتا ہے کہ شر پسند عناصر شر پھیلانے کے لیے کسی مواد کو اپنی پسند کا ٹائٹل دے کر دو چار گروپ میں بھیج دیتے ہیں، پھر اس کے بعد جس کو جو ملا بنا سوچے سمجھے آگے بڑھا دیا، نتیجہ یہ کہ جو بات پھیلی اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ تھا، بلکہ اس کی حیثیت بازاری افواہ سے زائد نہ تھی۔ کوئی کسی پرانی ویڈیو کو نیا واقعہ قرار دے کر پھیلانا شروع کر دیتا ہے، کوئی کسی اور واقعہ کو کوئی اور نام دے کر عام کرتا ہے، کسی کو شرارت سوجھی تو بالکل جھوٹ گڑھ کر اسے اتنا شیئر کیا کہ سچ بن جائے۔ وغیرہ، اس لیے پہلے کسی دستیاب کلپ اور اس کے مواد کی حقیقت دریافت کر لی جائے۔ دشمن کا مقصد تو مسلمانوں میں دہشت پیدا کرنا ہے، اسی مقصد سے اپنی جارحانہ کارروائیوں کی ویڈیو گرافی کی جاتی ہے، اب اس ویڈیو کو ہم خود عام کریں تو دشمن کا ہی مقصد پورا ہو رہا ہے۔

اپنی بات:

سنگھ پریوار کو اس منزل تک پہنچنے میں سالہا سال کی محنت شاقہ اور جدوجہد کا دخل ہے، بہترین منصوبہ بندی اور اس کے مطابق کد و کاوش پر استقامت سے وہ اس منزل تک پہنچ چکے ہیں، اپنی صفوں میں مسلمانوں کے خلاف اتحاد پیدا کر چکے ہیں، مختلف حکومتیں آئیں، گئیں، کسی حکومت میں ان کے لیے حالات سازگار نہ تھے، مگر ان کا کام جاری رہا، انھوں نے جو کچھ کام کیا اولاً تنظیم کے تحت، اور بہت منظم انداز میں کیا، اپنی تنظیم کو اندرونی اختلافات کا شکار ہونے نہ دیا، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں کی جہد مسلسل اور اپنے اہداف کے ساتھ مخلصانہ رویہ ہی وہ چیز ہے جس نے ان کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا، اور آج ہندوتوا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، انھوں نے نیچے سے اوپر تک ہر جگہ اپنے مخلصین کی ٹیم بٹھا دی ہے، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ ہر پلیٹ فارم پر ان کا قبضہ ہے، ان حالات میں ان کے کسی ظالمانہ سلوک کی شکایت خود انھی کے آدمی سے کب انصاف دلا سکتی ہے۔

ان کی یہ کامیابی ہماری ناکامی کا آئینہ ہے، قدم قدم پر ہماری ٹوٹ پھوٹ، بے عملی، سستی، کاہلی، اندرونی اختلافات کو بہت زیادہ اہمیت دینا، اور مذہبی بے راہ روی ہے۔ جب نادر شاہ درانی نے دہلی پر حملہ کیا اور پوری دہلی کو تاراج کیا اس وقت شاعر نے کہا تھا، ع: “شامت اعمالِ ما صورت نادر گرفت”۔ ہم اپنے گھریلو زندگی اور سماجی امور میں عدل و انصاف برقرار نہ رکھیں گے تو کیسے امید رکھیں کہ ہم پر عادل حکومت آئے گی، ظالم حکومت تو ہمارے اعمال کی بنا پر ہم پر مسلط ہوتی ہے۔

ہمیں اپنا سیاسی تھنک ٹینک بنانے کی ضرورت ہمیشہ رہی ہے اور اب بہت شدت اختیار کر چکی ہے۔ جمہوری طرزِ حکومت میں جس قوم کے پاس سیاسی بصیرت اور سیاسی قوت نہ ہو وہ ہر روز اپنی موت آپ مرتی رہتی ہے، وہ دنیا والوں کے لیے دھرتی کا بوجھ تو بن سکتی ہے کوئی نعمت نہیں بن سکتی۔

جمہوری نظام حکومت میں گنے جانے والے سروں کی اہمیت ہوتی ہے، ان میں موجود عقل و حکمت کا کوئی وزن نہیں ہوتا، اور عام کھوپڑیوں میں دماغ کم اور خرافات زیادہ ہوتے ہیں اس لیے اس طرز حکومت کا منطقی نتیجہ اقلیتوں کے ساتھ ترجیحی سلوک اور ظالمانہ رویہ ہوتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں یہود کی بہت چھوٹی آبادی ہونے کے باوجود ملکی سیاست پر جس طرح یہود کا اثر ورسوخ ہے وہ بے مثال ہے، اس لیے موجودہ سیاست اگر کھیل ہے تو اس کھیل میں حصہ لیے بغیر اب ہمارے وجود اور بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔

موجودہ حالات میں ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ حساس عوام اور اکابر علماء کرام کے مابین ایک خلیج پیدا ہوتی جا رہی ہے، عوام کے احساسات یہ ہیں کہ امت اس وقت جن سماجی مشکلات اور قتل و غارت گری کی آفات کا سامنا کر رہی ہے ہمارے مذہبی قائدین اور مشائخ بالکل خاموش ہیں، ان کی طرف سے کچھ ہدایات نہیں آ رہی ہیں، علماء و مشائخ کے احساسات شاید یہ ہوں کہ ان کا میدان سیاست نہیں، وہ محض مذہبی امور سے غرض رکھنا بہتر سمجھتے ہیں، یا ان حالات میں کچھ کہنا ظالم و جابر کو دعوت دینے کے مترادف ہے، ہم سب کے احساسات کی قدر کرتے ہوئے عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ملک کے آئین اور سماجی اخلاقیات میں کم از کم ظالمانہ واردات کی مذمت کرنا اور صدائے احتجاج بلند کرنے کی تو اجازت ہے، اس میں کمی نہیں کرنی چاہیے، یہی وقت ہے، خدمت خلق کا، یہی وقت ہے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا، اگر خود احتجاج نہ کیا جائے یا اپنے افراد کو احتجاج کے لیے نہ بھیجا جائے تو ملکی حالات میں کچھ مشکل فیصلے لینے کے لیے ضرورت و حاجت کا تحقق ہوا یا نہیں کیسے معلوم ہو سکے گا؟ اور جو لوگ میدان سیاست میں ہیں، یا احتجاج کر کے قومی مفاد میں کچھ کرنے کے لیے میدان میں ہیں ان کا اخلاقی تعاون تو کیا جا سکتا ہے، اس راہ کی مشکلات کو سمجھنا ہوگا، اس میں ضرور غلطیاں ہوں گی، اگر ایسا ہوا تو ان کی دست گیری کریں گے۔

عام حضرات کو اپنی حفاظت کا خود اہتمام کرنا ہوگا، جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے کسی پر تکیہ کرنا مناسب نہیں، حفاظتی تدابیر خود اختیار کرنا چاہیے، اور جہاں کہیں کچھ لوگ حالات کے مطابق قوم و ملت کے تحفظ کے لیے کچھ اقدام کریں ان کا ساتھ دیں، متحد ہو کر جو کام ہو سکتا ہے وہ منتشر قوم نہیں کر سکتی، غیر قومیں ہمارے انتشار کا فائدہ اٹھا رہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہندو شدت پسند اس قوم کے افراد کے در پے آزار نہیں جو متحد ہیں، کہ متحد قوم کو نقصان پہنچانا مشکل ہوتا ہے، ہاں ایسی قوموں کو نقصان پہنچانے میں انھیں کوئی باک نہیں جو متحد نہیں، خواہ وہ مسلمان ہوں یا دلت اور ہندوستان کی پچھڑی ذاتیں۔

ان شدت پسند لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے، پھر بھی ان کا زور بڑھتا جا رہا ہے، ملکی آئین کے خلاف سرعام بولتے پھرتے ہیں، بابائے قوم گاندھی جی کے قاتل گوڈسے کی برسرعام تعریف اور ستائش کی جاتی ہے، ملک کی اقلیتی آبادی کے خلاف کھلے عام زہر افشانی کی جاتی ہے، مگر اس قسم کی حرکتوں پر کوئی داروگیر نہیں، جب دباؤ بڑھتا ہے تو کچھ مذمتی جملے دکھاوے کے بول دیے جاتے ہیں، مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی، بلکہ مجرموں کی حمایت کرنے والے کھل کر سامنے آجاتے ہیں، اس لیے فتنہ و فساد پروان چڑھ رہا ہے، شدت پسند پھلتے پھولتے جا رہے ہیں، شر و فساد کے متوالے دندناتے پھر رہے ہیں، مجرموں کو پناہ دی جاتی ہے اور مظلوموں کے نالہ و فریاد سننے والا کوئی نہیں۔ دنیا کا کوئی مذہب ظلم و بربریت کی حمایت نہیں کرتا، اور جس ملک و قوم میں ظلم و بربریت کی درپردہ حمایت کی جائے اور مظلوموں کی فریاد رسی نہ کی جائے اس کی تباہی بہت جلد آتی ہے، یہ حقیقت ہمارے ملک کے تمام شہریوں کو اچھی طرح سمجھنی چاہیے۔ [ماہ نامہ پیغام شریعت دہلی جولائی اگست 2019، ص: 5 تا 7]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!